دہلی کی بی جے پی حکومت بھلے ہی خود کو ’وعدوں کی نہیں، بلکہ کام کی حکومت‘ بتا رہی ہو، لیکن مہیلاسمردھی یوجنا سے لے کر بزرگوں کی پنشن بڑھانے تک کے ادھورے وعدوں کے حوالے سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں لوگ بجلی-پانی، خراب سڑکیں اور کوڑے کے مسائل سے بھی جوجھ رہے ہیں۔
نارتھ-ایسٹ ریاستوں کے تین وزرائے اعلیٰ نے دہلی کے مالویہ نگر میں اروناچل پردیش کی تین خواتین کے خلاف نسلی تبصروں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ-ایسٹ کے لوگوں کے ساتھ امتیازی رویہ اب بند ہونا چاہیے کیونکہ وہ بھی ہندوستان کے ہی شہری ہیں۔
واقعہ رودرپور کا ہے۔ پولیس کے مطابق ریشم باڑی علاقے کے رہنے والے شاہد نے جگت پورہ میں واقع اٹریا مندر کے پاس خالی زمین پر نماز ادا کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر ان پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا اور انہیں مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔
اتوار کو سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں بی جے پی لیڈر اور سابق ایم پی سکھبیر سنگھ جوناپوریا راجستھان کے ٹونک کے ایک گاؤں میں کمبل تقسیم کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ وہ مسلمان عورتوں سے کمبل واپس لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘جو مودی کو گالی دیتا ہے، اسے کمبل لینے کا حق نہیں ہے۔’ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر خواتین کو برا لگا تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جن وادی لیکھک سنگھ نے حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے سے متعلق جاری حکم نامہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دستور ساز اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی تمہید کی روح کے بھی خلاف ہے، جس میں کسی طرح کی تبدیلی کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔
فروری 2016 میں جے این یو کے طالبعلموں کی سیڈیشن معاملے میں گرفتاری کے دس سال بعد اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ آج یونیورسٹی اپنی پرانی پہچان کی پرچھائیں محض رہ گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہ رکھنے والے پروگرام باقاعدگی سے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور تقرریاں مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
ہوگلی ضلع سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن امت نندی کو 14 فروری کو گرفتار کیا گیا۔ ایک سب-انسپکٹر کی شکایت پر ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں فیس بک پوسٹ کا ذکر ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نندی نے ایک ٹریفک پوسٹ پر لگے سڑک تحفظ کے پیغام کا مذاق اڑایا تھا۔
امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت عائد کیے گئے ٹیرف کو اختیارات کی حد سے تجاوز قرار دیا ہے۔ تاہم، صدر نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ ہوئے معاہدے پر اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اب ہندوستان ٹیرف ادا کرے گا، امریکہ نہیں، جبکہ قانونی صورتحال ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں جے این یو کی وی سی کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ آپ ہمیشہ مظلوم بن کر یا وکٹم ہڈ کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتے۔ ایسا ہی سیاہ فاموں کے ساتھ ہوا، یہی دلتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس بیان پر ہر طرف سے تنقید کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ خود بہوجن سماج سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے کسی بھی کمیونٹی کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے میں نامزد چار ہندوستانی شہریوں کے مقدمے کی شنوائی شروع ہونے والی ہے۔ اس دوران کینیڈین حکومت کے محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق ‘حساس’ معلومات کو خفیہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔
سپریم کورٹ نے نوئیڈا واقع دوا ساز کمنی میرین بایوٹیک کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر دائرہ اختیار کی پابندی نہ ہوتی تو کمپنی پر اس سے بھی زیادہ سنگین الزامات عائد کیے جا سکتے تھے۔ عدالت نے مزید کہا کہ 2022 میں ازبیکستان میں 18 بچوں کی ہلاکت کے لیے ذمہ دار پائے جانے پر کمپنی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی چلایا جانا چاہیے تھا۔
ہندوستان نے جمعرات کو واشنگٹن میں غزہ پر ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں آبزرور کی حیثیت سے شرکت کی۔ ہفتہ بھر پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے بورڈ میں شامل ہونے کی امریکہ کی پیشکش کو زیر غور قرار دیا تھا۔ نئی دہلی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ صرف آبزرور رہے گا یا مستقبل میں بورڈ کی مکمل رکنیت بھی اختیار کرے گا۔
جموں و کشمیر میں ایک ٹرک ڈرائیور کے ہائی وے پر نماز پڑھنے کے ویڈیو کو تصدیق کے بغیر نشر کرنے کی وجہ سے زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ این بی ڈی ایس اے نے اسے سنگین کوتاہی مانتے ہوئے سوشل میڈیا مواد کے استعمال سے متعلق سخت رہنما اصول جاری کیے ہیں۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے جنوری میں دیے گئے اپنے فیصلے پرعمل نہ کرنے کے معاملے میں بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک درخواست گزار نے رمضان کے پیش نظر اپنے نجی احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی تھی، جسے انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے جنوری میں واضح کیا تھا کہ نجی احاطے میں مذہبی اجتماع کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔
