دہلی فسادات: طاہر حسین کی ’سازش‘ اور انکت شرما کا قتل
دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہرحسین کو دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر پیش کیاہے۔ حالانکہ اس پورے معاملے میں حسین کے رول سے وابستہ حقائق کسی اورجانب اشارہ کرتے ہیں۔
دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہرحسین کو دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر پیش کیاہے۔ حالانکہ اس پورے معاملے میں حسین کے رول سے وابستہ حقائق کسی اورجانب اشارہ کرتے ہیں۔
دہلی یونیورسٹی کےپروفیسر اپوروانند نے بتایا کہ دہلی فسادات کے معاملے میں ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پریشان کن بات ہے کہ ایک ایسااصول بنایا جا رہا ہے جہاں مظاہرین کو ہی تشدد کا ذریعہ بتایا جا رہا ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ جانچ پوری طرح سے غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہو۔
پارلیامنٹ سے شہریت ترمیم قانون پاس ہونے کے بعدملک میں بڑے پیمانے پر اس کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔ اس کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ مذہب کی بنیاد پر تفریق ہے اورآئین کے اہتماموں کی خلاف ورزی ہے۔
دہلی پولیس نے فروری میں دہلی میں ہوئے فسادات کی مبینہ سازش کو لےکر عمر خالد پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ خالد نے تمام الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ فسادات کے لیےاصل میں ذمہ دار لوگوں کو پکڑنے کے بجائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کو پھنسایا جا رہا ہے۔
دہلی سرکار نے اس سے پہلے دہلی پولیس کی جانب سے بتائے گئے وکیلوں کے ناموں کوقبول کرنے سے منع کر دیا تھا۔ایل جی انل بیجل نے سرکار کے آرڈر کو خارج کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے بھیجے گئے وکیلوں کے نام کو قبول کرنے کو کہا۔
خصوصی مضمون: فروری کےآخری ہفتے میں شمال مشرقی دہلی میں جو کچھ بھی ہوا اس کی اہم وجہوں میں سے ایک سینٹرل فورسز کو تعینات کرنے میں ہوئی تاخیرہے۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ کہ تشدد25 فروری کو رات 11 بجے تک ختم ہو گیا تھا،سچ کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا۔
دہلی کابینہ کی میٹنگ میں وکیلوں کی تقرری کے سلسلےمیں دہلی پولیس کی تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ دنگا معاملے میں پولیس کی جانچ کو عدالت نے غیرجانبدارنہیں پایا ہے، اس لیے پولیس کے پینل کو منظوری دی گئی، تو معاملوں کی غیرجانبدارشنوائی نہیں ہو پائےگی۔
خصوصی مضمون: شمال مشرقی دہلی میں فروری میں ہوئےفرقہ وارانہ تشدد کو ‘لیفٹ جہادی نیٹ ورک’کے ذریعےکروایا‘ہندو مخالف’فساد بتاکر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن سچائی کیا ہے؟
ویڈیو: شمال-مشرقی دہلی کے ایک سرکاری اسکول کی اسٹوڈنٹ نرگس نسرین نے فروری کے فسادات میں اپنا گھر اور اپنی کتابیں کھونے کے باوجود اچھےنمبرات کے ساتھ 12ویں بورڈ کا امتحان پاس کیا ہے۔ وہ کیسے اس دور سے گزریں اور کیسے گھروالوں کو سنبھالا، انہی کی زبانی۔
سی اے اے مظاہرہ سے متعلق معاملے میں گرفتار جے این یواسٹوڈنٹ اور پنجرہ توڑ کارکن دیوانگنا کلیتا نے ایک عرضی میں کہا تھا کہ کرائم برانچ ان پر لگے الزامات کے سلسلے میں چنندہ طریقے سے جانکاریاں عوام کر رہی ہے اور گمراہ کن جانکاری پھیلا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کی اور ان کے اہل خانہ کی جان کو خطرہ ہے۔
ایک مقامی عدالت کو بتایا گیا کہ دہلی تشدد کے معاملے میں پولیس نے اب تک جعفرآباد اور موج پور میٹرو اسٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور فوٹو قبضہ میں نہیں لی ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ پولیس کو یہ بتانا کہ کب اور کون سے ثبوت اکٹھے کرنے ہیں، کورٹ کا کام نہیں ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے ایک ہی معاملے میں الگ الگ عرضیاں دائر کرنے کے لیے دہلی پولیس پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی نظام کاغلط استعمال کر رہی ہےاور سسٹم کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔
ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں فروری میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے جون میں عدالت میں دائر کئی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد نریندرمودی سرکار کو بدنام کرنے کی سازش کا نتیجہ تھا۔ اس مدعے پر سپریم کورٹ کے وکیل ایم آر شمشاد سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
ویڈیو: فروری میں ہوئے دہلی فسادات سے متعلق تقریباً50 کیس وکیل عبدالغفار اکیلے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ آدھے کے لیے وہ فیس بھی نہیں لے رہے۔ دہلی فسادات میں ہو رہی جانچ اور گرفتاریوں پر لگاتار سوال اٹھ رہے ہیں۔ عبدالغفار کا بھی ماننا ہے کہ جانچ میں شواہد سے پہلے ایک نیریٹو سیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فروری2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات پر دہلی اقلیتی کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی رہنما کپل مشراکی تقریر کے بعد فسادات شروع ہوئے تھے لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔
پنجرہ توڑممبردیوانگنا کلیتا کی گرفتاری کے بعد ہوئے کچھ ٹوئٹس پر دہلی پولیس کو اعتراض تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس پر کہا کہ ٹوئٹس میں جہادی، لیفٹسٹ سازش جیسے نیریٹو‘ہندوتوا کی مشینری’کے ذریعے پھیلانے کی بات کی گئی ہے، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ پولیس یہ مشینری ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے سامنے دہلی پولیس نے یہ جواب ان پی آئی ایل عرضیوں کے جواب میں دیا ہے، جن میں کپل مشرا سمیت بی جےپی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے کچھ رہنماؤں پر ہیٹ اسپیچ کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔
دہلی فسادات کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اورگرفتاریوں کے بیچ اسپیشل پولیس کمشنر پرویر رنجن نے ایک آرڈر میں خفیہ ان پٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات متاثرہ علاقوں میں کچھ ہندو نوجوانوں کوحراست میں لیے جانے سے کمیونٹی کے لوگوں میں غصہ ہے۔
ویڈیو: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ شرجیل عثمانی کو پچھلے سال دسمبر میں ہوئے سی اے اے مخالف مظاہرےکے سلسلے میں گزشتہ آٹھ جولائی کو اعظم گڑھ واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔
شمال مشرقی دہلی کے دو لوگوں نے کڑکڑڈوما کورٹ میں عرضی دائر کر کے مانگ کی ہے ان کے حلقہ میں امن و امان اور ہم آہنگی کو خراب کرنے اورتشددکرانے میں مدد کرنے کے لیے بی جے پی رہنماکپل مشراکے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
سی اے اے مخالف مظاہرے کے سلسلے میں گرفتار جے این یواسٹوڈنٹ اور پنجرہ توڑ کارکن دیوانگنا کلیتا کی ایک عرضی پر پولیس کی جانب سےدائر حلف نامے کو لےکر دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ اس میں کئی الزام لگائے گئے ہیں، جو غیرذمہ دارانہ ، غیرمناسب اور عرضی کے دائرے سے پرے ہیں اور انہیں واپس لیا جانا چاہیے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ شرجیل عثمانی کے اہل خانہ نے کہا کہ اعظم گڑھ میں ان کے گھر سے انہیں گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے اس بارے میں کوئی رسمی اعلان نہیں کیا، لیکن اے ایس پی(کرائم)نے ایک اخبار کو بتایا کہ یہ گرفتاری لکھنؤ اے ٹی ایس نے پچھلے سال دسمبر میں درج ہوئے ایک معاملے میں کی ہے۔
لکھنؤ پولیس کی جوائنٹ کمشنرنے بتایا کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران آگ زنی اور توڑ پھوڑ کرنے والے لوگوں کے خلاف گینگسٹر ایکٹ لگانے کی ہدایت پولیس تھانوں کو دی گئی ہے۔
پولیس نے چارج شیٹ میں کہا ہے کہ پنجرہ توڑ اور اس کے ممبر ہمدردی اوراپنی حمایت میں رائے عامہ بنانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سی اے اے مخالف مظاہرہ کے دوران ہوئےتشدد کے معاملے میں دہلی پولیس کی جانب سے دائر حلف نامے کے جواب میں عرضی گزاروں نے کہا تھا کہ پولیس نے مظاہرے دوران طلبا کو جس بےرحمی سے پیٹا، اس سے لگتا ہے کہ انہیں اوپر سے ایسا کرنے کا آرڈر ملا تھا۔
سابق آئی پی ایس افسرایس آر داراپوری اور سماجی کارکن صدف جعفر ان 57 لوگوں میں شامل ہیں، جو 19 دسمبر، 2019 کے سی اے اے مخالف مظاہرہ کے دوران لکھنؤ میں1.55 کروڑ روپے کی پبلک پراپرٹی کے نقصان کے ملزم ہیں۔
