دہلی میں 20 جولائی کو طلبہ تحریک کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہونے والوں کی تعداد اب کم از کم 10 ہو گئی ہے۔ ٹی ایم سی کے سابق ایم پی ساکیت گوکھلے کی آر ٹی آئی کے جواب میں لیڈی ہارڈنگ اسپتال نے 9 جبکہ صفدرجنگ اسپتال نے ایک زخمی کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل پانچ افراد کے زخمی ہونے کی جانکاری سامنے آئی تھی۔
اگر ہندوستان کو اپنے جمہوری ڈھانچے، آئینی اقدار اور انتظامی شفافیت کو بچانا ہے، تو اسے 2010 کے ترکیہ کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔ امتحانی نظام کی مکمل اور غیر جانبدارانہ شفافیت صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ یہ عوامی سلامتی اور جمہوریت کی بقا کا بنیادی شرط ہے۔
وزارت تعلیم کا موجودہ بحران صرف پیپر لیک، نیٹ تنازعہ یا این ٹی اے کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالوں تک محدود نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے اس کی اہمیت ان فوری مسائل سے کہیں زیادہ ہے۔
نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے اور اپوزیشن کے دباؤ کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ’یہ استعفیٰ نہیں، انقلاب ہے۔‘
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا کہ جمہوریت میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، لیکن ابھی دو مطالبے باقی ہیں۔ وہیں دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے نوجوانوں کی جیت اور مودی حکومت کے غرور کی شکست قرار دیا ہے۔
دہلی سمیت ملک بھر کی کئی ریاستوں میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان سنیچر کی دوپہر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے لکھا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ بھیج چکے ہیں۔
کیا لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف بنایا جا سکتا ہے؟ کیا کروڑوں کی آبادی والے اس ملک کے لوگ ہمیشہ مردہ بنے رہیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کاکروچ ایک نئی شروعات کرتے ہوئے نکل پڑے ہیں۔
جمعہ کو مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کہا کہ اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اگلے ایک دو دن کے اندر استعفیٰ نہیں دیتے تو پارٹی ایک اور ملک گیر تحریک کا اعلان کرے گی۔ مرکزی حکومت نے سی جے پی کو سنیچر (25 جولائی) دوپہر 3:30 بجے پھر سے بات چیت کے لیے بلایا ہے۔
پیپر لیک کے بعد 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ کے ری-اگزام میں شامل ہونے والے ایک درجن سے زیادہ امیدواروں نے امتحان سے چند دن پہلے ہی خودکشی کر لی تھی۔ 19 سالہ ثنا شیخ بھی انہی طلبہ میں ایک تھیں۔ ان کے والدین طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں دہلی کے جنتر منتر پہنچے اور انہوں نے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں طلبہ کی تحریک پر پارلیامنٹ میں جواب دینا چاہیے تھا، نہ کہ یکطرفہ ویڈیو پیغام جاری کرنا چاہیے تھا۔ کھڑگے نے وزیر اعظم سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانے اور طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ وہیں، راہل گاندھی نے پیپرلیک معاملے میں حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ سے تحریک سے دور رہنے کی اپیل کرنے پر دہلی یونیورسٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
طلبہ کے مسائل پر بحث اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر مسلسل چوتھے دن بھی پارلیامنٹ کی کارروائی بغیر کسی کام کاج کے بار بار ملتوی ہوتی رہی، اور آخرکار پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔پارلیامنٹ کے باہر جب صحافیوں نے کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا سے احتجاج اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا،’وزیراعظم ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، اور آپ اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ ایوان کیوں نہیں چل رہا؟ ‘
ملک کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد ان کا ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں کچھ وقت کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم، بدھ کی دوپہر کے بعد ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں بحال کر دیے گئے۔
ویڈیو: شمال-مشرقی دہلی کی حمیدہ ادریسی کا الزام ہے کہ گزشتہ30 اگست کو ان کےکرایہ دار اور پڑوسیوں کے بیچ جھگڑا ہوا تھا۔انہوں نے بیچ بچاؤ کرکے معاملہ کو ختم کرا دیا تھا۔ بعد میں دیال پور تھانے کے ایس ایچ او گریش جین اور دوسرے پولیس اہلکار انہیں جبراً تھانے لے گئے اور ان کی بےرحمی سے پٹائی کی گئی۔ حالانکہ پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
مسلم خاتون کا الزام ہے کہ گزشتہ30 اگست کو ان کے کرایہ دار اور پڑوسیوں کے بیچ جھگڑا ہوا تھا۔انہوں نے مداخلت کر کےمعاملہ کو ختم کرا دیا تھا۔بعد میں شمال-مشرقی دہلی کے دیال پور تھانے کے ایس ایچ او گریش جین اور دیگرپولیس اہلکار انہیں زبردستی تھانے لے گئے اور ان کی بےرحمی سے پٹائی کی گئی۔ ایس ایچ او نے الزامات کی تردید کی ہے۔