فکر و نظر

’ مدر آف ڈیموکریسی‘ کو اپنا الگ ڈیموکریسی انڈیکس بنانے کی ضرورت کیوں آن پڑی ہے؟

اپنی جمہوری امیج کو چمکانے کے لیے ‘مدر آف ڈیموکریسی’ ہونے کے دعوے سے شروع ہوا ہندوستانی حکومت کا سفر فی الوقت ڈیموکریسی ریٹنگ گڑھنے کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ ابھی یہ کون کون سے ہفت خوان طے کرے گا اس کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

‘ہندوستان – جس نے نوآبادیاتی حکومت سے آزادی کے بعد جمہوری ڈھانچے کو اپنایا اور آئین کے تحت ہر شہری کو بنیادی حقوق فراہم کیے – وہاں جمہوریت کی روایت کو کمزور کیا جا رہا ہے …’

دنیا کے سرکردہ دانشوروں – جن میں سے متعدد ہندوستانی نژاد بھی ہیں – کی جانب سے پچھلے دنوں جاری کیے گئے ایک  بیان میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے وہ قابل غور ہیں۔ اس بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہاں کس طرح ‘آزادی کے بنیادی تصورات کو بھی کچلا یا کمزور کیا جا رہا ہے۔’

غورطلب ہے کہ مشترکہ بیان کا فوکس نیوز کلک نیوز پورٹل پر ہوئے منظم حملے، بھیما کورےگاؤں کیس میں پانچ سال سے زیادہ عرصے سے ہوئی گرفتاری اور شمال—مشرقی دہلی کے فسادات کے بعد اسی طرح جیل میں ڈالے گئے مصنفین اور کارکنان پر رہا ہے، لمبے عرصے تک جیل میں رکھنے کے باوجود چارج شیٹ تک داخل نہیں کی گئی، جویہاں کی بد سے بدتر ہوتی صورتحال کی ہی نشاندہی کر رہا ہے۔

یہ بات طے ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب انتخابات قریب ہیں اور مودی سرکار کے جابرانہ اقدامات، حتیٰ کہ انتخابات کے اعلان کے بعد اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاری،اور حزب اختلاف کی اہم پارٹی کانگریس کے بینک کھاتوں کو بہانے سے سیل کر دینے کے اقدام نے ملک اور پوری دنیا میں تشویش کو جنم دیا ہے، اس بیان نے یقیناً مودی کی قیادت والی حکومت کو بالکل بھی خوش نہیں کیا ہوگا۔

اس بیان کے حوالے سے ملک کے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی ان کے حامیوں نے اس بارے میں کچھ کہا ہے۔ ان کی پوری کوشش ہوگی کہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے دیگر بیانات اور رپورٹس کی طرح اس بیان کو بھی فراموش کر دیا جائے یا دفن کردیا جائے۔

تاہم، پچھلے دس سالوں میں جب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پرچارک سے  وزیر اعظم بنے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں، ایسی تمام تنقید کے بارے میں ایک طے شدہ موقف رہا ہے کہ ان پر غور ہی نہیں کرنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا گیا ہے کہ ایسی چیزیں ان لوگوں کی کرتوت ہیں جو گزشتہ دہائی میں یہاں ہونے والی ‘بے مثال پیش رفت اور ترقی’ سے حسد کرتے ہیں۔

ملک کے اندر اس طرح کی تنقید سے نمٹنے کے لیے انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اس کے بارے میں بذات خود مشترکہ بیان ہی بتاتا ہے؛

‘ہم اس خاص موقع پر دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کے لیے لکھ رہے ہیں کہ بہت سے ادیبوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو طویل عرصے سے جیل رکھا گیا ہے اور ان کے خلاف چارج شیٹ تک داخل نہیں کی گئی ہے، انہیں محض اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ  انہوں نے ہندوستان کی موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا…’

حکومت کے ناخدا شاید اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ ملک کے اندر جو کچھ بھی کر لیں، انہیں کہیں جواب نہیں دینا پڑے گا۔

ایک طرح سے ان کا طرز عمل سنسکرت کے اس قول زریں کو ہی شرمندہ تعبیر کرتا معلوم ہوتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ‘بلی آنکھیں بند کرکے دودھ پیتی ہے اور سوچتی ہے کہ کسی کی نگاہ نہیں پڑ  رہی ہے۔’

