بی جے پی رکن پارلیامان اننت ہیگڑے نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں فلاح وبہبود کےلئے آئے 40 ہزار کروڑ روپے کو شیوسینا-این سی پی-کانگریس اتحاد کے ذریعے غلط استعمال سے بچانے کے لئے بی جے پی نے ‘ ڈراما’کیا۔ دیویندر فڈنویس وزیراعلیٰ بنے اورپندرہ گھنٹے کے اندر یہ رقم مرکز کو واپس کر دی۔ فڈنویس نے اس بیان کی تردید کرتےہوئے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں لیا۔
فون او رانٹرنیٹ خدمات کے متاثر ہونے کے بعد سے اب تک صحافیوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ایک فوٹو جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ ، میں نے کبھی اپنے کیمرے کو بند نہیں کیا ہے لیکن گزشتہ 17 ہفتوں کے دوران جہاں بھی گیا مجھے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔وہیں ایک دوسری صحافی کا کہنا ہے کہ ، میں نے کشمیر کی صحیح تصویر کو پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب میری اسٹوری چھپتی تھی تو اس میں میرا لکھا ہوا 40 فیصد ہی ہوتا تھا اور باقی وہ خود ہی شامل کرتے تھے۔
سرینگر کے نوہٹا واقع جامع مسجد ،جمعے کی نماز کے لیے پچھلے لگ بھگ چار مہینے سے بند ہے۔ پانچ اگست کو جموں کشمیر کاخصوصی درجہ ختم کرنے کے ساتھ ہی وہاں انٹرنیٹ خدمات بند ہیں۔
لوک سبھا انتخاب کے دوران محکمہ انکم ٹیکس کی چھاپےماری کی سابق وزیرائے اعلیٰ سدھارمیا اور کمار سوامی کے ساتھ اس وقت کے کانگریس جے ڈی ایس گٹھ بندھن کے ایم پی اور ایم ایل نے مخالفت کی تھی۔ عدالت نے پولیس کو مجرمانہ سازش رچنے اور حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش کرنے کے لیے معاملہ درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔
ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے سنیچرکو288رکنی مہاراشٹر اسمبلی میں169ایم ایل اے کی حمایت حاصل کر لی۔ اسمبلی کا سیشن اصولوں کے مطابق نہیں چلانے کا الزام لگاتے ہوئےسابق وزیر اعلیٰ دیویندرفڈنویس کی قیادت میں بی جے پی نے ایوان کا بائیکاٹ کیا۔
جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ہٹانے کے ساتھ ہی وہاں ذرائع ابلاغ پر لگی پابندیوں کو چیلنج دیتےہوئے کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد، کشمیر ٹائمس کی مدیر انورادھا بھسین اور دیگرلوگوں نے عرضیاں دائر کی تھیں۔
این سی پی رہنما نواب ملک نے اجیت پوار کے بارے میں کہا کہ آخرکار انہوں نےاپنی غلطی مان لی۔ یہ ایک خاندانی معاملہ تھا اور پوار صاحب نے ان کو معاف کر دیاہے۔ وہ پوری طرح سے پارٹی میں ہیں اور پارٹی میں ان کا عہدہ برقرار ہے۔ وہیں،مہاراشٹر اسمبلی کے خصوصی سیشن میں پہنچے اجیت پوار کو ان کی چچیری بہن سپریا سلےنے گلے لگایا۔
مہاراشٹر اسمبلی کے سکریٹری نے کہا کہ سب سے پہلے حلف وزیراعلیٰ لیتے ہیں اور ان کے بعد دیگر ممبروں کو حلف دلوایا جاتا ہے۔حالانکہ، سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے حلف برداری کی تقریب کروانا ضروری ہو گیا تھا۔ اجیت پوار، چھگن بھجبل، اشوک چوہان اور پرتھوی راج چوہان حلف لینے والوں میں شامل رہے۔
جموں و کشمیر کے سابق گورنرستیہ پال ملک نے کہا کہ جو لوگ جموں وکشمیر میں جمہوری طریقوں سے چنے گئے، دو پیڑھی پہلے تک ان کے دادا اسکول ٹیچر ہوا کرتے تھے لیکن آج ان کے سرینگر، دہلی، دبئی، لندن اور فرانس میں گھر ہیں اور کشمیر میں کئی ہوٹلوں میں پارٹنرشپ ہے۔
