مدھیہ پردیش کے شیو پوری کی ایک خاتون کی نیند کی گولیاں اور کیڑے مار دوا کھانے کے بعد حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے اپریل میں مقامی بی جے پی لیڈر اور شیو پوری میونسپل کونسل کی صدر کے بیٹے کے خلاف ریپ کا الزام لگایا تھا۔ مبینہ طور پر زہر کھانے سے پہلے لکھے ایک نوٹ میں انہوں نے گزشتہ سات ماہ کے دوران ذہنی طور پر ہراساں کیے جانے اور دھمکیوں کا ذکر کیا ہے۔
پچھلے تین دنوں میں اتر پردیش کے دو اور راجستھان میں ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)کی موت ہوگئی۔ ان کے اہل خانہ نے موت کی وجہ ایس آئی آر سے متعلق کام کے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ وہیں،الیکشن کمیشن نے ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہ کرتے ہوئے دو ویڈیو جاری کرکے بتایا ہے کہ بی ایل او کام کے دباؤ کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہیں، ڈانس بریک لے رہے ہیں اور اپنے کام کے لیے کیسے ہمت حاصل کر رہے ہیں۔
اتر پردیش کے گونڈا، فتح پور اور بریلی میں ایس آئی آرکےکام میں مصروف تین بی ایل اوکی مبینہ طور پر کام کے زیادہ بوجھ کی وجہ سے موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ان معاملوں میں کسی بھی طرح کے دباؤ کی تردید کی ہے،وہیں الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
کیرالہ اور راجستھان میں ووٹر لسٹ کے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر)سے متعلق کام کے شدید دباؤ کی وجہ سے مبینہ طور پردو بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او)نے خودکشی کرلی۔ اس سے قبل بہارایس آئی آرکے دوران بھی آرہ کے ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور بی ایل اوکی حرکت قلب بند ہونے سے موت ہو گئی تھی۔
سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے تقریباً پانچ سال بعد داخل ہوئی کلوزر رپورٹ میں ریا چکرورتی اور ان کے خاندان کے افراد کو کلین چٹ دی گئی ہے۔ ان پر سشانت کو خودکشی پر مجبور کرنے اور اس کے پیسے غبن کرنے کا الزام تھا۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اداکار نے خودکشی کی تھی۔
پنجاب اور ہریانہ کے درمیان شمبھو بارڈر پر کسان ایم ایس پی کی گارنٹی اور سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات سمیت دیگر مطالبات کے لیے تقریباً ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، جمعرات کو احتجاج میں شامل ایک 55 سالہ کسان نے خودکشی کرلی۔ تین ہفتے میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔
بتایا گیا ہے کہ 2 جولائی کو بلیا کے رہنے والے ‘اگنی ویر’ نے آگرہ ایئر فورس اسٹیشن میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اسی ہفتے اپوزیشن پارٹی نے اگنی پتھ اسکیم پر سوال کھڑے کرتے ہوئے بھرتی رنگروٹوں کے بیچ بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات کے معاملے کو اٹھایا تھا۔
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے پارلیامنٹ کو بتایا کہ 2019 میں طالبعلموں کی خودکشی کے 10335 واقعات درج کیے گئے، 2020 اور 2021 میں یہ تعداد بالترتیب 12526 اور 13089 درج کی گئی۔ ایس سی اور ایس ٹی طالبعلموں کی خودکشی کی تعداد پر وزارت نے کہا کہ اس کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔
اتر پردیش کے فرخ آباد ضلع کا معاملہ۔ پولیس نے بتایا کہ جبو پور کے سرکاری مڈل اسکول کے ایک ٹیچر نے مبینہ طور پراپنی آٹھ سال کی تنخواہ کی ادائیگی مطالبہ کرنے کی وجہ سے توہین کیے جانے کے بعد خودکشی کر لی۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور بلاک ایجوکیشن آفس کے ایک کلرک اور اسکول کے ہیڈ ماسٹر انچارج کو معطل کردیا گیا ہے۔
آندھرا پردیش بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اگزام نے بدھ کو گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔امتحان میں تقریباً 10 لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے۔گیارہویں کے پاس ہونے کا تناسب 61 اور بارہویں کا 72 فیصد رہا۔
ویڈیو: گزشتہ فروری میں آئی آئی ٹی –بامبے میں بی ٹیک کے طالبعلم درشن سولنکی کی موت ہاسٹل کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی وجہ سے ہوگئی تھی۔ ان کے خاندان نے اس کے قدم کے لیے کیمپس میں ذات پات کی بنیاد پرہونے والےامتیازی سلوک کو ذمہ دار بتایا تھا۔ تاہم معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اس کی تردید کی ہے۔
