جموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں کچھ دکانوں سے کالعدم جماعت اسلامی تنظیم سے متعلق 668 کتابیں ضبط کی ہیں۔ پی ڈی پی کی التجا مفتی نے کہا کہ یہ پڑھنے کی آزادی پر حملہ ہے۔ وہیں، نیشنل کانفرنس کے ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے اسے لوگوں کے’مذہبی معاملات’ میں مداخلت قرار دیا ہے۔
اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ جب حکومت وقف (ترمیمی) بل پر جے پی سی کی رپورٹ پارلیامنٹ میں پیش کر رہی تھی، تو جئے شری رام کے نعرے لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ غریب مسلمانوں کے لیے یہ ترمیم کر رہی ہے، کیا ایسا کرنے کا یہی طریقہ ہے؟
مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے 13 فروری کو استعفیٰ دینے کے چند دن بعد ریاست کو صدر راج کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ صدر راج کے نفاذ کے بعد ریاست کے باشندے 23 سال بعد براہ راست مرکزی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔
پی یو سی ایل کی اتر پردیش یونٹ نے اپنی ابتدائی تحقیقات میں پایا کہ یوگی حکومت نے کمبھ میں ہونے والی اموات کی حقیقی تعداد کو چھپانے کے لیے کئی طریقے استعمال کیے، جیسے لاشوں کو دو مختلف پوسٹ مارٹم مراکز میں بھیجا گیا اور کچھ معاملوں میں ان کی برآمدگی کی جگہ اور تاریخ میں ہیرا پھیری کی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پردھان منتری آواس یوجنا، جل جیون مشن اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم جیسی 50 سے زیادہ فلیگ شپ اسکیموں کے لیے مرکز کی جانب سے جاری کیے گئے 2.46 لاکھ کروڑ روپے میں سے تقریباً 62 فیصد ریاستی ایجنسیوں کے پاس 31 دسمبر تک بیکار پڑے تھے۔
انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2024 میں سب سے زیادہ 242 ہیٹ اسپیچ کے واقعات اتر پردیش میں درج کیے گئے۔ یہ 2023 کے مقابلے میں 132 فیصد کا اضافہ ہے۔ ہیٹ اسپیچ دینے والے ٹاپ ٹین لوگوں میں بی جے پی کے سینئر لیڈر- یوگی آدتیہ ناتھ، نریندر مودی اور امت شاہ کے نام شامل ہیں۔
کشی نگرضلع کے ہاٹا قصبے کی مدنی مسجد کے ایک حصے کو تجاوزات قرار دیے جانے کا الزام تھا۔ سنیچر کو عدالت کا اسٹے آرڈرختم ہونے کے بعد اتوار کو اسے توڑ دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے کشی نگر کے ڈی ایم کو قانونی نوٹ بھیجتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
دہرادون پولیس نے ‘کالی سینا’ نامی تنظیم کے پانچ ارکان کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے اور مقامی لوگوں سے مسلم کرایہ داروں کو نکالنے کی اپیل کرنے اور دکانداروں پر حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
کانگریس بیرین سنگھ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا منصوبہ بنا رہی تھی، جس میں حکمراں پارٹی کے کچھ ایم ایل اے کی حمایت کی خبریں موصول ہو رہی تھیں۔ عدالتی کمیشن نے ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں این بیرین سنگھ کے رول کی جانچ کی ہے۔
انڈیا الائنس کے لیڈروں کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالوں کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ بھلے ہی کانگریس اپنا کھاتہ تک کھول نہیں پائی، لیکن پارٹی نے کہا کہ انتخابی نتائج وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں کی توثیق نہیں بلکہ اروند کیجریوال اور عآپ پر ریفرنڈم ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھاری اکثریت سے جیت کے بعد حکمران جماعت عام آدمی پارٹی کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جبکہ کانگریس کے ہاتھ تیسری بار بھی خالی رہے اور اسے ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم 104 ہندوستانیوں کو غیر انسانی حالات میں واپس بھیجے جانے کےمعاملے پر جمعرات (6 فروری) کو پارلیامنٹ میں ہنگامہ آرائی کا مشاہدہ کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔
مرکزی حکومت نے 2025-26 کا بجٹ پیش کیا، جس میں متوسط طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں راحت کا اعلان کیا گیا۔ اب 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں لگے گا۔ اس کے علاوہ بہار کے لیے مکھانہ بورڈ، فوڈ ٹکنالوجی انسٹی ٹیوٹ اور آئی آئی ٹی پٹنہ کی توسیع جیسے خصوصی اعلانات کیے گئے ہیں۔
ذکیہ جعفری سنیچر کو 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ انہوں نے گجرات فسادات کے متاثرین کے لیے انصاف اور فسادات کے لیے جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف عدالتوں میں قانونی جدوجہد کا طویل سفر طے کیا تھا۔ ان کے شوہر اور کانگریس ایم پی احسان جعفری بھی فسادات میں مارے گئے تھے۔
