Literature

مینیجر پانڈے، فوٹو: بھرت تیواری/فیس بک

مینیجر پانڈے: شعلہ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد

پانڈے جی کو اس دیش کے ایک وچارک کے روپ میں دیکھاجاتاتھا۔انہیں سننے کے لیے جتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوجاتے تھے وہ بھی ایک واقعہ ہے۔ان کی تنقید میں جو شفافیت ہے وہی ا ن کی شخصیت کابھی حصہ ہے۔ وہ ہزاری پرساد دویدی اور نامور سنگھ کے بعد تیسرے ایسے نقاد ہیں جنہوں نے ہندی تنقید کو نظریاتی طورپر مستحکم کرنے میں اہم کردار اداکیا۔اور ہمیشہ تنقید کی بھاشا کاخیال رکھا۔

خالد جاوید اور ان کے ناول کا سرورق

نعمت خانہ: سماجی مسائل کے بطن میں انسانی زندگی کے فلسفے کی تلاش …

موضوع کے لحاظ سے یہ ناول جوائنٹ فیملی سے نیوکلیر فیملی تک کے اذیت ناک سفر کی داستان ہے۔پورا ناول پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں بظاہر بے ترتیب لیکن نہایت بامعنی اورموضوع سے متعلق مناظر رقص کرنے لگتے ہیں۔ قاری تسلیم کرلیتا ہے کہ ہر برائی میں ایک اچھائی پوشیدہ ہوتی ہے اور یہ کہ اذیتوں کے بطن سے ہی نعمتیں جنم لیتی ہیں۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی )

ممبئی: این سی ای آر ٹی نے کووڈ کے بہانے سماجیات کی کتاب سے ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے متعلق مواد کو ہٹایا

این سی ای آر ٹی کی کتابوں کے مواد کو ‘منظم کرنے’ اور کووڈ کے بعد طلبا کے نصابی بوجھ کو ‘کم کرنے’ کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرین کی ایک کمیٹی نے کاسٹ، کاسٹ مخالف تحریک، اس کے ادب اور سیاسی واقعات سے متعلق متعددحوالہ جات کو ہٹا دیا ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

مغربی بنگال: ممتا بنرجی کوادبی ایوارڈ دیے جانے کے خلاف احتجاج میں بنگالی ادیبہ نے اپنا ایوارڈ لوٹایا

بنگالی زبان کی مصنفہ اور لوک ثقافت کی محقق رتنا راشد بنرجی نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ادب کے میدان میں ان کی خدمات کے لیے پچھم بنگا بنگلہ اکیڈمی کی جانب سے خصوصی ایوارڈ دینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بری مثال قائم کرے گا۔ اکادمی کا وہ بیان سچائی کامذاق ہے جس میں ادب کے میدان میں وزیر اعلیٰ کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

0602 AP Discussion.01_31_29_21.Still009

کیا آر ایس ایس بدل رہا ہے؟

ویڈیو: حال ہی میں آئی کتاب ‘ری پبلک آف ہندوتوا’کے مصنف بدری نارائن بتا رہے ہیں کہ آر ایس ایس کس طرح سے زمین پر کام کرتا ہے۔ پہلے کے اور ابھی کے آر ایس ایس میں کیا کیا بدل گیا ہے۔ اس کتاب اور آر ایس ایس سے جڑے کئی مدعوں پر پروفیسر اپوروانند نے ان سے بات چیت کی۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہندوستان شدت پسندی کے معاملے میں پاکستان بننے کی راہ پر ہے؟

کئی سال پہلےپاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض نے لکھا تھا کہ ‘تم بالکل ہم جیسے نکلے،اب تک کہاں چھپے تھے بھائی۔ وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن ، جس میں ہم نے صدی گنوائی، آخر پہنچی دوار تمہارے…ملک کے آج کے حالات میں یہ مصرعے سچ کے کافی قریب نظر آتے ہیں۔

آغا اشرف علی، فوٹو بہ شکریہ:Rafiq Kathwari

استادوں کے استاد آغا اشرف علی، جنہوں نے کشمیری مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا

جنوبی ایشیاکے جید ماہرین تعلیم سروپلی رادھا کرشنن، ذاکر حسین، خواجہ غلام السیدین یا پاکستان کے عطا الرحمان جیسی شخصیات کی صف میں آغا صاحب کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کشمیر ی مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کروانے اور خطے کی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

گریش کرناڈ [مئی 1938- جون 2019] (فوٹو بہ شکریہ: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس)

گریش کرناڈ: جس نے تخیل اور اسطوری کلامیہ سے عصری مسائل کو نمایاں کیا

گریش کرناڈ کے ڈراموں میں بےحد خوبصورت توازن دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں وہ ہندوستان کے اور مبینہ سنہری ماضی یا اسطوری دنیا کو خام موادکی طرح استعمال تو کرتے ہیں، لیکن اس کے پس پردہ عصری مسائل یا عصری سماج کے تضادات کو نمایاں کرتے ہیں۔

