ECI

ہندوستان: بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی

ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔

کیا ہندوستان میں انتخابات غیر جانبدار رہ گئے ہیں؟

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور آئینی اداروں پر جانبداری کے الزامات وغیرہ کے حوالے سے جے این یو کی پروفیسر زویا حسن اور سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی  تیواری۔

کیا ووٹ اب ہر شہری کا حق نہیں رہا …

جمہوری حق سے محروم رائے دہندگان کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اہم نہیں تھے۔ یہ جمہوریت میں کسی کے ساتھ کی جانے والی  سب سے بڑی ناانصافی تھی، مگر غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا کہ وہ یہ اعلان کرتیں کہ جب تک ان لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں دیا جاتا، وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ اگر سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ رائے دہندگان ان کے ساتھ کھڑے ہوں، تو پہلے انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔

بنگال میں بی جے پی کا عروج: ممتا حکومت سے ناراضگی، پولرائزیشن اور ایس آئی آر تنازعہ رہے فیصلہ کن

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے 15 سال پرانی ترنمول حکومت کو ہٹا کر اکثریت حاصل کر لی۔ ممتا بنرجی حکومت کے خلاف عدم اطمینان، بدعنوانی اور حکمرانی سے متعلق سوال، ہندو-مسلم پولرائزیشن اور ایس آئی آر کا تنازعہ اس بڑی سیاسی تبدیلی کے اہم اسباب بن کر سامنے آئے۔

مغربی بنگال میں ’کھلے‘ کمل کا اتر پردیش کے انتخابات پر ممکنہ اثر کیا ہو سکتا ہے؟

مغربی بنگال میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بی جے پی نے مرکز میں اپنی حکومت اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے بے دریغ  غلط استعمال کی معرفت جس طرح 293 نشستوں کے اسمبلی انتخابات میں زور آزمائی کی اور بے مثال جیت درج کی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے اکھلیش یادو کی تشویش میں کئی گنا اضافہ ہو جانا چاہیے۔ خصوصی طور پر اس لیے کہ اتر پردیش اور مرکز دونوں میں برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے اس ریاست میں بی جے پی کے لیے ایسا کرنے میں  کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔

ہندوستان میں انتخابات کی شفافیت پر اٹھتے سوال

بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس  میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔

ایس آئی آر: یوپی، راجستھان میں تین دن میں تین بی ایل او کی موت، الیکشن کمیشن نے جاری کیے تحریک دینے والے ویڈیو

پچھلے تین دنوں میں اتر پردیش کے دو اور راجستھان میں  ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)کی موت ہوگئی۔ ان کے اہل خانہ نے موت کی وجہ ایس آئی آر سے متعلق کام کے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ وہیں،الیکشن کمیشن نے ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہ کرتے ہوئے دو ویڈیو جاری کرکے بتایا  ہے کہ بی ایل او کام کے دباؤ کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہیں، ڈانس بریک لے رہے ہیں اور اپنے کام کے لیے کیسے ہمت حاصل کر رہے ہیں۔

راہل گاندھی کے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے آدھار-لنک موبائل نمبر لازمی کیا

راہل گاندھی کے اس الزام کے بعد کہ کرناٹک کے آلند میں ووٹر لسٹ سے نام غلط طریقے سے حذف کیے جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنے پورٹل اور ایپ پر ایک نئی ‘ای-سائن’ کی سہولت شروع کی ہے،جس کےتحت اب درخواست دہندہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے ووٹر کارڈ اور آدھار کارڈ پر موجود نام ایک ہیں اور جس موبائل نمبر کااستعمال کیا جا رہا ہے ، وہ آدھار سے لنک ہے۔

’ووٹ چوری‘: وہ سات سوال جن کے جواب الیکشن کمیشن کی پریس کانفرنس میں نہیں ملے

الیکشن کمیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے تنازعہ اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی وضاحت  پیش کی، لیکن اہم سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ راہل گاندھی سے حلف نامہ طلب کیا گیا، جبکہ بی جے پی ایم پی  انوراگ ٹھاکر پر خاموشی اختیار کی گئی۔ غیر ملکی تارکین وطن، دستاویزوں اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

بہار میں ووٹر لسٹ تنازعہ: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا امتحان

بہار کے ووٹر دیکھ رہے ہیں کہ کون ان کے حقوق کی حفاظت کر رہا ہے اور کون ان کی خاموشی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔آنے والے انتخابات نہ صرف حکومت بدلنے کی لڑائی ہوں گے بلکہ اس میں اس بات کا بھی امتحان ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جمہوریت کی کسوٹی پر میں کون کھرا اترتا ہے۔

بہار ایس آئی آر: الیکشن کمیشن کو آدھار تسلیم کرنے اور وجوہات کے ساتھ ہٹائے گئے ناموں کی فہرست جاری کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ بہار ایس آئی آر کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ناموں کو اپنی ویب سائٹ پر ہٹانے کی وجوہات کے ساتھ شائع کرے۔ نیز، اس عمل کے لیے تسلیم شدہ دستاویزوں میں آدھار کو شامل کرے۔

