Eid

نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں

ردعمل:نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں خاموشی کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں میں ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست  و ریخت کا احساس  گامزن ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔

دہلی: فرقہ وارانہ کشیدگی اور ’دھمکیوں‘ کے باعث عید پر گھر چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اتم نگر کے مسلمان

ہولی کے دوران دو برادریوں کے خاندانوں کے درمیان جھڑپ میں ایک نوجوان کی موت کے بعد دہلی کے اتم نگر میں فرقہ وارانہ کشیدگی، دھمکیوں اور نفرت انگیز پوسٹروں کی وجہ سے عیدالفطر سے پہلے مسلم خاندانوں کے درمیان  خوف وہراس کا ماحول ہے۔ کئی خاندان عید کے تہوار سے پہلے اس علاقے کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

اتم نگر میں نفرت کا ریلا اور سرکاری خاموشی

اتم نگر میں جو کچھ ہو رہا ہے – ہونے دیا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے – وہ صرف غلط نہیں، جرم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا جرم ہے اور اس نفرت کو پھیلانے کی اجازت دینا اس جرم میں شریک ہونا ہے۔ معاشرے کے ہر طبقے کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں اس کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پھر  وہ کیوں مسلمانوں کی حفاظت کے لیے خود کو جوابدہ نہیں مانتی؟

سنبھل مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کا آرڈر منسوخ، الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی انتظامیہ کی سرزنش کی

الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل کی ایک مسجد میں رمضان کے دوران نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے اتر پردیش انتظامیہ کے حکم کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اگر حکام اسے نافذ نہیں کر سکتے تو انہیں اپناعہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

سنبھل: عید سے پہلے امن کمیٹی کی میٹنگ میں سی او کا متنازعہ بیان – ایران کے لیے چھاتی پیٹنے پرعلاج کر دیا جائے گا

سنبھل میں عید سے پہلے ہوئی امن کمیٹی کی میٹنگ میں سی او کلدیپ کمار نے کہا کہ مذہبی تقریبات میں بین الاقوامی تنازعات کو شامل کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دھمکی آمیز انداز میں انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے سینہ کوبی پر علاج کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سڑک یا عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ہندوستانی ریاست مسلمانوں کی ہر سرگرمی کو مجرمانہ فعل کی طرح  پیش کر رہی ہے

پہلے ہم ہندوتوا کے حامیوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد پھیلاتے ہوئے دیکھتے تھے، اب ہم پولیس اور انتظامیہ کو یہی کرتے دیکھ رہے ہیں۔ پولیس مسلمانوں کو اندھیرے میں دھکیلنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ہندوستان کے ہندوائزیشن کا یہ آخری مرحلہ ہے، جہاں سرکاری مشینری مسلمانوں کو مجرم بنانے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔

رمضان کا وہ آخری جمعہ، جب ہم نے غلامی کو الوداع کہا!

پندرہ اگست 1947 کو ایک طویل جدوجہد کے بعد جب ہم نے اپنی سینکڑوں سال کی غلامی کا طوق اتار پھینکا تھا تو اس دن رمضان المبارک کا ستائیسواں روزہ اور آخری جمعہ تھا۔ ایسے میں رمضان، جمعتہ الوداع اور عید نہ صرف اسلامی بلکہ ہماری آزادی اور قومی اتحاد کا جشن بھی ہیں۔

وشو ہندو پریشد کے احتجاج کے بعد گجرات کے دو اسکولوں نے بقرعید منانے کے لیے معافی مانگی

پہلا معاملہ شمالی گجرات کے مہسانہ ضلع کے ایک پری اسکول کا ہے۔ احتجاج کے بعد اسکول کی ڈائریکٹر نے تحریری طور پرمعافی مانگی ہے۔ وہیں، ضلع کچھ کے بھج کے ایک اسکول میں بقرعید کے حوالے سے ڈرامہ پیش کیا گیا تھا، جس کی بھگوا تنظیموں، والدین اور رہنماؤں نے مخالفت کی تھی۔

