خبریں

شہریت ترمیم بل کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرہ

 شہریت ترمیم بل میں پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان میں مبینہ طور پر مذہب کے نام پر ہو رہی زیادتی کے شکار غیر مسلم مہاجرین کو ہندوستانی شہریت دینے کا اہتمام ہے۔

 شہریت ترمیم بل کی مخالفت میں مظاہرہ کرتے آسام کے طالبعلم(فوٹو : پی ٹی آئی)

شہریت ترمیم بل کی مخالفت میں مظاہرہ کرتے آسام کے طالبعلم(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: شہریت ترمیم بل(سی اے بی) اور این آر سی کے خلاف راجدھانی نئی دہلی کے جنتر منتر پرمختلف گروپ کے بینر تلے منعقد مظاہرے میں بڑی تعددا میں طلبا جمع ہوئے۔’یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ’ نامی این جی او کے ذریعے منعقد مظاہرے میں ‘ری جیکٹ سی اے بی! بائیکاٹ این آر سی’اور ‘انڈیا نیڈ جابس،ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ کیئر، ناٹ نیشن وائیڈ این آر سی’ کے پوسٹر تھامے مظاہرین نے نعرے بازی کی۔

جے این یو۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سمیت مختلف یونیورسٹی کے طلبا اور اے آئی ایس اےکے ممبروں نے مظاہرہ میں حصہ لیا۔بتا دیں کہ شہریت ترمیم بل کی مخالفت میں نارتھ ایسٹ کی مختلف ریاستوں میں بھی مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کانگریس اور سی پی ایم سمیت کئی پارٹیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بل کی پر زور مخالفت کریں گے۔

غور طلب ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آج لوک سبھا میں شہریت ترمیم بل پیش کر رہے ہیں۔ شہریت ترمیم بل میں پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان میں مبینہ طور پر  مذہب کے نام پر ہو رہی زیادتی کے شکار غیر مسلم مہاجرین کو ہندوستانی شہریت دینے کا اہتمام ہے۔

واضح ہو کہ آسام کے ڈبروگڑھ یونیورسٹی کی طلبہ  یونین اور کاٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کی  طلبا یونین نے وزیراعلیٰ سربانند سونووال سمیت حکمراں بی جے پی، آرایس ایس کے ممبروں اور بل کی حمایت کرنے والوں کو ان دونوں یونیورسٹیوں میں داخل ہونے پر غیر معینہ مدت پابندی لگا رکھی ہے۔غور طلب ہےکہ تمام مخالفت کے بعد بھی مرکزی کابینہ نے گزشتہ  چار دسمبر کوشہریت ترمیم بل کو منظوری دے دی تھی۔ اس سے پہلے یہ بل اس سال جنوری میں لوک سبھامیں منظور ہو گیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔

بل لائے جانے کے بعد سے آسام سمیت نارتھ ایسٹ  کی کئی ریاستوں میں اس بل کی پر زور مخالفت ہو رہی ہے۔ نارتھ ایسٹ میں کئی تنظیموں  نے اس بل کو لے کریہ دعویٰ کرتےہوئے مخالفت کی ہے کہ وہ علاقے کے اصلی باشندوں کے حقوق کو کم کر دے‌گا۔حالانکہ اروناچل پردیش، ناگالینڈ، میزورم کے’انر لائن پرمٹ ‘(آئی ایل پی)علاقوں اور شمال مشرق کی چھٹی فہرست کے تحت آنے والے علاقوں کو شہریت ترمیم بل سے باہر رکھا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شہریت ترمیم بل کا فائدہ اٹھانے والوں کو ہندوستان کی شہریت مل جائے‌گی لیکن وہ اروناچل پردیش، ناگالینڈ اور میزورم میں بس نہیں پائیں‌گے۔موجودہ ہندوستانی شہریوں پر بھی یہ پابندی نافذ رہے‌گی۔ کہا جا رہا ہے کہ آسام، میگھالیہ اور ترپیورہ کا ایک بڑا حصہ چھٹی فہرست کے تحت آنے کی وجہ سے اس متنازعہ بل کے دائرے سے باہر رہے‌گا۔

دریں اثنا پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم پناہ گزینوں کوہندوستانی شہریت عطا کرنے کی مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹس یونین (این ای ایس یو)نے 10 دسمبر کو 11 گھنٹے کے نارتھ ایسٹ بند کا اعلان کیا۔ این ای ایس او کے صلاح کار سمجّول کمار بھٹاچاریہ نے بتایا کہ آسام،اروناچل پردیش، میگھالیہ، ناگالینڈ، میزورم، منی پور اور تریپورہ کی  کل طلباتنظیموں نے مشترکہ طور پر بند کا اعلان کیا ہے۔

 (خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)

  • abdul bari

    شہریت ترمیمی بل ظالمانہ اور غیر جمہوری بل ہے اس سے سماج مزید منتشر ہوگا اور مذہب کی بنیاد پر فسادات بھی برپا ہو سکتے ہیں اس لیے اسے رد کیا جانا چاہیے ۔qindeelonline.com