درحقیقت، کچھ عرصہ پہلے تک ان کو یہی لگتا  تھا کہ خود کو ‘مدر آف ڈیموکریسی’ کہہ دینے  سے ہی یہ تمام تنقیدیں ختم ہو جائیں گی۔ لیکن اب شاید انہیں احساس ہو رہا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔

ہوا کا رخ بدل رہا ہے۔

§

یاد کر سکتے ہیں کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ہندوستان کے ‘مدر آف ڈیموکریسی’ یعنی ‘ ڈیموکریسی کی ممی’ ہونے کے دعوے زور پکڑنے لگے تھے۔

مارچ 2023 میں جمہوریت سے متعلق جو سربراہی اجلاس ہوا—جس کا آغاز امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک نے کیا تھا، اس اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اس بات پر خوب زور دیا تھا کہ ہندوستان ہمیشہ سے’ جمہوریت کی ماں’ ہے اور اپنی بات کی تصدیق کے لیے انہوں نے ویدوں اور مہابھارت کا بھی حوالہ دیا تھا۔یہ شاید اسی نکتے کی توسیع تھی جس کے تحت وہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ‘جمہوریت اس ملک اور ہماری ثقافت کے لیے لازم و ملزوم ہے۔’

لوگوں کو یہ بھی یاد ہو گا کہ گزشتہ سال ہندوستان میں جی 20 کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس کے بہانے ملک بھر میں اس بات کا خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ ہندوستان کس طرح ‘جمہوریت کی ماں’ ہے، یہی نہیں، اس کانفرنس میں شریک مہمانوں کویہ بات  بار بار سنائی گئی  کہ ‘مدر آف ڈیموکریسی ‘ والے ہندوستان میں ان سب کا خیرمقدم ہے۔

تاہم، اس  مسئلے پر  ڈھپلی بجانے میں دائیں بازو کے تھنک ٹینک اور یوٹیوب پیچھے نہیں تھے ، بھلے ہی دستیاب شواہد اس کا کوئی ثبوت فراہم نہ کرتے ہوں۔

جی 20 کانفرنس جیسے گزر گیا اور رفتہ رفتہ جمہوریت کی اس نام نہاد ماں کے دعوے اور ابھرتی ہوئی عالمی حقیقت سامنے آنے لگی، تو یہ دعوے بے سود اور بیکار ہوتے گئے۔

ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ غزہ میں آباد فلسطینی عوام  پر اسرائیل نے جو نسل کشی کی جنگ مسلط کی، جس کا بہانہ حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے اسرائیل کے اندر شہریوں پر حملے کے ذریعے فراہم کیا گیا- اور جس  حملے  کی جنوبی افریقہ، آئرلینڈ، برازیل، کولمبیا اور نمیبیا جیسے چھوٹے چھوٹے ممالک نے سخت مذمت کی؛ اس معاملے پر ہندوستانی حکومت کے ڈھلمل رویے نے ‘مدر آف ڈیموکریسی’ کے غبارے کی ہوا نکال دی۔

دریں اثنا، سرکاری طور پر ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ مودی حکومت خود بے چین ہے اور اسے احساس ہو رہا ہے کہ ‘مدر آف ڈیموکریسی ‘ کی گردان  سے بات نہیں بننے والی ہے۔

گزشتہ دنوں  آئی یہ خبرکہ ہندوستان اپنا ڈیموکریسی انڈیکس تیار کرنا چاہتا ہے اسی بات کی تائید کرتی ہے۔

ایسی خبریں  بھی آ رہی ہیں کہ اس دیسی ڈیموکریسی انڈیکس کو تیار کر کے اس کا ڈیٹا جلد از جلد انتخابات سے پہلے شائع کیا جانا چاہیے تاکہ ہندوستان کے عام لوگوں کو یہ سمجھایا  جا سکے کہ مغربی تھنک ٹینک جو کچھ بھی کہتے رہیں، ہندوستان کی جمہوریت پروان چڑھ رہی ہے اور جمہوریت کی درجہ بندی میں ہندوستان کو سب سے نچلے پائیدان پر دکھانے کی ان کی کوششیں تعصبات سے متاثر ہیں۔

§

درحقیقت قلمکاروں اور صحافیوں کی گرفتاری پر دنیا کے معروف دانشوروں کی تشویش یا محض دو سال پہلے دنیا میں نسل کشی کا مطالعہ کرنے والے گروپوں کی طرف سے ہندوستان کی ترقی پذیر صورتحال کے بارے میں انکشافات نے حکومت کو سوچنے کے لیے مجبور نہیں کیا ہے!

