دہلی پولیس جنتر منتر سے ملے کھانے کے ریپر اور پیکیجنگ کی بنیاد پر ان ریستورانوں اور کیفے تک پہنچ رہی ہے، جنہوں نے ایپ پر مبنی ڈیلیوری کے ذریعے مظاہرین کو کھانا بھیجا تھا۔ کئی ریستوران مالکان کا الزام ہے کہ پولیس افسران نے ان سے پوچھ گچھ کی کہ انہوں نے مظاہرین کی ’حمایت‘ کیوں کی اور ان کے آرڈر ریکارڈ بھی کھنگالے۔
پیپر لیک کے بعد 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ کے ری-اگزام میں شامل ہونے والے ایک درجن سے زیادہ امیدواروں نے امتحان سے چند دن پہلے ہی خودکشی کر لی تھی۔ 19 سالہ ثنا شیخ بھی انہی طلبہ میں ایک تھیں۔ ان کے والدین طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں دہلی کے جنتر منتر پہنچے اور انہوں نے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
الزام ہے کہ مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں جے سی بی مشینوں سے قبروں کو نقصان پہنچایا گیا اور اس کی بے حرمتی کی گئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت رات گئے قبرستان کے اندر یہ کارروائی کی گئی۔
فروری 2016 میں جے این یو کے طالبعلموں کی سیڈیشن معاملے میں گرفتاری کے دس سال بعد اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ آج یونیورسٹی اپنی پرانی پہچان کی پرچھائیں محض رہ گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہ رکھنے والے پروگرام باقاعدگی سے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور تقرریاں مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات -انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے انڈین ایکسپریس کے سینئر کشمیری صحافی بشارت مسعود اور ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نمائندے عاشق حسین کو ان کی خبروں کے سلسلے میں ‘طلب’ کیا۔ مسعود کو ان کی مبینہ غلطی کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو بھی کہا گیا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔
سال 2002 کے گجرات فسادات کے دوران اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے بعض متاثرین سے دی وائر نے بات کی تو معلوم ہوا کہ آج بھی ان کے زخم مندمل نہیں ہوئے ہیں۔ وہ فسادات کے بعد بنی مسلم بستیوں میں غیر انسانی حالات میں رہنے کو مجبور ہیں۔
گجرات کے مہسانہ ضلع کا واقعہ۔ مسلم کمیونٹی کے لوگوں کا الزام ہے کہ 21 جنوری کو ہندوتوا گروپوں نے رام مندر تقریب کے موقع پرایک شوبھا یاترا نکالی تھی، جو مقررہ روٹ کے بجائے ان کے علاقے سے گزاری گئی۔ دونوں فریق کے درمیان جھڑپ ہو گئی اور مسلم کمیونٹی کے 13 مردوں اور دو نابالغوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
گجرات فسادات کے مسلمان گواہوں کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی پران — پرتشٹھا کی تقریب کے قریب آتے ہی ان کی سکیورٹی واپس لے لینے کی کارروائی نے ان کے ڈر کو پھر سے بیدار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رام مندر کی مانگ نے ہی اس پورے باب کو جنم دیا تھا اور بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا۔
نسلی تشدد کی وجہ سے میانمار سے بھاگنے پر مجبور ہونے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ فیس بک اپنے پلیٹ فارم پر ان کے خلاف ہیٹ اسپیچ کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے ساتھ ہر دم تشدد ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔
ریلوے نے احمد آباد کے کالوپور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع 500 سال سے زیادہ قدیم حضرت کالو شہیددرگاہ کو بے دخلی کا نوٹس دیا ہے۔ درگاہ کے منتظمین نے اس نوٹس کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس خاطر خواہ شواہد ہیں کہ یہ 1947 سے پہلے کا ایک تسلیم شدہ اور قانونی ڈھانچہ ہے۔
گجرات کے کئی اسکولوں کو حال ہی میں بچوں سے عید کی تقریبات میں شرکت کے لیے کہنےپر معافی مانگنی پڑی ہے۔ ضلع کچھ کے ایک سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ یہ علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
اترکاشی ضلع کے پرولامیں ہندوتوا تنظیموں کے ذریعےمسلمانوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے بعد متعددمسلم خاندان قصبے سےجا چکے ہیں۔ ان میں بی جے پی کے اقلیتی محاذ سے وابستہ لیڈران بھی شامل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ریاستی حکومت مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتی تو ایسا نہیں ہوتا۔
گلفشاں فاطمہ کو دہلی پولیس نے تین سال قبل 9 اپریل کو اُسی سال یعنی 2020 کے اوائل میں شمال–مشرقی دہلی کے جعفرآباد میں ہوئے فسادات کے دوران جھڑپوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ 13 مئی 2020 کو جب کیس میں ان کو ضمانت مل گئی تو ان کے خلاف ایک نئی ایف آئی آر درج کر لی گئی۔
اکتوبر 2020 میں کیرالہ کے صحافی صدیق کپن دہلی کے کیب ڈرائیور محمد عالم کے ساتھ ہاتھرس گینگ ریپ کیس کی رپورٹنگ کے لیے ہاتھرس جا رہے تھے، جب کپن کے ساتھ عالم کو بھی راستے سےگرفتار کر لیا گیا تھا۔
اٹھائیس سالہ الیاس کو پانچ مہینے سے زیادہ جیل میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ شمال -مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران دو اسکولوں کی ملکیت کوتباہ کرنے کے الزام میں ان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا۔