خبریں

’انڈیا‘ اتحاد نے مل کر الیکشن لڑنے کی قرارداد پاس کی، کہا- سرکار کے چھاپوں کے لیے تیار ہیں

گزشتہ جمعہ کو اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کا تیسرا اجلاس ممبئی میں منعقد کیا گیا۔ دو روزہ اجلاس میں 14 رکنی مرکزی کمیٹی، ایک مہم کمیٹی، ایک میڈیاکمیٹی اور ایک سوشل میڈیا ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس دوران اتحاد میں شامل رہنماؤں نے مہنگائی اور بدعنوانی کو حوالے سے مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔

ممبئی میں منعقدہ اجلاس کے دوران مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

ممبئی میں منعقدہ اجلاس کے دوران مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

ممبئی: جمعہ (1 ستمبر) کو ممبئی میں اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کے تیسرے اجلاس کے دوسرے دن 27 جماعتوں نے مل کر الیکشن لڑنے کی قرارداد منظور کی۔

انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا) کی قرارداد میں کہا گیا، ‘ہم ‘انڈیا’کی پارٹیاں، جہاں تک ممکن ہو، اگلے لوک سبھا انتخابات ایک ساتھ لڑنے کا عزم کرتے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں سیٹوں کی تقسیم کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا اور باہمی تعاون کے جذبے کے ساتھ جلد از جلد اس کومکمل کیا جائے گا۔

شیو سینا (ادھو بال ٹھاکرے) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے جمعہ کی سہ پہر 3:30 بجے اجلاس میں میں یہ قرارداد پڑھ کر سنائی۔ اس سال کے شروع میں بنگلورو اور پٹنہ میں ہونے والی بیٹھکوں کے بعد ‘انڈیا’ اتحاد کی یہ تیسری بیٹھک تھی۔

مختلف ریاستوں کی کئی بڑی اور چھوٹی سیاسی تنظیموں پر مشتمل اتحادی جماعتوں نے اپنے تعاون اور سیٹوں کی تقسیم سے متعلق اپنے منصوبوں کو واضح کرنے اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) سے مقابلہ کرنے کے لیےمشترکہ ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا۔

’جڑے گابھارت، جیتے گا انڈیا‘

قرارداد میں اتحاد نے اعلان کیا کہ وہ عوامی تشویش اور اہمیت کے مسائل پر جلد از جلد ملک کے مختلف حصوں میں مشترکہ طور پر عوامی ریلیاں نکالیں گے۔

اس کا تھیم ‘جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا’ ہوگا، جس کا مطلب ہے  کہ ‘ ہندوستان متحد ہو کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ‘انڈیا’ کی جیت  ہو’۔ اتحاد نے اس بینر کے تحت ہندوستان بھر میں مہم چلانے کا عزم ظاہرکیا ہے۔

اس دو روزہ اجلاس میں 14 رکنی مرکزی کمیٹی، ایک مہم کمیٹی، ایک میڈیا کمیٹی اور ایک سوشل میڈیا ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

مرکزی کمیٹی میں کانگریس کے کے سی وینوگوپال، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے شرد پوار، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے تیجسوی یادو، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے راگھو چڈھا، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ابھیشیک بنرجی، سماج وادی پارٹی (ایس پی) ایس پی کے جاوید علی خان، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ، دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے ٹی آر بالو، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ہیمنت سورین، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راوت، جنتا دل (یونائیٹڈ) کے للن سنگھ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی محبوبہ مفتی اور سی پی آئی کے ڈی راجہ شامل ہیں۔ سی پی آئی (ایم) اپنے لیڈر کا نام بعد میں بتائے گی۔

کانگریس کے گرودیپ سنگھ سپل، جے ڈی یو کے سنجے جھا اور عآپ کے سنجے سنگھ مہم کمیٹی میں شامل ہوں گے۔

کانگریس کی سپریا شرینیت اورعآپ کے راگھو چڈھا کو ‘سوشل میڈیا ورکنگ گروپ’ میں شامل ہوں گے۔ میڈیا گروپ میں کانگریس کے جئے  رام رمیش، این سی پی کے جتیندر اوہاڑ ،آر جے ڈی کے منوج جھا اور دیگر شامل ہوں گے۔

ریسرچ کے لیے ایک گروپ میں شیو سینا (یو بی ٹی) کی پرینکا چترویدی اور جے ڈی یو کے کے سی تیاگی شامل ہوں گے۔

مختلف جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے کیا کہا

اجلاس میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا، ‘اس پلیٹ فارم  پر ہندوستان کا60 فیصدحصہ شامل ہے۔ اگر یہ پارٹیاں متحد ہوجاتی ہیں تو بی جے پی کے لیےدوبارہ اقتدار حاصل کرناممکن نہیں ہوگا۔ اب ہمیں مؤثر طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایک کوآرڈینیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘میں دیکھ سکتا ہوں کہ لیڈروں کے درمیان ایک طرح کا اتفاق ہے۔ بلاشبہ، اختلافات ہیں، لیکن میں متاثر ہوں کہ وہ کیسے ان پر قابو پانے کے لیے تیار ہیں۔’