پچھلے دس سالوں سے جب سے مودی وزیر اعظم بنے ہیں، اسی وقت سے ہندوستان میں جمہوریت کی حالت کے بارے میں ملک اور بیرون ملک کے فکر مند دانشوروں، کارکنوں میں یا تھنک ٹینکس میں ایک الگ ہی قسم کی بے چینی دکھائی دے رہی ہے (جس کی ایک جھلک مضمون کے آغاز میں مذکور سرکردہ دانشوروں کے مشترکہ بیان میں بھی نظر آتی ہے) ہندوستان ہی نہیں دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں ‘جمہوریت کی پسپائی ‘ کے بارے میں ظاہر کیے جا رہے تشویش کا ہی یہ حصہ ہے۔

‘فریڈم ہاؤس’ جیسے امریکہ میں واقع تھنک ٹینک کی بات ہو— جس نے ہندوستان کو ‘جزوی طور پر آزاد جمہوریت کے طور پر مخاطب کیا ہے’ (2021) سے لے کر سویڈن میں واقع وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ ہو، جس نے ہندوستان کو ‘الیکٹورل آٹوکریسی ‘ قرار  دیا، ایسے مختلف جائزے پیش کیے گئے ہیں ۔

اکانومسٹ کی انٹلی جنس یونٹ نے تو ہندوستان کے بارے میں پیش کیے گئے اپنے تلخ  تجزیے میں یہاں تک کہہ دیا کہ ہندوستان ایک ‘ناقص جمہوریت’ ہے۔

جاننا چاہیے کہ جب بھی ہندوستان کے بارے میں اس طرح کی شدید تنقیدیں کی گئی ہیں تو ہندوستان کا نیتی آیوگ، جو آزادی کے بعد بنائے گئے پلاننگ کمیشن کو ختم کرکے تشکیل دیا گیا تھا – اور جو ایک طرح سے حکومت ہند کا اپنا ‘عوامی پالیسی تھنک ٹینک’ ہے کی طرف سےہندوستان کا بھرپور دفاع کیا گیا۔ اس کی طرف سے یہی  کہا گیا کہ یہ سب سابق نوآبادیاتی ممالک کے پروپیگنڈے کا حصہ ہے، جو مودی کی قیادت میں ہندوستان کی ترقی سے حسد کرتے ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، نیتی آیوگ اور حکومتی نمائندوں کے درمیان اندرونی بات چیت کے دوران ایک ملکی ڈیموکریسی ریٹنگ تیار کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔ خبروں کے مطابق، حکومت نے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا ہے، جو کئی مسئلوں پر  ہندوستانی حکومت کےلیے کام کرتا ہے— تا کہ وہ ہندوستانی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے انڈیکس تیار کرے اور ہندوستان کی حالت بہتر ثابت کرسکے۔ خود نیتی آیوگ کے نمائندے بھی اسے تیار کرنے کے لیے بات چیت میں شامل رہے ہیں۔

تاہم، یہ ایک قابل غور مسئلہ ہے کہ ایسا دیسی یا ملکی انڈیکس – جس کی نوعیت ایسی ہو – جو حکومت ہند کی امیج کو چمکاتا ہو، کس حد تک کارآمد ہو سکتا ہے؟

ایک تجزیہ کار نے ایڈیٹر کو لکھےاپنے  خط میں لکھا ہے کہ یہ ساری قواعد ‘اس  بچے کی حرکت کی طرح نظر آتی ہے جو اپنی رپورٹ کارڈ میں  چپ چاپ ترمیم کر رہا ہے، جس کے نمبر خراب آئے ہیں۔’