سابق مرکزی وزیر اوربی جے پی رہنما سوامی چنمیانند پر ریپ کا الزام لگانے کے بعد23 سالہ قانون کی اسٹوڈنٹ کو اسپیشل جانچ ٹیم نے 25 ستمبر کو بلیک میل کرنے اور پانچ کروڑ کی رنگداری مانگنے کےالزام میں گرفتارکر لیا تھا۔ ابھی وہ جیل میں ہے۔
دیویندر فڈ نویس نےالزام لگایا کہ اسمبلی الیکشن کے نتائج دیکھنے کے بعد شیو سینا کا رخ بدل گیا ۔
ویڈیو: گزشتہ سنیچر مہاراشٹر سے صدر راج ہٹا لیا گیا اور بی جے پی رہنما دیویندر فڈنویس نے ریاست کے وزیراعلیٰ اور این سی پی رہنما اجیت پوار نے نائب وزیراعلیٰ عہدے کا حلف لیا تھا۔ اس کے بعد این سی پی میں ایم ایل اے کی کھیچ تان کے حالات سامنے آئے۔ میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں ارملیش مہاراشٹر کی سیاسی اٹھاپٹک پر سینئر صحافی وینکٹیش کیسری، بزنس اسٹینڈرڈ کی پالیٹیکل ایڈیٹر ادیتی اور دی وائر کے ڈپٹی ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے بات چیت کر رہے ہیں۔
مہاراشٹر اے سی بی کے سینئر افسروں نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ جن 9 معاملوں کو بند کیا گیا وہ ٹینڈروں کی روٹین جانچ سے جڑے تھے، جن میں مکمل ضابطے کی پیروی نہیں کی گئی تھی۔ جن معاملوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان میں جانچ جاری ہے۔
بی جے پی کے ‘آپریشن لوٹس ‘ مہم کو اس کے چار سینئر رہنما رادھاکرشن وکھے-پاٹل، گنیش نائک، بابن راؤ پاچپُتے اور نارائن رانے چلا رہے ہیں۔ یہ چاروں رہنما این سی پی اور کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کے ذریعے انجانے میں صحافیوں کو بھیجے گئے ای میل میں ’ ڈی این اے فائل ‘نام سے ایک فائل تھی، جس میں ایسے سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹ تھے، جو کہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بارے میں لکھے گئے تھے۔
کانگریس اور این سی پی کے ساتھ اتحاد کو لےکر بات چیت کر رہی شیوسینا کادعویٰ ہے کہ اپنے 56 ایم ایل اے کےعلاوہ اس کو سات ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔ ریاست میں 105 ایم ایل اے کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کادعویٰ ہے کہ اس کو 14 دیگر ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ایم ایل اے اجیت پوار کے ساتھ ہیں۔
دیویندر فڈنویس کو وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف دلانے کے مہاراشٹر کے گورنر کےفیصلے کو چیلنج دینے والی شیوسینا-این سی پی-کانگریس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئےسپریم کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے سوموار کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔
شیو سینا-این سی پی-کانگریس کا کہنا ہے کہ 288 رکنی اسمبلی میں ان کے پاس حکومت بنانے کے لیے مکمل اکثریت ہے اور حکومت کی تشکیل کے لیے گورنر کو ان کو مدعو کرنا چاہیے۔
یہ مظاہرہ کانگریس کی عبوری صدرسونیا گاندھی کی قیادت میں ہوا۔ اس بیچ کانگریسی رہنما راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کہا کہ مہاراشٹر میں ’جمہوریت کا قتل ‘ ہوا ہے۔
