اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو یہ خواتین ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں، بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔
حد بندی کے لیے نئے قواعد طے کرنے اور لوک سبھا کی نشستوں کو بڑھا کر 850 کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر مودی حکومت کو ملی شکست سے کئی اہم سیاسی اشارے سامنے آئے ہیں۔ لوک سبھا میں اس شکست سے مودی حکومت کی ’ناقابل تسخیر‘ ہونے کی شبیہ کو بھی شدیددھچکا لگا ہے۔
سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔
آئینی ترمیمی بل کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سنیچر کو کہا کہ یہ مودی حکومت کی جانب سے جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو بدلنے کی سازش تھی، جسے ہم نے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے اسے جمہوریت کی بہت بڑی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مودی حکومت کو پہلی بار دھچکا لگا ہے اور یہ ضروری تھا۔
جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔
بیک اسٹوری: حد بندی کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو پارلیامنٹ میں کئی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن گہرائی سے جائزہ لینے پر وہ گمراہ کن ثابت ہوتی ہیں۔
دس سال پہلے کی نوٹ بندی کی طرح اچانک لیا جارہا حد بندی کا فیصلہ ہندوستان کے بڑے حصوں کو سیاسی طور پر کمزور کر دے گا، اور اس کے ساتھ ہی یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے پر دور رس اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں، جو معیشت کے مرکز، روزگار فراہم کرنے والے اور سماجی ترقی کی نمایاں مثال رہے ہیں۔
ویڈیو: لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کے لیے پاس کیے گئے ‘ناری شکتی وندن ایکٹ’ اور خواتین کو مساوی درجہ دینے کی سیاسی منشا پر سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔
ویڈیو: مودی حکومت نے لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے 128 ویں آئینی ترمیمی بل 2023 پیش کیا ہے۔ اس موضوع پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔
کانگریس صدر راہل گاندھی بدھ کو تمل ناڈو کی چنئی میں سٹیلا میرس کالج کی طالبات سے غیر رسمی بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اعلیٰ سطح پر خاطر خواہ تعداد میں خواتین نہیں دکھتیں۔ ہم پارلیامنٹ میں خاتون ریزرویشن بل منظور کرنے جا رہے ہیں اور ہم خواتین کے لئے 33فیصدسرکاری نوکریاں ریزرو کرنے جا رہے ہیں۔
کانگریس میں نئی عمرا ور تازی ہوا کا عمل دخل بڑھانے اور نئی تبدیلیوں کو لے کر راہل گاندھی سے کافی توقعات وابستہ ہیں، مگر نو تشکیل شدہ سی وی سی ان توقعات پر پوری نہیں اُتر رہی۔