Suicide

(تصویر بہ شکریہ: فیس بک ویڈیو گریب)

یوپی: اگنی پتھ کے حوالے سے جاری تنازعہ کے درمیان 22 سالہ اگنی ویر نے خودکشی کی

بتایا گیا ہے کہ 2 جولائی کو بلیا کے رہنے والے ‘اگنی ویر’ نے آگرہ ایئر فورس اسٹیشن میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اسی ہفتے اپوزیشن پارٹی نے اگنی پتھ اسکیم پر سوال کھڑے کرتے ہوئے بھرتی رنگروٹوں کے بیچ بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات کے معاملے کو اٹھایا تھا۔

 (علامتی تصویر بہ شکریہ: pixabay/public domain)

سال 2019-21 کے درمیان 35000 سے زیادہ طالبعلموں نے خودکشی کی: سرکاری ڈیٹا

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے پارلیامنٹ کو بتایا کہ 2019 میں طالبعلموں کی خودکشی کے 10335 واقعات درج کیے گئے، 2020 اور 2021 میں یہ تعداد بالترتیب 12526 اور 13089 درج کی گئی۔ ایس سی اور ایس ٹی طالبعلموں کی خودکشی کی تعداد پر وزارت نے کہا کہ اس کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

(علامتی تصویر،بہ شکریہ: پکسابے)

اترپردیش: 8 سال سے اپنی تنخواہ کا مطالبہ کرنے والے سرکاری اسکول کے ٹیچر نے خودکشی کرلی

اتر پردیش کے فرخ آباد ضلع کا معاملہ۔ پولیس نے بتایا کہ جبو پور کے سرکاری مڈل اسکول کے ایک ٹیچر نے مبینہ طور پراپنی آٹھ سال کی تنخواہ کی ادائیگی مطالبہ کرنے کی وجہ سے توہین کیے جانے کے بعد خودکشی کر لی۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور بلاک ایجوکیشن آفس کے ایک کلرک اور اسکول کے ہیڈ ماسٹر انچارج کو معطل کردیا گیا ہے۔

(علامتی تصویر: Wikimedia Commons)

آندھرا پردیش: امتحان کے نتائج کے بعد 48 گھنٹوں میں نو طالبعلموں نے خودکشی کی

آندھرا پردیش بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اگزام نے بدھ کو گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔امتحان میں تقریباً 10 لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے۔گیارہویں کے پاس ہونے کا تناسب 61 اور بارہویں کا 72 فیصد رہا۔

IIT-Darshan-Solanki-Thumb

درشن سولنکی خودکشی معاملہ: تحقیقات میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا ثبوت نہیں، رپورٹ پر اٹھے سوال

ویڈیو: گزشتہ فروری میں آئی آئی ٹی –بامبے میں بی ٹیک کے طالبعلم درشن سولنکی کی موت ہاسٹل کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی وجہ سے ہوگئی تھی۔ ان کے خاندان نے اس کے قدم کے لیے کیمپس میں ذات پات کی بنیاد پرہونے والےامتیازی سلوک کو ذمہ دار بتایا تھا۔ تاہم معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اس کی تردید کی ہے۔

(علامتی تصویر: نندو کمار/انسپلیش)

یوپی: یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ چھ سالوں میں کسی کسان نے خودکشی نہیں کی

گزشتہ ہفتے لکھنؤ میں ایک پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ریاست میں پچھلے چھ سالوں میں کسی کسان نے خودکشی نہیں کی ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2017 سے 2021 کے درمیان ریاست میں 398 کسانوں اور کھیت میں کام کرنے731 مزدوروں نے خودکشی کی۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

’لو جہاد‘ کی سازشی تھیوری اب عام سماجی تاثر کا حصہ بن چکی ہے

ٹی وی آرٹسٹ تونیشا شرما کی خودکشی کے بعد بحث ذہنی صحت پر ہونی چاہیے تھی کہ اس عمر میں اتنا کام کرنے کا دباؤ کسی کے ساتھ کیا کر سکتا ہے، وہ بھی ایسی دنیا میں جہاں مقابلہ آرائی غیر معمولی ہے۔ لیکن بحث کو ‘لو جہاد’ کا زاویہ دے کر آسان سمت میں موڑ دیا گیا ہے۔

بسواراج بومئی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

کرناٹک میں بدعنوانی کی وجہ سے مٹھ بھی گرانٹ کے لیے 30 فیصد کمیشن دیتے ہیں: لنگایت سنت

