خاص خبر

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح رہداری

یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، 22 جنوری 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران بورڈ آف پیس چارٹر پر دستخط کرنے کے بعد بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ اور پس منظر میں رفح کراسنگ۔ فوٹو: اے پی / پی ٹی آئی اور افتخار گیلانی

اگرچہ غزہ سٹی کے مکین 28 سالہ احمد الجو جو کا گھر کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے، اس نے دو سال سے اپنی شادی کا سوٹ سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے وہ اس کو پلاسٹک کے تھیلے سے نکال کر جھاڑ پونچھ رہا ہے۔ اس کی آستینیں اب کچھ چھوٹی پڑ چکی ہیں اور کالر وقت کے ساتھ نرم ہو گیا ہے۔ اسرائیلی بمباری اور بھکمری کے باوجود اس نے سوٹ کو نقد رقم یا خوراک کے عوض بیچنے سے گریز کیا۔

اکتوبر 2023 میں احمد کی شادی میں چند ہی دن باقی تھے۔ اس کی منگیتر، اسماء الشیخ، رفح کے راستے مصر گئی تھی تاکہ قاہرہ سے شادی کا سامان خرید سکے۔ بس اسی روز اسرائیل نے غزہ پر اپنی تباہ کن جنگ کا آغاز کرکے تمام گزرگاہیں بند کر دی۔

غزہ دنیا سے کٹ گیا اور شادی کی تاریخ ایک ایسی یاد بن گئی جس کا ذکر زبان پر لانا بھی مشکل ہو گیا۔

جب سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈیوووس میں ’بورڈ آف پیس‘ کا اعلان کیا ہے، احمد غزہ اور مصر کے درمیان رفح گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کا انتظار کر رہا ہے تاکہ اسماء واپس آ سکے اور دو سال سے زیادہ عرصے سے مؤخر ہونے والی شادی آخرکار انجام پا سکے۔

یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔

ڈیوووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ٹرمپ نے اس چارٹر پر دستخط کیے جس کے ذریعے غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے ایک سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جا رہا ہے۔

اسی تقریب میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے غزہ کے تعمیر نو کی ایک ایسی تصویر پیش کی، جس میں بلند عمارتیں، بندرگاہ اور ہوائی اڈے پر مشتمل جھلکیاں،  اسرائیلی کنٹرول میں سکیورٹی حصار کے پیچھے دکھائی گئیں۔

اکثر فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت سے دور ایک رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ لگتا ہے۔

الی شبکہ پالیسی نیٹ ورک کے صدر طارق بقونی کہتے ہیں کہ، ڈیوووس کے بیانیے اور غزہ کی زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ محض جغرافیائی نہیں، بلکہ حقیقت کا بھی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں،تنازعہ کو حل کیے بغیر اور قابض فریق کے احتساب کے بغیر خوشحالی نہیں آسکتی ہے۔ملبے اور خیموں کے درمیان زندگی گزارنے والے فلسطینیوں کے لیے یہ تصویری خاکے اجنبی ہیں۔ جب ملبہ تک صاف نہ ہوا ہو، فلک بوس عمارتیں چاند ستاروں کی باتیں لگتی ہیں۔

اندازوں کے مطابق اسرائیلی بمباری سے 70 ملین ٹن ملبہ پیدا ہو چکا ہے، جسے جدید مشینوں کو بھی صاف کرنے میں برسوں لگیں گے۔

یورو-میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر کی ماہا حسینی کہتی ہیں؛

سیاسی حل کے بغیر تعمیر نو سے امن کی تعمیر نہیں ہوتی۔ یہ محض تباہی کا انتظام ہے۔

اپنے شاندار نام کے باوجود، بورڈ آف پیس کے سامنے ایک کہیں زیادہ فوری اور محدود ذمہ داری ہے۔ اس کا انتظامی بازو، جو غزہ کے لیے اپنے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف کی سربراہی میں کام کر رہا ہے کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اسرائیلی پابندیوں کو ختم کروانا ور باہری دنیا کا غزہ کے ساتھ رشتہ بحال کروانا ہے، تاکہ ایندھن، خوراک، طبی سامان اور بنیادی تعمیراتی مواد کا داخلہ ممکن ہو سکے۔

فی الحال خطے میں موسلا دھار بارشیں، سرد راتیں اور سیلاب نے بے گھر افراد کے کیمپوں کو اذیت کے دلدل میں بدل دیا ہے۔

