Gurgaon

کشمیریوں پر حملہ کرتے بھگوا دھاری لوگ (فوٹو : فیس بک)

اتر پردیش: وشو ہندو دل کے لوگوں نے کی کشمیری میوہ فروشوں سے مارپیٹ

سوشل میڈیا پر آئے ایک ویڈیو میں اتر پردیش کی راجدھانی میں وشو ہندو دل کے ممبر سڑک کنارے بیٹھنے والے کشمیری دکانداروں سے مارپیٹ کرتے دکھ رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے دکھے کہ ان کو کشمیری ہونے کی وجہ سے مار رہے ہیں۔

NHRC_logon

کشمیریوں کے ساتھ بد سلوکی پر این ایچ آر سی نے مرکز اور مختلف ریاستوں کو نوٹس جاری کیا

جموں و کشمیر کے پلواما میں دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیریوں کے ساتھ بد سلوکی کی خبروں پر این ایچ آر سی نے مرکزی وزارت داخلہ ،ایم ایچ آر ڈی اورمغربی بنگال ،اتراکھنڈ ،اتر پردیش کی ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

پلواما حملہ: کشمیریوں کی حفاظت کو لے کر داخل عرضی پر سپریم کورٹ سماعت کے لیے تیار، جمعہ کو ہوگی شنوائی

عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ پلواما دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیری طلبا پر ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں میں حملہ کیا جارہا ہے اور متعلقہ اتھارٹی کو اس طرح کے حملے کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے۔

گروگرام کا گوبند سنگھ ٹرائی سینٹنری یونیورسٹی، جس نے پلواما حملے کو لےکر سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے الزام میں ایک کشمیری طالبہ کو برخاست کیا ہے۔ 
 (https://sgtuniversity.ac.inفوٹو بہ شکریہ:)

پلواما حملہ: کالج نے طالبہ کو کیابرخاست، ہوٹل نے لکھا-کشمیریوں  کا داخلہ نہیں

گروگرام کی ایس جی ٹی یونیورسٹی میں پلواما حملے میں شہید ہوئے جوانوں کو لےکر مبینہ طور پر قابل اعتراض پوسٹ پر ایک کشمیری طالبہ کو برخاست کر دیا گیا ہے۔ وہیں، نوئیڈا کے ایک ہوٹل میں کشمیریوں کی مخالفت میں ایک بورڈ لگایا گیا تھا۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

بجرنگ دل پر اب تک پابندی کیوں نہیں؟

تنظیمیں چاہے کوئی بھی ہوں ان سب کی فکر ایک ہی ہے: ہندو دھرم کی رکشا کے نام پر مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں سے بے انتہا نفرت کا اظہار اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے جھوٹ اور فریب کے ساتھ تشدد اور دہشت گردی کا استعمال۔

منوہر لال کھٹر (فوٹو بشکریہ : فیس بک / منوہر لال کھٹر)

گڑگاؤں معاملہ : ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے کہا،’پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن حال ہی میں کھلے میں نماز پڑھنے کے معاملے میں اضافہ ہوا ہے‘

ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن حال ہی میں کھلے میں نماز پڑھنے کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نماز اس کے طےشدہ مقام پر پڑھی جائے، نہ کہ عوامی مقامات پر۔