گزشتہ ہفتے لکھنؤ میں ایک پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ریاست میں پچھلے چھ سالوں میں کسی کسان نے خودکشی نہیں کی ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2017 سے 2021 کے درمیان ریاست میں 398 کسانوں اور کھیت میں کام کرنے731 مزدوروں نے خودکشی کی۔
ٹی وی آرٹسٹ تونیشا شرما کی خودکشی کے بعد بحث ذہنی صحت پر ہونی چاہیے تھی کہ اس عمر میں اتنا کام کرنے کا دباؤ کسی کے ساتھ کیا کر سکتا ہے، وہ بھی ایسی دنیا میں جہاں مقابلہ آرائی غیر معمولی ہے۔ لیکن بحث کو ‘لو جہاد’ کا زاویہ دے کر آسان سمت میں موڑ دیا گیا ہے۔
یہ الزام ایسے وقت میں سامنےآیا ہے جب 12 اپریل کو اُڈوپی کے ہوٹل میں ایک ٹھیکیدار نے وزیر اور بی جے پی لیڈر کے ایس ایشورپا پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اس کے بعد ایشورپا نے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس الزام پر وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ ان کی حکومت سنت کے الزامات کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
یہ اتر پردیش کے باغپت ضلع کے بڑوت کا معاملہ ہے۔ مالی تنگی سے دوچار جوتوں کے ایک تاجر اور ان کی بیوی نے اس کے لیےمبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فیس بک لائیو کے دوران زہر کھا لیا۔ تاجر نے ویڈیو میں الزام لگایا کہ وزیر اعظم چھوٹے تاجروں اور کسانوں کے خیرخواہ نہیں ہیں۔
راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19مہاماری کے دوران پہلے سال یعنی سال 2020 میں بے روزگار لوگوں کے بیچ خودکشی کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی گئی اور گزشتہ چند سالوں میں پہلی بار یہ تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی۔
کاس گنج میں سال 2018 میں مارے گئے چندن گپتا کے والدکہہ رہے ہیں کہ نوجوانوں کو اس راستےپر نہیں جانا چاہیے جس پر ہندوتوایاقوم پرستی کے جوش وجنون میں ان کا بیٹا چل پڑا تھا۔ کیا ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس موت کے بعد یا اس کے بدلے جو چاہتے تھے، وہ نہیں ملا؟ یا وہ اس کے خطرے کو سمجھ پائے ہیں؟
ویڈیو: اتر پردیش کے کاس گنج ضلع میں ایک‘گمشدہ’لڑکی کےمعاملے میں حراست میں لیے گئے 22 سالہ نوجوان الطاف کی پولیس تھانے میں گزشتہ 8 نومبر کو موت ہو گئی تھی۔اس کو لےکر ایک ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ الطاف نے ٹوائلٹ کے نل کی ٹوٹی سے پھانسی لگاکر خودکشی کی ہے۔
اکتوبر 2020 میں نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی نے آج تک کو سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ان کے کچھ ٹوئٹ کو لےکر کی گئی غلط رپورٹنگ کا قصوروار مانتے ہوئے معافی نامہ اور جرمانہ دینے کو کہا تھا۔ چینل نے اس معاملے میں نظرثانی کے لیےعرضی دائر کی تھی، جس کو خارج کرتے ہوئے اتھارٹی نے اپنےفیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
چھتیس گڑھ کےکونڈاگاؤں ضلع میں18جولائی کومبینہ طور پرسات لوگوں نے ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کیا تھا۔ اگلے دن اس نے خودکشی کر لی تھی۔واقعہ کے تین مہینے بعد پولیس نے چھ ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ تھانہ انچارج کو سسپنڈ کرکے ان کے خلاف محکمہ جاتی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈس اتھارٹی نے سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے میں نشریات سے متعلق گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے والےپروگرام اور ٹیگ لائنس دکھانے کو لےکر آج تک سمیت زی نیوز اور نیوز 24 کو معافی مانگنے کو کہا ہے۔
بہار کے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے نے سال 2009 میں پہلی بار وی آرایس لیا تھا اور تب چرچہ تھی کہ وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ اب اسمبلی انتخاب سے کچھ ہی مہینے پہلے ان کے دوبارہ وی آرایس لینے کے فیصلے کو ان کے سیاسی عزائم سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔
کنگنارناوت کے اشتعال انگیز بیانات پرشیوسینا کاردعمل ان کی غلط ترجیحات کو ظاہرکرتا ہے۔
قرون وسطی کے یورپ میں خواتین کو جادوگرنی بتاکر‘وچ ٹرائل’ہوا کرتے تھے، جن کے بعد پچاسوں ہزارخواتین کو ستونوں سے باندھ کر زندہ جلا دیا گیا تھا۔اس وقت اذیت دےکر (ٹارچر)خواتین سے جرم قبول کروا لیا جاتا تھا۔ ریا کا بھی‘میڈیا ٹرائل’نہیں ہوا ہے، ‘وچ ٹرائل’ ہوا ہے۔
ویڈیو: اسمبلی انتخاب نزدیک آتے ہی بہار کی سیاست گرمانے لگی ہے۔ آرجےڈی کےقدآوررہنما رگھوونش پرساد سنگھ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سشانت سنگھ کی موت کو بھی مدعا بنایا جا رہا ہے۔ اس پر دی وائر کے پالیٹیکل افیئرس ایڈیٹر اجئے آشیرواد اور سیاسی مبصر سجن کمار سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
