خبریں

’صرف یوکرین جنگ میں مارے جانے والوں کے لیے مودی کا دل دکھتا ہے، منی پور کے لیے کیوں نہیں؟‘

دریں اثنا، میڈیا سے بات کرتے ہوئے منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے ریاست کی کُکی اور میتیئی کمیونٹی کے درمیان امن مذاکرات کے شروع ہونے کی بات کہی، لیکن کُکی تنظیموں نے کہا ہے کہ انہیں ایسے کسی بھی ‘امن مذاکرات’ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر مرکز اور لوگوں کے سامنے اپنی ساکھ بچانے کے لیے میڈیا میں نوٹنکی کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور پس منظر میں تشدد زدہ منی پور

وزیر اعظم نریندر مودی اور پس منظر میں تشدد زدہ منی پور

نئی دہلی: دہلی میتیئی کوآرڈینیشن کمیٹی (ڈی ایم سی سی) نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے یہ جاننا چاہتی ہے کہ ان کا دل صرف یوکرین جنگ میں مارے جانے والوں کے لیے کیوں دکھتا ہے، منی پور میں جاری نسلی تشدد کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے لیے کیوں نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ، 11 جولائی کو جاری کردہ ایک بیان میں ڈی ایم سی سی نے کہا کہ جہاں بین الاقوامی سطح پر امن کو فروغ دینے کے لیے وزیر اعظم مودی کی کوششوں کو سراہا گیا ہے، وہیں منی پور میں سنگین گھریلو بحران کے تئیں ان کی ‘سخت بے توجہی ‘ نے شہریوں اور سیاسی مبصرین کے درمیان تشویش پیدا کردی ہے۔

ڈی ایم سی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے منی پور کا دورہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے، جو دہلی سے 2411 کلومیٹر دور ہے اور ہوائی راستے سے صرف 2 گھنٹے 50 منٹ کی دوری پر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘روس اور یوکرین کی جنگ میں جب معصوم بچے مارے جاتے ہیں تو مودی کا دل دکھتا ہے، لیکن منی پور میں بچوں اور سینکڑوں معصوم لوگوں کی ہلاکت پر ان کا دل نہیں دکھتا۔ انہوں نے اپنے ہی شہریوں سے منھ پھیر لیا  ہے۔‘

اس میں مزید کہا گیا ہے، ‘منی پور میں تشدد سے نمٹنے میں حکومت ہند کی ناکامی نے ظاہر کیا ہے کہ اس خطے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور حاشیےپر دھکیلا جا رہا ہے۔ منی پور کے باشندے خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ مرکزی حکومت ریاست کے لوگوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے بجائے قومی سلامتی کے مفادات کے لیے ریاست کو مہرےکے طور پر استعمال کر رہی ہے۔‘

مودی کی سرکاری ویب سائٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی ایم سی سی نے کہا کہ مودی نے 2017 میں سب سے زیادہ اتر پردیش اور گجرات کا دورہ کیا۔ انہوں نے ان ریاستوں کا 21-21 بار  دورہ کیا۔ وزیر اعظم نے پچھلے چار سالوں میں سکم، میزورم اور پڈوچیری کا صرف ایک بار دورہ کیا ہے، جبکہ اروناچل پردیش اور ناگالینڈ کا صرف دو بار دورہ کیا ہے۔ 2014 اور 2018 کے درمیان انہوں نے اتر پردیش کے سب سے زیادہ 49 دورے کیے، جس میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں دورے شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا،’تاہم، وہ تشدد سے متاثرہ منی پور کا دورہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، جہاں دونوں طرف سے سینکڑوں بے گناہ لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔‘

منی پور کے بحران پر مودی حکومت کا ردعمل بڑی حد تک ٹال مٹول والا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو گزشتہ سال ریاست میں تشدد شروع ہونے کے 70 دن بعد 20 جولائی کو اپنی خاموشی توڑنے کے اس وقت  مجبور ہونا پڑا تھا، جب دو کُکی خواتین کی برہنہ پریڈ کا ایک درد ناک  ویڈیو سامنےآیا تھا۔ قومی اور عالمی سطح پر غم و غصے کے بعد مودی بولنے پر مجبور ہوئے تھے۔

