پاکستانی ٹھکانوں پر ہندوستان کے میزائل حملے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امید ہے فوجی کشیدگی بہت جلدختم ہو جائے گی۔ وہیں، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک سےتحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ چین نے دونوں فریقوں سے اپیل کی کہ وہ امن اور استحکام کے وسیع تر مفاد میں کام کریں اور اس طرح کی کارروائی گریز کریں۔
ہندوستان نے ‘آپریشن سیندور’ کے تحت پاکستان اور پی او کے میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ سکریٹری خارجہ نے اسے منصفانہ، محدود اور غیر اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے سرحد پار حملوں کا جواب دینے، انہیں روکنے اور مزاحمت کرنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔
ہندوستانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد سے منسلک ہائی پروفائل مقامات- جن کے ہٹ لسٹ میں سرفہرست ہونے کی امید تھی-کے علاوہ ہندوستانی فوج کے آپریشن سیندور نے ان کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں پہلگام سمیت ہندوستان میں ہوئے مختلف دہشت گردانہ حملوں کی’جڑیں’ ہیں۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کی حکمت عملی آرمی چیف، وزیر اعظم، خفیہ ایجنسی، اور خزانہ اور خارجہ کی وزارتیں طے کر رہی ہیں۔ حتمی فیصلوں میں کس کا کیا اور کتنا کردار ہوگا، تفصیل سے ملاحظہ کریں۔
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ وہ سندھ طاس آبی معاہدے کے تحت پانی کی سپلائی روکنے کی کسی بھی کوشش کو ‘جنگی اقدام’ تصور کرے گا اور پوری طاقت سے اس کا جواب دے گا۔ یہ بیان پہلگام حملے کے بعد ہندوستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کے ردعمل میں آیا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے مدنظرمنظور کی گئی ایک قرارداد میں پاکستان کو ‘جان بوجھ کر ہندوؤں کو نشانہ بناتے ہوئےمنصوبہ بند دہشت گردانہ کارروائی’ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ پارٹی نے بی جے پی پراس سانحہ کے بہانے پولرائزیشن اور تفرقہ کو بڑھاوا دینے کا الزام بھی لگایا۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے۔ یہ قدم پاکستان پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ہندوستان کنٹرولڈ واٹر فلو کو روک سکتا ہے، لیکن قدرتی بہاؤ پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اثرات محدود ہوں گے،لیکن پیغام واضح ہے۔
پندرہ اگست 1947 کو ایک طویل جدوجہد کے بعد جب ہم نے اپنی سینکڑوں سال کی غلامی کا طوق اتار پھینکا تھا تو اس دن رمضان المبارک کا ستائیسواں روزہ اور آخری جمعہ تھا۔ ایسے میں رمضان، جمعتہ الوداع اور عید نہ صرف اسلامی بلکہ ہماری آزادی اور قومی اتحاد کا جشن بھی ہیں۔
لیکس فریڈمین کے پوڈ کاسٹ میں پی ایم مودی نے 2002 کے گجرات فسادات، آر ایس ایس کے نظریے اور دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیا۔ جمہوریت میں تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اپنی سوچ اور عمل میں جمہوریت پسند ہیں تو آپ کو تنقید کو گلے لگانا چاہیے۔
پاکستان کے شورش زدہ علاقےبلوچستان میں 11 مارچ کو مسلح باغیوں نے ایک مسافر ٹرین پر حملہ کیا تھا، جس میں سینکڑوں افراد سوار تھے۔ حکام نے بتایا کہ 30 گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں 300 سے زائد یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا ہے۔ اس دوران 21 یرغمالی اور 33 باغی مارے گئے۔
پاکستان کے شورش زدہ علاقے بلوچستان میں مسلح باغیوں نے 11 مارچ کو سینکڑوں افراد کو لے جارہی ایک مسافر ٹرین پر حملہ کرتے ہوئے تقریباً 425 مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 16 دہشت گرد مارے گئے ہیں اور 104 مسافروں کو بچا لیا گیا ہے۔
سندھو درگ ضلع کے مالون میں پولیس نے بتایا کہ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا ایک 15 سالہ لڑکے نے اتوار کو ہندوستان-پاکستان کرکٹ میچ کے دوران ‘ملک مخالف’ نعرے لگائے۔ لڑکے کو حراست میں لیا گیا ہے اور اس کے والدین کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی کباڑ کی دکان کو مسمار کر دیا گیا ہے۔
موئے مقدس کی چوری محض ایک چوری نہیں تھی ۔یہ ایک چنگاری تھی جس نے کشمیر کی دیرینہ جدوجہد برائے انصاف اور شناخت کو زندہ کردیا تھا۔ جس کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ تاہم، تاریخ دان اور سابق بیوروکریٹ خالد بشیر احمد کی کتاب تاریخ کشمیر کے اس اہم واقعہ کے کئی گوشوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔
