خاص خبر

رام رحیم کیس سے مودی کے ڈگری معاملے تک: کون ہیں سپریم کورٹ کے پانچ نئے جج

ملک کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کو حلف دلایا ہے۔ ان میں چار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ایک سینئر ایڈوکیٹ شامل ہیں۔ ان تقرریوں کے ساتھ ہی ان کے بعض مشہور فیصلے سرخیوں میں ہیں، جن میں رام رحیم کو بری کرنا، وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری اور ا ازدواجی تشدد سے متعلق معاملے شامل ہیں۔

نئی دہلی میں منعقد حلف برداری کی تقریب کے دوران ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے جسٹس سنجیو سچدیوا کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کا حلف دلایا۔ یہ تصویر 2 جون 2026 کو سپریم کورٹ آف انڈیا کے یوٹیوب ویڈیو سے لی گئی ہے۔ (تصویر: سپریم کورٹ آف انڈیا/یوٹیوب، پی ٹی آئی)

نئی دہلی:ملک کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے منگل (2 جون 2026) کو سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کو حلف دلایا۔ ان میں چار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ( جسٹس شیل ناگو، جسٹس شری چندر شیکھر، جسٹس سنجیو سچدیوا اور جسٹس ارون پلی ) کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ وی موہنا  شامل ہیں۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کالجیم کی سفارش پر ان تقرریوں کو منظوری دی تھی۔

ان تقرریوں کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم، نئے ججوں کے انتخاب نے ان کے بعض مشہور اور متنازعہ فیصلوں کو دوبارہ بحث کے مرکز میں کھڑا کر دیا ہے۔

جسٹس شیل ناگو

سب سے زیادہ چرچہ جسٹس شیل ناگو کی تقرری کو لے کر ہوا۔ مارچ 2026 میں پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ کی ایک خصوصی بنچ، جس کی سربراہی وہ کر رہے تھے، نے ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرميت رام رحیم سنگھ کو صحافی رام چندر چھترپتی قتل کیس میں بری کر دیا تھا۔

نچلی عدالت نے 2019 میں رام رحیم کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم، ہائی کورٹ نے کہا کہ استغاثہ سازش کے الزام کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ یہ فیصلہ عوامی اور قانونی حلقوں میں وسیع بحث کا موضوع بنا ۔

(تصویر: سپریم کورٹ آف انڈیا/یوٹیوب، پی ٹی آئی)

جسٹس ناگو ایک اور فیصلے کے باعث بھی سرخیوں میں رہے۔ 2024 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی ایک بنچ نے کہا تھا کہ اگر بیوی بغیر کسی معقول وجہ کے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے سے مسلسل انکار کرتی ہے تو اسے ذہنی تشددتصور کیا جا سکتا ہے اور یہ طلاق کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس فیصلے نے خواتین کے حقوق اور ازدواجی تعلقات میں رضامندی کے تصور پر نئی بحث چھیڑ دی تھی۔

جسٹس شیل ناگو 1 جنوری 1965 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1987 میں مدھیہ پردیش بار کونسل میں داخلہ لیا اور طویل مدت تک مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں دیوانی اور آئینی معاملوں کی وکالت کی۔ مئی 2011 میں انہیں ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا اور مئی 2013 میں وہ مستقل جج بنے۔ بعد میں  وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس بھی رہے۔ اس کے بعد انہیں پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ ان کی سپریم کورٹ میں تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وہ 31 دسمبر 2026 کو سبکدوش ہونے والے ہیں۔

جسٹس سنجیو سچدیوا

نئے سپریم کورٹ ججوں میں جسٹس سنجیو سچدیوا کا نام بھی ایک مشہور فیصلے سے وابستہ رہا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی مدت کار میں وزیر اعظم نریندر مودی کی دہلی یونیورسٹی کی ڈگری سے متعلق ریکارڈ پبلک کرنے کے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے آرڈر کوردکر دیا تھا۔

عدالت نے تسلیم کیا تھا کہ ایسے ریکارڈز نجی معلومات کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں خودکار طور پر پبلک نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کو شفافیت اور رازداری کی بحث میں ایک اہم فیصلہ سمجھا گیا تھا۔

(تصویر: سپریم کورٹ آف انڈیا/یوٹیوب، پی ٹی آئی)

جسٹس سنجیو سچدیوا 26 دسمبر 1964 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1988 میں دہلی بار کونسل میں داخلہ لیااور اسی سال دہلی یونیورسٹی کے کیمپس لا سینٹر سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ 2013 میں انہیں دہلی ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا۔ طویل عرصے تک دہلی ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینے کے بعد انہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا۔

جسٹس شری چندرشیکھر

جسٹس شری چندرشیکھر کا تعلق بنیادی طور پر جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ہے۔ وہ 25 مئی 1965 کوپیدا ہوئے۔ انہوں نے 1993 میں دہلی بار کونسل میں وکالت کے لیے داخلہ لیا اور دیوانی و فوجداری مقدمات میں پریکٹس کی۔

عدلیہ میں آنے سے پہلے وہ سپریم کورٹ میں بطور وکیل بھی سرگرم رہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، وہ سپریم کورٹ میں 140 سے زائد رپورٹ شدہ معاملوں میں پیش ہو چکے ہیں۔ جنوری 2013 میں انہیں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا اور جون 2014 میں وہ مستقل جج بنے۔

تصویر: سپریم کورٹ آف انڈیا/یوٹیوب، پی ٹی آئی

حالیہ مہینوں میں وہ اس پارلیامانی جانچ کمیٹی کے رکن بھی رہے، جس نے جسٹس یشونت ورما سے متعلق معاملے پر اپنی رپورٹ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو سونپی تھی۔ ان کی تقرری اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس وقت سپریم کورٹ میں جھارکھنڈ کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔

جسٹس ارون پلی

جسٹس ارون پلی کی 18 ستمبر 1964 کو پیدا ہوئے۔ وہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کی کئی نسلیں وکالت کے پیشے سے وابستہ رہی ہیں۔ ان کے دادا اور والد دونوں پٹیالہ میں وکیل تھے۔

جج بننے سے پہلے وہ 2004 سے 2007 کے درمیان پنجاب حکومت کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔

تصویر: سپریم کورٹ آف انڈیا/یوٹیوب، پی ٹی آئی

دسمبر 2013 میں انہیں پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں ان کی تقرری کو پنجاب-ہریانہ خطے کی نمائندگی برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

فی الحال چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اے جی مسیح اسی ہائی کورٹ سے آئے ہیں۔ اپریل 2026 میں جسٹس راجیش بندل کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس خطے کی نمائندگی کم ہو گئی تھی، جسے جسٹس پلی کی تقرری سے دوبارہ مضبوط کیا گیا ہے۔

وکیل سے جج

سینئر ایڈوکیٹ وی موہنا کی تقرری کئی حوالوں سے تاریخی سمجھی جا رہی ہے۔ وہ سپریم کورٹ کی تاریخ میں دوسری خاتون ہیں جنہیں براہ راست بار سے سپریم کورٹ میں جج مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2018 میں جسٹس اندو ملہوترا کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا۔

موہنا ہندوستانی فوج میں خواتین افسران کو مستقل کمیشن دلانے والے تاریخی مقدمے میں فریقین کی جانب سے وکالت کرنے کے لیے معروف ہیں۔

تصویر: سپریم کورٹ آف انڈیا/یوٹیوب، پی ٹی آئی

ان تقرریوں کے ساتھ سپریم کورٹ میں منظور شدہ ججوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 33 سے بڑھا کر 37 کر دی  تھی۔