یہ الزام ایسے وقت میں سامنےآیا ہے جب 12 اپریل کو اُڈوپی کے ہوٹل میں ایک ٹھیکیدار نے وزیر اور بی جے پی لیڈر کے ایس ایشورپا پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اس کے بعد ایشورپا نے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس الزام پر وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ ان کی حکومت سنت کے الزامات کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: انڈین ریلوے ویب سائٹ)

یوپی: تنگی کے لیے مبینہ طور پر وزیر اعظم کو ذمہ دار ٹھہراتے ہو ئے میاں بیوی نے زہر کھایا، بیوی کی موت

یہ اتر پردیش کے باغپت ضلع کے بڑوت کا معاملہ ہے۔ مالی تنگی سے دوچار جوتوں کے ایک تاجر اور ان کی بیوی نے اس کے لیےمبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فیس بک لائیو کے دوران زہر کھا لیا۔ تاجر نے ویڈیو میں الزام لگایا کہ وزیر اعظم چھوٹے تاجروں اور کسانوں کے خیرخواہ نہیں ہیں۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

سال 2018  اور  2020  کے درمیان قرض اور  بے روز گاری کی وجہ سے  25000  سے زائد افراد نے خودکشی کی: حکومت

راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19مہاماری کے دوران پہلے سال یعنی سال 2020 میں بے روزگار لوگوں کے بیچ خودکشی کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی گئی اور گزشتہ چند سالوں میں پہلی بار یہ تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی۔

2018 میں کاس گنج میں ہوئےتشدد میں مارے گئے چندن گپتا۔ (فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

کیا چندن گپتا ہندوتوا قوم پرستی کا شکار ہوا؟

کاس گنج میں سال 2018 میں مارے گئے چندن گپتا کے والدکہہ رہے ہیں کہ نوجوانوں کو اس راستےپر نہیں جانا چاہیے جس پر ہندوتوایاقوم پرستی کے جوش وجنون میں ان کا بیٹا چل پڑا تھا۔ کیا ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس موت کے بعد یا اس کے بدلے جو چاہتے تھے، وہ نہیں ملا؟ یا وہ اس کے خطرے کو سمجھ پائے ہیں؟

WhatsApp Image 2021-11-11 at 21.45.43 (1)

کاس گنج میں الطاف کی موت: کیا یہ پولیس حراست میں کیا گیا قتل ہے؟

ویڈیو: اتر پردیش کے کاس گنج ضلع میں ایک‘گمشدہ’لڑکی کےمعاملے میں حراست میں لیے گئے 22 سالہ نوجوان الطاف کی پولیس تھانے میں گزشتہ 8 نومبر کو موت ہو گئی تھی۔اس کو لےکر ایک ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ الطاف نے ٹوائلٹ کے نل کی ٹوٹی سے پھانسی لگاکر خودکشی کی ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

سشانت معاملے میں فیک ٹوئٹس دکھانے کے لیے23 اپریل کو معافی نامہ جاری کرے آج تک: این بی ایس اے

اکتوبر 2020 میں نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی نے آج تک کو سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد ان کے کچھ ٹوئٹ کو لےکر کی گئی غلط رپورٹنگ کا قصوروار مانتے ہوئے معافی نامہ اور جرمانہ دینے کو کہا تھا۔ چینل نے اس معاملے میں نظرثانی کے لیےعرضی دائر کی تھی، جس کو خارج کرتے ہوئے اتھارٹی نے اپنےفیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

Kondagaon-e1602314485307

چھتیس گڑھ: مبینہ گینگ ریپ کے بعد لڑکی نے کر لی تھی خودکشی، پولیس نے تین مہینے بعد درج کیا کیس

چھتیس گڑھ کےکونڈاگاؤں ضلع میں18جولائی کومبینہ طور پرسات لوگوں نے ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کیا تھا۔ اگلے دن اس نے خودکشی کر لی تھی۔واقعہ کے تین مہینے بعد پولیس نے چھ ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ تھانہ انچارج کو سسپنڈ کرکے ان کے خلاف محکمہ جاتی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔

سشانت سنگھ راجپوت۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سشانت معاملہ: فیک ٹوئٹ دکھانے کے لیے آج تک پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ، کئی چینلوں کی سرزنش

نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈس اتھارٹی نے سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے میں نشریات سے متعلق گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے والےپروگرام اور ٹیگ لائنس دکھانے کو لےکر آج تک سمیت زی نیوز اور نیوز 24 کو معافی مانگنے کو کہا ہے۔

Bihar DGP Gupteshwar Pandey. Photo: Twitter/@IPSGupteshwar

کیا بہار انتخاب سے عین پہلے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے کا دوسری بار رضا کارانہ ریٹائرمنٹ لینا محض اتفاق ہے

بہار کے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے نے سال 2009 میں پہلی بار وی آرایس لیا تھا اور تب چرچہ تھی کہ وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ اب اسمبلی انتخاب سے کچھ ہی مہینے پہلے ان کے دوبارہ وی آرایس لینے کے فیصلے کو ان کے سیاسی عزائم سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

گزشتہ6 ستمبر کو این سی بی کی پوچھ تاچھ کے لیے جاتی ہوئی ریا چکرورتی کے ساتھ میڈیااہلکاروں  کے ذریعے دھکامکی کی گئی تھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ریا چکر ورتی کے معاملے نے ان کو نہیں بلکہ معاشرے کی خرابیوں اور عورت مخالف رویے کو بے نقاب کیا ہے

قرون وسطی کے یورپ میں خواتین کو جادوگرنی بتاکر‘وچ ٹرائل’ہوا کرتے تھے، جن کے بعد پچاسوں ہزارخواتین کو ستونوں سے باندھ کر زندہ جلا دیا گیا تھا۔اس وقت اذیت دےکر (ٹارچر)خواتین سے جرم قبول کروا لیا جاتا تھا۔ ریا کا بھی‘میڈیا ٹرائل’نہیں ہوا ہے، ‘وچ ٹرائل’ ہوا ہے۔

AKI 11 Sep.00_30_38_12.Still004

بی جے پی کیوں چاہتی ہے سشانت کے مدعے پر ہو بہار انتخاب؟

ویڈیو: اسمبلی انتخاب نزدیک آتے ہی بہار کی سیاست گرمانے لگی ہے۔ آرجےڈی کےقدآوررہنما رگھوونش پرساد سنگھ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سشانت سنگھ کی موت کو بھی مدعا بنایا جا رہا ہے۔ اس پر دی وائر کے پالیٹیکل افیئرس ایڈیٹر اجئے آشیرواد اور سیاسی مبصر سجن کمار سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

1009 AKI Swara Bhaskar.00_23_57_19.Still002

ریا بنام کنگنا پر سورا بھاسکر کا جواب

ویڈیو: اداکارہ ریا چکرورتی کی گرفتاری سے لےکر کنگنا رناوت کی وائی سیکورٹی جیسے مدعے نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ اس پراداکارہ سورا بھاسکر سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفا خانم شیروانی کی بات چیت۔

ریا چکرورتی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ضمانت عرضی میں ریا نے کہا، این سی بی نے اقبال جرم کے لیے مجبور کیا

سیشن عدالت میں دائر ضمانت عرضی میں ریا نے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور انہیں اس معاملے میں پھنسایا جا رہا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ ریا سے این سی بی پوچھ تاچھ کے دوران وہاں کوئی خاتون افسرموجود نہیں تھی۔

بی جے پی کلچرل ونگ کی طرف سے ‘جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت’کےہیش ٹیگ والاا سٹیکر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

بہار: 15 سال اقتدار میں رہ چکی بی جے پی کے لیے سشانت سنگھ راجپوت کی موت انتخابی مدعا کیوں ہے؟

سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی جانچ سی بی آئی، ای ڈی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کر رہے ہیں اور تینوں ہی مرکزی حکومت کےماتحت ہیں۔ مرکز اور بہار میں این ڈی اے کی ہی سرکار ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ ‘جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت’ہیش ٹیگ چلاکر بہار میں بی جے پی جسٹس کس سے مانگ رہی ہے؟

سشانت معاملے کو لےکر مختلف  ٹی وی چینلوں کی کوریج(بہ شکریہ : متعلقہ  چینل/ویڈیوگریب)

اداریہ: میڈیا کے غنڈوں کو ان کی جگہ دکھانے کا وقت آ گیا ہے

ان دنوں ٹی وی نیوز چینلوں کی وجہ سے ریا چکرورتی لعنت ملامت، استہزا اور طعن و تشنیع   کانشانہ  بن چکی ہیں، جن پر بنا کسی ثبوت کے تمام طرح کے الزام  لگائے گئے ہیں۔ کچھ وقت پہلے تک ریا چکرورتی عوام کے بیچ  معروف نہیں تھیں۔ حالانکہ […]