§

عام انتخابات قریب آ رہے ہیں، ان انتخابات میں بی جے پی کے 400 پار سیٹیں جیتنے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، لیکن اشارے یہی مل رہے ہیں کہ خود مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت اس حوالے سے نروس ہے۔

یہ بے وجہ نہیں ہے کہ پچھلے دو مہینوں کے اندر ہی اس نے ایسی کئی علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد بنانے کی کوشش کی ہے، جن کے ساتھ ماضی میں اس کے بہت تلخ تعلقات رہے ہیں— چندربابو نائیڈو کی قیادت والی تیلگو دیشم پارٹی نے کبھی بی جے پی حکومت اور مودی کی قیادت کے بارے میں انتہائی  ناگوار باتیں کہی تھیں۔ بیجو جنتا دل نے تو 2009 میں باضابطہ طور پر بی جے پی سے تعلقات توڑ لیے تھے، لیکن بی جے پی نے اس کے دروازے پر جاکر اس سے اتحاد میں شامل ہونے کی اپیل کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا (یہ الگ بات ہے کہ وہاں معاملہ نہیں بنا)۔

الیکٹورل بانڈ کے انکشافات نے تو اس کی اصولی سیاست کے دعووں کو ایک بار پھر کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔’آزادی کے بعد ہوئے اس سب سے بڑے گھوٹالے‘ نے تو انتخابات کے عین  موقع پر اس کے لیے مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ انہیں انتخابات میں اس گھوٹالے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔

سال 2019 کے انتخابات میں پلوامہ حملے کو بہانے کے طور پر استعمال کر کے اس نے جو اندھے راشٹرواد کی ہوا چلا دی تھی، ایسا کوئی جذباتی مسئلہ بھی اس کے پاس نہیں ہے۔ رام مندر کی پران پرتشٹھا کے ذریعے کم از کم شمالی ہندوستان میں طوفان برپا کرنے کے ان کے ارادے بھی کافور ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

کچھ غیر جانبدار تجزیہ نگار یہ دعویٰ بھی کرتے نظر آرہے ہیں کہ کہیں 2024 کا یہ الیکشن 2004 کا اعادہ نہ ہو! آپ کو یاد ہوگا کہ 2004 کے انتخابات میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے سوچا تھا کہ وہ انڈیا شائننگ مہم چلا کر اقتدار میں واپس آئے گی، لیکن انتخابی نتائج نے اس کی انا کو خاک میں ملا دیا تھا۔

اگران مغربی تھنک ٹینکوں کے جائزے کو تھوڑی دیر کے لیے بھول بھی جائیں،تو ہم خود دیکھ سکتے ہیں کہ ایسے تمام مواقع ہمارے سامنے آئے ہیں، جن کے ذریعے یہاں کی جمہوریت کی اصل حالت اور صحت کے بارے میں کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔

جموں و کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کا راتوں رات خاتمہ، محض گورنر/صدر (2019) کے حکم پر ایک ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کرنا یا سی اے اے جیسا قانون – جو کہ عدم شمولیت پر مبنی ہے اور جو ہندوستان کے آئین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جو بنیادی طور پر مذہب کی بنیاد پر شہریت فراہم کرتا ہے اور آزادی کے بعد سے عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہ کرنے کے ہندوستان کے دہائیوں پر محیط عہد کو پلٹ دیتا  ہے – اس کی جانب  نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پوری دنیا کے انصاف پسند لوگوں کی توجہ گئی ہے۔

ممکن ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی یہ حکومت اپنی شبیہ چمکانے کے لیے یہ جرأت پھر بھی کرے کہ  اپنے پسندیدہ ادارے کی مدد سے اپنے لیے ایک سازگار ڈیموکریسی ریٹنگ طے کر دے اور اپنے منھ میاں مٹھو بننے کے اپنے عزم کو پورا کرے۔

لیکن وہ  اس سوال کو ٹال نہیں سکتی کہ اس جمہوریت میں ایسا کیا مادہ ہے جو مظلوم طبقوں کی حمایت کے نام پر انہیں انصاف فراہم کرنے کے لیے آناً فاناً میں قانون بناتی ہے، لیکن مسلمانوں کو اس کے دائرے سے باہر رکھتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کو صرف تین پڑوسی ممالک تک محدود رکھا گیا ہے – جو کہ مسلم اکثریتی ممالک ہیں اور اپنی من مانی سوچ کی وجہ سے ان ممالک میں ہی مسلمانوں میں موجود اقلیتی برادری – جو خود وہاں مظلوم ہے، ان کی طرف دیکھتی بھی نہیں۔

