جے این یو

فوٹو بہ شکریہ، اسکرال

اگر جے این یو نہیں ہوتا…

گزشتہ دنوں جے این یو میں فیس میں اضافہ کے خلاف طلبا نے احتجاج کیا ۔ بدھ کو شدید احتجاج کے بعد حکومت نے جزوی طور پر ان کے مطالبے کو مان لیا ہے۔جب طلبا احتجاج کررہے تھے تو ا س دوران بہت سارے لوگوں کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر کے پیسوں پر جے این یو کے طلبا کو ‘عیش’ کرنے کا موقع کیوں ملے۔لوگو ں کی اس سوچ میں کتنی سچائی ہے ،بتا رہے ہیں جے این یو کے سابق طالب علم اوران دنوں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس میں ریسرچ اسکالر مکیش کلریا۔

جے این یو ایس یو پریسیڈنٹ آئیشی گھوش (پیلے کپڑے میں) اور نائب صدر ساکیت مون(بائیں سے دائیں ) (فوٹو : پی ٹی آئی)

جے این یو انتظامیہ نے اسٹوڈنٹ یونین کو آفس خالی کرنے کو کہا، جے این یو ایس یو نے کیا انکار

جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ الیکشن میں لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اب تک یونین نوٹیفائڈ نہیں ہوئی ہے۔ وہیں، اسٹوڈنٹ یونین کی صدر آئیشی گھوش نے کہا کہ 8500 اسٹوڈنٹس یونین کی آواز کو اس طرح انتظامیہ بند نہیں کر سکتا۔

محمد دانش، ستیش چندر یادو، ساکیت مون اور آئیشی گھوش (بائیں سے دائیں (فوٹو : ٹوئٹر)

جے این یو اسٹوڈنٹ یونین الیکشن: چاروں عہدوں پر لیفٹ یونٹی کا قبضہ

لیفٹ اسٹوڈنٹ یونین اے آئی ایس اے، ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف اور ڈی ایس ایف کے مشترکہ مورچے کی امیدوار آئیشی گھوش جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کی صدر چنی گئی ہیں۔ انہوں نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے منیش جانگڑ کو ہرایا ہے۔ ایس ایف آئی کو 13 سال بعد صدر عہدہ ملا ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (فوٹو : پی ٹی آئی)

جے این یو اسٹوڈنٹس یونین الیکشن: دہلی ہائی کورٹ نے 17 ستمبر تک نتائج کے اعلان پر لگائی روک

اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن میں کاؤنسلرکے عہدے کے لئے کھڑے دو طالب علموں کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے غلط طریقے سے ان کے پرچہ نامزدگی کوخارج کیا ہے، جس کے خلاف انہوں نے دہلی ہائی کورٹ میں اپیل کی ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ دی نیوز آن سنڈے

رویش کا بلاگ: پروفیسر رومیلا تھاپر کو سی وی بھیج دینی چاہیے…

کسی یونیورسٹی کے برباد ہونے کو جتنی سماجی اور سیاسی حمایت ہندوستان میں ملتی ہے، اتنی کہیں نہیں ملے‌گی۔ ہم بغیر گرو کے ہندوستان کو وشو گرو بنا رہے ہیں۔ رومیلا تھاپر کو ہندوستان کو وشوگرو بنانے کے پروجیکٹ میں مدد کرنی چاہیے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

بی جے پی ایم پی ہنس راج بولے-جے این یو کا نام ایم این یو کردو، مودی کے نام پر بھی کچھ ہونا چاہیے

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)میں اے بی وی پی کے ایک پروگرام میں دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیامان ہنس راج ہنس نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کے لیے کافی کچھ کیا ہے اور ان کے کام کی وجہ سے ہی میں نے کہا کہ جے این یو کا نام بدل کر مودی نریندر یونیورسٹی رکھا جانا چاہیے۔

(فوٹو : وکی میڈیا کامنس)

رام چندر گہا کا کالم:کیا ہندوستانی کمیونسٹ پارٹیوں کا کوئی مستقبل ہے؟

لوک سبھا چناؤکے بعد مختلف کمیونسٹ پارٹیوں کو ‘متحد’ کرنے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کی بات ہو رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ایک نئی اور متحدہ پارٹی کے لیے ایک نئے نام کی ضرورت ہوگی۔ میرا مشورہ ہے کہ اس نئی پارٹی کے نام میں سے ‘کمیونسٹ’ کا لفظ ہٹا دیا جائے۔ اس کے بجائے اسے ‘ڈیموکریٹک سوشلسٹ’ سے منسوب کیا جائے۔ یہ لیفٹ کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