دانش ارشاد کی کتاب ‘آزادی کے بعد’ کشمیر کے دونوں خطوں خاص طور پر پاکستانی زیر انتظام علاقہ کی حرکیات جاننے کے لیے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی کتاب دراصل اس خطے کی سیاسی اور سماجی حرکیات کے حوالے سے ایک اہم تحقیق ہے۔
لاہور اور دہلی بالکل جڑواں بہنیں لگتی ہیں۔ اگر دہلی میں کسی شخص کو نیند کی گولی کھلا کر لاہور میں جگایا جائے، تو شاید ہی اس کو پتہ چلے کہ وہ کسی دوسرے شہر میں ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ایک جج نے بنگلورو کے مسلم اکثریتی علاقے کو ‘پاکستان’ کہا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالت کو اس طرح کا تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، جن کوخواتین کی تضحیک یا سماج کے کسی بھی طبقے کے لیے متعصب خیال کیا جا سکتا ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس سریش نے ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے بنگلورو کے ایک مسلم اکثریتی علاقے کو ‘پاکستان’ کہا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل سے رپورٹ طلب کی ہے۔
مضامین اور کتابوں میں نورانی حوالہ جات سے اپنے دلائل کی عمارت اتنی مضبوط کھڑی کر دیتے تھے کہ اس کو ہلانا یا اس میں سیندھ لگانا نہایت ہی مشکل تھا۔ وہ اپنے پیچھے ایک عظیم ورثہ چھوڑ کر گئے ہیں، جس کے لیے صدیوں تک ان کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔
وفاتیہ: نورانی کے علم و تحقیق کا دائرہ بہت وسیع تھا، جس کا ادراک ان کی تصنیفات سے بخوبی ہوتا ہے۔ دراصل، چین اور پاکستان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات، جموں و کشمیر کا سوال، ہندوستانی آئین، برطانوی آئینی تاریخ، قانون، حیدرآباد، اسلام، انسانی حقوق، سیاسی مقدمے، جدوجہد آزادی، بابری مسجد اور ہندوتوا وغیرہ ایسے موضوعات ہیں، جو ان کے تبحر علمی کے وقیع اور گراں قدرحوالے کہے جا سکتے ہیں۔
ملک کی یونیورسٹیاں، بالخصوص مرکزی یونیورسٹیاں، ایک طرح سے مرکزی حکومت کے ‘توسیعی دفاتر’ میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کوئی بھی تعلیمی شعبہ انتظامیہ کے ‘فلٹر’ سے گزرے بغیر کسی قسم کی تقریب منعقد نہیں کر سکتا۔
رانا داس گپتا بنگلہ دیش کے سرکردہ اقلیتی رہنما ہیں۔ دی وائر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد 52 اضلاع میں اقلیتوں پر حملے اور ہراسانی کے کم از کم 205 واقعات رونما ہوئے ہیں۔
نٹور سنگھ ایک زیرک اور کامیاب سفارت کار تھے، گاندھی خاندان کے بے حد قریبی مانے جاتے تھے، مگر سیاست کسی کی دوست نہیں ہوتی ہے، یہ بس مفادات کی آبیاری کانام ہے۔ کانگریس ان سے دور ہوگئی، تو نٹور سنگھ اور ان کے بیٹے جگت سنگھ بھی خود تمام عمر کے پالے ہوئے نظریہ کو لات مار کر بی جے پی کی گود میں بیٹھ گئے، جہاں ان کے نظریہ ساز نہرو کو دن رات گالیاں دی جا رہی ہیں۔
نیرج چوپڑہ کی شاندار کارکردگی کے بعد ان کی ماں کا ایک بیان دنیا بھر کے میڈیا میں سرخیوں میں ہے۔ نیرج کی ماں نے کہا کہ جس نے گولڈ میڈل جیتا ہے وہ بھی اپنا ہی لڑکا ہے۔ انہوں نے یہ بیان پاکستان کے ارشد ندیم کے گولڈ میڈل جیتنے کے بعد دیا۔ نیرج چوپڑہ کی ماں کا یہ بیان جنگی جنون میں مبتلا ہندوستان کے بیشتر میڈیا گھرانوں کو راس نہیں آئے گا۔ اور نہ ہی ان سیاستدانوں کو جو ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دشمنی کی تیز تلوار بھانجتے رہتے ہیں۔
مودی سرکار کے ترقی کے تمام دعووں کے باوجود دنیا میں سب سے زیادہ 19.5 کروڑ ناقص غذائیت کے شکار افراد ہندوستان میں ہیں۔ یو این کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے نصف سے زیادہ لوگ (79 کروڑ) اب بھی ‘مقوی یا صحت بخش غذا’ کے اخراجات برداشت کرنے کےمتحمل نہیں ہیں، جبکہ 53 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ ڈی جی پی آر آر سوین نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر کے مرکزی دھارے کے لیڈروں کے دہشت گردی سے وابستہ ہونے کے ’خاطرخواہ شواہد‘ موجود ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے ان پر ایک مخصوص سیاسی نظریے اور سیاسی جماعت کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اپنی یاد داشت لکھنے کے بجائے بساریہ نے، جو 2017 سے 2020 تک ہائی کمشنر کے عہدہ پر رہے، پاکستان میں 1947 سے لےکر موجودہ دور تک ہندوستان کے سبھی 25 سفیروں کے تجربات کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ چند تضادات اور کچھ غلط تشریحات کو چھوڑ کر یہ کتاب، ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات و حالات پر نظر رکھنے والوں اور تجزیہ کاروں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق کشن گنگا ایک ایسا پروجیکٹ تھا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کسی طرح تعاون کرتے تو اس سے ذرا دوری پر لائن آف کنٹرول کے پاس ایک بڑا پاور پروجیکٹ بنایا جاسکتا تھا، اور دونوں ممالک اس سے پیدا شدہ بجلی آپس میں بانٹ سکتے تھے۔