اپنے محدود انتخابی فائدے – جس کے لیے اسے اب صرف مذہبی پولرائزیشن کی حمایت حاصل ہے – کے لیے اس کی جانب سے یہ من مانی کس طرح دو دیگر پڑوسی ممالک سری لنکا اور میانمار میں مظلوموں کو نظر انداز کرتی ہے، اس کا ثبوت بھی سب کے سامنے ہے۔

یاد رہے کہ میانمار میں روہنگیاؤں کی نسل کشی کی مہم پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن چونکہ روہنگیا مسلمان ہیں، اس لیے بی جے پی کو ان کا دکھ نظر نہیں آتا۔ اتنا ہی نہیں سری لنکا میں تاملوں کے خلاف ہراسانی- جن کا ایک بڑا حصہ ہندوؤں کی آبادی پر مشتمل ہے—ایک کڑوی سچائی ہے، مگر ان کی ہراسانی کو بھی اپنے آپ کو ہندوؤں کی حامی کہنے والی بی جے پی حکومت نظر انداز کرتی ہے۔

§

اپنی جمہوری امیج کو چمکانے کے لیے ‘مدر آف ڈیموکریسی’ ہونے کے دعووں سے شروع ہوا ہندوستانی حکومت کا یہ سفرفی الوقت ڈیموکریسی ریٹنگ بنانے کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ ابھی یہ کون کون سے ہفت خوان طے کرے گا اس بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی۔

مسٹر مودی – جو صرف اپنے قریبی صلاح کاروں کی بات سنتے ہیں – پتہ نہیں انہیں اس بات کا علم ہے یا نہیں  کہ ان کی یہ قواعد پوری دنیا میں مضحکہ خیز ثابت ہوگی۔

ہندوستان کے مین اسٹریم میڈیا کو انہوں نے بھلے ہی اپنےقدموں، اپنےچیئر لیڈر میں تبدیل کر دیا ہو، جو دن رات ان کی قصیدہ خوانی میں مصروف ہے اور اپوزیشن کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرتا نظر آتا ہے، لیکن پھر بھی ملک کے اندر اور ملک سے باہر ایسی کئی تنقیدی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ انہیں ان کی یہ تازہ قواعد،  ان کی دو اور کار گزاریوں  کی یاد دلا رہی ہے۔

اس وقت کے امریکی صدر اوبامہ کی قیادت میں انہوں نے مونو گرامڈ سوٹ پہنا – جس پر ان کا اپنا نام لکھا ہوا تھا – اور احمد آباد کے تاریخی سردار پٹیل اسٹیڈیم کا نام راتوں رات ان کے نام پر رکھنے کا مضحکہ خیز عمل ۔

یہ اقدامات ایسے تھے کہ ان کا موازنہ دنیا کے آمروں کے اقدامات سے کیا گیا۔

تاہم، اگر وہ واقعی اپنی حکومت کے امیج کے بارے میں فکر مند ہیں، تو شاید انہیں ایسی قواعد کے بجائے کوئی دوسرا قدم اٹھانا چاہیے۔ ایک تجزیہ کار/سماجی کارکن نے اخبار میں اس مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے جو مشورہ دیا ہے وہ ان کے لیے مفید معلوم ہوتا ہے۔

لکھا تھا کہ ‘حالیہ برسوں میں جتنے انڈیکسوں پر ہندوستان گرا ہے، اس کے پیش نظر شاید حکومت کے لیے یہ زیادہ آسان ہو گا کہ وہ  ستیہ جیت رے کی ہدایتکاری میں بنی  فلم’ہیرک راجار دیشو’ (یعنی ہیرے کے راجا کے ملک میں) میں استعمال کی گئی ٹکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ بڑی برین واشنگ مشین میں سرمایہ کاری کر سکتی ہے جو عوام کو یہی سمجھا دے گی کہ سب کچھ کتنا خوبصورت ہے۔’