جے این یو سیڈیشن معاملہ: دہلی حکومت نے کہا، پولیس نے جلدبازی میں چارج شیٹ داخل کی

2016 میں درج سیڈیشن کے معاملے میں دہلی پولیس نے جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار، سابق طالب علم عمر خالد، انربان بھٹاچاریہ اور دیگر کے خلاف گزشتہ 14 جنوری کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

ملک میں اشرافیہ ہندو سب سے امیر، کل جائیداد کے41 فیصدکے ہیں مالک

جے این یو، ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف دلت اسٹڈیزکے ذریعے دو سال تک کئے ایک مطالعے میں سامنے آیا ہے کہ ملک کی کل جائیداد کا 41 فیصد ہندو اشرافیہ اور 3.7 فیصد ایس ٹی ہندوؤں کے پاس ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (فوٹو : پی ٹی آئی)

جے این یو سیڈیشن معاملہ: وزیر قانون نے کہا، لاء سکریٹری نے مجھے دکھائے بنا فائل ہوم ڈپارٹمنٹ کو کیسے بھیجی

جواہر لال نہرو یونیورسٹی سیڈیشن معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کے ذریعے دائر چارج شیٹ کو منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا اور دہلی حکومت کے وزارت قانون سے اجازت لینے کو کہا تھا۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے پی آر کےدفتر  نہیں ہوتے

سی سی ایس جیسے قانون کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کو ہی تباہ کر دینا ہے۔اعلیٰ تعلیم میں ترقی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک خیالات کے لین دین کی آزادی نہ ہو۔اگر ان اداروں کا یہ رول ہی ختم ہو جائے تو اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہی کیا رہے‌گی؟ ٹیچر اور ریسرچ اسکالر سرکاری ملازم کی طرح عمل نہیں کر سکتے۔

نرملا سیتارمن (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: نرملا جی کو کوئی یاد دلائے کہ وہ جے این یو کی نہیں، ملک کی وزیر دفاع ہیں

اگر وزیر دفاع کو یونیورسٹیوں میں اتنی ہی دلچسپی ہے تو جیو اانسٹی ٹیوٹ پر ہی ایک پریس کانفرنس کر دیں۔ بہت سی یونیورسٹی میں استاد نہیں ہیں۔ جو عارضی استاد ہیں ان کی تنخواہ بہت کم ہیں۔ ان سب پر بھی پریس کانفرنس کریں۔

JNUTA

ویڈیو:’جے این یو وی سی کے خلاف ریفرینڈم پاس ہوتا ہے تو اس کا مطلب وہ قابل قبول نہیں ہیں‘

جے این یو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے 7 اگست کو وائس چا نسلر کو عہدے سے ہٹانے اور ہائر ایجوکیشن فنڈ اتھارٹی سے قرض لینے کے خلاف ریفرینڈم کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موضوع پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے سرشٹی شریواستو کی بات چیت۔

جے این یو/فوٹو: پی ٹی آئی

جے این یو کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے : رومیلا تھاپر

معروف مؤرخ رومیلا تھاپر  نے کہا کہ بحث کی آزادی نہ دینا اور صرف سرکاری نظریات کو اہمیت دینا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو اقتدار میں ہیں کہیں نہ کہیں خود کو غیر محفوظ محسوس‌کر رہے ہیں۔ نئی دہلی:معروف مؤرخ رومیلا تھاپر نےالزام لگایا ہے […]

علامتی تصویر

کیا پروفیسر اتل جوہری کی گرفتاری محض خانہ پری تھی؟

تازہ ترین جانکاری کے مطابق اتل جوہری کو گرفتار کر لیا گیا تھا ،لیکن تھوڑی دیر بعد انہیں ضمانت بھی دےدی گئی ہے۔اس خانہ پری کے بعد بھی سوال اپنی جگہ قائم ہیں کہ کیا اس طرح کی گرفتاری کے ساتھ جے این یو میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا؟

Don`t copy text!