تیز ہواؤں میں خیمے گر جاتے ہیں۔ بچے رات بھر سردی سے کانپتے رہتے ہیں۔ خاندان پلاسٹک کی چادریں اور ملبے سے نکلی لکڑی سردی سے بچاؤ کے لیے جوڑتے ہیں۔

 ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق فلسطینی تکنوکریٹک کمیٹی کو بہت تیزی سے کوئی ٹھوس چیز فراہم کرنا ہوگی، ورنہ فلسطینی اسے مسترد کر دیں گی، کیونکہ وہ بہت سے کاغذی وعدے دیکھ چکے ہیں۔

اسی لیے رفح گزرگاہ کا دوبارہ کھلنا غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ واحد کامیابی ہے جس کا اثر فوراً پورے غزہ میں محسوس ہو سکتا ہے، نہ صرف امدادی اداروں بلکہ برسوں سے جدا خاندانوں کے لیے بھی یہ مداوا بن سکتی ہے۔

رفح غزہ کی واحد گزرگاہ ہے جو براہِ راست اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہے۔ اگرچہ عملی طور پر وہ کبھی بھی اسرائیلی اثر و رسوخ سے آزاد نہیں رہی۔

برسوں تک یہ غزہ کا نازک سا پھیپھڑا بنی رہی، جو علاقائی سیاست، سکیورٹی خدشات اور سفارتی سودے بازی کے مطابق کھلتی اور بند ہوتی رہی۔

فوٹو بہ شکریہ: اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف)

منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں رفح کے ذریعے لوگوں کی آمد و رفت سختی سے محدود رہے گی۔ مصر اپنے معیار کے مطابق جانے والوں کی اجازت دے گا۔ اسرائیل اس بات پر ویٹو اختیار رکھے گا کہ کون داخل ہو سکتا ہے۔

امدادی ٹرک شاید انسانوں سے زیادہ آسانی سے گزر سکیں گے۔اس کے باوجود، غزہ کے لیے رفح محض ایک لاجسٹک نقطہ نہیں۔ یہ نفسیاتی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ رابطے، امکان اور وقار کی علامت ہے۔

نئے انتظام کے تحت بورڈ آف پیس کے فریم ورک کا مرکز قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ ہے، جو فلسطینی تکنوکریٹس پر مشتمل ادارہ ہے اور جس کی سربراہی علی شعث کر رہے ہیں۔

یہ کمیٹی خدمات کی بحالی، تعمیر نو کے انتظام اور روزمرہ زندگی کے نظم و نسق کی ذمہ دار ہے۔ اس کے ارکان میں انجینئرز، ماہرینِ معیشت اور سابق سرکاری اہلکار شامل ہیں۔

ڈیو ووس اجلاس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے شعث نے اعلان کیا کہ رفح گزرگاہ لوگوں اور سامان کی دو طرفہ نقل و حرکت کے لیے کھول دی جائے گی، جس سے محصور علاقے میں محتاط امید کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا؛

فلسطینیوں کے لیے رفح صرف ایک گزرگاہ نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ کو ہمیشہ کے لیے دنیا سے کاٹ دینے کا ارادہ نہیں۔

لیکن کمیٹی کا اختیار انتہائی محدود ہے۔ اس کے پاس نہ خودمختاری ہے، نہ سرحدوں، فضائی حدود یا وسائل پر کنٹرول۔ حماس نے اپنے کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ مقامی سول انتظامیہ کمیٹی کے حوالے کر دیں، مگر اس کا عسکری ونگ بدستور اس کے پاس رہےگا۔

غزہ میں عوامی رائے نظریاتی سختی سے زیادہ تھکن کی عکاس ہے۔ برسوں کی جنگ کے بعد بہت سے لوگ استحکام، صلاحیت اور ریلیف چاہتے ہیں، چاہے فراہم کرنے والا کوئی بھی ہو۔ لیکن اس عملی رویے کی بھی حد ہے۔ اگر بہتری نظر نہ آئی تو صبر جلد ختم ہو جائے گا۔

ظاہری طور پر بورڈ آف پیس کئی درجوں پر مشتمل ہے، مگر اصل اختیار اوپر ہی مرتکز ہے۔ایگزیکٹو کمیٹی، جو بنیادی حکمتِ عملی اور فیصلوں کا مرکز ہے، کی سربراہی صدر ٹرمپ کے پاس ہے، جن کے پاس مکمل ویٹو اختیار ہے۔

