اپنی مرضی سے خود کے چنے ہوئے لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھنے کی وجہ سے یورپی یونین کے سیاسی رہنما نے جموں و کشمیر کا یہ دورہ ٹال دیا۔ وہ ریاست کے تین سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جو 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے ہی حراست میں ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیاہے اور مبینہ طور پر پاکستان حمایتی نعرہ لگانے والے لوگوں کی پہچان کی جا رہی ہے۔
اتر پردیش کے میرٹھ کےایس پی سٹی اکھیلیش نارائن سنگھ نے20 دسمبر کوشہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران مقامی عوام کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جو کالی اور پیلی پٹی باندھے ہوئے ہیں، ان سے کہہ دو پاکستان چلے جاؤ…کھاؤ گے یہاں کا، گاؤگے کہیں اور کا۔
ویڈیو: اترپردیش کے میرٹھ میں گزشتہ 20 دسمبر کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرے میں اب تک 6 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ پولیس کے ساتھ ہوئی پر تشدد جھڑپ کے بعد سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ ساتھ ہی بڑی تعداد […]
اتر پردیش کے میرٹھ کےایس پی سٹی اکھیلیش نارائن سنگھ نے20 دسمبر کو مقامی باشندوں سے کہا تھا کہ اگر کچھ ہو گیا تو تم لوگ قیمت چکاؤگے… ہر ایک آدمی کو جیل میں بند کروں گا۔ 20 دسمبر کو میرٹھ میں چار لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔
پاکستان کی ایک اسپیشل عدالت نے جب سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تو پہلے خوشی اس لیے ہوئی کہ شاید اب آئندہ طاقت کے نشے میں چور کوئی آمر پاکستان میں من مانی کرنے یا جمہوریت کی قبا چاک کرنے کی جرأت نہیں کر پائے گا۔ کم سے کم کچھ اور نہیں تواداروں کے عہدوں کا وقار برقرار رہےگا۔ مگر جب تفصیلی فیصلہ منظر عام پر آیا، تو تمام تر خوشی اورپر امیدی کافور ہوگئی۔
کیرل کے بی جے پی ترجمان بی گوپال کرشنن نے ریاستی حکومت کے نیشنل پاپولیشن رجسٹر سے جڑی سرگرمیوں پر روک لگانے پر کہا کہ اگر وزیراعلیٰ وجین نے این پی آر نافذ نہیں کیا تو مرکز کے ذریعے پبلک ڈسٹریبوشن سسٹم کے تحت ریاست کو ملنے والا راشن نہیں دیا جائے گا۔
اٹل بہاری واجپائی کے تئیں بہتر خراج عقیدت یہی ہوسکتا ہے کہ ہزاروں بے گناہ اور معصوم افرادکو مزیدآگ کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے سرحد کے دونوں طرف کے عوام کے لئے امن کی راہیں ہموار کی جائیں اور دیرینہ تنازعات کے لئے کوششوں کو تیز کیا جائے۔
گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے سابرمتی آشرم میں شہریت قانون کی حمایت میں ایک ریلی کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب آزادی ملی تب بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کی محض 9 فیصدی تھی، جو 70 سال میں بڑھ کر 14 فیصدی ہو گئی ہے۔
پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف یہ معاملہ 2007 میں آئین کو رد کرنے اور ملک میں ایمرجنسی لگانے کے لیے چل رہا ہے۔ اس معاملے میں ان کے خلاف 2014 میں الزام طے کیے گئے تھے۔76 سالہ پرویز مشرف فی الحال علاج کے لیے دبئی میں مقیم ہیں۔
ویڈیو: گزشتہ دنوں آئی سی ایس ای نے معروف فکشن نویس کرشن چندر کی کہانی’جامن کا پیڑ‘کو دسویں جماعت کے نصاب سے ہٹا دیا تھا۔ ان کی فکشن نویسی اور ان کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں ان کے بھتیجے پون چوپڑہ سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔
آخر کون امن نہیں چاہتا؟ اس کی سب سے زیادہ ضرورت تو کشمیریوں کو ہی ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی صاحب سے بس یہی گزارش ہے کہ امن، قدر و منزلت، انصاف و وقار کا دوسرا نام ہے، ورنہ امن تو قبرستان میں بھی ہوتا ہے۔ جن تجاویز پر آپ امن کے خواہاں ہیں، وہ صرف قبرستان والا امن ہی فراہم کر سکتے ہیں۔
کیمپوں میں ایک ساتھ رہنے سے افغانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی کے لئے اردو خود بخود مُشترکہ زبان بَن گئی ہے۔ دراصل جِن کی مادری زبان اردو نہیں ہے، وہ سب کسی نہ کسی طرح اردو یا ہندی سےوابستہ ہیں۔ شمالی پاکستان اور پنجاب کے علاقوں میں اردو اگر ٹی وی چینلوں یا ریڈیو یا درسگاہوں میں غالب ہے تو افغانستان اور بنگلہ دیش میں بالی ووڈکی ہندی فلمیں یا انڈین ڈرامے کافی مقبول ہیں۔
