Sharjeel Imam

تصویروں کی زبانی: تقریباً چھ سال بعد جیل سے باہر آئے گلفشاں، میران حیدر، محمد سلیم اور شفا

فروری 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ مبینہ ‘بڑی سازش’ کے معاملے میں پچھلے پانچ سالوں سے جیل میں بند گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان اور شفا الرحمان کو بدھ کی شام رہا کر دیا گیا۔

عمر خالد اور شرجیل کی ضمانت کی درخواست خارج، گلفشاں سمیت 5 کو ملی ضمانت

سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، وہیں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

دہلی فسادات: سپریم کورٹ نے عمر خالد اور دیگر کی ضمانت کی درخواستوں پر پولیس کو پھٹکار لگائی

سپریم کورٹ نے سوموار کو دہلی فسادات کے نام نہاد ‘سازش’ کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کی درخواست ضمانت پر شنوائی  31 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔عدالت نے ضمانت کی ان درخواستوں کا جواب نہ دینے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی ہے۔

سپریم کورٹ نے عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر کی درخواست ضمانت پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا

سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق سازش کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر اور شفا الرحمان کی درخواست ضمانت پر دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ ملزمین کے وکیلوں نے بتایا کہ وہ پانچ سال سے جیل میں ہیں اور ہم نے دیوالی سے قبل سماعت کی اپیل  کی ہے۔

سپریم کورٹ نے عمر خالد اور دیگر کی درخواست ضمانت پر سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کی

سپریم کورٹ نے دہلی فسادات سازش کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ اور شفا الرحمان کی درخواست ضمانت پر سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔اس سے قبل 12 ستمبر کو اسی عدالت نے فائل دیر سے ملنے کا حوالہ دیتے ہوئےشنوائی  ملتوی کر دی تھی۔

فائل دیر سے ملنے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے عمر خالد اور دیگر کی درخواست ضمانت پر سماعت 19ستمبر تک ملتوی کی

سپریم کورٹ نے جمعہ کو فروری 2020 میں  ہوئے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق یو اے پی اے معاملے میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کی درخواست ضمانت پر سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی۔ بنچ نے کہا کہ انہیں کیس کی فائلیں رات  2.30 بجے ملی تھیں اور وہ انہیں دیکھ نہیں سکے۔

عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر 7 افراد کی ضمانت کی درخواست مسترد

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات 2020 کے مبینہ ‘لارجر کانسپیریسی’ کیس میں عمر خالد، شرجیل امام اور سات دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ملزمین کو جنوری-ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دہلی فسادات: شرجیل امام اور دیگر کی ضمانت کی درخواستوں کی شنوائی سے ہائی کورٹ کے جج نے خود کو الگ کیا

سال 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق کیس میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکالر شرجیل امام اور دیگر کی درخواست ضمانت پر شنوائی کر رہی دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس پرتبھا سنگھ اور جسٹس امت شرما کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ معاملے کو ایسی بنچ کے سامنے درج کیا جائے جس کے ممبرجسٹس شرما نہ ہوں۔

سیڈیشن کیس میں شرجیل امام کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت ملی

آئی آئی ٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے شرجیل امام جنوری 2020 سے جیل میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ سے سیڈیشن کے ایک معاملےمیں ضمانت ملنے کے باوجود وہ جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ ان پر دہلی فسادات سے متعلق ایک کیس میں یو اے پی اے کے تحت الزام لگائے گئے ہیں۔

شرجیل امام کیس: بے گناہی کے چار سال، پھر بھی نہیں کوئی پرسان حال

آئی آئی ٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے شرجیل امام جنوری 2020 سے جیل میں ہیں۔ ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ شرجیل کو سول سوسائٹی گروپس اور سرکردہ سیاسی کارکنوں کی حمایت نہیں ملی ہے۔

دہلی: سیڈیشن کیس میں شرجیل امام کو ضمانت ملی

دہلی کی ایک عدالت نے جے این یو کے سابق طالبعلم شرجیل امام کو سیڈیشن کے معاملے میں ضمانت دی ہے، جس میں ان پر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنی تقریر کے ذریعےدنگا بھڑکانے کا الزام تھا۔ تاہم دہلی فسادات سے متعلق مقدمات کی وجہ سے انہیں فی الحال جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔

سیڈیشن پر سپریم کورٹ کے آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے شرجیل امام نے عبوری ضمانت کے لیے عرضی داخل کی

رواں سال جنوری میں دہلی کی ایک عدالت نے 2019 کے سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالبعلم شرجیل امام کے خلاف سیڈیشن کا الزام طےکیا تھا۔ اسی ماہ سپریم کورٹ نے سیڈیشن کے قانون پر غوروخوض ہونے تک اس سے متعلق تمام کارروائیوں پر روک لگانے کی ہدایت دی ہے۔