اس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سفارتی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں اور جیرڈ کشنر ’نیو غزہ‘ کے تصور کے معمار ہیں۔ ان کے ساتھ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر، اپالو گلوبل مینجمنٹ کے مارک روان، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور امریکی نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔

اس کے نیچے غزہ ایگزیکٹو بورڈ ہے، جس کا مقصد حکمتِ عملی کو زمینی حقائق سے جوڑنا ہے۔ مغربی شخصیات کے ساتھ ساتھ اس میں مصری انٹلی جنس چیف حسن رشاد، متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت ریِم الہاشمی، قطر کے علی الثوادی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان شامل ہیں۔

ڈچ سفارت کار سگریڈ کاگ اور اسرائیلی نژاد قبرصی ڈویلپر یاکر گابے بھی اس کا حصہ ہیں، جن سے تعمیر نو کے منصوبوں کی نگرانی کی توقع ہے۔

اس پورے ڈھانچے کو غزہ کی سول انتظامیہ سے جوڑنے کی ذمہ داری نکولائی ملادینوف پر ہے، جو اقوام متحدہ کے سابق ایلچی ہیں اور اسرائیل میں انہیں ایک عملی اور تجربہ کار شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یروشلم انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ سکیورٹی کے ایرن لیرمن کہتے ہیں؛

اکثر اسرائیلی ملادینوف کا احترام کرتے اور ان پر اعتماد کرتے ہیں۔وہ اسرائیلی خدشات کو سمجھتے ہیں اور فلسطینی اتھارٹی میں بدعنوانی پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔

بورڈ آف پیس میں ترکیہ اور پاکستان کی شمولیت نے غزہ کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

پاکستان نے باضابطہ طور پر امریکی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتا ہے کہ یہ بورڈ مستقل جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے لیے اقوام متحدہ کے تحت ایک سیاسی فریم ورک میں ٹھوس اقدامات کرے گا۔ترکیہ نے بھی اپنی شرکت کو انسانی بنیادوں پر بیان کیا۔

وزیر خارجہ حقان فیدان نے بورڈ کو مصائب کم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک’تاریخی موقع’قرار دیا۔ یہ زبان غزہ کے کیفے اور کیمپوں میں گونجتی ہے، جہاں عالمی صف بندیوں پر  شدت سےنظر رکھی جاتی ہے۔

کچھ فلسطینیوں کے لیے مسلم اکثریتی ممالک کی موجودگی علامتی اہمیت رکھتی ہے۔غزہ سٹی کے ایک بے گھر اسکول ٹیچر نے کہا؛

ترکیہ اور پاکستان کی موجودگی میں شاید ہماری آواز کسی حد تک سنی جاسکے گی۔

ان کا کہنا تھا بورڈ کے اندر فلسطین کے دوستوں کی موجودگی آس اور امید کا احساس دلاتی ہے۔ مگر ایک فلسطینی طالبعلم نے کہا کہ اگر یہ ممالک غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایندھن، بجلی اور خوراک کی ترسیل یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو ان کا وقار بلند ہوگا۔ ورنہ تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرےگی۔

اب یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر امداد بحال بھی ہو جائے اور خدمات دوبارہ شروع ہو جائیں، توغزہ میں سکیورٹی کون فراہم کرے گا؟ماضی میں امریکی قیادت میں ایسے منصوبے سامنے آئے تھے جن میں بیرونِ ملک، خاص طور پر اردن میں تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کی تعیناتی شامل تھی۔

اطلاعات کے مطابق مغربی کنارے کے تقریباً دو ہزار اہلکاروں کو تربیت دی گئی تھی، اور تعداد دس ہزار تک بڑھانے کا منصوبہ تھا۔ مگر بہت سے اہلکار مناسب تحفظ، تنخواہ اور سیاسی پشت پناہی کے بغیر غزہ میں خدمات انجام دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

بورڈ آف پیس اب بیس ہزار فلسطینی پولیس اہلکاروں پر مشتمل فورس کا خاکہ پیش کر رہا ہے، جن میں سے نصف غزہ میں بھرتی ہو کر بیرونِ ملک تربیت پائیں گے۔

