خبریں

موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کی ہدایت کے خلاف آسام حکومت کی عرضی خارج

گوہاٹی ہائی کورٹ نے جمعرات شام سے موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کا حکم دیا تھا اس کے بعد جمعہ کی صبح سے وہاں انٹرنیٹ خدمات کو بحال کر دیا گیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: گوہاٹی ہائی کورٹ نے جمعرات شام سے موبائل انٹرنیٹ بحال کرنے کے اس کے حکم کے خلاف آسام حکوت کی طرف سے دائر ریویو پٹیشن کو جمعہ کو خارج کر دیا۔حالانکہ جمعرات شام 5 بجے سے خدمات بحال کرنے کے گوہاٹی ہائی کورٹ کے حکم پر حکومت نے اس کو نافذ کرنے کے بارے میں موبائل آپریٹروں کو کوئی ہدایت جاری نہیں کی تھی۔

آسام میں موبائل انٹرنیٹ خدمات جمعہ کی صبح بحال ہو گئی۔متنازعہ شہریت ترمیم قانون کی مخالفت میں مظاہرے کے دوران سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے 10 دن پہلے اس کو بند کیا گیا تھا۔جسٹس منوجیت بھوئیاں اور جسٹس سومتر سیکیا کی بنچ نے حکومت کی دلیلیں سننے کے بعد ریویو پٹیشن خارج کر دی۔ جمعہ صبح ریاستی حکومت نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں ریویو پٹیشن دائر کر فوری شنوائی کی گزارش کی  تھی۔حکومت کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے جمعہ دوپہر کو شنوائی کے لیے معاملہ لسٹیڈ کیا تھا۔

بتا دیں کہ جسٹس منوجیت بھوئیاں اور جسٹس سومتر سیکیا کی بنچ نے صحافی اجیت کمار بھوئیاں اور وکیلوں بونوشری گگوئی، رندیپ شرما اور دیب کانتا ڈولیے کی جانب سے دائر پی آئی ایل پرشنوائی کرنے کے بعد  آسام سرکار کو ہدایت دی تھی کہ وہ موبائل انٹرنیٹ خدمات  جمعرات کو شام پانچ بجے تک بحال کرے۔

شہریت قانون  کی مخالفت میں ہوئے مظاہروں کے متشدد ہونے کے بعد 11 دسمبر کی شام آسام میں موبائل اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات بندکر دی گئیں۔مظاہرے میں اب تک پانچ لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔آسام میں براڈ بینڈ خدمات  پہلے ہی بحال کر دی گئی ہیں۔ متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرے کے مد نظر 11 دسمبر سے گوہاٹی میں لگاکرفیو17 دسمبر کو ہٹالیا گیا تھا۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)