مارچ کے آخری ہفتے میں لاک ڈاؤن کے بعد دہلی سے اپنے گاؤں لوٹ رہے مزدوروں کے لیے یوپی سرکار نے بسوں کا  انتظام  کیا تھا، لیکن کئی لوگوں  کو ا ن میں جگہ نہیں مل سکی۔ آنند وہار بس اڈے پر ایسی  ہی ایک فیملی۔ (فوٹو: رائٹرس)

لاک ڈاؤن: اگر سچ میں کچھ جاننا یا پڑھنا ہے تو یہ کتاب بند کر دینے کا وقت ہے

اس لاک ڈاؤن کو اتنے بھر کے لیے درج نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں نے کچن میں کیا نیا بنانا سیکھا، کون سی نئی فلم ویب سیریز دیکھی یا کتنی کتابیں پڑھ گئے۔ یہ دور ہندوستانی سماج کے کئی چھلکے اتار کر دکھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی نظر کہاں ہے؟

0503 Faiyaz Interview Master.00_44_40_17.Still003

’شرمشٹھا صرف سنگل مدر کی جدوجہد نہیں خوددار عورت کی کہانی بھی ہے‘

ویڈیو: نوجوان فکشن نویس اور شاعرہ انوشکتی سنگھ کا پہلا ناول‘شرمشٹھا’گزشتہ دنوں منظر عام پرآیا ہے۔ اس ناول کے تناظرمیں ان سے اسطوری اور دیومالائی کرداروں میں عورت کی موجودگی، سنگل مدر کی جدوجہد، عورت مرد کی مبینہ جائز اور ناجائزمحبت اور اس کے بعض دوسرے مندرجات پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

کونکنی کوی نلبا کھانڈیکر(فوٹو: بہ شکریہ فیس بک)

گووا: ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ادیب کی کتاب کو فحش بتاتے ہو ئے سرکار نے پابندی لگائی

گووا کونکنی اکادمی کی ایک کمیٹی نے کونکنی شاعر نلبا کھانڈیکر کی کتاب ‘دی ورڈس’ کی نظم‘گینگ ریپ’ کے دولفظوں پر اعتراض کیا ہےاور اس کی خریداری اور نشر و اشاعت پر روک لگا دی ہے۔ اسی نظم کے لیے کھانڈیکر کو 2019 میں ساہتیہ اکادمی نے ایوارڈ دیا تھا۔

2511 Faiyaz Interview.00_39_12_22.Still004

’کرشن چندر آج لکھ رہے ہو تے تو تہاڑ جیل میں ہو تے‘

ویڈیو: گزشتہ دنوں آئی سی ایس ای نے معروف فکشن نویس کرشن چندر کی کہانی’جامن کا پیڑ‘کو دسویں جماعت کے نصاب سے ہٹا دیا تھا۔ ان کی فکشن نویسی اور ان کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں ان کے بھتیجے پون چوپڑہ سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔

فوٹو بہ شکریہ، ٹوئٹر

بھوپال: ریلوے بورڈ ممبر نے خشونت سنگھ کے ناول کو فحش  بتایا، بک اسٹال سے ہٹانے کی ہدایت دی

مدھیہ پردیش کے بھوپال ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کو ملنے والی سہولیات کاجائزہ لینےکے دوران ریلوےحکام نے معروف ادیب خشونت سنگھ کے ناول ‘وومین، سیکس، لو اور لسٹ’بیچنے سے روک دیا اور کہا کہ اس طرح کا فحش ادب نئی نسلوں کامستقبل تباہ کر سکتا ہے۔ میڈیا کے ذریعے میں لوگوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ ایسے ادب سے دور رہیں۔

Girish-Karnad-Twitter-1-e1560164919531

رام چندر گہا کا کالم: گریش کرناڈ کی یادیں

ہمیں گریش کرناڈ کو ایک عظیم ڈرامہ نگار، ایک زبردست اداکار کے ساتھ بے حد مہذب انسان کے طور پر یاد رکھنا چاہیے۔ ایک ایسا انسان جو ہندوستانی تہذیب کے بارے میں اتنا تو بھول ہی گیا تھا، جتنا آج بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں کو یاد ہے۔

فوٹو : ٹوئٹر

لوگ آسان سمجھتے ہیں قادر خان ہونا…

ایک مسجد میں امامت کرنے والے باپ کے بیٹے قادر خان نے چٹائی پر بیٹھ‌کر تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں جھگی میں پرورش پانے والا یہی بچہ منٹو سے بھی متاثر ہوا تھا۔اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، منٹو نے مجھے سکھایا کہ آئیڈیاز بڑے ہونے چاہیے لفظ نہیں۔

TWU_MumbaiEvent

اُردو : ’ترقی پسند ادب زوال پذیر ہے کیونکہ اپنے آپ کو ترقی پسند کہنے والے اب اُردو میں نہیں لکھتے‘

ویڈیو:دی وائر اُردو کی پہلی سالگرہ کے موقع پر گزشتہ 18اگست کو ممبئی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جہاں اردو میں ترقی پسند ادب کی موجودہ صورت حال پر نندتا داس،رخشندہ جلیل،جاوید آننداور مہتاب عالم سے دانش حسین کی بات چیت ۔

Don`t copy text!