جے ڈی یو لیڈر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آخر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پارٹیوں نے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی لوگ انہیں اقتدار میں دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا، ‘ہم سے زیادہ آپ (میڈیا) آزاد ہوں گے۔ آپ سب ان (حکمران جماعت) کے کنٹرول میں ہیں۔ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو آپ خود کو ان کی گرفت سے آزاد کر سکیں گے۔’

عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ آنے والے دنوں میں میڈیا کو ‘یہ دکھانے کے لیے مجبور کیا جائے گا کہ انڈیا اتحاد میں اندرونی خلفشار ہے’، لیکن تمام بیٹھکوں میں شرکت کے بعد وہ ‘یہ کہہ سکتے ہیں کہ سبھی 140 کروڑ لوگوں کے لیے ایک ساتھ ہیں، سیٹوں کے لیے نہیں۔’

ڈی ایم کے سربراہ اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے تمل میں بات کی اور کہا کہ ‘انڈیا’ کے بینر نے پارٹیوں کو متحد کر دیا ہے۔’

آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ‘ہم سب الگ الگ بیٹھے تھے، جس سے مودی کو آگے بڑھنے کا موقع مل گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ ملک کو بہت مہنگا پڑا۔ ہم شروع سے ہی کہتے رہے ہیں کہ بھاجپا ہٹاؤ ، دیش  بچاؤ۔ اور اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں اقلیت محفوظ نہیں ہیں۔’

سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا، ‘ہمارا مقصد ہندوستان کو بچانا اور پھر ہندوستان کی بہتری کے کام کرنا ہے۔’

طویل عرصے سے اس طرح کے اتحاد کی کوشش کر رہے تھے: کھڑگے

بیٹھک کو ‘کامیاب’ بتاتے ہوئے کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا، ‘پٹنہ اور بنگلورو میں ہماری دونوں بیٹھکوں کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی بعد کی تقریروں میں نہ صرف ‘انڈیا’پر حملہ کیا ہے، بلکہ ہمارے پیارے ملک کے نام کا موازنہ ایک دہشت گرد تنظیم اور غلامی کی علامت سے بھی کیا ہے۔’

انہوں نے مزید لکھا کہ اتحاد میں شامل جماعتیں سرکار کے حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ،’ حکومت کی انتقامی سیاست کی وجہ سے ہم مزید چھاپوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔’

قرارداد کو پڑھنے کے فوراً بعد پریس کانفرنس میں کھڑگے نے کہا، ‘تمام پارٹیاں ایک ساتھ  آئی ہیں اور تمام مسائل پر گہرائی سے بات چیت کی ہے۔ ہم ایک طویل عرصے سے ایسی بیٹھک اور اتحاد کی کوشش کر رہے تھے۔’

مہنگائی اور مودی حکومت کی ‘کرپشن’ کا مسئلہ اٹھایا

مہنگائی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ہر پارٹی ‘متفقہ طور پر’ اس کے بارے میں فکر مند ہے۔

انہوں نے کہا، ‘مودی جی پہلے قیمت میں100 روپے کا اضافہ کرتے ہیں اور پھر 2 روپے کی کمی کا اعلان کرتے ہیں۔ پٹرول کی قیمت اور اب ایل پی جی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ قیمت نیچے نہیں آئی۔ اس مہنگائی سے غریب پریشان ہیں۔’

انہوں نے کہا، ‘مودی کبھی غریبوں کے لیے کام نہیں کریں گے، یہ بالکل واضح ہے۔ وہ صرف اپنے کاروباری مفادات اور کاروبار میں اپنے دوستوں کے لیے کام کرتے ہیں۔’

اس سے قبل، بین الاقوامی اخبارات فنانشل ٹائمز اور دی گارڈین میں شائع ہونے والی خبروں کے بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ممبئی میں پریس بریفنگ کے دوران اڈانی گروپ پر ‘خاموشی’ کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی کھل کر تنقید کی تھی۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ راہل گاندھی نے گزشتہ جمعرات (31 اگست) کوایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کو ارب پتی تاجر گوتم اڈانی کے ساتھ ان کے مبینہ تعلقات کو لے کر نشانہ بنایا۔

معلوم ہو کہ تحقیقاتی صحافیوں کے نیٹ ورک او سی سی آر پی کے صحافیوں کے حاصل کردہ اور بین الاقوامی اخبارات – دی گارڈین اور فنانشل ٹائمز کے ساتھ شیئر کیے گئے دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہنڈنبرگ کی رپورٹ میں اڈانی گروپ میں آنے والے جن ‘ماریشس انویسٹمنٹ فنڈز’، کا ذکر کیا گیا تھا، ان  کے تار اڈانی گروپ سے  ہی جڑے ہوئے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اڈانی خاندان کے شراکت داروں نے ہندوستانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ہی گروپ کے شیئرز میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ‘ماریشس کے ذریعے غیر شفاف فنڈز’ کا استعمال کیا۔