HBB 25 July 2020.00_39_46_09.Still003

میں نے آج تک کسی فلم مافیا کے ساتھ کام نہیں کیا: تاپسی پنو

ویڈیو:ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کنگنا رناوت نے تاپسی پنو کو بی گریڈ اداکارہ کہا تھا۔اقربا پروری ،‘بالی وڈ مافیا’ جیسے مختلف موضوعات پر تاپسی پنو سے دی وائر کی سینئر ایڈٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(فوٹوبہ شکریہ: اے این آئی)

دہلی: ایمس میں ایک اور مریض نے مبینہ طور پر پھانسی لگاکر جان دی

پولیس نے بتایا کہ 35سالہ راج منی ستار مدھیہ پردیش کے ستنا کے رہنے والے تھے۔ پانچ چھ مہینے پہلے ان کی آنت کا آپریشن ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ہی وہ ایمس میں بھرتی تھے۔ پچھلے دو ہفتوں میں ایمس میں مبینہ طور پر خودکشی کایہ تیسرامعاملہ ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ بحران کے بیچ جان اور نوکری گنواتے صحافیوں کی سننے والا کون ہے؟

کووڈانفیکشن کےخطرے کے بیچ بھی ملک بھر کےمیڈیااہلکار لگاتار کام کر رہے ہیں، لیکن میڈیااداروں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ جوکھم اٹھاکر کام کررہے ان صحافیوں کو کسی طرح کا بیمہ یا اقتصادی تحفظ دینا تو دور، انہیں بناوجہ بتائے نوکری سے نکالا جا رہا ہے۔

BulandShahar

یوپی: ملزم کے گرفتار نہ ہو نے سے مبینہ طور پر مایوس ریپ متاثرہ نے خودکشی کی

معاملہ بلندشہر کا ہے، جہاں گزشتہ سال فروری میں ایک نابالغ سے ریپ کیا گیا تھا۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ملزم انہیں دھمکاتا تھا اور ان پر معاملے میں سمجھوتہ کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

0807 Gondi.00_11_44_18.Still003

میڈیا بول: میڈیا میں موتیں، مایوسی اور بڑھتی بےکاری!

ویڈیو: راجدھانی دہلی میں کورونا وائرس سے متاثر ایک37سالہ صحافی نے ایمس کی چوتھی منزل سے کود کر مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے۔ ان کی موت کے بعد وزیر صحت نے جانچ کے آرڈر دیےہیں۔ اس مدعے پر سینئر صحافی ارملیش کا نظریہ۔

صحافی ترون سسودیا کے لیے انصاف کی مانگ کرتے ہوئے نئی دہلی میں پریس کلب پر مظاہرہ  کرتے صحافی۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

دہلی: کیا صحافی ترون سسودیا نے واقعی خودکشی کی؟

دہلی کے ایمس ٹراما سینٹر میں کووڈ 19 کا علاج کرا رہے دینک بھاسکر سے وابستہ صحافی ترون سسودیا کی گزشتہ چھ جولائی کو موت ہو گئی۔ ایمس انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہاسپٹل کی چوتھی منزل سے کود کر جان دے دی۔ موت کی جانچ کیے جانے کے مطالبے کے بعد وزیر صحت نے ایک جانچ کمیٹی بنائی ہے۔

SHK.00_24_59_06.Still004

مٹھی بھر لوگ بالی وڈ چلا رہے ہیں: جتن سرنا

ویڈیو: معروف بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی اچانک موت کے بعد بالی وڈ میں الزام تراشیوں کا دور شروع ہو گیا ہے اور انڈسٹری میں اقربا پروری کی روایت پر سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔ اس مدعے پر دی وائر کے شیکھر تیواری کی ایکٹر جتن سرنا سے بات چیت۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

سال 2018 میں کسانوں سے زیادہ بے روزگاروں اور نجی کاروبار کرنے والوں نے کی خودکشی: این سی آر بی

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آربی) کے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2018 میں اوسطاً 35 بے روزگاروں اور نجی کاروبار سے جڑے 36 لوگوں نے ہر دن خودکشی کی۔ اس سال 12936 بے روزگاروں اور نجی کاروبار سے جڑے 13149 لوگوں نے خودکشی کی۔