اس بار بھی مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنی بجٹ تقریر میں منریگا کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس بار بھی اس اسکیم کے لیے بجٹ میں 86000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ، جو 2024-2025 کے نظرثانی شدہ تخمینہ کے مطابق اسکیم پر خرچ کی گئی رقم کے برابر ہے۔
اپوزیشن کے تمام 11 ارکان نے وقف (ترمیمی) بل پر اپنے اختلاف کا اظہار کیا اور اسے غیر آئینی قرار دیا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اس سے نئے تنازعات کھلیں گے اور وقف کی جائیدادیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ اپوزیشن ارکان نے جے پی سی کے کام کاج کے طریقے میں خامیوں کی بھی نشاندہی کی۔
ماہرین تعلیم، فلمساز، اداکار اور کارکنوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے عمر خالد اور سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی میں حد سے زیادہ تاخیر نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے، جہاں لوگ بغیر شنوائی اور جرم ثابت ہوئے بغیر طویل حراستی سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اے آئی ایم آئی ایم کے مصطفیٰ آباد کے امیدوار طاہر حسین نے انتخابی مہم کے لیے پہلے بھی سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے پولیس حراست میں مہم چلانے کی اجازت مانگی جسے سپریم کورٹ نے منظور کرلیا ہے۔
این بی ڈی ایس اے نے کہا کہ نیوز 18 انڈیا کی اینکر روبیکا لیاقت کے ایک ڈبیٹ پروگرام میں عدالتی کارروائی اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ این بی ڈی ایس اے نے چینل کو 28 مارچ 2024 کو نشر ہوئے اس پروگرام کے قابل اعتراض حصوں کو ہٹانے کو کہا ہے۔
اترپردیش کے الہ آباد میں بدھ کو مہاکمبھ کے دوران سنگم میں بھگدڑ جیسی صورتحال سے متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ خبروں میں 15 ہلاکتوں کی بات کہی جارہی ہے، لیکن سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
وقف (ترمیمی) بل، 2024 کی جانچ کر رہی جوائنٹ پارلیامانی کمیٹی نے اپوزیشن کی تجویز کردہ 44 ترامیم کو مسترد کر دیا ہے اور این ڈی اے خیمہ کی 14 تجاویز کو منظور کر لیا ہے۔ جے پی سی میں دونوں ایوانوں سے 31 ارکان ہیں، جن میں این ڈی اے کے 16 (بی جے پی سے 12)، اپوزیشن جماعتوں کے 13، وائی ایس آر کانگریس سے ایک اور ایک نامزد رکن ہیں۔
خبروں کے مطابق، سری لنکا نے بدعنوانی کے الزامات کے بعد ملک کے شمالی صوبے میں مجوزہ ونڈ پاور پلانٹ کے لیے اڈانی گرین انرجی کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس سے قبل سری لنکا نے اڈانی گروپ کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
جموں و کشمیر حکومت نے پونچھ ضلع میں محکمہ تعلیم کو اے بی وی پی کی ‘ترنگا ریلی’ میں دو اساتذہ اور 40-50 طالبعلموں کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ اپوزیشن پی ڈی پی نے الزام لگایا ہے کہ نیشنل کانفرنس حکومت طلبہ کو اے بی وی پی کے ‘پروگرام’ میں شرکت کے لیے مجبور کر رہی ہے۔
سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2024 میں فرقہ وارانہ فسادات کے 59 واقعات میں سے 49 ان ریاستوں میں ہوئے، جہاں بی جے پی یا اس کے اتحاد والی سرکار ہے۔ سات واقعات کانگریس مقتدرہ ریاستوں میں اور تین ٹی ایم سی مقتدرہ مغربی بنگال میں ہوئے۔
سنبھل پولیس نے بتایا کہ انتظامیہ نے مقامی لوگوں کے ذریعے کنویں کو غیر قانونی طور پرڈھکنے کی شکایت موصول ہونے کے بعد بدھ (22 جنوری) کو کنویں کی کھدائی شروع کی ہے۔ یہ کنواں متنازعہ شاہی جامع مسجد کے قریب ہے۔
آرٹ گیلری میں نمائش کے لیے رکھی گئی پدم ایوارڈیافتہ آرٹسٹ ایم ایف حسین کی دو پینٹنگ کو دہلی ہائی کورٹ کے ایک وکیل نے ‘قابل اعتراض’ بتاتے ہوئے شکایت درج کرائی تھی۔ اب عدالت نے انہیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر یادو نے 8 دسمبر کو وشو ہندو پریشد کے پروگرام میں فرقہ وارانہ تقریر کی تھی۔ اب انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ان کی تقریر آئین میں درج اقدار کے مطابق سماجی مسائل پر خیالات کا اظہار تھی اور کسی کمیونٹی کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں تھی۔
عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ نے دہلی کے ضلع الیکشن افسر کے ایکس ہینڈل کا ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا تھا، جس میں بی جے پی لیڈر وریندر سچدیوا، بانسری سوراج اور اوم پاٹھک کی الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تصویر والی دہلی بی جے پی کی پوسٹ کو ری -پوسٹ کیا گیا تھا۔
ہریانہ کے بی جے پی چیف موہن لال بڈولی اور گلوکار راکی متل کے خلاف کسولی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وہیں، مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع کے بی جے پی لیڈر اجیت پال سنگھ چوہان کو پارٹی کی ہی ایک خاتون لیڈر سے مبینہ ریپ اور جبری وصولی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
بی جے پی نے دہلی کی سڑکوں کی خستہ حالی کا ویڈیو جاری کرکے عام آدمی پارٹی کی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ آلٹ نیوز کے فیکٹ چیک میں سامنے آیا ہے کہ بی جے پی کے ویڈیو میں دکھائی جانے والی سڑکیں دہلی کی نہیں ہیں، بلکہ فرید آباد، ہریانہ کی ہیں، جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے۔
دہلی فسادات کے ایک معاملے میں مقامی عدالت نے پایا کہ دہلی پولیس کے ایک تفتیشی افسر نے مبینہ طور پر ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، جس کے نتیجے میں ایک ملزم کو غلط طریقے سے پھنسایا گیا۔ عدالت نے دہلی پولیس کمشنر کو پولیس اہلکار کے طرز عمل کا جائزہ لینے اور مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اکتوبر 2021 اور فروری 2023 کے درمیان مرکزی حکومت نے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے 1750 ٹینڈر جاری کیے، جن میں سے 936 ٹینڈر ‘میک ان انڈیا’ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے۔ لفٹ، سی سی ٹی وی، طبی آلات اور کمپیوٹر میں غیر ملکی برانڈز کو ترجیح دینے کے معاملے سامنے آئے۔
چھتر پور کے اٹرار گاؤں میں ایک دلت شخص سے پرساد لینے پر 20 خاندانوں کا مبینہ طور پر سماجی بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔ سرپنچ پر بائیکاٹ کا حکم دینے کا الزام ہے، جس کے بارے میں متاثرہ خاندانوں نے ایس پی سے شکایت کی ہے۔ مصالحت کی کوششوں کے باوجود حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
دھنباد کے ایک پرائیویٹ اسکول میں دسویں جماعت کی سو سے زیادہ طالبات نے بورڈ کے امتحانات سے قبل اسکول کے آخری دن ایک دوسرے کی شرٹ پر پیغامات لکھے تھے۔ الزام ہے کہ اس سے ناراض ہو کر پرنسپل نےسب سے اپنی شرٹ جمع کرنے کو کہا اور طالبات بلیزر میں ہی گھرواپس گئیں۔ پرنسپل کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یہ مبینہ معاملہ اس وقت سامنے آیا، جب کیرالہ مہیلا سماکھیا سوسائٹی کے ممبران نے علاقے کے دورے کے دوران متاثرہ سے ملاقات کی۔ پولیس نے اس معاملے میں ملزمین کے خلاف پاکسو اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی دفعات لگائی ہیں۔
ساگر ضلع کے سابق بی جے پی ایم ایل اے ہرونش سنگھ راٹھور کے یہاں چھاپے کے دوران انکم ٹیکس حکام کو کروڑوں کی نقدی، سونے اور چاندی کے زیورات کے ساتھ ہی مگرمچھ بھی ملے۔ راٹھور اور ان کے کاروباری پارٹنر پر انکم ٹیکس چوری کرنے کا الزام ہے۔
بنگلورو کی ایک عدالت نے گوری لنکیش قتل کیس میں حراست میں لیے گئے آخری ملزم شرد بھاؤ صاحب کلسکر کو ضمانت دے دی۔ اس معاملے میں 18 شریک ملزمان میں سے 16 پہلے ہی ضمانت پر باہر ہیں۔ ایک اور ملزم وکاس پاٹل مفرور ہے اور اسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
پنجاب اور ہریانہ کے درمیان شمبھو بارڈر پر کسان ایم ایس پی کی گارنٹی اور سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات سمیت دیگر مطالبات کے لیے تقریباً ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، جمعرات کو احتجاج میں شامل ایک 55 سالہ کسان نے خودکشی کرلی۔ تین ہفتے میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔
مارچ 1978 میں ہولیکا دہن کی جگہ کو لے کر دو برادریوں کے درمیان کشیدگی کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔ افواہ پھیلی کہ ایک دکاندار نے دوسری برادری کے ایک شخص کو قتل کر دیا ہے، جس کی وجہ سے فسادات پھوٹ پڑے۔ اب اتر پردیش حکومت نے نئے سرے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور پولیس سے کہا ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔
سوموار کو حیدرآباد میں دی وائر تیلگو ویب سائٹ کا اجرا کیا گیا۔ اس کے پس پردہ خیال یہ ہے کہ ہندوستان نہ صرف ریاستوں بلکہ زبانوں کا بھی وفاقی ڈھانچہ ہے اور تمام زبانوں کے قارئین کو اپنے وقت کی سب سے صحیح خبر ملنی ہی چاہیے۔