ویڈیو: اداکارہ ریا چکرورتی کی گرفتاری سے لےکر کنگنا رناوت کی وائی سیکورٹی جیسے مدعے نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ اس پراداکارہ سورا بھاسکر سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفا خانم شیروانی کی بات چیت۔
سیشن عدالت میں دائر ضمانت عرضی میں ریا نے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور انہیں اس معاملے میں پھنسایا جا رہا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ ریا سے این سی بی پوچھ تاچھ کے دوران وہاں کوئی خاتون افسرموجود نہیں تھی۔
واقعہ مغربی بنگال کے جلپائی گڑی ضلع کا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمین پرریپ اور خودکشی کے لیے اکسانے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔
سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی جانچ سی بی آئی، ای ڈی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کر رہے ہیں اور تینوں ہی مرکزی حکومت کےماتحت ہیں۔ مرکز اور بہار میں این ڈی اے کی ہی سرکار ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ ‘جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت’ہیش ٹیگ چلاکر بہار میں بی جے پی جسٹس کس سے مانگ رہی ہے؟
ان دنوں ٹی وی نیوز چینلوں کی وجہ سے ریا چکرورتی لعنت ملامت، استہزا اور طعن و تشنیع کانشانہ بن چکی ہیں، جن پر بنا کسی ثبوت کے تمام طرح کے الزام لگائے گئے ہیں۔ کچھ وقت پہلے تک ریا چکرورتی عوام کے بیچ معروف نہیں تھیں۔ حالانکہ […]
اگرآنے والے وقت میں ریا بےقصور ثابت ہو گئیں، تب کیا میڈیا ان کی کھوئی ہوئی عزت اور ذہنی سکون انہیں واپس دے پائےگا؟
ویڈیو:ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کنگنا رناوت نے تاپسی پنو کو بی گریڈ اداکارہ کہا تھا۔اقربا پروری ،‘بالی وڈ مافیا’ جیسے مختلف موضوعات پر تاپسی پنو سے دی وائر کی سینئر ایڈٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
پولیس نے بتایا کہ 35سالہ راج منی ستار مدھیہ پردیش کے ستنا کے رہنے والے تھے۔ پانچ چھ مہینے پہلے ان کی آنت کا آپریشن ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ہی وہ ایمس میں بھرتی تھے۔ پچھلے دو ہفتوں میں ایمس میں مبینہ طور پر خودکشی کایہ تیسرامعاملہ ہے۔
کووڈانفیکشن کےخطرے کے بیچ بھی ملک بھر کےمیڈیااہلکار لگاتار کام کر رہے ہیں، لیکن میڈیااداروں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ جوکھم اٹھاکر کام کررہے ان صحافیوں کو کسی طرح کا بیمہ یا اقتصادی تحفظ دینا تو دور، انہیں بناوجہ بتائے نوکری سے نکالا جا رہا ہے۔
معاملہ بلندشہر کا ہے، جہاں گزشتہ سال فروری میں ایک نابالغ سے ریپ کیا گیا تھا۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ملزم انہیں دھمکاتا تھا اور ان پر معاملے میں سمجھوتہ کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
ویڈیو: راجدھانی دہلی میں کورونا وائرس سے متاثر ایک37سالہ صحافی نے ایمس کی چوتھی منزل سے کود کر مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے۔ ان کی موت کے بعد وزیر صحت نے جانچ کے آرڈر دیےہیں۔ اس مدعے پر سینئر صحافی ارملیش کا نظریہ۔
دہلی کے ایمس ٹراما سینٹر میں کووڈ 19 کا علاج کرا رہے دینک بھاسکر سے وابستہ صحافی ترون سسودیا کی گزشتہ چھ جولائی کو موت ہو گئی۔ ایمس انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہاسپٹل کی چوتھی منزل سے کود کر جان دے دی۔ موت کی جانچ کیے جانے کے مطالبے کے بعد وزیر صحت نے ایک جانچ کمیٹی بنائی ہے۔
ویڈیو: ایکٹر سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد سے بالی وڈ میں اقربا پروری اورنیپوٹزم کو لےکر بحث تیز ہو گئی ہے۔اس موضوع پرمعروف ایکٹر منوج باجپائی سےعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
ویڈیو: معروف بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی اچانک موت کے بعد بالی وڈ میں الزام تراشیوں کا دور شروع ہو گیا ہے اور انڈسٹری میں اقربا پروری کی روایت پر سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔ اس مدعے پر دی وائر کے شیکھر تیواری کی ایکٹر جتن سرنا سے بات چیت۔
سشانت سنگھ راجپوت نے فلم کائے پو چے سے فلموں میں قدم رکھا تھا اور شدھ دیسی رومانس، ڈٹیکٹو بیوم کیش بخشی، ایم ایس دھونی:دی انٹولڈ اسٹوری، کیدارناتھ اور چھچھورے جیسی فلموں میں نظر آ چکے تھے۔