Haryana

 (فائل فوٹو بہ شکریہ: X/@mishra_surjya)

پنجاب-ہریانہ کے کھنوری بارڈر پر ایک اور کسان کی موت، دلی چلو مارچ 29 فروری تک ملتوی

جمعہ کو دل کا دورہ پڑنے سے 62 سالہ درشن سنگھ کی موت ہوگئی۔ وہ دلی چلو احتجاجی مارچ کے دوران جان گنوانے والے چوتھے کسان ہیں۔ 29 فروری تک احتجاجی مارچ کو ملتوی کرتے ہوئے کسان لیڈروں نے کہا ہے کہ فی الحال ان کی توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ شبھ کرن کی موت کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

مونو مانیسر۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

قتل کی کوشش معاملے میں گئو رکشک مونو مانیسر کو 14دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا

یہ معاملہ ہریانہ کے پٹودی کے بابا شاہ محلہ میں 6 فروری کو دو گروہوں کے درمیان تصادم سے متعلق ہے، جس میں گئو رکشک مونو مانیسر نے مبینہ طور پر اپنے لائسنسی ہتھیار سے گولیاں چلائی تھیں، جس سے اقلیتی کمیونٹی کا ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔ مانیسر راجستھان کےچچازاد بھائیوں جنید اور ناصر کے قتل میں بھی ملزم ہیں۔

مونو مانیسر۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

اشتعال انگیز پوسٹ کرنے کے الزام میں گئو رکشک مونو مانیسر کو حراست میں لیا گیا: ہریانہ پولیس

پولیس ذرائع نے بتایا کہ 31 جولائی کو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں نوح پولیس سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے جارہے پوسٹ کی جانچ کر رہی تھی۔ ایک فرضی اکاؤنٹ سے اسی طرح کے پوسٹ کرنے کے الزام میں مونو مانیسر کو پکڑا گیا ہے۔ وہ راجستھان کے دو بھائیوں جنید اور ناصر کو پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کے معاملے میں بھی ملزم ہے۔

Nuh-Arfa-ji-thumb

’سال 2024 سے پہلے نوح کی آگ کو پورے ملک میں پھیلانا چاہتی تھی حکومت‘

ویڈیو: ہریانہ کے میوات علاقے میں نوح میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور اس کے بعد ہوئی ‘بلڈوزر کارروائی ‘ کو مقامی وکلاء کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے درج کیا ہے۔ دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی سے ان وکلاءکی بات چیت۔

Nuh-Demolition-Arfa-ji-thumb

’مودی جی کہتے ہیں سب کا وکاس، مجھے تو تباہ کر دیا‘

ویڈیو: ہریانہ کے نوح میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد انہدامی کارروائی میں گھروں کے ساتھ سرکاری اسپتال کے سامنے بنی 45 دکانوں کو بھی مسمار کر دیا گیا تھا۔ ان میں سے 15 دکانوں کے مالک نواب شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کورٹ کا اسٹے آرڈر تھا، اس کے باوجود حکام نے ان کی بات نہیں سنی۔ ان سے اور مقامی لوگوں سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

بٹو بجرنگی۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

ہریانہ: نوح تشدد بھڑکانے کے الزام میں دائیں بازو کے کارکن بٹو بجرنگی گرفتار

ہریانہ کی نوح پولیس نے 31 اگست کو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں گئو رکشک راجکمار عرف بٹو بجرنگی کو گرفتار کیا ہے۔ اس تشدد میں چھ افراد مارے گئے تھے۔ گئو رکشک مونو مانیسر بھی اس کیس میں ملزم ہیں۔ دونوں پر دائیں بازو کے گروپوں کی شوبھا یاترا سے پہلے مسلم اکثریتی ضلع نوح میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام ہے۔

مونو مانیسر۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ناصر– جنید قتل معاملہ: راجستھان پولیس نے کہا کہ مونو مانیسر کے رول کی ابھی بھی تفتیش جاری ہے

ہریانہ میں گئو رکشکوں کے نمایاں چہرےمونو مانیسر، جنید اور ناصر کے قتل کیس میں نامزد 21 ملزمین میں سے ایک ہیں۔ 16 فروری کو ہریانہ کے بھیوانی میں ایک گاڑی میں دونوں چچا زاد بھائیوں کی جلی ہوئی لاشیں پائی گئی تھیں۔ ناصر اور جنید کے خلاف گائے کی اسمگلنگ کے الزامات لگائے جانے کے بعد اس واقعہ کو انجام دیا گیا تھا۔

