گزشتہ 22نومبر کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام ضلع حکام کو مبینہ ‘دراندازوں’ کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اب لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے ایک کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس میں سب سے پہلےآسام سے آنے والے اور چھوٹے موٹے کام کر کے روزی کمانے والے 50 سے زیادہ خاندان نشانےپر آ گئے ہیں۔
دہلی میں خواتین کے تحفظ کے خدشات کے درمیان دہلی خواتین کمیشن ڈیڑھ سال سے بند پڑا ہے۔کمیشن کی آخری چیئرپرسن سواتی مالیوال تھیں، جنہوں نے جنوری 2024 میں راجیہ سبھا میں جانے کے لیے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سال فروری میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے خواتین کے تحفظ کے بارے میں تمام طرح کے دعوے کیے تھے، لیکن آج تک کمیشن کے دفتر پر لگا تالہ کھل نہیں سکا ۔
دہلی سمیت کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر عمل کے درمیان، دہلی بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس عمل کے پس پردہ اسلامو فوبک پوسٹ شیئر کرنے کے الزام لگ رہے ہیں۔ زمینی سطح پر ایس آئی آرسے متعلق انسانی اور انتظامی مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں، لیکن بی جے پی اس پوری کارروائی کو محض ‘دراندازوں کو ہٹانے’ کی مہم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
بی جے پی کو 2024-25 میں مختلف الیکٹورل ٹرسٹوں سے 959 کروڑ روپے کا سیاسی چندہ ملا، جن میں سے تقریباً 757 کروڑ روپے، جو اس پارٹی کو موصول ہوئے کل چندے کا 83 فیصد ہے، ٹاٹا گروپ کے زیر کنٹرول پروگریسو الیکٹورل ٹرسٹ سے آئے۔
میرٹھ میں ہندو خاندان سے ایک مسلمان کےگھر خریدنے کے سودےنے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ مقامی ہندو گروپوں نے اس کو لے کرپولیس تھانے اور بعد میں گھر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیااور ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کیا۔ بیچنے والے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں خریدار کے مسلمان ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جس نے اچھی قیمت دی، انہوں نے اس کو مکان بیچ دیا۔
مودی حکومت نے نئے موبائل فون میں سنچار ساتھی ایپ کو لازمی قرار دیا ہے، جسے صارفین ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔ ماہرین اور شہریوں نے اسے پرائیویسی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ سائبر سکیورٹی کی بات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ چند سالوں میں کو-ون، آئی سی ایم آر اور دیگر سرکاری ویب سائٹ یا پلیٹ فارم سے ہندوستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔
نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی کی چارج شیٹ کے چھ ماہ بعد گاندھی فیملی کے خلاف نئی ایف آئی آر کیوں درج کی گئی؟ کیا ای ڈی کو منی لانڈرنگ کے ثبوت ملے ہیں؟ اس معاملے کو سیاسی طور پر اتنا حساس کیوں مانا جا رہا ہے؟ دی وائر کی یہ رپورٹ اس پورے معاملے کی پرتیں کھولتی ہے۔
مرکزی وزیر مواصلات جیوترادتیہ سندھیا نے سنچار ساتھی ایپ کو اختیاری بتایا ہے، لیکن سرکاری ہدایات کے مطابق، یہ تمام نئے موبائل فون میں پری-انسٹال اور ان -ڈیلیٹ- ایبل ہے۔
سرکارنے تمام نئے اسمارٹ فون میں ان-انسٹال نہ کیے جا سکنے والے’سنچار ساتھی’ ایپ کولازمی طور پر پری-انسٹال کرنے کی ہدایت دی ہے، جس نےپرائیویسی کے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین اور اپوزیشن نے اسے شہریوں پر نظر رکھنے کا حربہ بتایا ہے اور اس کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا، ٹیلی کام کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ ‘سنچار ساتھی ایپ لازمی نہیں ہے، اسے ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔’
پچھلے تین دنوں میں اتر پردیش کے دو اور راجستھان میں ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)کی موت ہوگئی۔ ان کے اہل خانہ نے موت کی وجہ ایس آئی آر سے متعلق کام کے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ وہیں،الیکشن کمیشن نے ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہ کرتے ہوئے دو ویڈیو جاری کرکے بتایا ہے کہ بی ایل او کام کے دباؤ کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہیں، ڈانس بریک لے رہے ہیں اور اپنے کام کے لیے کیسے ہمت حاصل کر رہے ہیں۔
