اترپردیش کے بریلی ضلع میں ایک خالی پڑے گھر میں نماز ادا کرنے کی وجہ سے 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ مکان کو مدرسہ میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ تاہم، گھر کی مالکن نے کہا ہے کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔
اتر پردیش کے فتح پور ضلع کے موئی گاؤں میں منگل کو ایک 200 سال پرانے مزار کو مبینہ طور پر منہدم کرنے کے الزام میں پولیس نے بجرنگ دل کے ایک کوآرڈینیٹر کو گرفتار کیا ہے اور کئی دیگر ملزم کی تلاش کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ توڑ پھوڑ کے دوران ملزم بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کا ذکر کر رہے تھے۔
جمعرات کو ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے دادری لنچنگ کیس میں اخلاق کے خاندان کی جانب سے دائر اعتراض کو قبول کر لیا، جس میں اتر پردیش حکومت کے الزامات واپس لینےکے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ خاندان نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی کو لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ کرقتل کرنا کم سنگین جرم ماناجا سکتا ہے اور اس دعوے کو چیلنج کیا کہ مقدمہ واپس لینے سے ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں کے بارے میں بولنے والے ملک کے پہلے بھاجپائی چیف منسٹر بننے کو کچھ لوگوں نے اس سے پہلے دیگر وزرائے اعلیٰ کی جانب سے ایس آئی آر سے متعلق بے ضابطگیوں کی شکایتوں کی تصدیق کے طور پر دیکھا ہے۔ تاہم، کئی حلقوں میں یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا یوپی میں ایس آئی آر میں ’کھیل‘ کرنے کے ارمانوں کے برعکس بی جے پی کو ہی بڑے نقصان کا ڈر ستانے لگا ہے؟
گزشتہ 22نومبر کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام ضلع حکام کو مبینہ ‘دراندازوں’ کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اب لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے ایک کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس میں سب سے پہلےآسام سے آنے والے اور چھوٹے موٹے کام کر کے روزی کمانے والے 50 سے زیادہ خاندان نشانےپر آ گئے ہیں۔
میرٹھ میں ہندو خاندان سے ایک مسلمان کےگھر خریدنے کے سودےنے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ مقامی ہندو گروپوں نے اس کو لے کرپولیس تھانے اور بعد میں گھر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیااور ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کیا۔ بیچنے والے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں خریدار کے مسلمان ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جس نے اچھی قیمت دی، انہوں نے اس کو مکان بیچ دیا۔
پچھلے تین دنوں میں اتر پردیش کے دو اور راجستھان میں ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)کی موت ہوگئی۔ ان کے اہل خانہ نے موت کی وجہ ایس آئی آر سے متعلق کام کے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ وہیں،الیکشن کمیشن نے ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہ کرتے ہوئے دو ویڈیو جاری کرکے بتایا ہے کہ بی ایل او کام کے دباؤ کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہیں، ڈانس بریک لے رہے ہیں اور اپنے کام کے لیے کیسے ہمت حاصل کر رہے ہیں۔
اتر پردیش کے گونڈا، فتح پور اور بریلی میں ایس آئی آرکےکام میں مصروف تین بی ایل اوکی مبینہ طور پر کام کے زیادہ بوجھ کی وجہ سے موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ان معاملوں میں کسی بھی طرح کے دباؤ کی تردید کی ہے،وہیں الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
دہلی کے قریب بساہڑا گاؤں میں دس سال پہلے محمد اخلاق کو پیٹ-پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اخلاق کے چھوٹے بیٹے دانش بھی شدید زخمی ہو گئے تھے۔ لیکن ایک دہائی بعد بھی یہاں کے لوگوں کو قتل کے اس واقعہ پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے، تو صرف ملزمین کے لیے ہمدردی اور یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے شکریہ کے کلمات۔
گوتم بدھ نگر کے دادری علاقے کے بساہڑا گاؤں کے رہنے والے 52 سالہ محمد اخلاق کو 28 ستمبر 2015 کو بھیڑ نے مبینہ طور پراس شبہ میں پیٹ-پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہواہے۔ اب اتر پردیش حکومت نے ان کی لنچنگ کے ملزمین کے خلاف قتل سمیت تمام الزامات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وشو ہندو پریشد کی شکایت کے بعد حکام نے امن و امان کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اتر پردیش کے ایودھیا اور بارہ بنکی میں دو سالانہ عرس کی تقریبات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
دیہی ترقی کے وزیر مملکت چندر شیکھر پیمسانی نے لوک سبھا میں کہا کہ سات کروڑ کی آبادی کے باوجود تمل ناڈو کو یوپی کے مقابلے زیادہ منریگا فنڈ ملتا ہے۔ تاہم، منریگا کی ویب سائٹ کے مطابق، اس مالی سال میں تمل ناڈو کو یوپی کے مقابلے میں 2348 کروڑ روپے کم ملے ہیں۔
مین پوری کی ایک عدالت نے 1981 میں اتر پردیش کے دہولی میں خواتین اور بچوں سمیت 24 دلتوں کے وحشیانہ قتل کے لیے تین مجرموں کو موت کی سزا سنائی اور کہا کہ یہ قتل جاٹوں کے خلاف ٹھاکروں کے ‘ذات پات اور شدید تعصب’ کے نتیجے میں کیے گئے تھے۔
اتر پردیش کے بانس ڈیہہ سے بی جے پی ایم ایل اے کیتکی سنگھ نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے نئے بلیا میڈیکل کالج میں مسلمانوں کے لیے ‘علیحدہ ونگ’ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ طبی سہولیات ہندوؤں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
نشاد پارٹی کے کارکن پریشان ہیں۔ پارٹی قیادت عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہے اور اپنی نااہل اولادوں کو کارکنوں پر مسلط کر رہی ہے۔ کچھ لیڈروں نے وقت رہتے پارٹی چھوڑ دی، لیکن دھرماتما نشاد ایسا نہیں کرپائے۔ ایک نوجوان سیاسی کارکن کی خودکشی وسیع پیمانے پر غوروخوض کا تقاضہ کرتی ہے۔
بلند شہر میں ایک دلت شخص کو اس کی بارات کے دوران ٹھاکروں نے گھوڑے سے اتار دیا، انہوں نے مبینہ طور پر باراتیوں کے ساتھ بھی مارپیٹ کی۔ وہیں متھرا میں دو دلت بہنوں کی شادی کے موقع پر یادو برادری کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر بارات پر حملہ کیا، اور بعد میں شادی رد کر دی گئی۔
سنبھل کے کھگگو سرائے میں ‘دریافت کیے گئے’ مندر کے قریب رہنے والے مسلم خاندان کے مطابق، انتظامیہ ان کے گھر کو گرانا چاہتی ہے، کیونکہ یہ مندر کی پری کرما (طواف) میں رکاوٹ ہے۔ متاثرہ خاندان کے احتجاج کرنے پر پولیس نے گھر کے مالک محمد متین کو 16 جنوری کو گرفتار کر لیا تھا۔
سنبھل پولیس نے بتایا کہ انتظامیہ نے مقامی لوگوں کے ذریعے کنویں کو غیر قانونی طور پرڈھکنے کی شکایت موصول ہونے کے بعد بدھ (22 جنوری) کو کنویں کی کھدائی شروع کی ہے۔ یہ کنواں متنازعہ شاہی جامع مسجد کے قریب ہے۔
ہمیر پور ضلع کا ایک دلت خاندان 10 جنوری کی رات کو اپنے گھر میں ‘عرس’ کا پروگرام منعقد کر رہا تھا، جب بجرنگ دل کے ارکان نے اس میں رکاوٹ ڈالی اور پولیس کو اس کی اطلاع دی۔ الزام لگایا گیا کہ مسلمان اس خاندان کو زبردستی اسلام قبول کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سنبھل کی شاہی جامع مسجدسے ملحقہ زمین خالی ہوا کرتی تھی۔ تشدد کے بعد انتظامیہ نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا اوریہاں ستیہ ورت پولیس چوکی کی تعمیر شروع کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نام سنبھل کی ‘مذہبی اور تاریخی اہمیت’ کو ظاہر کرتا ہے۔