(علامتی تصویر،بہ شکریہ: ٹوئٹر)

ہریانہ: مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے گرام پنچایتوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری

گزشتہ 31 اگست کو نوح میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد، ریواڑی، جھجر اور مہندر گڑھ اضلاع کی کئی گرام پنچایتوں کی جانب سے اپنے گاؤں میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے کے لیے قراردادیں پاس کرنے کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔ نوح میں وی ایچ پی سمیت دیگر دائیں بازو کے گروپوں کی طرف سے نکالی گئی ‘شوبھا یاترا’ کے دوران فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں چھ افراد کی موت ہو گئی تھی۔

ہریانہ کے پلوال ضلع میں 13 اگست کو ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے منعقد  مہاپنچایت میں جمع لوگ ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ہریانہ: ہندوتوا تنظیموں کی مہاپنچایت میں اپنے ’دفاع‘ کے لیے بندوق لائسنس دینے کی مانگ

ہریانہ کے پلول ضلع میں منعقد ہندوتوا تنظیموں کی مہاپنچایت میں اعلان کیا گیا کہ گزشتہ31 جولائی کو فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد وہ 28 اگست کو نوح ضلع میں وشو ہندو پریشد کی برج منڈل یاترا دوبارہ شروع کریں گے۔ اس یاترا کے دوران ہونے والے تشدد میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فوٹو بہ شکریہ:  جمعیۃ علماء ہند

 میوات تشدد: جمعیۃ علماء ہندکا دعویٰ — 13مساجد پر حملے کیے گئے

اب تک جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے 13 متاثرہ مساجد کا دورہ کیا ہے، اور بتایا ہے کہ صرف پلول میں 6 مساجد نذر آتش کی گئیں، ہوڈل میں تین مساجد ، سوہنا میں تین مساجد، اور ایک مسجد گروگرام میں جلائی گئی۔ وفد کا یہ بھی کہنا ہے کہ تشدد کے دوران مذہبی کتابوں کو جلایا گیا اور تبلیغی جماعت کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔

حصار میں ہوئی مہاپنچایت۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

ہریانہ کی کھاپوں اور کسان یونینوں نے مہاپنچایت میں مونو مانیسر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا

نوح میں تشدد کے بعد ریاست کے کئی علاقوں میں پھیلی فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان ہریانہ کی تقریباً 30 کھاپوں، سنیوکت کسان مورچہ کے رہنماؤں، کئی کسان یونینوں اور مختلف مذاہب کے لوگوں نے حصار میں مہاپنچایت میں حصہ لیا، جہاں امن و امان اورہم آہنگی بنائے رکھنے کی اپیل کی گئی۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر۔ (تصویر بہ شکریہ: Facebook/@HaryanaCMO)

منوہر لال کھٹر ہریانہ کے تمام لوگوں کو سیکورٹی کیوں نہیں دے سکتے؟

غلامی کے دور میں غیر ملکی حکمرانوں تک نے اپنی پولیس سے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی امید کی تھی، لیکن اب آزادی کے امرت کال میں لوگوں کی چنی ہوئی حکومت اپنی پولیس کے بوتے سب کو تحفظ دینے سے قاصر ہے۔

نوح تشدد میں جلائی گئی ایک گاڑی۔ (تصویر: اتل ہووالے/دی وائر)

نوح: انہدامی کارروائی پر پابندی لگاتے ہوئے ہائی کورٹ نے پوچھا – کیا یہ نسلی تطہیر کا کوئی طریقہ تھا

کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے نوح تشدد کے بعد متاثرہ علاقے میں جاری انہدامی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نےکہا کہ لاء اینڈ آرڈر کے مسئلے کا استعمال ضروری قانونی ضابطوں کی پیروی کیے بغیر عمارتوں کو گرانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

نوح کے نلہر مہادیو مندر کا مین گیٹ۔ (تمام تصاویر: اتل ہووالے/دی وائر)

نوح تشدد: نلہر مندر میں پھنسی خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی کے دعوے پولیس نے خارج کیے

ہریانہ کے نوح میں31 جولائی کو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں سوشل میڈیا اور کچھ نیوز ویب سائٹ پر ایسے دعوے کیے جا رہے تھے کہ نلہر مہادیو مندر میں پھنسی خواتین کے ساتھ ریپ کیا گیا تھا، پولیس نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@ZakirAliTyagi)

