لوک سبھا میں منگل کو انتخابی اصلاحات پر بحث شروع ہوئی۔ اس دوران اپوزیشن نے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی کارروائی آر کی خامیوں کو اجاگر کیا۔ بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر غیر جانبداری کے فقدان کا الزام لگایا اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔
سی بی آئی نے ریلائنس ہوم فائنانس اور ریلائنس کمرشل فائنانس کے ساتھ ساتھ ان کے سابق ڈائریکٹروں کے خلاف – جن میں انل امبانی کے بیٹے جئے انمول امبانی بھی شامل ہیں- دو الگ الگ بینک فراڈ کے معاملات میں کیس درج کیا اور ان کے احاطے کی تلاشی لی۔
انسانی حقوق کے عالمی دن سے پہلے 50 سے زیادہ ہندوستانی تنظیموں اور تقریباً 200 ماہرین نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے بین الاقوامی کمیونٹی کو آدھار ماڈل سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آدھار ایک ناکام اور خطرناک شناختی نظام ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر اخراج اور رازداری کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔
بی جے پی پر کچھ سال پہلے سوچھ بھارت، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور کسان سیوا جیسی سرکاری اسکیموں کے نام پر عوام سے ‘غیر قانونی طور پر’ چندہ اکٹھا کر نے کا الزام لگا تھا۔ صحافی بی آر ارونداکشن کو آر ٹی آئی کے توسط سے معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی کو ان اسکیموں کے لیے چندہ جمع کرنے کی کوئی خصوصی اجازت یا منظوری نہ تو مرکزی حکومت کے کی کسی وزارت سے ملی تھی، نہ ہی پی ایم او سے۔
پارلیامنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران حکومت نے بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 2014 سے اب تک منی لانڈرنگ کے 6,444 معاملے درج کیے ہیں۔ وہیں، محکمہ انکم ٹیکس نے اسی مدت میں 13,877 معاملے درج کیے اور 9,657 چھاپے ماری کی۔ انکم ٹیکس کے معاملوں میں 522 افراد کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور 963 کو بری کیا گیا۔ محکمہ نے 3,345 معاملے واپس لے لیے۔
مشہور زمانہ مصنف سلمان رشدی نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی، مسلمانوں کی امیج کو نشانہ بنائے جانے اور صحافیوں – مصنفین پر دباؤ کے حوالے سےتشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کئی دہائیوں قبل ان خطرات کے آثار دیکھ لیے تھے، جن کی تصدیق اب ہو رہی ہے۔
گزشتہ 22نومبر کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام ضلع حکام کو مبینہ ‘دراندازوں’ کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اب لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے ایک کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس میں سب سے پہلےآسام سے آنے والے اور چھوٹے موٹے کام کر کے روزی کمانے والے 50 سے زیادہ خاندان نشانےپر آ گئے ہیں۔
دہلی میں خواتین کے تحفظ کے خدشات کے درمیان دہلی خواتین کمیشن ڈیڑھ سال سے بند پڑا ہے۔کمیشن کی آخری چیئرپرسن سواتی مالیوال تھیں، جنہوں نے جنوری 2024 میں راجیہ سبھا میں جانے کے لیے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سال فروری میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے خواتین کے تحفظ کے بارے میں تمام طرح کے دعوے کیے تھے، لیکن آج تک کمیشن کے دفتر پر لگا تالہ کھل نہیں سکا ۔
دہلی سمیت کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر عمل کے درمیان، دہلی بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس عمل کے پس پردہ اسلامو فوبک پوسٹ شیئر کرنے کے الزام لگ رہے ہیں۔ زمینی سطح پر ایس آئی آرسے متعلق انسانی اور انتظامی مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں، لیکن بی جے پی اس پوری کارروائی کو محض ‘دراندازوں کو ہٹانے’ کی مہم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
بی جے پی کو 2024-25 میں مختلف الیکٹورل ٹرسٹوں سے 959 کروڑ روپے کا سیاسی چندہ ملا، جن میں سے تقریباً 757 کروڑ روپے، جو اس پارٹی کو موصول ہوئے کل چندے کا 83 فیصد ہے، ٹاٹا گروپ کے زیر کنٹرول پروگریسو الیکٹورل ٹرسٹ سے آئے۔
میرٹھ میں ہندو خاندان سے ایک مسلمان کےگھر خریدنے کے سودےنے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ مقامی ہندو گروپوں نے اس کو لے کرپولیس تھانے اور بعد میں گھر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیااور ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کیا۔ بیچنے والے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں خریدار کے مسلمان ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جس نے اچھی قیمت دی، انہوں نے اس کو مکان بیچ دیا۔
مودی حکومت نے نئے موبائل فون میں سنچار ساتھی ایپ کو لازمی قرار دیا ہے، جسے صارفین ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔ ماہرین اور شہریوں نے اسے پرائیویسی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ سائبر سکیورٹی کی بات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ چند سالوں میں کو-ون، آئی سی ایم آر اور دیگر سرکاری ویب سائٹ یا پلیٹ فارم سے ہندوستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔
نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی کی چارج شیٹ کے چھ ماہ بعد گاندھی فیملی کے خلاف نئی ایف آئی آر کیوں درج کی گئی؟ کیا ای ڈی کو منی لانڈرنگ کے ثبوت ملے ہیں؟ اس معاملے کو سیاسی طور پر اتنا حساس کیوں مانا جا رہا ہے؟ دی وائر کی یہ رپورٹ اس پورے معاملے کی پرتیں کھولتی ہے۔