پاکستان نے امریکہ کی شدید مخالفت کی وجہ سے 2013سے اس پائپ لائن پر کام بند کیا ہوا تھا۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، رام مندر کی تعمیر کا ایشو کچھ زیادہ ووٹروں کو لبھا نہیں پا رہا ہے۔ ہندو ووٹر خوش تو ہیں کہ رام مندر بن گیا، مگر یہ اس کے ووٹ کرنے کی وجہ نہیں بن پا رہا ہے۔ ہاں ان جائزوں کے مطابق جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ ووٹروں پر یقینا اثر انداز ہو رہا ہے۔
پاکستان کے چونسہ آم کی کامیاب پیوند کاری ہندوستان کے کیسری آم کے پیڑ کے ساتھ کئی گئی ہے۔ اب اس میں بس پھل کے آنے کا انتظار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان امن مساعی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ آم کی اس قسم کا نام وہ دوستی رکھنا چاہیں گے اور یہ پھل دونوں ممالک کے تلخ تعلقات کو مٹھاس میں تبدیل کردے گا
فن لینڈ مسلسل ساتویں سال دنیا کے سب سے خوشحال ممالک میں سرفہرست ہے، جبکہ افغانستان فہرست میں سب سے نیچے ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی جب امارات کے ابوظہبی کے نواح میں ابو موریخاء کے مقام پر ہندوؤں کے سوامی نارائن فرقہ کے مندر کا افتتاح کررہے تھے، تو اسی ملک کے دوسرے سرے پر شارجہ میں کنٹرول لائن کے آر پار جموں و کشمیر سے وابستہ تارکین وطن نے چنار اسپورٹس فیسٹول کا اہتمام کیا ہوا تھا۔
ہندوستان کا صحافی اس وقت ایودھیا میں بھگوان رام کے ساتھ مصروف ہے۔ اس کو اب حکمران جماعت کے ایجنڈے کو چلانے اور اقتدار میں حکومت کے بجائے اپوزیشن سے سوال کرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی ہے، تو کیسے پڑوسی کا حال دریافت کرنے پہنچ جائے گا۔
سال 2024 ایک تاریخی سال ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس سال امریکہ، روس، ایران، ہندوستان سمیت تقریباً 70 ممالک میں صدارتی یا ایوانِ نمائندگان کے انتخابات ہونے ہیں، جن کے مجموعی اثرات ہمارے مستقبل پر کافی گہرا اثر مرتب کر سکتے ہیں۔
کولکاتہ پولیس نے بتایا کہ پاکستان بنگلہ دیش ورلڈ کپ کرکٹ میچ کے دوران فلسطینی پرچم لہرانے کے الزام میں چار افراد کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ وہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ شکایت اس مبینہ واقعے کے حوالے سے کی گئی ہے جب کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران 14 اکتوبر کوہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئےمیچ میں پاکستانی بلے باز محمد رضوان آؤٹ ہو کر ڈریسنگ روم کی طرف جا رہے تھے تو ہندوستانی شائقین نے انہیں دیکھ کر نعرے بازی کی تھی۔
شاہ رخ خان بھلے ہی کہیں کہ ان کی دلچسپی صرف ‘انٹرٹین’ کرنے میں ہے، لیکن ان کی حالیہ فلموں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ انٹرٹینمنٹ کے ساتھ کوئی نہ کوئی پیغام دینے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
رائے ریاض حسین کی کتاب ‘رائے عامہ’ پاکستان کی موجودہ تاریخ کا آئینہ ہے اور یہ کتاب ایک ایسے شخص نے لکھی ہے، جس کو پاور کوریڈورز کے اندرون تک رسائی تھی۔
ہندوستان کی وزارت دفاع کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ یعنی ڈی آر ڈی او کے ڈائریکٹرکی سطح کے سائنسدان پروفیسر پردیپ کورولکر کی پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتاری پر ہندوتوا تنظیموں کو کیوں سانپ سونگھ گیا ہے؟
پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اس مہم جو مجلس ثلاثہ نے مودی حکومت کو ایک ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے پاس آپشن انتہائی محدود ہیں۔اس صورتحال میں بات چیت کی بحالی تقریباً ناممکن نظر آرہی ہے کیونکہ جہاں نئی دہلی کے لیے سخت گیر موقف سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں وہاں پاکستان کے لیے کشمیرکے حوالے سے اختیارکردہ موقف سے پیچھے ہٹنا سیاسی اور سفارتی خودکشی سے تعبیر ہوگا۔