مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان ایک طرف پیٹرولیم کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں توانائی کی کوئی کمی نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم متبادل توانائی کے ذرائع پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کیا یہ محض احتیاطی تدبیر ہے یا پھر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے توانائی انحصار اور مستقبل کے ممکنہ بحران کی ایک واضح علامت؟
یہ جنگ شاید اپنے جسمانی وجود میں ختم ہو رہی ہو، لیکن اس کے سیاسی اور تزویراتی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
ایران پر حملوں کے 42 ویں دن اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاری ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والی یہ بات چیت تنازعہ کے مستقل حل کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عارضی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے اور آبنائے ہرمز کے بند رہنے کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
ردعمل:نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں خاموشی کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں میں ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست و ریخت کا احساس گامزن ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے سلسلے میں منعقد آل پارٹی میٹنگ کے دوران جب اپوزیشن نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد کے بیک چینل ثالث کے طور پر ابھرنے پر سوال اٹھایا، تو حکومت نے جواب دیا کہ ہندوستان پاکستان کی طرح’دلال ملک‘ نہیں ہے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نے اجلاس میں تمام سوالوں کے جواب دے دیے ہیں اور اپوزیشن نے اپنی حمایت ظاہر کی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کو’غیر تسلی بخش‘ قرار دیا۔
جنگ، قتل عام، سیاسی جبر، ماب لنچنگ وغیرہ شاعری کے موضوعات کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں، لیکن میرے لیے ان موضوعات کو دانستہ نظر انداز کرنا گناہِ کبیرہ سے کم نہیں۔
تاریخی گراوٹ میں ہندوستانی روپیہ پہلی بار جمعہ کے روز ڈالر کے مقابلے 93 روپے کی سطح کو پار کر گیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے روپیہ 2 فیصد سے زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوا ایران تنازعہ اکیسویں دن اور سنگین ہو گیا ہے۔ جوابی حملوں، توانائی کے مراکز پر حملوں اور کویت تک پھیلتے اثرات کے درمیان جرمنی نے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے، جبکہ امریکہ جنگ کے لیے بھاری اضافی فنڈ کی تیاری میں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد جاری جنگ میں متعلقہ ممالک کے حکام کے مطابق, ایران میں کم از کم 1,300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنان میں 960 سے زائد اور اسرائیل میں 14 افراد کی جان گئی ہے۔ وہیں،امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں اس کے 13 اہلکار ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہوئے ہیں۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملے کے 18 دن ہو چکے ہیں۔ اس دوران منگل (17 مارچ) کو اسرائیلی فوج نے تہران پر حملے تیز کرنے کا اعلان کیا۔ اس جنگ کے اثرات خلیجی ممالک میں بھی واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ منگل کی صبح ابو ظہبی میں ایک میزائل حملے کے دوران ایک پاکستانی شہری ہلاک ہو گیا۔
مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے پہلی بار ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بات کی اور علاقائی صورتحال، ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور توانائی کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ادھر آبنائے ہرمز کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث ہندوستان کی توانائی کی سپلائی اور میری ٹائم سیکورٹی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دنوں کی چھوٹ دینے کے اعلان کے بعد اپوزیشن نے پوچھا کہ کیا نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک خودمختار ملک ہے یا امریکہ پر ’منحصر ریاست‘ بن گیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی ٹرمپ کے سامنے جھک گئے ہیں اور ملکی مفادات کو امریکی مفادات کے سامنے رہن رکھ دیا ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے عالمی توانائی کی فراہمی پر بڑھتے دباؤ کے درمیان امریکہ نے ہندوستان کو 30 دنوں تک روسی تیل خریدنے کی عارضی اجازت دی ہے۔ یہ چھوٹ صرف ان کھیپوں پر لاگو ہوگی جو پہلے سےسمندر میں ہیں۔ آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) سے سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے امریکہ کو یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) میں غیر یقینی صورتحال کے بیچ توانائی سلامتی کے حوالے سے ہندوستان کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی انحصار کے درمیان پیٹرولیم وزیر کی خاموشی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، حکومت کی تیاریوں اور متبادل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