ہریانہ: حصار میں ہندوتوا تنظیموں کی ریلی میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی اپیل

نوح میں ہوئے واقعے کے خلاف احتجاج کے طور پربجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی ہندوتوا تنظیموں نے حصار ضلع کے ہانسی شہر میں 2 اگست کوایک ریلی نکالی تھی، جس میں مسلم دکانداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے کے ساتھ ہی مسلمانوں کو دو دن میں شہر چھوڑنے کی وارننگ دی گئی۔

تشدد سے متاثرہ نوح میں ہفتے کے روز انتظامیہ کی جانب سے کی گئی بلڈوزر کارروائی کی تصویر۔ (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی ویڈیو اسکرین شاٹ)

نوح: تشدد سے متاثرہ علاقے میں بلڈوزر کارروائی، حکام نے الگ الگ وجہ بتائی

اس ہفتے ہریانہ کے نوح میں تشدد کے بعد ضلع انتظامیہ نے جمعہ کو مکان اور املاک کو مسمار کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ ایک طرف کچھ اہلکار کہہ رہے ہیں کہ توڑ پھوڑ کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے تو دوسری طرف کچھ حکام کا دعویٰ ہے کہ کچھ املاک کے مالکان تشدد میں ملوث تھے۔

SV-Apoorvanand-Thumb

چلتی ٹرین میں قتل، بارود کے ڈھیر پر ہریانہ: کیا ہندوتوواد کوئی سیاسی بیماری ہے؟

ویڈیو: مہاراشٹر میں چلتی ٹرین میں آر پی ایف کانسٹبل کے ہاتھوں سینئر افسر اور تین مسلمانوں کے قتل اورگزشتہ دنوں ہریانہ کے نوح میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کی وجہ ایک ہی ہے؟ دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور ڈی یو کے پروفیسر اپوروانند اس بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

Ajoy-Gurgaon-Thumb

ہریانہ: نوح کے تشدد کے بعد گڑگاؤں سے نقل مکانی کر رہے  ہیں مسلمان

ویڈیو: ہریانہ کے نوح میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعدگڑگاؤں کے بادشاہ پور میں مسلمانوں کی دکانوں میں لوٹ اور توڑپھوڑ کا مشاہدہ کیا گیا، ساتھ ہی مسلم اکثریتی جھگی بستی میں مبینہ طور پر آگ زنی کی بھی خبریں آئیں۔اس کے بعد کئی مسلم خاندان شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

نوح کے نلہر مہادیو مندر کا مین گیٹ۔ (تمام تصاویر: اتل ہووالے/دی وائر)

ہریانہ: مسلمانوں کے ذریعے مندر میں لوگوں کو یرغمال بنانے کے وزیر داخلہ کے دعوے کو پجاری نے خارج کیا

سوموار کو نوح میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد ریاست کے وزیر داخلہ انل وج نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلم فسادیوں نے نلہر مہادیو مندر میں تقریباً 3-4 ہزار لوگوں کو یرغمال بنایا تھا۔ مندر کے پجاری نے دی وائر کو بتایا کہ ایسا نہیں ہوا تھا۔ حالات خراب ہونے کی وجہ سے لوگ وہاں پھنسے ہوئے تھے۔

فوٹو بہ شکریہ: ویڈیو اسکرین گریب

گڑگاؤں: ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگاتی بھیڑ نے کم از کم 14 دکانوں کو نذر آتش کیا، اکثر دکانیں مسلمانوں کی تھیں

ہریانہ کے نوح اور گڑگاؤں علاقوں میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان منگل کو گڑگاؤں کے بادشاہ پور میں بریانی بیچنے والی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور بسئی روڈ کے پٹودی چوک پردکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔ دریں اثنا،گڑگاؤں ضلع کے تمام پٹرول پمپوں پر کھلے ایندھن کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

گزشتہ سوموار کو ہریانہ کے نوح میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ (فوٹو: ویڈیو اسکرین گریب)

ہریانہ: ہندوتوا تنظیموں کے مذہبی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم میں 3 لوگوں کی موت

ہریانہ کے نوح میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد انٹرنیٹ خدمات بند کرنے کے ساتھ ہی امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ سوموار کی شام تک تشدد گڑگاؤں کے قریب سوہنا چوک تک پھیل گیا تھا، جہاں مبینہ طور پربجرنگ دل کے ارکان نے کچھ گاڑیوں میں آگ لگا دی تھی اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کی تھی۔

