وزیر اعظم درجنوں بار کشمیر جا چکے ہیں۔ وہ جب بھی گئے اسکیموں اور وکاس پر بات کرتے رہے جیسے کشمیر کا مسئلہ سڑک اور فلائی اوور کا ہے۔ کشمیر مسئلے کو انہوں نے سولر پاور پلانٹ اور ہائیڈرو پلانٹ کی سنگ بنیاد تک محدود کر دیا۔ ان کی کشمیر پالیسی کیا ہے، کوئی نہیں جانتا۔
بی جے پی کے نیشنل جنرل سکریٹری رام مادھو کی ٹیم کا حصہ رہے شیوم شنکر سنگھ کہتے ہیں، ‘ میں 2013 سے بی جے پی کا حمایتی تھا کیونکہ نریندر مودی ملک کے لئے امید کی کرن کی طرح لگتے تھے اور مجھے ان کی وکاس کے نعرے پر اعتماد تھا۔ اب وہ نعرہ اور امید دونوں جا چکے ہیں۔ ‘
بھیماکورےگاؤں تشدد میں ماؤوادی لنک، وزیر اعظم کے مبینہ قتل کی سازش اور دلتوں کی حالت پر بابا صاحب بھیم راؤ آمبیڈکر کے پوتے اور بھارتیہ رپبلکن پارٹی بہوجن مہاسنگھ کے رہنما پرکاش آمبیڈکر سے پرشانت کنوجیا کی بات چیت۔
عید کی چھٹی کو لے کر ممتا بنرجی کی نوٹس،شہلا کے خلاف ایف آئی آر، راہل کا بیان اور دگووجئے سنگھ کا ٹوئٹ۔
میرے لئے کالا حیران ہوکر دیکھنے والی فلم رہی،ہندوستانی سینما کی تاریخ میں کالا پہلی فلم ہے، جس میں کردار جئے بھیم کے نعرے لگاتے ہیں۔
جوائنٹ سکریٹری سطح کے دس پیشہ ور وں کو ایڈمنسٹریشن میں شامل کرنے کا خیال حکومت کے آخری سال میں کیوں آیا جبکہ اس طرح کے مشورے پہلے کی کئی کمیٹی رپورٹ میں درج ہیں۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے بی جے پی میں خزانچی سے جڑا تنازعہ اور بیڈ بینک پر ونود دوا کا تبصرہ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈروں کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح مودی –شاہ کی جوڑی پارٹی کی اندرونی جمہوریت اور اس کی روایات کو ختم کر رہی ہے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ ؛ راہل گاندھی سیاسی مفاد کے لیے افطار پارٹی کر رہے ہیں جبکہ میں ضرورت مندلوگوں کے کر رہا ہوں ۔ہم ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کررہے ہیں ۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے ایل جی دفتر پر دھرنے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قتل کی مبینہ سازش پر ونود دوا کا تبصرہ۔
اس وقت ہندوستان کے بینکنگ نظام میں آئے بحران نے ملک کو اور کمزور بنا دیا ہے۔ اگر ایشیا مالی بحران میں گھر جاتا ہے تو ہندوستان کی حالت سنگین ہوگی۔
خاص رپورٹ : بی جے پی نے یہ تو بتایا ہے کہ اس کو 1034 کروڑ روپے کا چندہ ملا ہے لیکن پارٹی کے خزانچی کا نام عوام اور الیکشن کمیشن دونوں سے چھپایا جا رہا ہے۔ نئی دہلی : بی جے پی دنیا کی سب سے دولتمند […]
ثبوت بتاتے ہیں کہ آدھار کے سہارےفرضی بتائے گئے راشن کارڈ کی تعدادوزیر اعظم کے دعوے سے کئی گنا زیادہ تھی۔
سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ جن چار ٹائروں کی بنیاد پر معیشت کی گاڑی چلتی ہے ان میں سے تین ٹائر؛ایکسپورٹ ،نجی سرمایہ کاری اور کھپت پنکچر ہوچکے ہیں ۔یہ صورت حال مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ؛بی جے پی نے شیو سینا سے ان کے لیے مہاراشٹر کابینہ میں اگلے پھیر بدل کے دوران جگہ بنانے اور مرکز میں شیو سینا کے سینئر لیڈروں کو جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔
دلتوں کے مسئلے پر بی جے پی میں بغاوتی لہجہ اختیار کرنے والی اتر پردیش کے بہرائچ سے ایم پی ساوتری بائی پھولے سے امت سنگھ کی بات چیت۔
مودی حکومت نے 2014 میں4 نئےایمس، 2015 میں 7 نئے ایمس اور 2017 میں 2 ایمس کا اعلان کرتے ہوئے 148 ارب روپے کا اہتمام کیا تھا مگر ابتک 4 ارب روپے ہی دئے گئے ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس رفتار سے کام ہو رہا ہوگا۔
اتر پردیش کے بلیا ضلع کے سلیم پور سے بی جے پی رکن پارلیامان روندر کشواہا اور بیریا سے ایم ایل اے سریندر سنگھ نے اپنےاپنے لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں سے متعلق مانگوں کو لےکر اپنی ہی حکومتوں کی گھیرابندی کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے مودی حکومت کے 4 سال کے رپورٹ کارڈپر ونود دوا کا تبصرہ۔
اگر آپ صرف وزیر اعظم نریندر مودی کی ٹوئٹر ٹائم لائن دیکھیںگے، تو آپ کو پتہ نہیں لگےگا کہ ملک میں کیا چل رہا ہے۔