مرکزی وزیر مواصلات جیوترادتیہ سندھیا نے سنچار ساتھی ایپ کو اختیاری بتایا ہے، لیکن سرکاری ہدایات کے مطابق، یہ تمام نئے موبائل فون میں پری-انسٹال اور ان -ڈیلیٹ- ایبل ہے۔
سرکارنے تمام نئے اسمارٹ فون میں ان-انسٹال نہ کیے جا سکنے والے’سنچار ساتھی’ ایپ کولازمی طور پر پری-انسٹال کرنے کی ہدایت دی ہے، جس نےپرائیویسی کے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین اور اپوزیشن نے اسے شہریوں پر نظر رکھنے کا حربہ بتایا ہے اور اس کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا، ٹیلی کام کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ ‘سنچار ساتھی ایپ لازمی نہیں ہے، اسے ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔’
پچھلے تین دنوں میں اتر پردیش کے دو اور راجستھان میں ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)کی موت ہوگئی۔ ان کے اہل خانہ نے موت کی وجہ ایس آئی آر سے متعلق کام کے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ وہیں،الیکشن کمیشن نے ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہ کرتے ہوئے دو ویڈیو جاری کرکے بتایا ہے کہ بی ایل او کام کے دباؤ کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہیں، ڈانس بریک لے رہے ہیں اور اپنے کام کے لیے کیسے ہمت حاصل کر رہے ہیں۔
پریس کی آزادی پر نظر رکھنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرزنے اپنی’پریس فریڈم پریڈیٹرز’یعنی آزادی صحافت کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد اور تنظیموں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں دو ہندوستانی ادارے -اڈانی گروپ اور ہندوتوا ویب سائٹ اوپ انڈیا کو شامل کیا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق، ممبئی اور ناندیڑ کی ووٹر لسٹوں میں خامیاں پائے جانے کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے ممبئی میں اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 3 دسمبر تک بڑھا دی ہے۔ ممبئی میں 11 لاکھ سے زیادہ ڈپلیکیٹ اندراجات اور ناندیڑ میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے پتے پر سینکڑوں ووٹر کے نام درج پائے گئے۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
ترنمول کانگریس کے ایک وفد نے جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کی اور الزام لگایا کہ ان کے ‘ہاتھ خون سے سنے’ ہیں۔ انہوں نے انہیں کم از کم 40 افراد کی فہرست پیش کی جنہوں نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران اپنی جانیں گنوائیں، لیکن الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ محض الزامات ہیں۔
گزشتہ جمعرات کو جموں میں سرکاری زمین پر بنے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی صحافی ارفازاحمد ڈینگ کے گھر کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ ڈینگ نے ایک پولیس افسر کے منشیات کے اسمگلروں سے روابط کے بارے میں رپورٹ کی تھی۔ اب جموں کے ہی ایک سماجی کارکن نے صحافی کو اپنی زمین عطیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈینگ نے ایسے وقت میں سچ بولا، جب بہت کم لوگوں نے ایسا کرنے کی ہمت کی۔
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے جمعرات کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اخبار کے مالکان نے اس چھاپے ماری کو آزاد میڈیا کو چپ کرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
نئی دہلی اب اسرائیل کے ساتھ فوجی، اقتصادی اور نظریاتی تعلقات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ یہ مضمون تاریخی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتا ہےکہ ہندوتوا کس طرح ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور گھریلو ردعمل کو نئی شکل دے رہا ہے۔
بہار کی خواتین اب صرف غیر جانبدار ووٹر نہیں، بلکہ انتخابات میں فیصلہ کن قوت بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی حکومت ان خواتین کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا پائے گی، جن کے بھروسے وہ اقتدار تک پہنچی ہے۔
دہلی کے براڑی میں سنت نگر علاقے کا معاملہ۔ پولیس کے مطابق، ویڈیو میں ملزم خود کو بجرنگ دل کا رکن بتا رہا ہے۔ اس کو دیوالی کے دن بریانی کی دکان کھولنے پر مبینہ طور پر ایک مسلم دکاندار کو دھمکاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ کسی تہوار پر دکان نہ کھولیں۔
ویڈیو: ملک میں ہندوستان-پاکستان کا کرکٹ میچ محض ایک کھیل کی طرح نہیں، ایک جنگ کی طرح دیکھا جاتا ہے اور کھیل کےجذبہ کو نکال کر اس کو انا کی لڑائی بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین میچ میں ہوئی ہار کو کھیل میں ہوئی ہار کے طور پر نہیں لے پاتے۔اس بار جب ہندوستان کی ہار ہوئی تو سوشل میڈیا پر اس کا ٹھیکراہندوستانی ٹیم کےگنیدباز محمدسمیع پر پھوڑا جانے لگا اور پاکستان کی جیت پر مبینہ طور پر ‘خوش’ہونے کے لیے کشمیری طلباکو پیٹے جانے کی خبر آئی۔
ہندوستانی آئین میں واضح طور پر ہندوستان کو ریاستوں کا یونین کہا گیا ہے یعنی ایک یونین کے طور پر سامنے آنے سے پہلے بھی یہ ریاست وجود میں تھے۔ ان میں سے ایک جموں و کشمیر کا یہ درجہ ختم کرتے ہوئے مودی حکومت نے یونین کے نظریہ کو ہی چیلنج دیاہے۔
خصوصی تحریر: اطلاعات کے اس زمانے میں کسی حکومت کا اتنی آسانی سے ایک پوری آبادی کو باقی دنیا سے کاٹ دینا ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس طرف بڑھ رہے ہیں۔