گزشتہ سال اگست میں اپوزیشن کی جانب سے ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے بعد بھی انہوں نے پارلیامنٹ میں منی پور تنازعہ پر بات کی تھی۔ حال ہی میں،3 جولائی کو مودی نے پارلیامنٹ میں کہا تھا کہ تشدد کے واقعات ‘میں لگاتارکمی ہو رہی ہے’ اور ان کی حکومت ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے ‘کوشش’ کر رہی ہے۔

گزشتہ سال 3 مئی سے شروع ہونے والے تشدد میں اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ 60000 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور ریلیف کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں۔

کُکی تنظیموں نے کہا- انہیں وزیر اعلیٰ کے امن مذاکرات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے

بدھ کو راجدھانی امپھال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے کہا تھا کہ منی پور میں جاری تنازعہ میں براہ راست ملوث کُکی اور میتیئی برادریوں کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی ہے، لیکن کُکی امپی منی پور (کے آئی ایم ) نے جمعرات کو کہا کہ کُکی زو لوگوں  اور میتیئی کے درمیان کسی بھی’امن مذاکرات’ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

وہیں، ہندوستان ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ کے آئی ایم  نے پریس کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ کُکی امپی  منی پور حکومت کے سیاسی بائیکاٹ کے اپنے عہد پر قائم رہے گی۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر کُکی زو لوگوں کے خلاف تشدد  کی سازش کرنے کا الزام لگایا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کُکی-زو کمیونٹی کے لوگ، جو منی پور حکومت کی مبینہ ریاستی سرپرستی میں نسلی کشی کی مہم کا شکار ہوئے ہیں،اپنے لوگوں کے  انصاف اور مساوات کے لیے اپنے ہی  لوگوں پر ظلم کرنے والوں کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے، ‘کُکی-زو  لوگوں کے لیے اسمبلی کے ساتھ ہی یونین ٹریٹری کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے حکومت ہند کے سامنے آئینی کارروائی کے لیے رکھا ہوا ہے اور کُکی-زو کے لوگ اس مطالبے پر اس وقت تک پابند ہیں جب تک یہ پورا نہیں ہو جاتا۔ ‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘کُکی امپی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے علم کے بغیر کوئی بھی امن مذاکرات یا سیاسی مذاکرات محض ایک فریب ہے۔ کُکی امپی اور اس کی ذیلی تنظیمیں ہی کُکی زو کے لوگوں کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنے والی تنظیمیں ہیں۔’

دریں اثنا، کُکی اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (کے ایس او) نے چیف منسٹر سے منی پور کے بحران اور امن کی بحالی کے سلسلے میں کُکی اور میتیئی کے درمیان ہونے والی بات چیت کی صحیح تفصیلات پیش کرنے کی اپیل کی ہے۔

بتادیں کہ وزیراعلیٰ نے مذاکرات یا اس میں ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

کے ایس او نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ امن مذاکرات میں شامل تنظیم یا فرد کے بارے میں صحیح تفصیلات بتائیں۔ اگر یہ سچ ہے تو ہم وزیراعلیٰ سے ان مذاکرات کے حوالے سے شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

طلبہ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ انہیں وزیر اعلیٰ یا وادی میں قائم کسی سول سوسائٹی تنظیم (سی ایس او) کے درمیان کسی بھی امن مذاکرات  کا علم نہیں ہے اور الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ نے مرکز کے سامنے اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایک بار پھر میڈیا میں نوٹنکی کی  ہے۔

کے ایس او نے واضح کیا کہ آج تک کسی بھی سرکاری ایجنسی کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے کوئی باضابطہ دعوت نہیں ملی۔ اس نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعلیٰ مرکزی حکومت کی شرکت اور موجودگی اور کُکی برادری کے علم کے بغیر ایسی بات چیت کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

دریں اثنا، کُکی گرام سویم سیوک گروپ نے بھی بدھ کے روز ایک بیان میں مذکورہ ‘امن مذاکرات’ میں حصہ لینے والے تمام افراد یا تنظیموں کو طلب کیا اور انہیں ہدایت دی کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر سی ایس او اور کُکی گرام سویم سیوک سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے معافی مانگیں۔

گروپ نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے فرد یا گروپ کو برداشت نہیں کریں گے جوکے آئی ایم ،کے ایس او اورکُکی خواتین کے انسانی حقوق کی تنظیم سمیت ای ایس اوسے مشاورت کے بغیر کسی بھی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں۔

اس نے متنبہ کیا کہ جو بھی اس کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا اسے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں سماجی بائیکاٹ اور دیگر سخت اقدامات شامل ہوں گے۔