خاص خبر

مہاراشٹر: ’شرطیہ علاج‘ کے دعوے والی پتنجلی کی 51 لاکھ روپے کی دوائیں ضبط

مہاراشٹر ایف ڈی اے نے گمراہ کن اشتہارات اور ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں 73.24 لاکھ روپے کی دوائیں ضبط کی ہیں۔ ان میں 51.41 لاکھ روپے کی دوائیں پتنجلی سے منسلک دیویہ فارمیسی کی بتائی گئی ہیں۔ یہ کارروائی ریاست بھر میں چلائی گئی ایک خصوصی مہم کے تحت انجام دی گئی۔

رام دیو۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے دواؤں کے گمراہ کن اشتہارات اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی دواؤں کے خلاف ریاست گیر کارروائی کرتے ہوئے جمعہ کو 73.24 لاکھ روپے کی دوائیں ضبط کیں۔ ضبط شدہ ادویات میں 51.41 لاکھ روپے کی دوائیں بابا رام دیو سے منسلک پتنجلی گروپ کی ہری دوار میں قائم کمپنی دیویہ فارمیسی کی تیار کردہ بتائی گئی ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں مقرر کیے گئے ایف ڈی اے کمشنر تُکارام منڈھے کی ہدایت پر یہ خصوصی مہم چلائی گئی۔ 25 مئی کو عہدہ سنبھالنے کے بعد منڈھے نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ریاست بھر میں سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس کے تحت ممبئی، کونکن، پونے، ناسک، امراوتی، ناگپور اور چھترپتی سمبھاجی نگر سمیت ایف ڈی اے کے سات علاقائی ڈویژن میں ایک ساتھ چھاپے ماری کی  گئی۔

ایف ڈی اے حکام کے مطابق، ادویات اور معجزاتی علاج سے متعلق قابل اعتراض اشتہارات برائے منشیات (ممنوعہ) ایکٹ 1954کے تحت کی گئی اس کارروائی میں ریاست بھر کے 12 آیورویدک دوا ساز اداروں کی جانچ کی گئی۔ جانچ کے دوران ایسی دوائیں ضبط کی گئیں جن کی تشہیر مبینہ طور پر سنگین بیماریوں کے شرطیہ علاج اور معجزاتی نتائج کے دعووں کے ساتھ کی جا رہی تھی۔

ضبط شدہ ادویات کا بڑا حصہ دیویہ فارمیسی سے متعلق بتایا گیا ہے۔ ایف ڈی اے کے مطابق، کونکن خطے میں 18.58 لاکھ روپے، پونے میں 14.68 لاکھ روپے، ناگپور میں 7.26 لاکھ روپے، ناسک میں 7.10 لاکھ روپے، ممبئی میں 1.85 لاکھ روپے، امراوتی میں 1.42 لاکھ روپے اور چھترپتی سمبھاجی نگر میں 48,718 روپے مالیت کی ادویات ضبط کی گئیں۔

جن مصنوعات کو ضبط کیا گیا ان میں درشٹی آئی ڈراپ، گلوئے گھن وٹی، کٹج گھن وٹی، سسٹوگرٹ ڈائمنڈ ٹیبلٹ، نیوروگرٹ گولڈ کیپسول، مدھوگرٹ ٹیبلٹ اور میموری گرٹ ٹیبلٹ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، کارروائی صرف آیورویدک ادویات تک محدود نہیں رہی۔ پونے خطے میں معائنے کے دوران ایف ڈی اے نے 21.83 لاکھ روپے کی مبینہ طور پر غلط لیبلنگ والی ایلوپیتھک ادویات بھی ضبط کیں۔ اس مہم میں ایلوپیتھک ادویات کی سب سے بڑی ضبطی پونے کے علاقے سے ہوئی۔

پورے صوبے میں ضبط کی گئی آیورویدک اور ایلوپیتھک ادویات کی مجموعی قیمت 73,24,656 روپے بتائی گئی ہے۔ ایف ڈی اے کی حالیہ کارروائیوں میں اسے سب سے بڑی مہم میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈھے نے کہا کہ گمراہ کن اشتہارات، غیر قانونی تیاری اور ضابطہ جاتی معیارات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فروخت کی جانے والی ادویات کے خلاف مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو بخشا نہیں  جائے گا۔

منڈھے نے خبردار کیا  کہ منشیات و کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 اور دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف براہ راست قانونی اور عدالتی کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ خوراک اور ادویات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں اور ان کی فراہمی کو یقینی بنانا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ادویات سے متعلق گمراہ کن اشتہارات پر یقین نہ کریں اور طبی مشورے کے بغیر ادویات استعمال کرنے سے گریز کریں۔

رپورٹ کے مطابق، عوامی شمولیت بڑھانے کے لیے ایف ڈی اے جلد ہی ایک خصوصی موبائل ایپلی کیشن اور ٹول فری ہیلپ لائن بھی شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے لوگ ادویات کی غیر قانونی فروخت، ملاوٹ اور گمراہ کن اشتہارات سے متعلق شکایات درج کرا سکیں گے۔

محکمہ  کا کہنا ہے کہ شہریوں سے موصولہ تمام شکایات کی خفیہ طور پر جانچ کی جائے گی اور قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