جامعہ تشدد کے معاملے میں جے این یو کے طالبعلم شرجیل امام کو ضمانت

دہلی کی ایک عدالت نے دسمبر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئےتشدد سے متعلق معاملےمیں شرجیل امام کوضمانت دیتے ہوئے کہا کہ جرم کی نوعیت اور اس حقیقت کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کی عرضی کو منظور کیا جاتا ہے کہ انہیں جانچ کے دوران گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

شرجیل امام کے حق میں نعرے بازی پر درج سیڈیشن کیس میں دو طالبعلموں کو پیشگی ضمانت

گزشتہ سال فروری میں ممبئی کے آزاد میدان میں ہوئے ایک ایل جی بی ٹی کیو پروگرام میں جے این یواسٹوڈنٹ شرجیل امام کے حق میں مبینہ نعرے بازی کے لیے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے دو طالبعلموں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔

السلام علیکم سے پتہ چلتا ہے کہ شرجیل امام کی تقریر ایک خاص کمیونٹی کے لیے تھی: دہلی پولیس

شرجیل امام کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 13 دسمبر 2019 اور اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں16جنوری 2020 کو شہریت قانون کے خلاف مبینہ طور پرمتنازعہ بیانات دینے کا الزم ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر دھمکی دی تھی کہ آسام اور بقیہ شمال مشرقی صوبوں کو ‘ہندوستان سے الگ’کر دیا جائے۔

شرجیل امام کی رہائی، فوراً رہائی … ہندوستان میں مسلمانوں کے یقین کے لیے ضروری ہے

الزام ہے کہ شرجیل امام نے نارتھ -ایسٹ کو ہندوستان سے کاٹ دینے کا اکساوا دیتے ہوئے بیان دیے تھے۔ انہوں نے اتنا ہی کیا تھا کہ سرکار پر دباؤ ڈالنے کے لیے راستہ جام کرنے کی بات کہی تھی۔ کسان ابھی چاروں طرف سے دہلی کا راستہ بند کرنے کی بات کہہ رہے ہیں، تاکہ سرکار پر دباؤ بڑھے اور وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے۔ کیا اسے دہشت گردانہ کارروائی کہا جائےگا؟

دہلی فسادات: پولیس نے اب جے این یو اسٹوڈنٹ شرجیل امام کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا

دہلی لائے جانے سے پہلے شرجیل امام گوہاٹی جیل میں بند تھے اورکوروناسے متاثر پائے گئے تھے۔ شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران متنازعہ بیان دینے کے الزام میں ان پرسیڈیشن کا معاملہ بھی چل رہا ہے۔

جامعہ تشدد کے سلسلے میں شرجیل امام کے خلاف چارج شیٹ دائر

شرجیل امام کو سیڈیشن کے الزام میں گزشتہ 28 جنوری کو بہار سےگرفتار کیا گیا تھا۔ امام کے وکیل احمد ابراہیم نے کہا کہ، ہم نے دہلی پولیس کی جانب سے 17 اپریل، 2020 کو داخل کی گئی چارج شیٹ کو پوری طرح سے نہیں دیکھا ہے۔ اس کو دیکھنے کے بعد ہم مناسب قدم اٹھائیں گے۔

جامعہ تشدد: اکسانے کے الزام میں شرجیل 3 مارچ تک عدالتی حراست میں

دہلی پولیس نے جامعہ نیو فرینڈس کالونی میں گزشتہ 15 دسمبر کو شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران ہوئے تشدد کے معاملے میں منگل کو عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی۔ پولیس نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج ، کال ریکارڈس اور 100 سے زیادہ گواہوں کے بیان بطور ثبوت منسلک کئے گئے ہیں۔

بہار: دہلی پولیس نے شرجیل امام کو جہان آباد سے کیا گرفتار

حالانکہ شرجیل نے ٹوئٹ کرکے کہا ہے کہ انہوں نے سرینڈر کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بہار کے باشندہ شرجیل امام کا پتہ لگانے کے لیے پانچ ٹیم کو تعینات کیاگیا تھا۔ اس کو پکڑنے کے لیے ممبئی، پٹنہ اور دہلی میں چھاپے مارے گئے۔

یوپی آسام کے بعد جے این یو اسٹوڈنٹ کے خلاف دہلی، منی پور اور اروناچل پردیش میں کیس درج

جے این یو سے پی ایچ ڈی کر رہے اسٹوڈنٹ شرجیل امام پر شہریت ترمیم قانون کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریرکرنے کے الزام میں سیڈیشن کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ بہار کے جہان آباد واقع ان کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے۔