خبریں

کانگریس سے استعفیٰ دینے کے بعد سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے بی جے پی میں شامل ہوئے

بی جے پی میں شامل ہوتے ہوئے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے وبھاکر شاستری نے وزیر اعظم مودی، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ اور دیگر رہنماؤں کا  لال بہادر شاستری کے ‘جئے جوان، جئے کسان’ کے نظریے سے جڑنے کی اجازت دینے کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کانگریس کے ٹکٹ پر تین پارلیامانی انتخابات میں حصہ لیا اور تینوں میں انہیں شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔

وبھاکر شاستری (بالکل دائیں) بی جے پی میں شامل ہونے کے دوران۔ (تصویر بہ شکریہ: ایکس)

وبھاکر شاستری (بالکل دائیں) بی جے پی میں شامل ہونے کے دوران۔ (تصویر بہ شکریہ: ایکس)

نئی دہلی: سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے وبھاکر شاستری نے کانگریس سے استعفیٰ دینے کے چند گھنٹے بعد بدھ (14 فروری) کو لکھنؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کی۔

لکھنؤ میں بی جے پی کے دفتر میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وبھاکر شاستری نے کہا، ‘میں بی جے پی کے ایک عام رکن کے طور پر کام کروں گا اور اپنی پارٹی اور تنظیم کو مضبوط کرنے کی کوشش کروں گا۔’

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، اس موقع پر اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک، ریاستی بی جے پی صدر بھوپیندر چودھری اور دیگر سینئر بی جے پی لیڈر بھی موجود تھے۔

شاستری نے وزیر اعظم مودی، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ اور دیگر رہنماؤں کا لال بہادر شاستری کے ‘جئے جوان، جئے کسان’ کے وژن سے جڑنے کی اجازت دینے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا، ‘مجھے لگتا ہے کہ پی ایم نریندر مودی کی قیادت میں میں لال بہادر شاستری کے ‘جئے جوان، جئے کسان’ کے وژن کو مزید مضبوط بنا کر ملک کی خدمت کر سکوں گا۔’

اس سے قبل بدھ کو شاستری نے سوشل سائٹ ایکس پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، ‘محترم کانگریس صدر کھڑگے جی! میں انڈین نیشنل کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔’

شاستری نے کانگریس کے ٹکٹ پر 1998، 1999 اور 2009 میں اتر پردیش کے فتح پور لوک سبھا حلقہ سے تین پارلیامانی انتخابات میں حصہ لیا اور ہر بار انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2009 میں انہوں نے 101853 ووٹ حاصل کیے اور چوتھے نمبر پر رہے۔