مہاراشٹر کے وزیراعلی ٰکے طور پر دیویندر فڈنویس کی حلف برداری کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل نے کہا کہ یہ ریاست کے لئے ایک سیاہ دن ہے۔ بی جے پی نے بےشرمی کی تمام حدیں لانگھ دی ہیں۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیو سینا چیف ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اب سے انتخابات کا اعلان نہیں ہونا چاہیے اور’ میں واپس لوٹوں گا‘ کہنے کے بجائے کچھ لوگوں کو فیویکول کا استعمال کر کے کرسی سے چپک جانا چاہیے۔
این سی پی رہنما شرد پوار نے جمعہ کی شام اعلان کیا تھا کہ شیوسینا-این سی پی-کانگریس کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا ہے کہ ادھو ٹھاکرے اگلے پانچ سال کے لئے وزیراعلیٰ ہوںگے، جو اتحاد کے متفقہ امیدوار تھے۔
کشمیر میں لگی پابندی پر عرضی داخل کرنے والوں کی جانب سے پیش ایک وکیل نے جب کہا کہ ہردن ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے باوجود ہانگ کانگ ہائی کورٹ نے مظاہرین پر سے سرکاری پابندی ہٹا لینے کی مثال دی ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو بنائے رکھنے میں ہندوستان کا سپریم کورٹ کہیں زیادہ بہترہے۔
پارلیامنٹ سیشن میں فاروق عبداللہ کو حصہ لینے کی اجازت دینے کے اپوزیشن کے مطالبہ پر مرکزی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے ایمرجنسی کے دوران 30 رکن پارلیامان کو حراست میں رکھا تھا۔ اس پر نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ریڈی کا تبصرہ اس بات کی دلیل ہےکہ جموں و کشمیر ایمرجنسی کے برے دور سے گزر رہا ہے۔
وزارت داخلہ نے لوک سبھا میں کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد پتھربازی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ حالانکہ، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری سے 4 اگست تک اوسطاً ہر مہینے پتھربازی کے 50 واقعات ہوئے۔وہیں 5 اگست کے بعد ایسے معاملے اوسطاً ہر مہینے بڑھکر 55 ہو گئے۔
آخر کون امن نہیں چاہتا؟ اس کی سب سے زیادہ ضرورت تو کشمیریوں کو ہی ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی صاحب سے بس یہی گزارش ہے کہ امن، قدر و منزلت، انصاف و وقار کا دوسرا نام ہے، ورنہ امن تو قبرستان میں بھی ہوتا ہے۔ جن تجاویز پر آپ امن کے خواہاں ہیں، وہ صرف قبرستان والا امن ہی فراہم کر سکتے ہیں۔
اندرا گاندھی کے دورِ اقتدار میں وہ ایسی شخصیت تھے، جس کا سامنا کیے بنا اندرا گاندھی تک کسی کی رسائی ممکن نہ تھی۔اندرا گاندھی پر دھون کا کتنا اثر تھا، یہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ 1980 کے نصف اواخر میں انہوں نے وزیر اعظم کو نماز تک پڑھوا دی۔
مرکزی وزیر نے کہا، ‘ہمارے پاس ایک نیا نظام ہے اوریہ نظام سیدھے مرکز کو رپورٹ کرتا ہے اور ہم اسے اس حلقے کے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے اور کامیاب بنانے کے لئے اس کا سہرا دیتے ہیں۔’
جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹنے کے 100 دن مکمل ہوگئے ہیں ۔ اس مدعے پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ
رام چندر گہا کا کالم: مکیش امبانی کشمیر میں سرمایہ کاری سے متعلق بالکل خاموش ہیں؛ جبکہ سرکار نے سرمایہ کاری میلے کو غیر معینہ مدت کے لیے آگے بڑھا دیا ہے۔ وعدے تو مزید نوکری، مزید فیکٹریز کے کیے گئے تھے، مگر 5اگست کے بعد سے کشمیریوں نے پایا کیا ہے؛ مزید افواج، مزید پابندیاں۔ اس نے ان میں گہرا غصہ پیدا کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کی آئینی بنچ 14 نومبر سے اس معاملے کی شنوائی کرے گی۔ مرکز کو پانچ اگست کے صدر جمہوریہ کے حکم کے خلاف دائر عرضیوں پر اپنا جوابی حلف نامہ دائر کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
جموں کشمیر انتظامیہ نے 450 سے زیادہ کاروباریوں،صحافیوں، وکیلوں اور سیاسی کارکنوں کی ایک فہرست تیار کی ہے، جو کہ ایک طے شدہ مدت کے دوران غیر ملکی سفر نہیں کر سکیں گے۔
گاندھی کا نظریہ ان کی موت کے بعد بھی سنگھ کے شدت پسند نظریے کے آڑے آتارہا، اس لئے اپنی پہلی مدت کار میں ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے گاندھی کے سارےاقدار کو طاق پر رکھکر ان کے چشمے کو صفائی مہم کی علامت بناکر ان کو صفائی تک محدود کرنے کی مہم شروع کر دی تھی۔
کشمیر میں یورپی رکن پارلیامان کے دورے کو مبینہ طور پر فنڈ دینےوالا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار نان-الائنڈ اسٹڈیز، شریواستو گروپ کا حصہ ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر اس کے کئی کاروبار ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ دستاویز ایساکوئی بزنس نہیں دکھاتے، جس سے وہ یورپی رکن پارلیامان کو ہندوستان بلانے اور وزیراعظم سے ملاقات کروانے میں اہل ہوں۔
جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ ہٹانے کے 89 ویں دن بھی بند جاری۔نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانے کے مرکزی حکومت کے قدم کو غیر آئینی قرار دیا۔ وادی میں کچھ لوگوں نے حکومت پر ان کا خصوصی درجہ اور پہچان چھیننے کا الزام لگایا۔
مرکزی حکومت کے ذریعے آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ختم کرنے کے بعد جموں و کشمیر کی صورتحال جاننے کے لئے سرینگر پہنچےیورپی وفدمیں شامل جرمنی کے رکن پارلیامان نکولس فیسٹ نے یہ بات کہی ہے۔
ہندوستان کو ایک انٹرنیشنل بزنس بروکر کے ذریعے غیر ملکی رکن پارلیامان کے کشمیر آنے کی تمہید تیار کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ جو رکن پارلیامان بلائے گئےہیں وہ شدید طور پر رائٹ ونگ جماعتوں کے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایسی پارٹی سے نہیں ہے جن کی حکومت ہو یا نمایاں آواز رکھتے ہوں۔ تو ہندوستان نے کشمیر پر ایک کمزور وفد کوکیوں چنا؟ کیا اہم جماعتوں سے من مطابق ساتھ نہیں ملا؟
جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر آئے یورپی یونین کے رکن پارلیامان نے کہاکہ ہمیں فاشسٹ کہہ کر ہماری امیج کو خراب کیا جا رہا ہے۔
برٹن کی لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن پارلیامان کرس ڈیوس کا کہنا ہے کہ کشمیر دورہ کے لئے ان کو دی گئی دعوت کو حکومت ہند نے واپس لے لیا کیونکہ انہوں نےسکیورٹی کی غیر موجودگی میں مقامی لوگوں سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
سرینگر اور ریاست کے کئی حصے پوری طرح سے بند رہے۔ پانچ اگست کو مرکزی حکومت کے ذریعے جموں و کشمیر کےخصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے 86ویں دن بھی کشمیرمیں معمولات زندگی درہم برہم رہی۔