سرکار نے کہا ہے کہ قومی ترانہ سے پہلے لازمی طور پر ہمیشہ قومی گیت – وندے ماترم ، کو اس کے مکمل چھ بند کے ساتھ گانا ہوگا۔ یہاں یہ دعویٰ کرنا کہ وندے ماترم کا مقام و مرتبہ بلند کیا جا رہا ہے، تویہ دراصل قومی ترانے کو کمتر دکھانے کا شعوری عمل ہے۔
دہشت گردی کے معاملے میں اپنے موکلوں کی جانب سے اقرار جرم کی درخواستیں دائر کیے جانے کے بعد بھی ان کا دفاع کرنے کے حوالے سے وکیلوں کے پاس الگ-الگ وجوہات ہیں، لیکن وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ این آئی اے ہی ان درخواستوں کو فروغ دے رہی ہے اور حتیٰ کہ اس کے لیے دباؤ بھی بنا رہی ہے۔
وہ اونچائی، جہاں سے اسے دھکیلا گیا تھا، اتنی زیادہ تھی کہ گرتے وقت اسے چیخنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ جب پولیس والے اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے جانے لگے، تو اس نے مڑ کر جج کے پیچھے لگی ہوئی اس ترازو کی تصویر کو دیکھا۔ اسے لگا کہ ترازو کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہیں، بلکہ ایک پلڑے میں ریاست کا پورا بوجھ ہے اور دوسرے میں ایک نوجوان لاش، جو ابھی سانس لے رہی ہے۔
نجی کمپنیوں کے لیے ایٹمی توانائی کا شعبہ کھولنے والے مودی حکومت کے ’شانتی‘ ایکٹ کی منظوری کے صرف دو ماہ بعد ہی اڈانی گروپ نے اس سیکٹر میں انٹری کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی پاور نے ’اڈانی اٹامک انرجی لمیٹڈ‘ کے نام سے ایک ذیلی کمپنی تشکیل دی ہے۔ اپوزیشن نے مذکورہ قانون کو اپنے ’پسندیدہ افراد کو فائدہ پہنچانے والا‘ بتایا ہے۔
ارندھتی رائے نے غزہ پر برلنالے جیوری کے بیان کو ’حیران کن‘ اور ’مایوس کن‘ بتاتے ہوئے 2026 کے فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ان کی فلم ’ان وہچ اینی گوز اٹ دوز ونس‘ کو کلاسکس سیکشن میں منتخب کیا گیا تھا۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دہلی یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں منعقد ’سمتا اتسو‘ کے دوران مؤرخ پروفیسر ایس عرفان حبیب پر پانی اور کوڑے دان پھینکے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم آئیسا نے الزام لگایا ہے کہ حملہ اے بی وی پی کے لوگوں نے کیا۔ اے بی وی پی نے ان الزامات کو جھوٹا بتایا ہے۔
آج اگر فیض کی قرٲت ہورہی ہے توکچھ توہے جوکلامِ فیض کو تعصبات سے پرے قبولیت عطاکررہی ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی رہنما اسمبلی انتخابات سے قبل ’دراندازوں‘ کو نکالنے کے دعوے کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں آسام میں امت شاہ نے’64 لاکھ دراندازوں‘ کے قبضے کا دعویٰ کیا، حالاں کہ اس بارے میں وزارت داخلہ کا جواب بڑے سوال کھڑے کرتا ہے۔ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت نے کہا ہے کہ اس کے پاس دراندازوں سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔
ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟
دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔
اندور کے انٹرنیشنل اسکول آف بامبے میں مذہبی بنیاد پر ہندو اور مسلم طلبہ کے درمیان امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں دونوں برادری کے طلبہ کے لیے الگ الگ سالانہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جس کے حوالے سے والدین میں ناراضگی دیکھی گئی۔ انہوں نے اسکول پر پہلے بھی مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتنے کے الزامات لگائے ہیں۔
ہمنتا بسوا شرما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارح اور مسلم مخالف ہو چلے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کا استعمال ہیٹ اسپیچ کے لیے کیا ہے۔
ویسے تو اس کتاب میں کئی ایسے واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔
اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔
گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے ‘محمد’ دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔
دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
‘اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں مسلمان بزرگ کی حمایت میں ہندوتوادی ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کے جم میں مذکورہ واقعہ کے بعد 135 لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے ۔ دیپک کا کہنا ہے،’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔
گاندھی اسمارک ندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بی جے پی کی کرناٹک اکائی نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئے گاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے دکھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ گاندھی کو پارٹی سیاست کے حساب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر کہ ہندوستان نے روسی خام تیل کی درآمد مکمل طور پر روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اٹھتے سوالوں کے جواب میں وزیر خارجہ اور وزیر تجارت کے بیان اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ دونوں وزارتوں کے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے درمیان، کسی واضح تردید کا سامنے نہ آنا اب خاموش رضامندی جیسا نظر آنے لگا ہے۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ آج ذات پات صرف سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے موجود ہے، کیونکہ اس کی روایتی پیشہ ورانہ بنیاد اب ختم ہو چکی ہے۔ سماج کے اندر یہ ذہنیت موجود ہے، اسی لیے سیاستداں ذات پات کے مسئلے کو اچھالتے ہیں۔
آئینی ادارے نفرت سے مقابلہ نہیں کر رہے، محض دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس بھیڑ کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