خبریں

سی جے آئی کو سابق ججوں کا خط عدلیہ کو ڈرانے اور دھمکانے کی وزیر اعظم کی مہم کا حصہ: کانگریس

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے 21 ریٹائرڈ ججوں نے سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ کو لکھے ایک خط میں بعض گروپوں کی طرف سے منصوبہ بند دباؤ اور غلط جانکاری کے ذریعے عدلیہ کو کمزور کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے بارے میں بات کی ہے۔ کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے اس بارے میں کہا کہ عدالتی آزادی کو سب سے بڑا خطرہ بی جے پی سے ہے۔

(تصویر بہ شکریہ: Wikimedia Commons)

(تصویر بہ شکریہ: Wikimedia Commons)

نئی دہلی: کانگریس نے سوموار کو الزام لگایا کہ 21 سابق ججوں کی جانب سے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو لکھا گیا خط عدلیہ کو ‘ڈرانے اور دھمکانے’ کی وزیر اعظم کی منصوبہ بند مہم کا حصہ ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے 21 ریٹائرڈ ججوں کے ایک گروپ نے سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کو ‘بعض گروپوں کی جانب سے منصوبہ بند دباؤ، غلط جانکاری اور عوامی تذلیل کے ذریعے عدلیہ کو کمزور کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں’ کے بارے میں لکھا ہے۔

انہوں نےکہا،’یہ ناقدین محدود سیاسی مفادات اور ذاتی مفادات سے متاثر ہیں اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔’

اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں خط کے بارے میں پوچھے جانے پر کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے الزام لگایا کہ عدالتی آزادی کو ‘سب سے بڑا خطرہ’ بی جے پی سے ہے۔ ‘انہوں نے سپریم کورٹ کے سابق جج ایم آر شاہ کے حوالے سے کہا، براہ کرم اس فہرست میں چوتھا نام  دیکھیں، اس سے خط کا پورا مقصد، پس منظر اور تحریر کے بارے میں پتہ چل جائے گا۔’

رمیش نے الزام لگایا، ‘یہ خط وزیر اعظم کی عدلیہ کو ڈرانے اور دھمکانے کی منصوبہ بند مہم کا حصہ ہے جو حالیہ مہینوں میں تیز ہوئی ہے۔ عدلیہ جس نے ہندوستان کے سب سے بڑے بدعنوانی کے گھوٹالے الیکٹورل بانڈ گھوٹالہ کو بے نقاب کیا ہے… ایک سپریم کورٹ، جس نے کہا ہے کہ منی پور میں آئینی مشینری خراب ہوگئی ہے، یہی ٹارگیٹ ہے۔’

کانگریس لیڈر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نشانے پر ہے، جہاں حال ہی میں ایک انتہائی معزز خاتون جج نے نوٹ بندی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

وہ جسٹس بی بی ناگرتنا کا حوالہ دے رہے تھے، جنہوں نے 30 مارچ کو کہا تھا کہ نوٹ بندی کالے دھن کو سفید کرنے کا ایک اچھا طریقہ تھا ۔

رمیش نے الزام لگایا، ‘تو 21 مودی حامی سابق ججوں کے اس خط کو 600 مودی حامی وکیلوں کے پچھلے خط کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے ۔ یہ سب ایک آزاد عدلیہ کو ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش ہے۔’

انہوں نے کہا، ‘عدلیہ کی آزادی کو سب سے بڑا خطرہ کانگریس پارٹی سے نہیں، بلکہ بی جے پی سے ہے،مودی جی اورشاہ جی سے ہے… آپ اس خط میں چوتھے دستخط کنندہ کے تبصرے اور وزیر اعظم کے بارے میں کیے گئے تبصروں کو دیکھیں، جب وہ ان سروس جج تھے۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ  خط کس طرح وجود میں آیاہے۔’

اس سے پہلے رمیش نے اس خط پر ایک پوسٹ کو ٹیگ کیا اور کہا، ‘یہ جی 21 بالکل بھی حیران کن نہیں ہے۔ فہرست میں نمبر 4 پوری سچائی بتا دیتا ہے۔ عدلیہ کو سب سے زیادہ خطرہ مودی حکومت سے ہے جس کی طرف سے یہ خط لایا گیا ہے۔’

خط پر دستخط کرنے والے ریٹائرڈ ججوں میں جسٹس (ریٹائرڈ) دیپک ورما، کرشن مراری، دنیش مہیشوری اور ایم آر شاہ شامل ہیں۔

انہوں نے ‘ناقدین’ پر عدالتوں اور ججوں کی ایمانداری پر سوال اٹھا کر عدالتی عمل کو متاثر کرنے کی واضح کوششوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے ہتھکنڈے اپنانے کا الزام لگایا ہے۔