پریس کی آزادی پر نظر رکھنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرزنے اپنی’پریس فریڈم پریڈیٹرز’یعنی آزادی صحافت کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد اور تنظیموں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں دو ہندوستانی ادارے -اڈانی گروپ اور ہندوتوا ویب سائٹ اوپ انڈیا کو شامل کیا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق، ممبئی اور ناندیڑ کی ووٹر لسٹوں میں خامیاں پائے جانے کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے ممبئی میں اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 3 دسمبر تک بڑھا دی ہے۔ ممبئی میں 11 لاکھ سے زیادہ ڈپلیکیٹ اندراجات اور ناندیڑ میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے پتے پر سینکڑوں ووٹر کے نام درج پائے گئے۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
ترنمول کانگریس کے ایک وفد نے جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کی اور الزام لگایا کہ ان کے ‘ہاتھ خون سے سنے’ ہیں۔ انہوں نے انہیں کم از کم 40 افراد کی فہرست پیش کی جنہوں نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران اپنی جانیں گنوائیں، لیکن الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ محض الزامات ہیں۔
گزشتہ جمعرات کو جموں میں سرکاری زمین پر بنے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی صحافی ارفازاحمد ڈینگ کے گھر کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ ڈینگ نے ایک پولیس افسر کے منشیات کے اسمگلروں سے روابط کے بارے میں رپورٹ کی تھی۔ اب جموں کے ہی ایک سماجی کارکن نے صحافی کو اپنی زمین عطیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈینگ نے ایسے وقت میں سچ بولا، جب بہت کم لوگوں نے ایسا کرنے کی ہمت کی۔
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے جمعرات کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اخبار کے مالکان نے اس چھاپے ماری کو آزاد میڈیا کو چپ کرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
نئی دہلی اب اسرائیل کے ساتھ فوجی، اقتصادی اور نظریاتی تعلقات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ یہ مضمون تاریخی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتا ہےکہ ہندوتوا کس طرح ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور گھریلو ردعمل کو نئی شکل دے رہا ہے۔
مذہبی آزادی سے متعلق یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم کےتازہ اپڈیٹ بریف میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی حکمران بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کااتحاد ‘امتیازی’ قوانین کو فروغ دیتا ہے۔
بہار کی خواتین اب صرف غیر جانبدار ووٹر نہیں، بلکہ انتخابات میں فیصلہ کن قوت بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی حکومت ان خواتین کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا پائے گی، جن کے بھروسے وہ اقتدار تک پہنچی ہے۔
سوموار کو دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب کار بم دھماکے میں اپنی جان گنوانے والوں میں یومیہ اجرت کرنے والے مزدور سے لے کر خواب دیکھنے والے نوجوان اور اکیلے اپنی کمائی سےگھر سنبھالنے والے ایسے کئی لوگ شامل ہیں، جن کے اہل خانہ کی زندگی اب ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے۔
گراؤنڈ رپورٹ: سوموار کی شام لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے باہر ایک کار میں دھماکہ ہوا تھا۔ دھماکے سے آس پاس کا علاقہ لرز اٹھا تھا اور لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔ دی وائر نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زمینی حالات کا مشاہدہ کیا اور عینی شاہدین سے بات کی۔
سابق جج ایس مرلی دھر نے پروفیسر جی این سائی بابا میموریل لیکچر میں کہا کہ آر ایس ایس تفرقہ انگیز ایجنڈہ کو فروغ دے رہی ہےاور گمراہ کن تاریخ پڑھا رہی ہے۔ انہوں نے تعلیمی میدان میں نوجوانوں کے ذہنوں پر قبضہ، ادارہ جاتی مداخلت اور اکیڈمک آزادی پر سوال اٹھائےاور سائی بابا کیس کے توسط سے عدلیہ کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
افغانستان کی طرح یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں یعنی گریٹ گیم کا شکار رہا ہے۔ مغلوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے لداخ پر بر اہ راست علمداری کے بجائے اس کو ایک بفر علاقہ کے طور پر استعمال کیا۔
اگر ہندوستانی حکومت کے پچھلے چھ سالوں کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے، تو ان کا ایک ہی مقصد معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار بناکر مجبور بنایا جائے۔
ہندوستان کی مقتدر شخصیات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ سال قبل لیے گئے اس فیصلہ نے جموں و کشمیر کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے حکومت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا قدم انتہائی غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اس سے بھی خراب حالات میں انتخابات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔
ٹھیک 6 سال پہلے 5 اگست 2019 کو مرکز کی بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر کو آزاد ہندوستان میں شامل کرنے کی شرط کے طور پر آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کر دیا تھا۔
’وقت کے ساتھ میں نے اپنی شناخت کو چھپانا شروع کر دیا ہے۔ جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کہاں سے ہیں، تو میں کہتی ہوں – یہیں دلی سے۔‘
پانچ اگست 2019 کے بعد کا کشمیرہندوستان کے لیے آئینہ ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کا کشمیرائزیشن تیز رفتاری سے ہوا ہے۔ شہریوں کے حقوق کی پامالی، گورنروں کی ہنگامہ آرائی ، وفاقی حکومت کی من مانی۔
پچیس جون کو ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر ‘سمودھان ہتیا دِیوَس’ مناتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 1975 میں جمہوریت کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ تاہم، مودی حکومت کے گزشتہ گیارہ سال کے بارے میں بھی یہی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اس غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے حوالے سےسینئر صحافی ونود شرما اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ میناکشی تیواری کا تبادلہ خیال۔
کانگریس نے مودی حکومت پر یو اے پی اے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اختلاف رائے کو دبانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے طلبہ، صحافیوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پرتشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس نے ہی اس قانون کی بنیاد رکھی تھی اور اس میں سخت دفعات شامل کیےتھے۔
اس ہفتے کی شروعات میں کچھ میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بی جے پی گزشتہ 11 سالوں میں اپنی حکومت کی حصولیابیوں کا جشن منانے کے لیے ایک پروگرام کے تحت ہر گھر خواتین کو سیندوربھیجے گی۔ اس پرسخت تنقید کا سامنا کرنے کے چند دنوں بعد پارٹی نے اس خبر کو ہی فرضی بتا دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے استعفیٰ دینے کی خبریں زور پکڑ رہی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی اہم وجہ ان کی حامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی ناراضگی اور فوج کا دباؤ ہے۔
کنڑ ادیبہ بانو مشتاق کی’ہارٹ لیمپ’ کو انٹرنیشنل بکرپرائز ملنے پرپی ایم مودی نےانہیں مبارکباد پیش نہیں کی۔ اس سے پہلے انہوں نے رویش کمار کو ریمن میگسیسے ایوارڈ اور گیتانجلی شری کو انٹرنیشنل بکر ایوارڈ ملنے پر بھی مبارکباد نہیں دی تھی۔
کبھی مزاحمت کی توانا آواز تصور کیے جانے والے فیض احمد فیض کا ‘ہم دیکھیں گے’گانے پر اب سیڈیشن کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔گزشتہ ہفتےایکٹوسٹ ویرا ساتھیدار کی یاد میں منعقد ایک تقریب میں اس نظم کی پیشکش پر ناگپور پولیس نے منتظمین اور مقررین کے خلاف سیڈیشن کا مقدمہ درج کیا ہے۔
دنیا بھر کے دفاعی ماہرین ہندوستانی فضائیہ کی اس کارروائی کی کامیابی کے حوالے سے شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں۔ امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک متفق ہیں کہ میزائل ٹارگٹ سے خاصے دور گرے۔
سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے تقریباً پانچ سال بعد داخل ہوئی کلوزر رپورٹ میں ریا چکرورتی اور ان کے خاندان کے افراد کو کلین چٹ دی گئی ہے۔ ان پر سشانت کو خودکشی پر مجبور کرنے اور اس کے پیسے غبن کرنے کا الزام تھا۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اداکار نے خودکشی کی تھی۔
ویڈیو: فلمساز انوبھو سنہا ممبئی کو سفاک بھی مانتے ہیں اور بہت مہربان بھی۔ ان کے ایک چھوٹے سے شہر سے بمبئی تک کے سفر، فلم تھیٹر سے اوٹی ٹی پلیٹ فارم تک کا سفر، سنیما، آرٹ اور ان کے تجربات کے حوالے سے ان سے دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔
بنگلورو کی ایک عدالت نے گوری لنکیش قتل کیس میں حراست میں لیے گئے آخری ملزم شرد بھاؤ صاحب کلسکر کو ضمانت دے دی۔ اس معاملے میں 18 شریک ملزمان میں سے 16 پہلے ہی ضمانت پر باہر ہیں۔ ایک اور ملزم وکاس پاٹل مفرور ہے اور اسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
اٹھارہ جنوری 1948 کو اپنے آخری اپواس کوختم کرنے کے ٹھیک نو دن بعد، یعنی اپنے قتل سے تین دن پہلے، گاندھی دہلی کے مہرولی واقع درگاہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر گئے تھے۔ انہوں نے دہلی میں امن وامان اور ہم آہنگی قائم کرنے کے ارادے سے کیے گئے اس دورے کو تیرتھ یاترا کا نام دیا تھا۔ یہ ان کا آخری عوامی دورہ تھا۔