میڈیا ہاؤس ‘آج تک’ کے زیراہتمام منعقد ایک کانکلیو میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سنبھل میں ہری ہر مندر کے مبینہ انہدام کے سلسلے میں مسلم کمیونٹی سے ‘اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے’ اور ‘سناتن دھرم کی علامتوں کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ ڈالنے’ کے لیے بھی کہا۔
نند کشور گرجر نے غازی آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حکومت میں روزانہ 50000 گائیں ذبح کی جا رہی ہیں۔ افسران گائے کی فلاح و بہبود کے لیے آئے پیسےکو کھا رہے ہیں۔ ہر جگہ لوٹ مچی ہے اور اس سب کے سرغنہ چیف سکریٹری ہیں۔ یہ معاملہ وزیر اعلیٰ تک پہنچنا چاہیے۔
نومبر 2024 میں سپریم کورٹ نے مہاراج گنج کے صحافی منوج ٹبریوال کے دو منزلہ آبائی گھر اور دکان کو غیر قانونی طور پر گرانے کے لیے یوپی حکومت کو 25 لاکھ روپے معاوضہ کے طور پر ادا کرنے کو کہا تھا۔ اب اس معاملے میں کئی افسران کے خلاف نامزدایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران 24 نومبر کو ہوئے تشدد میں مسلم کمیونٹی کے پانچ لوگوں کی گولی لگنے سے موت ہوگئی تھی۔ اب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جس جگہ یہ تشدد ہوا تھا، وہاں سے اسے پاکستانی کارتوس ملا ہے۔
موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ہر مسجد کے نیچے شیو مندر یا کوئی مورتی ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ شاید ان کو معلوم ہے کہ اگر یہ سلسلہ شروع ہوا تو رکنے والا نہیں ہے اس کی زد میں ہندو مندر بھی آسکتے ہیں اور تاریخ کے وہ اوراق بھی کھل جائیں گے، جو ثابت کریں گے کہ کس طرح برہمنوں نے بدھ مت کو دبایا اور ان کی عبادت گاہوں کو نہ صرف مسمار کیا بلکہ بدھ بھکشووں اور بدھ مت کے ماننے والوں کو اذیت ناک موت دے کر اس مذہب کو ہی ملک سے بے دخل کر دیا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینئر وکیل دشینت دوے نے دی وائر کے لیے کرن تھاپر کو دیے ایک انٹرویو میں کہا کہ مسجدوں کے سروے کی اجازت دے کر سابق سی جے آئی جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے ‘آئین اور ملک کے ساتھ بڑی ناانصافی کی’ ہے۔
سنبھل انتظامیہ نے اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں کو مسجد کے سروے کے دوران تشدد میں مارے گئے پانچ مسلمانوں کے اہل خانہ سے ملنے کے لیے ضلع کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی حکومت کی مبینہ پولیس زیادتیوں کے متاثرین تک رسائی کو روکنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
درخواست 19 نومبر کو دائر کی گئی اور 19 تاریخ کو ہی عدالت نے سروے کی اجازت دے دی۔ اسی دن سروے ہو بھی گیا۔ جامع مسجد کا پہلا سروے رات کے اندھیرے میں ہوا، جبکہ دوسرا صبح سویرے۔ وہ سرکاری کارروائی جو دن کے اجالے میں پوری کی جا سکتی تھی، اس کو بے وقت انجام دیا گیا۔ ایسا کب ہوتا ہے کہ کسی تاریخی عمارت کا سروے پہلے اندھیرے میں ہو اور اس کے بعد صبح کے وقت جب لوگ عموماً اپنی دکانیں بھی نہیں کھول پاتے۔
بی جے پی کے مطابق، سنبھل میں مسجد کے سروے کے دوران جو تشدد ہوا وہ شہر کی ترک اور پٹھان برادریوں سے تعلق رکھنے والے دو سیاسی خاندانوں کے درمیان بالادستی کی لڑائی کا نتیجہ تھا۔ تاہم، مقامی لوگوں اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس کی تردید کرتے ہوئے اسے پولیس کو بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
سنبھل مسجد کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین سینئر وکیل ظفر علی نے سوال اٹھایا کہ مظاہرین ایک دوسرے کو کیوں ماریں گے؟ اگر انہیں گولی چلانی ہی تھی تو وہ عوام پر نہیں پولیس پر گولی چلاتے۔ علی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود پولیس کو بھیڑ پر گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا تھا۔
سنبھل میں جامع مسجد کے سروے کے دوران ہوئے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے دو خواتین سمیت 25 مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے اور ایس پی ایم پی ضیاء الرحمان برق سمیت تقریباً 2500 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے بھیڑ کے خلاف کوئی مہلک ہتھیار استعمال نہیں کیا۔
سنبھل میں مغلیہ دور کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے خلاف احتجاج کرنے والی بھیڑکی پولیس کے ساتھ 24 نومبر کو ہوئی جھڑپ میں تین مسلمانون کی موت ہوگئی۔ مقامی مسلمانوں کا الزام ہے کہ تینوں پولیس فائرنگ میں مارے گئے، جبکہ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بھیڑ کے درمیان کراس فائرنگ کا شکار ہوئے۔
سنبھل کی ایک مقامی عدالت میں دائر درخواست میں ہندوتوا کے حامی وکیل ہری شنکر جین سمیت کئی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہی جامع مسجد وشنو کے اوتار کالکی کا مندر ہے۔ عدالت نے مسجد کے سروے کا حکم دیا تھا، جس کے چند گھنٹوں کے اندر یہ کارروائی مکمل کر لی گئی۔
سپریم کورٹ نے اترپردیش میں ایک شہری پروجیکٹ کے لیے رہائشی مکانات کو غیر قانونی طور پر مسمار کرنے پر ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے کارروائی کو زیادتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘آپ بلڈوزر لے کر راتوں رات گھر نہیں گرا سکتے’۔
کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کو اکتوبر 2020 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ یوپی کے ہاتھرس میں گینگ ریپ کیس کی رپورٹنگ کرنے جا رہے تھے۔ ستمبر 2022 میں سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دیتے ہوئے ہر ہفتے یوپی کے ایک تھانے میں حاضری لگانے کو کہا تھا۔ اب یہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔
اتر پردیش میں ایودھیا ضلع کی ملکی پور اسمبلی سیٹ کے آئندہ ضمنی انتخاب میں بھدرسا قصبے کی ایک نابالغ کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کے معاملے کو دیگر انتخابی ایشوز پر حاوی کرنے کی کوششیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، جبکہ بھدرسا ملکی پور اسمبلی حلقہ کا حصہ بھی نہیں ہے۔
اتر پردیش حکومت کے نئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے تمام ریستورانوں اور کھانے پینے کی دکانوں کو آپریٹروں، مالکان، منیجروں اور ملازمین کے نام اور پتے لکھنے ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ قدم کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ سے نمٹنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یوپی کے وزیر توانائی اے کے شرما نے ریاستی حکومت کی طرف سے بلڈوزر کے استعمال کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غنڈہ گردی اور ‘مافیا راج’ کو ختم کرنے کا وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا طریقہ ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے پی ایم مودی قومی سطح پر بدعنوانی سے نمٹ رہے ہیں۔
روسی فوج میں تعینات ہندوستانیوں کے اہل خانہ مسلسل حکومت سے مدد کی فریاد کر رہے ہیں، اور یہ دیکھ کر مایوس بھی ہیں کہ اس سمت میں کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ یوم آزادی سے عین قبل ایسے ہی دس نوجوانوں کے اہل خانہ دہلی پہنچے اور انڈیا گیٹ اور روسی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اتر پردیش کے غازی آباد میں گل دھر ریلوے اسٹیشن کے قریب کوی نگر علاقے میں ہندو رکشا دل کے کارکنوں نے مسلمانوں کو غیر قانونی بنگلہ دیشی قرار دیتے ہوئے حملہ کر دیا، جبکہ پولیس کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے ہندوستان کے شہری ہیں۔