جون کے یہاں وجود کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے انسان کے وجود اور خود اپنی ذات کے سراب کو کھنگالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔ امروہہ صرف ایک قصبہ ہی نہیں تہذیب و تمدن کا گہواراہ بھی ہے۔یہاں ایک کہاوت سینہ بہ […]
آج بہت منصوبہ بند طریقے سے آر ایس ایس پریوار کو چھوڑکر ساری آوازوں کودبا دیا گیا ہے۔ اگر کوئی آواز اٹھتی بھی ہے، تو صرف وہ، جو مسلمانوں کو پسماندہ،دقیانوسی اور قبائلی ثابت کرتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے عمران خان حکومت کی پشت پناہی کرنے والے قومی اداروں کو دو روز کی مہلت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اداروں سے تصادم نہیں چاہتے مگر اداروں کو بھی غیر جانبدار دیکھنا چاہتے ہیں۔
کشمیر میں یورپی رکن پارلیامان کے دورے کو مبینہ طور پر فنڈ دینےوالا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار نان-الائنڈ اسٹڈیز، شریواستو گروپ کا حصہ ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر اس کے کئی کاروبار ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ دستاویز ایساکوئی بزنس نہیں دکھاتے، جس سے وہ یورپی رکن پارلیامان کو ہندوستان بلانے اور وزیراعظم سے ملاقات کروانے میں اہل ہوں۔
مرکزی حکومت کے ذریعے آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ختم کرنے کے بعد جموں و کشمیر کی صورتحال جاننے کے لئے سرینگر پہنچےیورپی وفدمیں شامل جرمنی کے رکن پارلیامان نکولس فیسٹ نے یہ بات کہی ہے۔
ہندوستان کو ایک انٹرنیشنل بزنس بروکر کے ذریعے غیر ملکی رکن پارلیامان کے کشمیر آنے کی تمہید تیار کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ جو رکن پارلیامان بلائے گئےہیں وہ شدید طور پر رائٹ ونگ جماعتوں کے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایسی پارٹی سے نہیں ہے جن کی حکومت ہو یا نمایاں آواز رکھتے ہوں۔ تو ہندوستان نے کشمیر پر ایک کمزور وفد کوکیوں چنا؟ کیا اہم جماعتوں سے من مطابق ساتھ نہیں ملا؟
پاکستان کے سندھ کے لرکانا ضلع کے راٹوڈیرو میں اپریل میں اس انفیکشن کا پتہ لگا تھا۔ تب سے اب تک شہر کے تقریباً 1100 لوگ ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے ہیں، جن میں 900 سے زیادہ بچے ہیں۔
جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر آئے یورپی یونین کے رکن پارلیامان نے کہاکہ ہمیں فاشسٹ کہہ کر ہماری امیج کو خراب کیا جا رہا ہے۔
مغربی ممالک اور امریکی اداروں نے ا یبٹ آباد کے آپریشن کے بعد جس طرح پاکستان کو ایک طرح سے احساس گناہ میں مبتلاکرکے رکھا اور اسامہ کی ایک فوجی مستقر میں موجودگی کو پوری دنیا میں موضوع بحث بنادیا، بالکل اسی طرح بارشہ کا آپریشن بھی ترکی کی سفارت کاری کے لیے اب ایک امتحان ہوگا۔ لگتا ہے کہ آپریشن کا وقت بھی سوچ سمجھ کر طے کیا گیا تھا، تاکہ یہ ترکی کی حالیہ فوجی و سفارتی کامیابی میں دودھ میں جیسے مینگنیاں ڈالنے کا کام کرے۔
برٹن کی لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن پارلیامان کرس ڈیوس کا کہنا ہے کہ کشمیر دورہ کے لئے ان کو دی گئی دعوت کو حکومت ہند نے واپس لے لیا کیونکہ انہوں نےسکیورٹی کی غیر موجودگی میں مقامی لوگوں سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
خصوصی تحریر: وزیر داخلہ امت شاہ نے اگست میں کی گئی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اگر نہرونہ ہوتے، تو پاک مقبوضہ کشمیر ہندوستان کے قبضے میں ہوتا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر آج کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے تو یہ صرف نہرو کی وجہ سے ہی ہے۔
ویڈیو: جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد پہلی بار 27 یورپی رکن پارلیامان کا ایک غیر ملکی وفد ریاست کے دورے پر ہے، جبکہ ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد مرکزی حکومت نے اب تک کسی بھی غیر ملکی صحافی، افسر یا رہنما کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں ارملیش اس مدعے پر سینئر صحافی آشوتوش اور دی ہندو کی پالیٹیکل ایڈیٹر پورنیما جوشی سے با ت کر رہے ہیں۔