سال 2019 میں الیکشن کمیشن نے بتایا تھا – ملک بھر میں ووٹر لسٹ میں ’غیر ملکی شہریوں‘ کے تین معاملے ملے

بہار میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کی قواعد کیے جانے کے متعلق ‘ذرائع’ نے ریاست میں ‘بڑی تعداد میں’ غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم، 2019 میں کمیشن نے پارلیامنٹ کو بتایا تھا کہ ووٹر لسٹ میں ‘غیر ملکی شہریوں’ کے نام پچھلے کچھ سالوں میں نہ ہونے کے برابر تھے۔

الیکشن کمیشن کی خاموشی کے درمیان فرقہ وارانہ بیان بازی انتخابات کا حصہ بن چکی ہے

ویڈیو: ملک میں مختلف انتخابات کے درمیان فرقہ وارانہ بیانات اور ہیٹ اسپیچ انتخابی مہم کا حصہ بن چکے ہیں، جہاں لیڈر بغیر کسی جوابدہی کے نفرت انگیز بیانات دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وہیں، الیکشن کمیشن بھی ان پر خاموش ہے۔ اس حوالے سے دی وائر کی نیشنل افیئرز کی مدیر سنگیتا بروآ پیشاروتی اور اے ڈی آر کی لیگل لیڈ شیوانی کپور کے ساتھ میناکشی تیواری کی بات چیت۔

جھارکھنڈ: مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر این آر سی لانے کا وعدہ کیا

مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے جھارکھنڈ کے بہراگوڑہ میں منعقد ‘پریورتن سبھا’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں این آر سی کو نافذ کیا جائے گا تاکہ غیر ملکی ‘درانداز’ آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ نہ بنوا پائیں۔

جھارکھنڈ حکومت نے الیکشن کمیشن سے کی بی جے پی لیڈروں کی شکایت، نفرت اور ہراسانی کے الزام

جھارکھنڈ حکومت نے الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ بی جے پی نے انتخابی پروگرام کا اعلان ہوئے بغیر آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما اور مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کو جھارکھنڈ کا الیکشن انچارج بنا دیا ہے، جو ریاست میں مختلف برادریوں کے درمیان نفرت پھیلا رہے ہیں۔

جموں و کشمیر: اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی  میں اندرونی خلفشار

بی جے پی نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کی اور بعد میں اس کو واپس لے لیا، کیوں کہ نئے امیدواروں اور حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہونے والے لوگوں کے انتخاب پر پرانے قائدین میں عدم اطمینان کی بات کہی جا رہی ہے۔

جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا بگل

ایک اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا ان انتخابات کے نتیجے میں خطے میں حقیقی امن قائم ہو سکے گا؟ ویسے تو مودی حکومت بغلیں بجا رہی ہے کہ اس نے کشمیر میں پچھلے پانچ سالوں میں امن قائم کیا ہوا ہے۔ مگر یہ قبرستان کی خاموشی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا منتخب انتظامیہ لوگوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور عوامی شراکت پر پالیسی کو دوبارہ مرکوز کرکے سابق ریاست کے لوگوں کی بیگانگی کو کم کرنے میں کردار ادا کرے گی؟

کرناٹک: کانگریس نے 19 لاکھ ’غائب‘ ای وی ایم کامعاملہ اٹھایا، الیکشن کمیشن کو بھی طلب کرنے کا مطالبہ

ریاستی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات پر خصوصی بحث کے دوران سابق دیہی ترقیات کے وزیر اور کانگریس کے سینئر ایم ایل اے ایچ کے پاٹل نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن سے وضاحت طلبی کے لیے اسپیکر پر دباؤ ڈالنے کی غرض سےآر ٹی آئی کے جوابات کا حوالہ دیا ہے۔

انتخابی سروے شائع کرنے والے تین میڈیاآرگنائزیشن کو الیکشن کمیشن نے جاری کیا وجہ بتاؤ نوٹس

تین میڈیا آرگنائزیشن نے حال ہی میں لوک سبھا سیٹوں پر ہار جیت‌کے اندازے کی بنیاد پر ممکنہ اعداد و شمار پیش کرکے یہ بتایا تھا کہ انتخاب میں کس کو کتنی سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔

سیاسی پارٹیاں  آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر ہیں : الیکشن  کمیشن

آر ٹی آئی کے تحت بی جے پی، کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، بی ایس پی اور این سی پی کے سیاسی چندے کی مانگی گئی جانکاری کے جواب میں کمیشن نے ایسا کہا۔ جبکہ ان پارٹیوں کو 2013 میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن آر ٹی آئی کے دائرے میں لےکر آیا تھا۔

سنگین جرم میں مقدمے کا سامنا کر رہے لوگوں کو انتخاب لڑنے سے روکا جائے:الیکشن کمیشن 

سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ کے ذریعے کمیشن نے کہا کہ سیاست کو جرم سےآزاد بنانے کی سمت میں اور موثر قدم اٹھانے کے لئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہوگی جو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