اڈانی گروپ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جمعرات کو سامنے آئی ان تحقیقاتی رپورٹوں کے بعد اڈانی گروپ ایک بار پھر سوالوں کے دائرے میں ہے۔ ان رپورٹوں میں ان کے گروپ کو ملنے والی آف شور فنڈنگ کی تفصیلات ہے، جو مبینہ طور پر اڈانی خاندان سے وابستہ لوگوں نے ہندوستانی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی تھی۔

اس معاملے پر کھڑگے نے اپنے تحریری پریس بیان میں کہا، ‘راہل گاندھی نے راؤنڈ ٹرپنگ کے الزامات اور ماریشس کی کمپنی سے اوپیک انویسٹمنٹ کی رپورٹ کی جے پی سی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیراعظم معاملے کی تحقیقات کیوں نہیں کروا رہے ہیں؟

عآپ لیڈر کیجریوال نے کہا کہ مودی حکومت اتنی کرپٹ ہے کہ ‘عالمی میڈیا اب ہم پر انگلیاں اٹھا رہا ہے۔’ انہوں نے حکومت کو ہندوستان کی تاریخ کی سب سے کرپٹ حکومت بھی قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ‘ہمارے نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہے، لیکن حکومت ایک کمپنی کے لیے کام کر رہی ہے۔ لوگوں کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ  نہیں ہے لیکن حکومت سارا پیسہ  ایک شخص کو دینے کو تیار ہے۔’

شرد پوار نے کہا، ‘لوگوں نے جو ذمہ داری بی جے پی کو سونپی تھی، وہی پارٹی انہی لوگوں کا استحصال کر رہی ہے۔’

لالو یادو نے کہا کہ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے لیے جھوٹ بولا اور گھٹیا ہتھکنڈے اپنائے۔

انہوں نے مزید کہا،’انہوں (حکومت) نے دعویٰ کیا کہ مجھ سمیت ہم میں سے بہت سے لوگوں کا پیسہ سوئس بینکوں میں جمع ہے۔ مودی نے یہ بھی دعویٰ کیاتھاکہ نوٹ بندی کے بعد ہم میں سے ہر ایک کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے آئیں گے۔ میرا خاندان، جو آپ جانتے ہیں کہ کافی بڑا ہے، نے بھی ایک اکاؤنٹ کھولا ۔ ہم نے سوچا تھا کہ پیسے آئیں گے۔’

اس دوران راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم اور بی جے پی ‘کرپشن کا  مجموعہ’ ہیں، جسے انڈیا میں شامل جماعتیں ‘اب ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کریں گی’۔

انہوں نے کہا، ‘میں نے لداخ میں ایک ہفتہ گزارا۔ میں بالکل اسی جھیل کے کنارے تھا جہاں چینی تھے۔ پینگونگ جھیل کے چرواہوں اور رہنماؤں نے واضح طور پر کہا کہ چین نے ہندوستان کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اور وزیر اعظم جھوٹ بول رہے ہیں۔ لداخ کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں وزیر اعظم نے دھوکہ دیا ہے۔ سرحدوں پر واضح تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔ بدقسمتی سے پریس ان مسائل کو نہیں اٹھا رہا۔’

مودی حکومت نے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا: کھڑگے

کھڑگے نے مختلف ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافے کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا، ‘بی جے پی اور آر ایس ایس نے گزشتہ نو سالوں میں جو فرقہ وارانہ زہر پھیلایا ہے وہ اب ٹرین کے معصوم مسافروں اور معصوم اسکولی بچوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم  کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔’

انہوں نے کہا، ‘ہمارا اتحاد جتنا مضبوط ہوگا، بی جے پی حکومت ہمارے لیڈروں کے خلاف ایجنسیوں کا اتنا ہی غلط استعمال کرے گی۔ اس نے مہاراشٹر، راجستھان، بنگال میں بھی ایسا ہی کیا ہے۔ درحقیقت گزشتہ ہفتے یہ جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ میں  بھی کیا گیا تھا۔

کھڑگے نے کہا، ‘پچھلی ایک دہائی میں تمام خود مختار اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ای ڈی سے لے کر سی بی آئی تک ہر خود مختار ادارے نے مودی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔’

انہوں نے کہا، جب منی پور جل رہا تھا، تب آپ نے خصوصی اجلاس نہیں بلایا۔ آپ نےکووڈ وبائی بیماری یا نوٹ بندی  کے دوران کسی کوکال نہیں کیا، لیکن اب آپ ایک خصوصی سیشن بلا رہے ہیں۔ ان کے فیصلے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔)