سال 2014 کےبعدتشددجیسےاس معاشرے کےپور پورسے پھوٹ کر بہہ رہا ہے۔ یہ کہنا پڑے گا کہ ہندوستان کی ہندو برادری میں تشدد اور دوسری برادریوں کے تئیں نفرت کا احساس بڑھ گیا ہے۔غیر ہندو برادریوں میں ہندو مخالف نفرت کےپروپیگنڈے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ نفرت اور تشددیکطرفہ ہے۔
بُلی بائی ایپ پر نیلامی کے لیےسینکڑوں مسلم خواتین کی چھیڑچھاڑ کی گئی تصویروں کو ان کی اجازت کے بغیراپ لوڈ کرنےکےمعاملے میں گرفتار چوتھے شخص کی شناخت 21 سالہ نیرج وشنوئی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ بشنوئی نے گٹ ہب پلیٹ فارم پر ‘بُلی بائی’ایپ بنایا تھا اور وہ ٹوئٹر پر ‘بُلی بائی’کاکلیدی اکاؤنٹ ہولڈر بھی ہے۔
ممبئی پولیس نے کہا کہ سکھ برادری سےمتعلق ناموں کا استعمال یہ ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا کہ یہ ٹوئٹر ہینڈل اسی کمیونٹی کے لوگوں نے بنایاہے۔ ‘بُلی بائی’ایپ کے ذریعے جن خواتین کو نشانہ بنایا گیا وہ مسلمان ہیں، اس لیے اس بات کا بہت امکان تھا کہ اس کی وجہ سے دونوں برادریوں کے بیچ دشمنی پیدا ہو سکتی تھی اور عوامی امن وامان میں خلل پڑ سکتا تھا۔
دہلی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور انڈین ویمن پریس کورپس نے ایپ کے ذریعےمسلم خواتین کو نشانہ بنائے جانےپر شدیدبرہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ اگر پولیس بدنام زمانہ’سلی ڈیل’کے مجرموں کی پہچان کرلیتی تو یہ واقعہ دہرایا نہ جاتا۔
گزشتہ سال ‘سلی ڈیلز’ نام کے ایپ کی طرح ‘بُلی بائی’ایپ پر ‘نیلامی’کے لیے مسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈکیے جانے کو لے کرممبئی پولیس نےمقدمہ درج کیا ہے۔اس سلسلے میں بنگلورو سے گرفتار کیے گئے طالبعلم کو ایک مقامی عدالت نے 10 جنوری تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔
ممبئی پولیس نےہوسٹ پلیٹ فارم ‘گٹ ہب’کے ‘بُلی بائی’ایپ پرنیلامی کے لیےمسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈ کیے جانےکی شکایت موصول ہونے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی طرح گزشتہ سال ‘سلی ڈیلز’ نامی ایپ پر ‘ مسلم خواتین کی تصویریں آن لائن نیلامی’کے لیےپوسٹ کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں دہلی اور نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔
گزشتہ سال جولائی میں’سلی ڈیلز’نامی ایپ پر ‘آن لائن نیلامی’ کے لیے مسلم خواتین کی تصویریں پوسٹ کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں دہلی اور نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔ حالاں کہ اب تک اس کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ‘بُلی بائی’ پورٹل معاملے میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس طرح ایف آئی آر درج کرنا صحافی کو ‘چپ کرانے’ کا طریقہ تھا۔ صحافی کی ایک رپورٹ 19اپریل2018 کو جموں کےایک اخبار میں شائع ہوئی تھی، جو ایک شخص کو پولیس حراست میں ہراساں کرنے سے متعلق تھی۔ اس کو لےکر پولیس نے ان پر کیس درج کیا تھا۔
اتر پردیش کے کانپور شہر کے برہ علاقے کا معاملہ۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ویڈیو میں کچھ لوگ ایک مسلمان رکشہ ڈرائیورکی پٹائی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اس سےمبینہ طور پر‘جئے شری رام’کا نعرہ لگانے کو کہہ رہے ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ رکشہ ڈرائیورکے ایک رشتہ دار کا اس کے پڑوسیوں کے خلاف زمین کو لےکرمقدمہ چل رہا ہے اور جولائی میں اس معاملے میں دونوں فریق نے ایک دوسرے کے خلاف کیس درج کرایا تھا۔
گزشتہ مہینے کچھ نامعلوم لوگوں کے ذریعے ایک ایپ بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا، جہاں مسلمان عورتوں کو ‘آن لائن نیلامی’ کے لیے رکھا گیا تھا۔ اس سلسلےمیں دہلی اور اتر پردیش کی نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔
ٹوئٹر کی دوسالہ شفایت کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2020 کی دوسری ششماہی کے دوران سرکاری اطلاعات یا انفارمیشن کے لیے ہندوستان سے جو درخواستیں موصول ہوئیں، وہ عالمی سطح پر25 فیصدی ہیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پولیس کو غریب، دلت اور آدی واسیوں کے لیےحساس ہونا چاہیے۔ پولیس کی امیج کو بہتر بنانے کے لیے‘سنواد اور سنویدنا’ دونوں ضروری ہے۔ عوامی تعلقات کے بغیر جرم کے بارے میں معلومات جمع کرنا مشکل ہے، اس لیے ایس پی، ڈی ایس پی کی سطح کے پولیس افسروں کو تحصیل اور گاؤں میں جانا چاہیے اور لوگوں سے ملنا چاہیے۔
ہندوستانی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی نے شکایت کی ہے کہ ان کے ٹوئٹر ہینڈل کا موادہندوستانی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس کے لیے ٹوئٹر کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
ویڈیو: حال ہی میں ٹوئٹر نے معروف کارٹونسٹ منجل کو ایک ای میل بھیج کر کہا تھا کہ ان کے اکاؤنٹ کے خلاف حکومت ہند سے شکایت ملی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کا موادہندوستانی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ٹوئٹر نے منجل کو مشورہ دیا کہ وہ قانونی صلاح لے سکتے ہیں اور کورٹ میں سرکار کے اپیل کو چیلنج دے سکتے ہیں۔
ٹوئٹر انڈیا نے کارٹونسٹ منجل کو ای میل بھیج کر کہا ہے کہ انڈین لاء انفورسمنٹ نے شکایت کی ہے کہ ان کے ٹوئٹر ہینڈل کا مواد ہندوستانی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ حالانکہ ٹوئٹر نے کہا کہ انہوں نے مواد کو لےکر کوئی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔
بی جے پی رہنما اجئے شیام نے ہماچل پردیش کے شملہ ضلع کے کمارسین تھانے میں پچھلے سال ونود دوا کے خلاف سیڈیشن سمیت مختلف دفعات میں کیس درج کرایا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ونود دوا نے اپنے یوٹیوب پروگرام میں وزیر اعظم پرالزام لگائے تھے کہ انہوں نے ووٹ لینے کے لیے‘موتوں اور دہشت گردانہ حملوں’کا استعمال کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں کہا ہے کہ میڈیا کے تناظر میں سیڈیشن قانون کی حدیں طے کرنے کی ضرورت ہے۔
صحافی روہنی سنگھ نے ٹوئٹر پر دھمکیاں ملنے کے بعد ادے پور پولیس سے شکایت کی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ اسٹوڈنٹ نے قبول کیا کہ روہنی کی کسان ریلی پر رپورٹنگ سے ناراضگی کی وجہ سے اس نے سنگھ کو دھمکی بھرے پیغامات بھیجے۔
گورنر عارف محمد خان نے کیرل پولیس ایکٹ میں نئی دفعہ118(اے)جوڑ نے کے اہتمام کو منظوری دے دی ہے، جس کے تحت توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹ پر تین سال کی قیدیا10000روپے کا جرمانہ یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 70ویں یوم پیدائش کے موقع پر ٹوئٹر پر دن بھر کئی ایسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے، جن کے ذریعہ ٹوئٹر صارفین نے ملک میں بڑھتی بےروزگاری اور شدید معاشی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیر اعظم سے جواب طلب کیا۔
ہماچل پردیش کے ایک بی جے پی رہنما کی شکایت پر ونود دوا پرفرضی خبریں پھیلانے اور وزیر اعظم کے خلاف توہین آمیز لفظوں کا استعمال کرنے کےالزام میں سیڈیشن سمیت کئی دفعات میں کیس درج کیا گیا ہے۔ دوا نے عدالت میں کہا کہ اگر وہ وزیر اعظم کی تنقید کرتے ہیں، تو یہ سرکار کی تنقید کے دائرے میں نہیں آتا۔
ایک بی جے پی رہنما کی جانب سے صحافی ونود دوا پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو شو کے ذریعے‘فرضی جانکاریاں’ پھیلائی ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف توہین آمیز لفظوں کا استعمال کیا ہے۔ شکایت پر ہماچل پردیش پولیس نے سیڈیشن کا معاملہ درج کیا ہے۔
جموں وکشمیر انتظامیہ نے گزشتہ دنوں ریاست کی نئی میڈیا پالیسی کو منظوری دی ہے، جس کے تحت وہ شائع اورنشرہونے والےمواد کی نگرانی کرےگا اور یہ طے کرےگا کہ کون سی خبر ‘فیک، اینٹی سوشل یا اینٹی نیشنل رپورٹنگ’ہے۔ پریس کاؤنسل نے اس بارے میں انتظامیہ سے جواب مانگا ہے۔
صحافی ونود دوا مختلف ریاستوں میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر رد کرنے کی اپیل کے ساتھ سپریم کورٹ پہنچے تھے۔سپریم کورٹ نے چھ جولائی تک ان کی گرفتاری پر روک لگاتے ہوئے مرکز، ہماچل پردیش سرکار اور پولیس کو نوٹس جاری کرکے کہا کہ دوا سے پوچھ تاچھ کے لیے انہیں 24 گھنٹے کا نوٹس دینا ہوگا۔
دو جون کو جاری جموں وکشمیر کی نئی میڈیا پالیسی کے مطابق، سرکار اخباروں اور دوسرے میڈیا چینلوں پر آنے والے مواد کی نگرانی کر کےیہ طے کرےگی کہ کون سی خبر ‘فیک، اینٹی سوشل یا اینٹی نیشنل’ ہے۔ ایسا پائے جانے پر متعلقہ ادارے کو سرکاری اشتہار نہیں دیےجا ئیں گے، ساتھ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔
سائبر قانون کے جان کار اور فیک نیوز کا پتہ لگانے والے ماہرین نے اس قدم پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سرکار کے لیے غیرقانونی نگرانی کے راستے کھل جا ئیں گے اور اس کا استعمال لوگوں کو پریشان کرنے کے لیےہو سکتا ہے۔
ویڈیو: بی جے پی ترجمان نوین کمار کے ذریعےسینئر صحافی ونوددوا پر ‘فرضی خبر پھیلانے’ کا الزام لگایا گیا ہے۔ وہیں، بنگلور میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹرآکار پٹیل پرسوشل میڈیا پر ‘بھرکاؤ’پوسٹ کرنے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس مدعے پر سینئر صحافی ارملیش کا نظریہ
گزشتہ دنوں گو ایئر کے ذریعے ان کے ایک پائلٹ کو یہ کہتے ہوئے نوکری سے نکال دیا گیا کہ انہوں نے ٹوئٹر پر ہندو بھگوانوں کو لےکرقابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ نوکری سے نکالے گئے اسٹاف کا کہنا ہے کہ وہ ٹوئٹر اکاؤنٹ ان کا نہیں ہے اور کمپنی نے بنا ان کی بات سنے یہ فیصلہ لیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نوین کمار کے ذریعےسینئر صحافی ونوددوا پر ‘فرضی خبر پھیلانے’ کا الزام لگایا گیا ہے۔ وہیں، بنگلور میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹرآکار پٹیل پرسوشل میڈیا پر ‘بھرکاؤ’پوسٹ کرنے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔
ویڈیو: امیزان پرائم پر آئی ویب سیریز ‘پاتال لوک’ لگاتار تنازعہ کے مرکز میں ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کو ہندوفوبک بتایا جا رہا ہے۔ اس کو لےکر آخر تنازعہ کیا ہے؟ سرشٹی شریواستو کا ریویو۔
گزشتہ20 اپریل کومتحدہ عرب امارات میں ہندوستان کے سفیر پون ورما نے ہندوستانیوں کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات ڈالنے والے رویے کے خلاف وارننگ دی تھی۔
ویڈیو: ہندوستان میں کوروناوائرس انفیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دیے جانے کے بعد خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر اسی طرح کے پوسٹ لکھنے پر ان ممالک کے صحافیوں ، وکیلوں اور شاہی خاندان کے لوگوں نے مخالفت درج کی ہے۔ اس بارے میں عارفہ خانم شیروانی سے گلف نیوز کےمدیر بابی نقوی کی بات چیت۔
یو اے پی اے کے تحت ملزم بنائے گئے کشمیری صحافی اور قلکار گوہر گیلانی کی گرفتاری سے عبوری تحفظ اورایف آئی آر رد کرنے کی مانگ والی عرضی پرشنوائی کرتے ہوئے جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے سرکار کو نوٹس جاری کرکے 20 مئی سے پہلے جواب داخل کرنے کاحکم دیا۔
واشنگٹن پوسٹ اور الجزیرہ جیسےانٹرنیشنل میڈیااداروں کے ساتھ کام کرنے والی 26 سالہ خاتون فوٹوجرنلسٹ مسرت زہرہ کشمیر کی دوسری صحافی ہیں جن پر یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
زوم ورک فرم ہوم کرنے والوں کے لیے ایک مفید ایپ ہے، اس کی مدد سے اپنے ٹیم کے دوسرے ممبروں سے جڑ سکتے ہیں۔ کوروناوائرس کی وجہ سے نافذ ملک گیر لاک ڈاؤن میں میٹنگ وغیرہ کرنے کے لیے لوگ اس طرح کے ایپ کا سہارا لے رہے ہیں۔
کیرل ہائی کورٹ نے مبینہ طور پر ملک گیر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کے خلاف پولیس کی زیادتی کے مبینہ واقعات کا از خود نوٹس لیا ہے۔
یہ معاملہ کوٹہ کے کنہاڈی کا ہے، جس ٹرک سے آٹے کی لوٹ ہوئی ہے۔ اس کے مالک کا کہنا ہے کہ اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، جہاں بھوک مری ہے، وہاں لوگ مجبور ہیں؟ سرکار کو دیکھنا چاہیے کی تالے بندی کی وجہ سے کہیں آٹا وغیرہ کی کمی نا ہو۔
کیرل کے کُٹومُکو مہادیو مندر کے تین ٹوائلٹ کے باہر لگے سائن بورڈ پر مرد، خاتون اور صرف برہمن لکھا ہوا ہے۔ اس معاملے میں کوچین دیوسوم بورڈنے جانچکے حکم دیے ہیں۔
راجیہ سبھا کے ڈپٹی ڈائریکٹر(سکیورٹی)عروج الحسن پر وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ کچھ مرکزی وزرا اور ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف سوشل میڈیا پر سیاسی سرگرمیوں سے متعلق کئی پوسٹ شیئر کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اتر پردیش کے سابق ڈی جی پی نے کہا ہے کہ یہ فیک نیوز کاوقت ہے، جس سے تشدد،فساد اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح کے حالات کوالیکشن کمیشن کے ذریعے قابو میں کیا جا سکتا ہے۔
جمعہ سے ملک بھر میں شہریت قانون نافذ ہو گیاہے ۔مرکزی حکومت نے 10 جنوری کو گزٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے اس قانون کے نافذ ہونے کا اعلان کیا ہے۔