ان کی تعیناتی ایک بین الاقوامی استحکامی فورس سے مشروط ہے، جس کی کمان امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کے پاس ہونی ہے، مگر یہ فورس ابھی وجود میں نہیں آئی۔

کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے یزید صایغ کہتے ہیں، کہ اس ایشو پر اگر اتفاق رائے نہیں پایا گیا تو پورا منصوبہ بکھر جائےگا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تک متبادل کا قیام عمل میں نہیں آتا ہے، تب تک حماس کے سکیورٹی کردار کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس سے مزید عدم تحفظ اور لوٹ مار ہونے کا اندیشہ ہے۔ صدر ٹرمپ امریکی جنگی فوجیوں کی تعیناتی کو مسترد کر چکے ہیں۔ کئی ممکنہ شراکت دار ممالک نے شرکت سے انکار کر دیا ہے، جبکہ دیگر سکیورٹی خدشات کے باعث تذبذب کا شکار ہیں۔

اگر رفح غزہ کا پھیپھڑا ہے تو بجلی اس کی رگوں میں دوڑتا خون ہے۔ بجلی کی قلت جنگ سے بہت پہلے سے چلی آ رہی تھی، مگر انفراسٹرکچر کی تباہی اور ایندھن کی ناکہ بندی نے اس قلت کو المیے میں بدل دیا ہے۔

اسپتال جنریٹروں کے محدود اوقات میں کام کرتے ہیں۔ ڈائیلاسس مشینیں وقت ادھار لے کر چلتی ہیں۔ پانی کے پمپ بند ہو جاتے ہیں۔ ادویات کے لیے ٹھنڈک برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

جب شعث نے اعلان کیا کہ غزہ کا واحد بجلی گھر دو سال سے زائد عرصے بعد دوبارہ چل سکتا ہے، تواس سے بھی موہوم امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔

مگر تمام مباحث کے نیچے ایک گہرا زخم خود جنگ کی جوابدہی اور احتساب ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بستیاں مٹ چکی ہیں۔ اس کا حساب کون دےگا۔

انصاف کے بغیر امن محض جنگوں کے درمیان وقفہ ہوتا ہے،اور فلسطینی جانتے ہیں کہ ایسے وقفے طویل نہیں ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود کئی فلسطینی اس وقفہ کو چانس دینا چاہتے ہیں۔ سترہ بار بے گھر ہونے والے کمپیوٹر پروگرامر سمی بالوشہ کے مطابق وہ پچھلے دو سال سے بغیر خوف کے سویا نہیں ہے۔ جب گھر سے کام پر گیا ہے، تو یقین نہیں تھا کہ زندہ گھر واپس آئےگا۔ اگر اس طرح کا اعتبار قائم ہوتا ہے، تو وہ اس کو امن کا نام دے سکتا ہے۔

احمد جو غزہ شہر میں قاہرہ سے اپنی دلہن اسماء کی واپسی کا منتظر ہے،کا کہنا ہے کہ غزہ میں قبل ازو قت خوشی منانا خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔اس خطے میں چراغ روشن ہونے کے بعد بھی جلد ہی بجھ جاتےہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ اگر یہ  بورڈ آف پیس، رفح کی گزرگاہ کھول دے، بجلی لے آئے، لوگوں کو جینے دے، تو یہ تاریخ بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ اسی جیل اور استبداد کا نیا نام ہوا، تو بہت جلد ختم ہو جائےگا۔

فلسطینیوں کے لیے بورڈ آف پیس کا فیصلہ چارٹرز یا کانفرنسوں سے نہیں ہوگا، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ کیا رہداریوں کے دروازے کھلتے ہیں یا اسرائیلی شہہ پر بندہی رہیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس پورے عمل میں جوابدہی ہو اور ایک علیحدہ، خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کی جانب حقیقی اور ٹھوس پیش رفت دکھائی دے۔

بصورتِ دیگر، بورڈ آف پیس کا انجام بھی 1993 کے اوسلو معاہدے اور اس جیسے بے شمار معاہدوں جیسا ہوگا۔

فی الحال غزہ اسرائیلی ڈرون اور جہازوں کی آوازوں کو لگام لگانے اور راہداریوں کے بند دروازوں کے تالوں میں چابیوں کے گھومنے کی آوازیں سننے کے لیے ترس رہا ہے۔