فروری 2024 تک نیوزکلک میں تقریباً سو لوگ کام کرتے تھے، جن کا گھر صرف اسی تنخواہ سے چلتا تھا۔ لیکن ادارے کے خلاف ایجنسیوں کی کارروائی اور بینک اکاؤنٹس فریز ہونے کی وجہ سے نیوزکلک سے نوکری گنوانے والے تقریباً 80 فیصد ملازمین کو اب تک کوئی مستقل نوکری نہیں ملی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے نیوز کلک کے خلاف دہلی پولیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے معاملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معاملے میں نیوز ادارے کے خلاف پولیس کی تحقیقات کو جاری رکھنے کی اجازت دینا ’قانونی عمل کا سنگین غلط استعمال‘ ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ای ڈی کی کارروائی میں ایسے دعوے کیے گئے ہیں جن کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔
پریس کلب آف انڈیا میں ہوئے ایک پروگرام میں مختلف پریس تنظیموں نے صحافت کو دباؤ سے آزاد رکھنے کی اپیل کی۔ نیوز کلک کے ایڈیٹر پربیر پرکایستھ نے کہا کہ میڈیا کے پاس لوگوں تک سچائی پہنچانے کی ذمہ داری اور آزادی، دونوں ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یو اے پی اے معاملے میں نیوز کلک کے مدیر پربیر پرکایستھ کی گرفتاری غلط ہے کیونکہ صحیح طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔
گلوبل سول سوسائٹی الائنس ‘سی آئی وی آئی سی یو ایس’ نے کہا ہے کہ یہ پوری طرح سے ہندوستان میں پریس کی آزادی پر حملہ ہے اور نیوز ویب سائٹ نیوز کلک کی تنقیدی اور آزاد صحافت کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ یو اے پی اے کے تحت اس ویب سائٹ پر الزام عائد کرنا، آزاد میڈیا، کارکنوں اور شہریوں کو خاموش کرانے اور ہراساں کرنے کی ایک بے شرم کوشش ہے۔
گزشتہ 3 اکتوبر کو نیوز کلک کے بانی پربیر پرکایستھ اور اس کے ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر یو اے پی اے کے تحت الزام عائد کیے گئے ہیں، لیکن ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف […]
نیوز کلک کے خلاف درج کیے گئے پولیس کیس کے صحیح اور غلط ہونے کی بات نہ کریں تو بھی ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مبینہ سازش کاروں کا پتہ لگانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے معاملے میں مودی حکومت کے موقف پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