خاص خبر

آسام: ’میاں‘ مسلمانوں کے بارے میں تفرقہ انگیز ریمارکس کے لیے وزیراعلیٰ کے خلاف پولیس شکایت درج

بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں  متنازعہ ریمارکس پر سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ دریں اثنا، الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے کہا کہ شرما کے بیان شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش  ہیں اور ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے خلاف ‘میاں مسلمانوں’ یعنی بنگالی بولنے والے مسلمان کے بارے میں ان کے متنازعہ ریمارکس کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے ۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس گووند ماتھر نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شرما ‘ڈر، بائیکاٹ یا نفرت پھیلا کر’ ہندوستانی جمہوریہ کی بنیاد کو کمزور کرنے کے قصوروار ہو سکتے  ہیں۔

امن اور انصاف کے کارکن اور مصنف ہرش مندر نے کہا کہ انہوں نے منگل (27 جنوری) کو چیف منسٹر کے عوامی بیانات کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ مندر کے مطابق، یہ بیان’آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت، جبر اور امتیازی سلوک کو فروغ دیتے ہیں۔’

مندر نے بتایا کہ انہوں نے بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی متعلقہ دفعات کے تحت فوری کارروائی اور ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں دفعہ 196 (گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے کام کرنا)، 197 (قومی یکجہتی کے لیے خلاف بیان)، 299 مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے کیے گئے متعصبانہ کام)،  302 (مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے الفاظ) اور 353 (عوامی شرپسندی کو ہوا دینے والے بیانات) شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ آسام میں جاری خصوصی نظرثانی (ایس آر) عمل کے دوران مستقبل میں اس طرح کے بیانات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مندر کےپریس نوٹ کے مطابق، دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ شکایت پر مزید کوئی کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔

مندر نے کہا کہ منگل کو تنسکیا ضلع کے ڈگبوئی میں ایک سرکاری تقریب کے دوران شرما نے بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ‘میاں’ کہہ کر مخاطب کیا اور ان کو ہراساں کرنے، ان کے خلاف امتیازی سلوک  کرنےاور ووٹر لسٹ سے ان کے ناموں کو ہٹانے کی حوصلہ افزائی کرنے والے بیانات دیے۔

انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ شرما نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کارکنوں کو ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے دوران اس کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف شکایات اور اعتراضات درج کرنے کی ہدایت کی تھی ۔

شرما نے اس ہفتے منگل کو کہا تھا،’ ’کانگریس مجھے جتنا چاہے گالی دے،  میرا کام میاں لوگوں کی زندگی کو مشکل بنانا ہے۔’ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ کوئی بھی جو کسی بھی طرح سے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، انہیں ایسا کرنے دیں۔ انہوں نے کہا تھااگر رکشہ کا کرایہ 5 روپے ہے تو انہیں 4 روپے دیں۔ جب تک انہیں ہراساں نہیں کیا جاتا، وہ آسام نہیں چھوڑیں گے… یہ مسائل نہیں ہیں۔

مندر نے یہ بھی کہا کہ ‘ہمنتا بسوا شرما اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں۔’ اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ میاں کمیونٹی کو’پریشان’ کریں۔ ان کا کہنا تھاکہ ‘جب تک انہیں ہراساں نہیں کیا جاتا، وہ آسام نہیں چھوڑیں گے۔’

اس سے پہلے بھی شرما نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ‘میاؤں’ کو ‘قابو میں رکھنے’ کے لیے انہیں ‘پریشان’ کرتی رہے گی۔

شرما نے ووٹر لسٹ پر نظرثانی پر کسی بھی تنازعہ کی تردید کی اور اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد کیا کہ فارم-7 (جس کے ذریعے موجودہ ووٹر کسی دوسرے شخص کا نام فہرست میں شامل کرنے پر اعتراض کرسکتا ہے یا موت یا رہائش کی تبدیلی کی وجہ سے اس کا یا کسی اور کا نام حذف کرنے کی درخواست کرسکتا ہے) ریاست میں حقیقی شہریوں کو ہراساں کرنے کے لیے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

شرما نے خصوصی نظر ثانی کا سختی سے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس صرف ‘میاں’ مسلمانوں کو جاری کیے جا رہے ہیں نہ کہ ریاست کی مقامی برادریوں کو۔

شرما نے جمعرات کو آسام کے گولاگھاٹ میں اپنے تبصروں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بنگلہ دیش سے آئے ہیں، وہ خود کو ‘میاں’ کہتے ہیں اور یہ لفظ انہوں نےنہیں بنایا۔

الیکشن کمیشن 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ کاایس آئی آرکر رہا ہے، وہیں آسام میں ایس آرمشق جاری ہے، جو کہ ایک ریگولر اپڈیٹ کی طرح ہے۔اس فرق کا تذکرہ کرتے ہوئے شرما نے منگل کو کہا، ‘یہ (ایس آر) صرف شروعات ہے۔ جب ایس آئی آر آسام میں آئے گا تو آسام میں چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹ  ہٹانے ہوں گے۔’

چیف منسٹر کے اس بیان پر الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر آبادی کے ایک حصے کو ووٹر لسٹ سے خارج کررہے ہیں۔

نفرت پھیلانے والے وزیراعلیٰ سے استعفیٰ مانگنے کا وقت آگیاہے؛ ریٹائرڈ جج

الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) گووند ماتھر نے ایک بیان میں کہا کہ شرما کے بیان شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش  ہیں اور ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 14 قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتا ہے، آرٹیکل 15 مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے اور آرٹیکل 21 ہر شخص کے وقار کی حفاظت کرتا ہے۔

سابق چیف جسٹس نے کہا، ‘بطور وزیر اعلیٰ شرما نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، اور ان کے الفاظ ریاست کی اتھارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔’

انہوں نے خبردار کیا کہ خوف، اخراج یا نفرت کو فروغ دینے والی زبان آئینی اخلاقیات کو مجروح کرتی ہے اور ہندوستانی جمہوریہ کی بنیادوں کو ہلا تی ہے۔

جسٹس ماتھر نے یہ بھی کہا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی طرف سے فرقہ وارانہ ریمارکس تعصب کو معمول بناتے ہیں اور نفرت کو فروغ دیتے ہیں، جس کی آئینی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر شہریوں کو تقسیم کرنے والے رہنما ہندوستان کی تکثیری روح اور وفاقی ذمہ داری کے خلاف کام کرتے ہیں۔

ایک ایسے شخص کے آئینی عہدہ پر فائز ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے، جو انصاف اور مساوات کے اصولوں سے انحراف کرتا ہے، جسٹس ماتھر نے کہا، ‘ہندوستان کی طاقت اتحاد، صوابدیداور قانون کی حکمرانی میں ہے، فرقہ وارانہ پولرائزیشن میں نہیں۔’ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا قابل سزا جرم ہے اور وقت آگیا ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے احتساب کا مطالبہ کیا جائے۔

جسٹس ماتھر نے یہ بھی کہا کہ ‘فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے ایسے وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا یہ صحیح وقت ہے، جو ہمارے قانون کے تحت جرم ہے۔’