تل ابیب کے سامنے صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے؛ کیا وہ اس تزویراتی شکست سے سبق سیکھ کر دوبارہ پرانے امن فریم ورکس کی طرف لوٹے گا اور فلسطینیوں کو ان کا جائز سیاسی و معاشی حق دے کر خطے میں حقیقی بقائے باہمی کا راستہ چنے گا؟ یا پھر وہ اپنی اس تنہائی کے غصے میں پورے خطے کو کسی نئے اور زیادہ ہولناک لاوے کی طرف دھکیل دے گا؟
اگر ہم نے پہاڑوں کے ماحولیاتی نظام کو میدانی علاقوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہ کیا، تو پگھلتے ہوئے گلیشیربہت جلد ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی غرور، ان کی معیشتوں اور ان کی نام نہاد سرحدوں کو اپنے سیلابوں میں بہا کر لے جائیں گے۔
سوموار کی صبح امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس مذاکراے میں ثالث کا کردارادا کر رہے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس کی جانکاری دی۔ وہیں، امریکہ-ایران معاہدے کے اعلان کے بعد ایشیا میں شروعاتی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں گراوٹ درج کی گئی، جبکہ ایشیائی شیئر بازاروں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
’جموں و کشمیر: آگے کا راستہ‘کے موضوع پر منعقد ایک ویبینار میں شرکاء کے درمیان ترجیحات اور حکمتِ عملی پر اختلافات تھے، لیکن اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ تصادم کے بجائے صرف اور صرف مکالمہ ہی کشمیر اور مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کے محفوظ مستقبل کا واحد حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔
پاکستانی زیر انتظام کشمیر اگر واقعی اپنے آپ کو کشمیریوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے دروازے تنگ کرنے کے بجائے کشادہ کرنے ہوں گے۔لاکھوں مہاجر کشمیریوں کو سیاسی نظام سے باہر دھکیلنا نہ تو مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی اس سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عوام کے حقیقی مسائل حل ہوں گے۔
کیا کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں میں بٹے عوام یکجا نہیں ہوسکتے ۔کیا یہ خونی لکیرمٹ نہیں سکتی۔ جب برطانیہ اور آئر لینڈسات سو سالہ دشمنی دفن کرسکتے ہیں، تو ہندوستان اور پاکستان بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کرکے حل کی طرف گامزن ہوکر کیوں امن کی راہیں تلاش نہیں کرسکتے؟
یہ ویبینار ہندوستان میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مکالموں کی ایک سیریز کا حصہ تھا، جس کی صدارت او پی شاہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دینا ہے۔
لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ایک بڑا حلقہ ابھی بھی حزب اللہ کو ہی لبنانی قوم پرستی کی علامت اور اسرائیل کے خلاف قوت کے بطور تسلیم کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، جنوبی ایشیا میں باہمی تجارت دنیا کے دیگر خطوں کےمقابلے انتہائی کم ہے۔ یورپی یونین اور آسیان نے جغرافیائی قربت کومعاشی طاقت میں تبدیل کیا، مگر یہاں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے سلسلے میں منعقد آل پارٹی میٹنگ کے دوران جب اپوزیشن نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد کے بیک چینل ثالث کے طور پر ابھرنے پر سوال اٹھایا، تو حکومت نے جواب دیا کہ ہندوستان پاکستان کی طرح’دلال ملک‘ نہیں ہے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نے اجلاس میں تمام سوالوں کے جواب دے دیے ہیں اور اپوزیشن نے اپنی حمایت ظاہر کی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو’غیر تسلی بخش‘ قرار دیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
وی-ڈیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دنیا میں 92 آمریت والے ممالک اور 87 جمہوری ممالک موجود تھے۔ ہندوستان ابھی بھی ایک ’انتخابی آمریت‘ یعنی الیکٹورل آٹو کریسی بنا ہوا ہے، اس زمرے میں وہ 2017 میں شامل ہوا تھا۔ 179 ممالک میں ہندوستان لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں 105ویں مقام پر ہے، جبکہ پچھلے سال یہ 100 ویں مقام پر تھا۔
ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