سرینگر اور ریاست کے کئی حصے پوری طرح سے بند رہے۔ پانچ اگست کو مرکزی حکومت کے ذریعے جموں و کشمیر کےخصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے 86ویں دن بھی کشمیرمیں معمولات زندگی درہم برہم رہی۔
یورپی یونین کے 27 رکن پارلیامان کا وفد منگل کو جموں وکشمیر کا دورہ کررہا ہے۔ یہ وفد آرٹیکل 370 کے زیادہ تر اہتماموں کو ہٹائے جانے کے بعد وہاں کی صورتحال کا جائزہ لے گا۔ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے گئی کانگریس سمیت کئی پارٹیوں کے رہنماؤں کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب امریکی رکن پارلیامان کے ایک گروپ نے جموں وکشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے دوسری بار ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے طیارے کو اپنے ایئر اسپیس کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں حقوق انسانی کی مبینہ خلاف ورزی کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہے۔ وہیں ہندوستان نے پاکستان کی اس حرکت کی شکایت آئی سی اے اوسے کی ہے۔
جنوبی اور مرکزی ایشیا معاملوں کی کارگزار اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ ایلس جی ویلز نے امریکی ایوان میں کہا کہ اقلیتوں کے خلاف تشدد اور جانبداری کے واقعات، گئو رکشک کے ذریعے دلتوں اور مسلمانوں پر حملے جیسے واقعات ہندوستان کے ذریعے اقلیتوں کو دیے گئے قانونی تحفظ کے مطابق نہیں ہیں۔
اکستان نے 27 اگست سے ہندوستان کے ساتھ ڈاک خدمات پر یکطرفہ روک لگائی ہوئی ہے۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ قدم ہندوستان کو بنا کسی پیشگی اطلاع کے اٹھایا ہے۔
ہم کو سوشل میڈیا پر دبئی میں مقیم ہزاروں ابنائے قدیم میں کسی ایک کی بھی کوئی سیلفی نظر نہیں آئی جو اس بات کی تصدیق کرتی ہو کہ برج خلیفہ کو سر سید ڈے پر روشن کیا گیا ہو!
ہمارے دیسی مرد بھی کمال ہیں کہ ان کے تبصرے سے تو برطانوی شہزادی اور مستقبل کی ملکہ بھی محفوظ نہیں۔ ان کا بس چلے تو اسٹیچو آف لبرٹی کا بھی سر ڈھک آئیں اور خود باقی ماندہ بے پردہ عورتوں کو گھورتے پھریں۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو بیجنگ میں ایک اجلاس میں بھروسہ دلایا کہ عالمی اور علاقائی حالات میں تبدیلی کے باوجود چین اورپاکستان کی دوستی اٹوٹ اور چٹان جیسی مضبوط ہے۔
امریکہ میں’سینیٹ انڈیا کاکس’کے کو چیئرمین اور امریکی رکن پارلیامنٹ مارک وارنر نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت ہندسے اپیل کی ہے کہ وہ پریس، اطلاعات اور سیاسی شراکت داری کی آزادی دےکر جمہوری اصولوں کی پابندی کرے۔
امریکی پارلیامنٹ کے خارجہ امور کی کمیٹی نے کہا کہ کشمیر میں مواصلاتی ذرائع پر پابندی کی وجہ سے کشمیریوں کی روزمرہ کی زندگی پر تباہ کن اثر پڑ رہا ہے۔ ہندوستان کے لئے ان پابندیوں کو اٹھانے اور کشمیریوں کو کسی بھی دیگر ہندوستانی شہری کی طرح یکساں حقوق اور خصوصی اختیارات دینے کا وقت ہے۔
کچھ عرصے سے ہندوستان سے بہت دکھ دیوا باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ کبھی کسی کو گائے کا گوشت کھانے پر مار دیا جاتا ہے تو کبھی کسی کشمیری مسلمان کو کرائے پر گھر دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کا نام ایک گالی بن چکا ہے کہ جس سے ذرا سا بھی مسئلہ ہو اسے پاکستان جانے کا مفت مشورہ یا یوں کہیے دھمکی دے دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی مذہبی منافرت اپنے عروج پر ہے۔ اقلیتوں کے حالات ان دونوں ملکوں میں کچھ خاص اچھے نہیں۔
امریکی رکن پارلیامان اس سے پہلے جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے وہاں جانا چاہتے تھے، حالانکہ حکومت ہند نے ان کو اس کی اجازت نہیں دی تھی۔
گجرات کا وکاس ماڈل ایک فریب تھا۔ گجرات فسادات کے بعد مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کا جو تجربہ شروع ہوا، مودی-شاہ اسی کے سہارے مرکز میں اقتدار میں آئے۔ آج یہی گجرات ماڈل سارے ملک میں اپنایا جا رہا ہے۔ 370 کا مدعا اسی تجربے کی اگلی کڑی ہے، جس کو مودی شاہ مہاراشٹر اور ہریانہ انتخاب میں بھنانے جا رہے ہیں۔
ہندوستانی حکومت سے جموں و کشمیر جانے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیامان کریس وان ہولن اس ہفتے ہندوستان آئے۔انہوں نے افسروں اور سول سوسائٹی کےلوگوں سے ملاقات کی۔