ہریانہ کے بھوانی ضلع میں جلی ہوئی بولیرو کار، جس کے اندر سے جنید اور ناصر کی جلی ہوئی لاشیں ملی تھیں۔ (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

ہریانہ پولیس کے تھانے سے لوٹانے کے بعد گئو رکشکوں نے جنید اور ناصر کا قتل کیا تھا: راجستھان پولیس کی چارج شیٹ

راجستھان کے باشندوں جنید اور ناصر کی جلی ہوئی لاشوں کے معاملے میں راجستھان پولیس نےچارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مبینہ گئو رکشک دونوں کو پیٹنے کے بعد ہریانہ کے نوح ضلع کے تھانے لے گئے تھے،لیکن جب پولیس نے انہیں لوٹا دیا تو انہوں نے ان کا قتل کر دیا۔

سونی پت کے گاؤں میں واقع مسجد پر حملے کے بعد تعینات پولیس اہلکار۔ (فوٹوبہ شکریہ: اے این آئی)

ہریانہ: مسجد پر بھیڑ کے حملے کے بعد سونی پت کے گاؤں میں کشیدگی

پولیس نے بتایا کہ ہریانہ کے سونی پت ضلع کے صندل کلاں گاؤں میں اتوار کی رات تقریباً 9 بجے مسلح افراد نے مبینہ طور پر نماز پڑھ رہے لوگوں پر حملہ کیا اور مسجد میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس معاملے میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، چھ حراست میں ہیں۔

Ghatmeeka-Thumb

’بھیوانی قتل کیس: مہینے بھر میں کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا، ہمیں اب کوئی امید نہیں‘

ویڈیو: راجستھان کے بھرت پور ضلع کے گھاٹمیکا گاؤں کے رہنے والے جنید اور ناصر کی جلی ہوئی لاشیں ہریانہ کے بھیوانی میں ایک کار سے ملی تھیں۔ ایک ماہ گزرنے کے باوجود پولیس کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی امیدختم ہوتی جا رہی ہے۔

گھاٹمیکا گاؤں میں جنید اور ناصر کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے اہل خانہ اور رشتہ دار۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

راجستھان: بھیوانی میں مارے گئےجنید اور ناصر کے اہل خانہ کے احتجاجی مظاہرہ پر ’امن و امان کی خلاف ورزی‘ کا نوٹس

ہریانہ کے بھیوانی میں مارے گئے جنید اور ناصر کےاہل خانہ اور رشتہ دار راجستھان کے بھرت پور میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، جس کے لیے ضلع انتظامیہ نے انہیں ‘وجہ بتاؤ نوٹس’ جاری کیا ہے۔ مظاہرین نے مقامی ایم ایل اے اور ریاستی وزیر تعلیم زاہدہ خان پر احتجاج ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔

Mahapanchayat-thumb

ہریانہ: مونو مانیسر کی حمایت میں بجرنگ دل اور وی ایچ پی کی ’مہاپنچایتیں‘ کیا دکھاتی ہیں

ویڈیو: ہریانہ کے ہتھین میں بجرنگ دل اور وشوہندو پریشدکی طرف سے 22 فروری کو بلائی گئی ایک اور ‘ہندو مہاپنچایت’میں مبینہ طور پر گئو رکشک مونو مانیسر کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مسلمانوں اور پولیس کے خلاف تشدد کی کھلی اپیل کی گئی ۔ مونو کا نام بھیوانی مرڈر کیس کے ملزم کے طور پر سامنے آیا ہے۔

جنید اور ناصر قتل کیس سے متعلق مبینہ سفید اسکارپیو۔

جنید-ناصر کو اغوا کرنے کے لیے استعمال کی گئی کار ہریانہ حکومت کی گاڑی کے طور پر لسٹڈ

آن لائن کارآنر شپ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جنید–ناصر کو اغوا کرنے کے لیے استعمال کی گئی سفید رنگ کی اسکارپیو کار ہریانہ حکومت کے پنچایت اورڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی ہے۔ تاہم، پولیس نے دی وائر کو بتایا کہ حال ہی میں اس کی ‘نیلامی ‘ کر دی گئی تھی۔ بتادیں کہ گائے اسمگلنگ کے الزام میں دونوں مسلم نوجوانوں کوزندہ جلا دیا گیا تھا۔

ہریانہ کے ہتھین میں ہوئی  ہندو مہاپنچایت میں حصہ لینے والے لوگ۔ (تصویر: یاقوت علی/دی وائر)

