West Asia

’ہمارے یہاں مسائل بھی بڑے مہذب اور با اخلاق ہوتے ہیں؛ انتخابات کے مکمل ہونے تک خاموشی سے گوشہ نشیں رہتے ہیں‘

ہندوستانی جمہوریت میں شاید اب ایک نئے موسم کا اضافہ کر دینا چاہیے؛ گرمی، بارش، سردی اور ’انتخابات کے بعد کا موسم قربانی‘۔ انتخابات کے دوران شہری ’وکاس‘ کے نعرے سنیں گے اور انتخابات کے بعد ’صبر و تحمل اور کفایت شعاری‘ کا سبق پڑھیں گے۔

عوام سے کفایت شعاری کی اپیل  کے باوجود وزیراعظم کی ریلیاں اور روڈ شو جاری  

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری کی اپیل کے بعد ان کے کئی شہروں کے دوروں پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ جس اتوار کو وزیر اعظم نے شہریوں سے’بحران کے وقت‘ میں’اجتماعی قربانی‘ کی بات کہی، اسی دن انہوں نے تین ریاستوں کے چار شہروں میں عظیم الشان اہتمام اور انتظامات والے پروگراموں میں شرکت کی،  اور یہ دورے آج بھی جاری ہیں۔

پی ایم مودی کی ایندھن بچانے اور سونا نہ خریدنے کی اپیل پر اپوزیشن کا حملہ – انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانا پکانے کے تیل کی کم کھپت اور کھاد کے کم استعمال کی بھی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی کو انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔

جنرل قاسم سلیمانی: طلسماتی شخصیت یا جنگی مجرم؟

جو لوگ جنرل سلیمانی کو سنیوں کا دشمن اور عرب مخالف قرار دیتے ہیں، ان کےلیے عرض ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے بعد جب اسامہ بن لادن کے مرشد الولید، اسامہ کی فیملی اور دیگر لیڈروں کے لیے پناہ گاہیں تلاش کررہے تھے، تو دسمبر 2001 میں انہوں نے ایرانی سرحد پر دستک دی، جہاں جنرل سلیمانی نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