افغانستان نے الزام لگایا ہے کہ سوموار کی رات دیر گئے دارالحکومت کابل میں ایک اسپتال پر پاکستان کے فضائی حملے میں 400 لوگوں کی جان چلی گئی۔ وہیں،پاکستان نے اسپتال پر حملے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے حملے، جو مشرقی افغانستان میں بھی کیے گئے، میں کسی بھی شہری مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
سفارتی احسان فراموشی کی اس سے بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے، جب ایران نے نازک وقت میں ہندوستان کو عالمی رسوائی سے بچایا اور بدلے میں نئی دہلی نے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر مغربی طاقتوں اور اسرائیل کا دامن پکڑا۔
اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔
پنڈت بزاز نے پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔وہ کشمیری تاریخ کے ایک عظیم کردار پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے، مگر ان کو بھی بھائی چارے اور کشمیریت کے علمبردار اور ایک اصول پسند کشمیری پنڈت آواز ہونے کے ناطے وسیع احترام حاصل تھا۔
مسلم دنیا کا کوئی اتحاد جو ناٹو کی طرح طاقتور اور تزویراتی طور پر وسیع تر عوامل کا حامل ہے، وہ بس پاکستان، افغانستان اور ایران کا اتحاد ہوسکتا ہے، جس کو ترکیہ اور وسط ایشاء کی ترک ریاستوں کی پشت پناہی حاصل ہو۔ اس سے ان سبھی ممالک کو اسٹریٹجک گہرائی بھی حاصل ہوگی اور کسی دشمن کی ہمت نہیں ہوگی کہ ان میں کسی کو نشانہ بنا سکے۔
سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے نومبر میں گرو نانک دیو کے جنم دن کے موقع پر سکھ جتھے کو پاکستان جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو پنجاب کی سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چیف منسٹر بھگونت مان نے کہا کہ حکومت سکھ زائرین کو روکتے ہوئے ہندوستان-پاکستان کرکٹ میچ کی اجازت دے کر ‘دوہرا معیار’ اپنا رہی ہے ۔
پنجاب میں موسلا دھار بارش جاری ہے۔ بھاکرا سمیت مختلف ڈیموں سے کنٹرول مقدار میں پانی چھوڑے جانے کے بعد ریاست میں سیلاب کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ سیلاب میں کم از کم 30 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ پانچ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
سال 2014کے سیلاب کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے 80 ہزار کروڑ روپے کے ایک پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں کی ڈریجنگ اور پشتوں کی مضبوطی کا کام ہونا تھا۔ مگر ایک آرٹی آئی کے مطابق،ایک دہائی کے بعد بھی 31 میں سے صرف 16 منصوبے مکمل ہو پائے ہیں۔یعنی 2014 کے سیلاب سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا ہے۔
میں ایک خوشحال ملک کا شہری ہوں اور معترف ہوں کہ یہ خوشحالی آپ کی بدولت ہے۔ آپ کے اقتدار سے پہلے یہ ملک دنیا کا سب سے غریب ملک تھا ۔لوگ زندہ درگور تھے۔ آپ نے ہمیں غربت ، جہالت اور ذلت کی دلدل سے آزاد کیا۔ میری طرح آپ کے لاکھوں پرستار ہیں۔ ایک اداکارہ تو آپ کی دیوانی ہے۔ اس نے بجا فرمایا ہے کہ ہم صحیح معنوں میں آپ کے اقتدار میں آنے کے بعد آزاد ہوئے ہیں ۔ آپ نے ہمیں آزادی، عزتِ نفس اور تاریخی افتخار سے آشنا کیا ہے۔
آزاد کشمیر کے پہلے ناظم اطلاعات کی کہانی، جن کے بارے میں وقتا فوقتا خبریں چھپتی ہیں کہ انہوں نے ’آزاد کشمیر ‘ کا پرچم ڈیزائن کیا۔
مرکزی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے، جس میں 62 سالہ خاتون کی واپسی کا حکم دیا گیا تھا۔خاتون کو پہلگام حملے کے بعد پاکستان بھیج دیا گیا تھا، جبکہ وہ تقریباً چار دہائیوں سے لانگ-ٹرم ویزا پر ہندوستان میں رہ رہی تھیں۔
اگرچہ اسرائیل نے سخت رازداری قائم رکھی ہے، تاہم جوہری ماہرین کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اسرائیل ایک جوہری طاقت ہے۔ مگر شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں، حکمت عملیاں اور خطرے کی حدود اب بھی اندھیرے میں چھپی ہیں۔یہ ابہام ایک طرف دشمنوں کو باز رکھنے کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف کھلے اعتراف سے بچنے کا طریقہ ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ڈرائنگ رومز کو جنگی ہیڈکوارٹر کے بجائے امن کے مراکز میں بدلیں۔ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، ذہنوں سے بھی لڑی جاتی ہے۔ اگر ہم صرف نفرت، افواہوں اور پوائنٹ اسکورنگ میں الجھے رہے، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے بچے فلمی اور اصلی جنگ کا فرق بھول جائیں گے۔