ہریانہ: مونو مانیسر کی حمایت میں دوسری ’ہندو مہاپنچایت‘، مسلم مخالف تشدد کی اپیل

ہریانہ کے ہتھین میں 22 فروری کو بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے لوگوں کی طرف سے بلائی گئی دوسری ‘ہندو مہاپنچایت’ میں گئو رکشک مونو مانیسر کے خلاف کارروائی کرنے پر مسلمانوں اور پولیس کے خلاف تشدد کی کھلی اپیل کی گئی۔گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں زندہ جلا دیے گئے جنید اور ناصر کےقتل معاملے میں مونو ملزمین میں سے ایک ہے۔

Yaqut-Ghatmeeka-Thumb

’ہمارا جھگڑا کسی ذات یا مذہب سے نہیں ہے، مجرموں کو سزا ملے اور ہمیں انصاف‘

ویڈیو: ہریانہ کے بھیوانی میں گائے کے نام پر تشدد کے مبینہ معاملے میں جان گنوانے والے جنید اور ناصر کا تعلق راجستھان کے گھاٹمیکا سے تھا۔ ان کے گاؤں میں سوگ کا ماحول ہے اور لوگ انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دی وائر کے یاقوت علی کی رپورٹ۔

Monu-Manesar-Thumb

بھیوانی قتل کیس: کون ہے معاملے کا مفرور ملزم ’گئو رکشک‘ مونو مانیسر؟

ویڈیو: ہریانہ کے بھیوانی میں گائے کے نام پر تشدد کا ایک مبینہ معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں دو نوجوانوں کو اغوا کر کے ان کی گاڑی میں آگ لگا کر مار دینے کا الزام ہے۔ ایف آئی آر میں مونو مانیسر نامی ایک ‘گئو رکشک’ پر اس واقعے کو انجام دینے کا الزام ہے۔ کیا ہےمونو مانیسر کی کہانی، بتا رہے ہیں دی وائر کے ذیشان کاسکر ۔

ہریانہ کے بھیوانی ضلع میں ایک جلی ہوئی بولیرو کار، جس کے اندر سے دو لوگوں کی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں۔ (فوٹوبہ شکریہ: اے این آئی)

ہریانہ: کارمیں دو لوگوں کی جلی ہوئی لاش ملی، اہل خانہ نے بجرنگ دل پر قتل کا الزام لگایا

ہریانہ کے بھیوانی ضلع کا معاملہ۔اہل خانہ نے گائے کے نام پر تشدد کا الزام لگایا ہے۔ پولیس کے مطابق، جمعرات کو ایک کارکے اندر سے دو جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں۔ اس سے ایک دن پہلے، راجستھان میں ایک خاندان نے ایف آئی آر درج کرائی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ دو نوجوان– جنید اور دوست ناصر – لاپتہ ہو گئے تھے اور انہیں بجرنگ دل کے لوگوں نے اغوا کر لیا تھا۔

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

گڑگاؤں: بجرنگ دل نے کھلے میں نماز کے خلاف نعرےبازی کی

بجرنگ دل کے ارکان نے جمعہ کے روز ہریانہ کے گڑگاؤں کے سیکٹر- 69 میں کھلے میں ہو رہے نماز میں خلل ڈالا، جس کی وجہ سے نماز ادا کر رہے 100لوگوں کے ایک گروپ کو وہاں سے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ سال 2021 میں ضلع انتظامیہ نے اس جگہ کو نماز کی ادائیگی کے لیے چھ کھلے مقامات میں سے ایک کے طور پر نشان زد کیا تھا۔

کارکن شیو کمار۔

لیبر رائٹس ایکٹوسٹ شیو کمار کے ساتھ ہریانہ پولیس نے غیر قانونی حراست میں وحشیانہ سلوک کیا تھا: جانچ رپورٹ

دلت اور مزدوروں کے حقوق کے کارکن شیو کمارکو ہریانہ پولیس نے گزشتہ سال مزدوروں کے حق میں ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے پر حراست میں لے لیا تھا۔ ان کے والد کی رٹ پٹیشن پر پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ نے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کروائی تھی، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تشدد کے واقعات کو انجام دینے میں اس وقت کے جوڈیشل مجسٹریٹ، سونی پت سول اسپتال کے ڈاکٹر اور جیل حکام نے ہریانہ پولیس کے ساتھ ملی بھگت کی تھی۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