اس سال فروری میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران 25 سالہ مسلم نوجوان عرفان کے قتل کے معاملے میں دہلی پولیس نے کڑکڑڈوما عدالت میں چارج شیٹ داخل کیا ہے۔ اس میں قتل کے ملزمین میں برہم پوری منڈل سے بی جے پی کےجنرل سکریٹری برج موہن شرما کا بھی نام شامل ہے۔
دہلی پولیس نے عدالت میں داخل چارج شیٹ میں کہا ہے کہ تمام ملزم مسلمانوں سے ‘بدلہ’لینے کے لیے 25 فروری کو بنائے گئے ایک وہاٹس ایپ گروپ ‘کٹر ہندوتو ایکتا’سے جڑے تھے۔ ملزمین نے اس کا استعمال آپسی رابطہ اور ایک دوسرے کو لوگ، ہتھیار اور گولہ بارود مہیا کرانے کے لیے کیا تھا۔
دہلی پولیس کے مطابق جعفرآبادتشدد کے ایک ملزم شاہ رخ نے اپنے بیان میں پنجرہ توڑ کارکن دیوانگنا کلیتا اور نتاشا نروال کا نام لیا تھا۔ شاہ رخ نے کہا کہ تشدد میں آنکھوں کی روشنی لگ بھگ کھو دینے کی وجہ سے اس کو نہیں پتہ کہ پولیس نے اس سے جس بیان پر دستخط کرائے اس میں کیا لکھا تھا۔
شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کو لےکر دی وائر کی جانب سے دائر آر ٹی آئی درخواست پر اپیلیٹ اتھارٹی کی ہدایت کے بعد بھی دہلی پولیس نے جانکاری دینے سے منع کر دیا۔ پولیس نے صرف گرفتار کیے گئے لوگوں، درج کی گئی ایف آئی آر، ہلاک ہونے والوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کی جانکاری دی ہے۔
صدر تحصیلدار نے بتایا کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کو لے کر لکھنؤ کے چار تھانوں میں درج معاملوں کے سلسلے میں 54 لوگوں کے خلاف وصولی کا نوٹس جاری کیا گیاتھا۔ ان میں سے حسن گنج علاقے میں دو املاک کو منگل کو قرق کر لیا گیا۔
رواں سال فروری میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے شکار ریڈی میڈ کپڑوں کے تاجرنثار احمد نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے الزام لگایا ہے کہ پولیس ان کی شکایت پر مناسب کارروائی نہیں کر رہی ہے اور ملزمین کی جانب سے ان کو ڈرایا- دھمکایا جا رہا ہے۔
اتر پردیش کے بجنور میں 20 دسمبر 2019 کو ہوئے سی اے اے مخالف مظاہرہ کے دوران پولیس فائرنگ میں21 سالہ سلیمان کی موت ہو گئی تھی۔ ایس آئی ٹی نے پولیس اہلکاروں کو کلین چٹ دیتے ہوئے سلیمان کو ملزم ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ وہ مظاہرہ کے دوران ہوئے تشددمیں شامل تھے۔
یوپی کانگریس اقلیتی سیل کے صدرشاہنواز عالم کو گزشتہ سال 19 دسمبر کو لکھنؤ میں سی اے اے-این آرسی کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ کانگریس نے اس کو سیاسی انتقام کے جذبے سے کی گئی کارروائی بتایا ہے۔
قابل ذکر ہےکہ15دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں دہلی پولیس کے ذریعے طلبا کو بےرحمی سے پیٹنے کے واقعہ پرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سے پہلے طلبا کاسی اے اے کے خلاف مظاہرہ ایک ‘غیرقانونی اجتماع’ تھا، جس نے پولیس کی کارروائی کو دعوت دی۔
امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ امیدوار اور سابق نائب صدر جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے لیے ان کی ٹیم نے ایک پالیسی پیپر جاری کیا ہے۔ اس میں بائیڈن نے آسام میں این آرسی نافذ کرنے اورسی اے اے کو لےکر بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
صفورہ زرگرپردہلی تشدد میں سازش کرنے کاالزام ہے۔انہیں گزشتہ 10 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔
دہلی فسادات کے معاملے میں گرفتار حاملہ صفورہ زرگر تہاڑ جیل میں ہیں اور عدالت میں جیل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ انہیں تمام ضروری سہولیات دی جا رہی ہیں۔ حالانکہ ملک کی جیلوں کی صورتحال پر دستیاب اعداد و شمار اور جانکاریوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ ہندوستانی جیلیں حاملہ خاتون قیدیوں کے لیے سازگار نہیں ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے ہندوستان میں مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی مودی حکومت کے اقدامات اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
ویڈیو: دہلی کی ایک عدالت نے چار مئی کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اسٹوڈنٹ صفورہ زرگر کی ضمانت عرضی کو خارج کر دیا۔فروری میں دہلی میں فرقہ وارانہ فساد کی سازش کا الزام لگنے کے بعدصفورہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مدعے پر عارفہ خانم شیروانی کی دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے بات چیت۔