حال کے مہینوں میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کانگریس کے رکن پارلیامنٹ گورو گگوئی کی اہلیہ کے خلاف پاکستان کی آئی ایس آئی کے ساتھ روابط رکھنے کا الزام لگایا ہے۔ گگوئی نے کہا کہ ان کے خاندان کے خلاف یہ ہتک عزت کی مہم شرما کی جانب سے اپنے خاندان کی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ترکیہ کے ساتھ تجارتی بائیکاٹ کا شاید ہی کوئی اثر ترکیہ پر پڑے گا۔ کیونکہ ترکیہ کی کل درآمدات میں ہندوستان کا حصہ صرف 0.2 فیصد ہے۔اسی طرح ہندوستان سے ترکیہ جانے والے سیاح کل سیاحوں کا صرف 0.6 فیصد ہیں۔
کرناٹک میں ایک احتجاج کے دوران بی جے پی لیڈر این روی کمار نے ڈپٹی کمشنر فوزیہ ترنم پر کانگریس کے اشارےپر کام کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ لگتا ہے کہ وہ پاکستان سےآئی ہیں۔ ان پرمسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے اور دیگر الزامات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
امن کا راستہ بہت کٹھن ہے اور ہوگا۔ ہمارا ہمسایہ بھی آسانی سے اس راستے پر چلنے کوراضی نہیں ہوگا کیونکہ وہ فوج کے زیر انتظام ملک ہے۔ لیکن یہی واحد راستہ ہے جو ہمیں تباہی اور بربادی سے بچا سکتا ہے۔
ہندوستان-پاکستان کشیدگی کے بعد 30 ممالک میں آل پارٹی وفد بھیجنے کے نریندر مودی حکومت کے فیصلے کے سیاسی اور سفارتی مضمرات پر دی وائر کے پالیٹکل ایڈیٹر اجئے آشیرواد اور دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔
مرکزی حکومت نے ہندوپاک کشیدگی سے متعلق مسئلے پر 30 سے زائد ممالک میں سات وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے رہنما شامل ہیں، جن کے بارے میں حزب اختلاف کے ارکان پارلیامنٹ کا کہنا ہے کہ وہ ملک سے باہر مختلف اندرونی اختلافات کے باوجود متحد ہیں۔
حکومت چلانے کے لئے تدبر، تحمل اور معاملہ فہم ہونے کی ضرورت ہوتی ہے، مہم جوئی فوج اور انٹلی جنس میں تو درست ہے مگر اعلیٰ سیاسی عہدوں میں اس طرح کا مزاج خطرناک ہوتا ہے۔
دونوں ممالک خاص طور پر ہندوستانی میڈیا کی موجودہ روش نے بھی ٹریک ٹو کو زوال کی وادی میں دھکیل دیا ہے۔
غلط انفارمیشن کے علاوہ ٹی وی اینکروں کی گندی زبان اور گالی گلوچ نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔سفید جھوٹ اور پروپیگنڈہ کوئی انٹرنیٹ ٹرول نہیں بلکہ قومی سطح کے بڑے میڈیا ادارے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کسی کے کہنے پر پھیلا رہے تھے۔
ہندوستانی فوج کے آپریشن سیندور کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بے انتہاکشیدگی کا مشاہدہ کیا گیا۔ تاہم،اس دوران جنگی جنون میں ہندوستانی ٹی وی میڈیا کی جانب سے بہت سی غلط معلومات اور فیک نیوز کو خبر کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس موضوع پر دی ہندو کے سینئر صحافی کلول بھٹاچاریہ اور دی وائر کے پالیٹکل ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
ہندوستان اور پاکستان نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے بتایا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوکے درمیان بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔ یہ جنگ بندی سنیچر کی شام 5 بجے سے مؤثر ہو گئی ہے۔ 12 مئی کو پھر سے بات چیت ہوگی۔
دنیا بھر کے دفاعی ماہرین ہندوستانی فضائیہ کی اس کارروائی کی کامیابی کے حوالے سے شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں۔ امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک متفق ہیں کہ میزائل ٹارگٹ سے خاصے دور گرے۔
‘آپریشن سیندور’ کے تحت ہندوستانی فوج کی جانب سے پاکستان اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے نو کیمپوں پر حملے کیے جانے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے اس کی حمایت کی اور سکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔ ان جماعتوں نے کہا کہ قومی مفاد سب سے مقدم ہے۔
ہندوستان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کےٹھکانوں کو نشانہ بنائےجانے کے بعد لائن آف کنٹرول سے متصل جموں کے پونچھ ضلع میں ایک رہائشی علاقے میں پاکستان کی طرف سےفائرنگ کیے جانے کے بعد محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار سمیت کم از کم 10 شہری کی موت ہوگئی اور 45 دیگر زخمی ہوگئے۔