چھوٹے فنانس بینک کا این پی اے بھی6-5 فیصد بڑھ گیا ہے۔ نوٹ بندی کے پہلے یہ ایک فیصد تھا۔ اس رپورٹ میں آہستہ سے نوٹ بندی اور قرض معافی کو وجہ بتایا گیا ہے۔ بڑے بینک ہوں یا چھوٹے بینک سب کے سب ڈوب رہے ہیں۔
اتوار کو نریندر مودی کے زور شور سے ہوئے روڈ شو میں ایکسپریس وے کے پہلے مرحلے کے کام کا افتتاح ہوا، جو 82 کلومیٹر لمبی اس اسکیم کا محض 8.36 کلومیٹر ہے۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ضمنی انتخابات میں ای وی ایم میں خرابی کی خبر اور گزشتہ 4 سالوں کے درمیان ہندوستان میں پبلک ڈسکورس پر ونود دوا کا تبصرہ۔
ریاست کےاعلی حکام کی عدم دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کو ان کی منظوری حاصل تھی جو حکمراں طبقے کی طرف سے کسی ہدایت نتیجے میں بھی ہو سکتی ہے۔ اور اگراترپردیش میں معاملہ کمیونسٹوں، دلتوں، اقلیتوں یا کچھ اوبی سی برادریوں کا ہو تو اسکے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی حلف برداری تقریب میں یکجہتی دکھانے والے اپوزیشن کے رہنماؤں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ 2019 کے عام انتخابات تک متحد رہیںگے؟
عرب نامہ :ایرانی نیوکلیر معاہدہ سے امریکہ کے الگ ہوجانے اور اقتصادی پابندی بحالی کے بعد یورپی ممالک معاہد ہ کو بچانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔
بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر امر سابلے نے کہا کہ لوگوں کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرائیں جائیں گے ، یہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں کبھی شامل نہیں تھا۔
کیا وزیر اعظم اتنے معصوم ہیں، کیا انھیں نہیں معلوم کہ ان کا یہ ٹوئٹ عوام میں ایک پیغام دے گا؟ نریندر مودی نے اپنا کام کر دیا ہے، اب آپ بھلے ہی یہ راگ الاپتے رہیے کہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔
مودی حکومت کو چار سال کا جشن منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔یہ حکومت بد عنوانی، کالے دھن، مہنگائی، دہشت گردی اور خارجہ پالیسی کو لےکر پوری طرح ناکام رہی ہے۔
ہر حکومت کے دور میں ایک سیاسی تہذیب پنپتی ہے۔ مودی حکومت کے دور میں جھوٹ نئی سرکاری تہذیب ہے۔ جب وزیر اعظم ہی جھوٹ بولتے ہیں تو دوسرے کی کیا کہیں۔
ویدانتا کی امیج ہمیشہ سے ہی ماحولیات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنی کی رہی ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ کمپنی نریندر مودی حکومت کے ‘وکاس یجنڈہ ‘کے علم برداروں میں سے ایک ہے۔
بہار سے گراؤنڈ رپورٹ : لاکھوں دَلہن کسان اپنی فصل کولاگت سے کم قیمت پر بیچنے کو مجبور ہیں۔
جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے کوبرا پوسٹ کے تازہ ترین انکشافات اوروزیر اعظم کو ونود دوا کے ایک پرانے خط پر تبصرہ۔
راجیو گاندھی کے دور میں وایودوت اسکیم کے تحت اروناچل پردیش میں کمرشیل اڑانوں کی شروعات ہو گئی تھی۔
خرید وفروخت کی سیاست میں بھی ایک کم از کم اعتماد اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کرناٹک کے انتخابی نتیجے کے بعد جو ہوا، وہ بتاتا ہے کہ مودی اورشاہ کی جوڑی کافی تیزی سے یہ اعتماد بھی کھو رہی ہے۔
بھگوا اور کالے رنگ سے بنی ہنومان کی تصویر ، جس میں ان کی بھنویں تنی ہوئی ہیں اور تیوریاں چڑھی ہوئی ہیں۔ ہندو گرنتھوں سے الگ موجودہ تصویرخود ساختہ ہندتووادی مرد کی امیج کے ساتھ فٹ بیٹھتی ہے۔
پولیس نے برج کارپوریشن کے افسروں کے خلاف 19 فروری کو ایک ایف آئی آر بھی درج کرتے ہوئے کہا تھا کہ پل کی تعمیر کا کام غیرمنظم ہے۔ ایک آئرن بیم نیچے جا رہے ٹریفک کے ٹھیک اوپر لٹک رہا ہے۔
کرناٹک کے نئے وزیراعلیٰ بی ایس یدورپا کو غیر قانونی کان کنی معاملے میں بد عنوانی کی وجہ سے 2011 میں وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ حالانکہ 2016 میں اسپیشل سی بی آئی عدالت نے ان کو اس معاملے سے بری کر دیا تھا۔
گجرات میں جن سنگھ کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ایک وجوبھائی نے سال 2002 میں نریندر مودی کے لئے اپنی روایتی اسمبلی سیٹ چھوڑ دی تھی۔ نئی دہلی: کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا گجرات میں بی جے پی کے سب سے سینئر رہنماؤں میں سے ایک رہے […]
بی جے پی کے پاس اکثریت ثابت کرنے کے لیے ایم ایل کی اتنی تعداد نہیں ہے۔گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا ہے۔