گجرات: عید کے موقع پر اسکول میں ہوئے ڈرامے پر تنازعہ، پرنسپل کو سسپنڈ کیا گیا

یہ معاملہ کچھ ضلع کے مُندرا کے ایک پرائیویٹ اسکول کا ہے، جہاں عید کے موقع پر بھائی چارے کا پیغام دینے کے لیے طالبعلموں نے ایک ڈراماپیش کیا تھا۔ اس میں کچھ طالبعلموں نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی، جس کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد والدین اور دائیں بازو کی تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسکول میں ہنگامہ کیا تھا۔

یوپی: سڑک پر عید کی نماز ادا کرنے کے الزام میں 2000 سے زیادہ لوگوں کے خلاف معاملہ درج

معاملہ کانپور کا ہے۔ گزشتہ ہفتے عید کے موقع پر عیدگاہ کے باہر سڑک پر بغیر اجازت نماز ادا کرنے کے الزام میں بجریا، بابو پوروا اور جاجمئو تھانوں میں الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ اس سے ناراض آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن نے کہا کہ انہیں مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اب ہندوؤں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے

اجتماعی تشدد یا نفرت کے علاوہ بغیرکسی تنظیم کےبھی بہت سے ہندوؤں میں دوسروں کے لیےنفرت ظاہر کرنے کی ہوس فحاشی کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ان ہندوؤں میں ایسے ‘باکمال’ خطیبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو کھلے عام تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔ خطیبوں کے ساتھ ساتھ ان کے سامعین کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

عید پر جودھ پور میں فسادات، فرقہ وارانہ تشدد سے کس کو فائدہ؟

ویڈیو: عید کے دن راجستھان میں جودھ پور شہر کے جالوری گیٹ علاقے میں فرقہ وارانہ تصادم کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے بارے میں ریاست میں مقتدرہ کانگریس نے بی جے پی پر کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تصادم کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابی ریاستوں میں نفرت پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

کیا ایک مذہب کے تہوار پر اپنا مذہبی چھاپ چھوڑنے کی عجلت پسندی کسی احساس کمتری کے باعث ہے

عید مبارک کے جواب میں اکشے ترتیہ یا پرشورام جینتی کی مبارکباد دینا کلینڈر پرست مذہبیت کی علامت ہے۔ ہم ہر جگہ اپنا تسلط چاہتے ہیں۔ آواز کی سرزمین پر، آواز کی لہروں پر بھی، دوسروں کی عبادت گاہوں پر اور سماج کے نفسی وجودپر بھی۔

ماحولیات کو لے کر بیداری کے لیے ہندوستانی بچے کو دبئی میں ملا اعزاز

اس پہل کی شروعات 2013 میں طلبا کو ماحولیات سے متعلق تربیت دینے کے مقصد سےکی گئی تھی۔ فیض محمد نے اپنی 150 درہم عیدی سے 130 بیگ خریدے اور انہیں کرانے کے دکانوں پر بانٹا۔ اس نے پلاسٹک بیگ کا استعمال کم کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا۔

جنید قتل معاملہ :ملزموں کی مد د کے الزام میں جج نے سرکاری وکیل کے خلاف کارروائی کا حکم دیا

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج وائی ایس راٹھورنے کہا ہے کہ ایڈیشنل ایدووکیٹ جنرل نوین کوشک کلیدی ملزم نریش کمار  کے وکیل کی مدد کر رہے ہیں ۔ نئی دہلی :جنید خان قتل معاملے کی شنوائی کر رہے ٹرائل کورٹ جج نے یہ کہا ہے کہ سینئر سرکاری وکیل […]

جب جنید کا خاندان عید نہیں منا سکا تو میں دیوالی کیسے مناؤں

محض ایک ہندو ہونے سےزیادہ انسان ہونا ضروری ہے۔ اس سال دیوالی پرمیرے گھر میں تواندھیرا رہے گا،لیکن میرے من کا کوئی گوشہ ضرور روشن ہوگا۔ بچپن میں کسی سال کے کلینڈر میں میرے لیے صرف دو موقعے سب سے ضروری ہوتے تھے ،ایک میرا جنم دن اور […]