خاص خبر

پردھان کے استعفیٰ کے بعد بولے راہل گاندھی – اس سرکار کو ہٹانے کا وقت آ گیا ہے

نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے اور اپوزیشن کے دباؤ کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ’یہ استعفیٰ نہیں، انقلاب ہے۔‘

راہل گاندھی (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: دہلی میں تقریباً ایک ماہ سے جاری نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے اور اپوزیشن کے دباؤ کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اب اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پردھان کا استعفیٰ ملک کے تعلیمی نظام کو سنوارنے کی سمت میں  بہت بڑا قدم ہے۔

انہوں نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا،’شاباش ملک بھر کے طلبہ، آپ سب پر فخر ہے۔ سڑکوں پر نکل کر جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہونے والے ہر نوجوان اور ہر طالبعلم کو بہت بہت مبارکباد۔ یہ سماج کے دوسرے طبقات – کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور ہر وہ شخص جسے اس حکومت نے دبایا اور کچلا ہے – اپنے وقار اور حقوق کے لیے آئینی طریقے سے  ڈٹ کر کھڑا ہونے  ہی  میں حقیقی بہادری ہے۔ اس سرکار کو ہٹانے کا وقت آ گیا ہے۔ ڈرو مت‘!

انہوں نے مزید کہا کہ دو مطالبات ابھی باقی ہیں-وزیر اعظم طلبہ اور ہندوستان کے مستقبل کوعزت دیتے ہوئے معافی مانگیں اورطلبہ پر تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی حکومت کے سامنے یہی مطالبات رکھے تھے۔

پردھان کے استعفیٰ کے بعد سی جے پی کے ہینڈل سے کیے گئے پوسٹ میں کہا گیا کہ ان کا پہلا مطالبہ، یعنی وزیر تعلیم کا استعفیٰ، پورا ہو گیا ہے، لیکن ابھی دو مطالبات باقی ہیں۔ ان میں خودکشی کرنے والے بچوں کے خاندانوں کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ اور 20 جولائی کو نوجوانوں پر تشدد کے لیے پولیس افسران کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے،’ہم ایسے جانے والے نہیں ہیں، یاد رکھیے۔‘

اس سے پہلے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور ایس پی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا،’ یہ استعفیٰ نہیں، انقلاب ہے‘!

کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،’ملک کے نوجوانوں نے ان لوگوں سے اپنا ملک واپس لینا شروع کر دیا ہے جنہوں نے ان کی آواز دبانے کی کوشش کی تھی… آج وہ دن ہے جب ایک غیر جمہوری اور جابرانہ حکومت کوہندوستانی عوام کی خواہش کے سامنے جھکنا پڑا۔ آپ تمام لڑکے اور لڑکیاں جو صحیح بات کے لیے بنا ڈرے کھڑے رہتے ہیں، ان سے میرا کہنا ہے-کبھی ہمت نہ ہاریں۔ آپ ہمارے خوبصورت ملک کی روح ہیں، ہمیشہ مضبوط اور بہادر بنے رہیں۔ ‘

معلوم ہو کہ دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھیج دیا ہے، تاہم ان کا استعفیٰ منظور ہونے کے حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان یا حکومت کی منظوری سامنے نہیں آئی ہے۔

غور طلب ہے کہ نیٹ-یو جی امتحان کے پیپر لیک ہونے کے معاملے پرکاکروچ جنتا پارٹی 20 جون سے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہے۔ اس سے پہلے جمعہ (24 جولائی) کو دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی اور مرکزی حکومت کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔ یہ بات چیت تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہی، جس میں سی جے پی نے واضح طور پر کہا کہ وہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے بات چیت میں شامل جے پی نڈا نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ سی جے پی کے مطالبے پر غور کرنے کے بعد سنیچر کی دوپہر کے بعد پھر سے بات چیت کریں گے۔