ہریانہ: دو سو سے زائد لوگوں کی بھیڑ کا مسجد پر حملہ، نمازیوں کو گاؤں سے نکالنے کی دھمکی

یہ واقعہ گڑگاؤں کے بھورا کلاں گاؤں میں پیش آیا، جہاں بدھ کو 200 سے زیادہ لوگوں نے ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی، وہاں نماز ادا کر رہے لوگوں پر حملہ کیا اور انہیں گاؤں سے نکالنے کی دھمکی دی ۔ بتایاگیا ہے کہ گاؤں میں مسلم خاندانوں کے چار گھر ہیں۔

  مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

کووڈ-19 ٹیکہ کاری مہم کے مکمل ہونے کے بعد سی اے اے کو لاگو کیا جائے گا: امت شاہ

مغربی بنگال کے بی جے پی ایم ایل اے اور ریاست میں حزب اختلاف کے رہنما شبھیندو ادھیکاری نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیامنٹ ہاؤس میں ایک میٹنگ کے دوران انہیں یقین دلایا کہ شہریت ترمیمی قانون سے متعلق ضوابط کووڈ 19ٹیکہ کاری کی احتیاطی خوراک کے مکمل ہونے کے بعد تیار کیے جائیں گے۔

sahil 1

ان 5 حقائق کی روشنی میں جانیے مودی حکومت سی اے اے پر آپ کو کس طرح بیوقوف بنا رہی ہے

ویڈیو: بی جے پی شہریت قانون یعنی سی اے اے پر ہندوستانیوں کو مزیدبیوقوف نہیں بنا سکے گی۔ افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہندوؤں اور سکھوں کے تحفظ کی باتوں اور دعووں کے بیچ مودی حکومت کے قول و فعل کےتضاد کو اجاگر کر رہے ہیں ساحل مرلی مینگھانی۔

Cow-Vigilante-Nuh-Muslims

ہندو مہاپنچایت میں ہریانہ حکومت کو ایک مہینے میں گائے کی اسمگلنگ اور گئو کشی ختم کرنے کا الٹی میٹم

ہریانہ کے نوح ضلع میں ‘ہندو مہاپنچایت’ بلائی گئی تھی، جس میں گئو رکشکوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لینے اور انہیں لائسنسی اسلحہ دینے سمیت کئی مطالبات کیے گئے۔ یہ مہاپنچایت نوح میں ان واقعات کے بیچ بلائی گئی تھی جن میں مبینہ طور پر گئو رکشکوں کے گروپوں نے مسلم نوجوانوں کو پیٹنے کے ساتھ ان اغوا کیا اور ان پرمویشیوں کی اسمگلنگ اور گئو کشی کا الزام لگایا گیا تھا۔

0205 Akanksha GR.00_04_06_04.Still008

گائے کا دودھ بیچنے والے مسلم خاندان پر کون کر رہا ہے حملہ؟

ویڈیو: روزی روٹی کے لیے دودھ بیچنے والے مسلم ڈیری فارمر کے ساتھ مبینہ گئو رکشکوں کے ذریعے مارپیٹ اور بدتمیزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ڈیری فارمر ہریانہ کے شیخ پور گاؤں میں گائے کا گوشت فروخت کر رہے تھے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہشت گردی کی وجہ سے 90 کی دہائی میں 64827 کشمیری پنڈت خاندان نقل مکانی کو مجبور ہوئے : وزارت داخلہ

وزارت داخلہ کی 2020-21 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 1990 اور 2020 کے درمیان جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی وجہ سے 14091 شہری اور 5356 سیکورٹی فورس اہلکار ہلاک ہوئے۔ کشمیری پنڈتوں کے علاوہ عسکریت پسندی کی وجہ سے کچھ سکھ اور مسلم خاندان کو بھی وادی سے جموں، دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں نقل مکانی کرنے کو مجبور ہونا پڑا۔

فوٹو: رائٹرس

کشمیر میں 1990 سے 2021 کے درمیان 89 کشمیری پنڈت مارے  گئے: آر ٹی آئی

آر ٹی آئی کارکن پی پی کپور نے جموں و کشمیر پولیس اور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس دائر ایک درخواست میں کشمیری پنڈتوں کے خلاف تشدد، ان کی نقل مکانی اور بازآبادی سے متعلق جانکاری مانگی تھی ۔ اس کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ تشدد یا تشدد کی دھمکیوں کی وجہ سے وادی چھوڑکر نقل مکانی کرنے والے 1.54 لاکھ افراد میں سے 88 فیصد ہندو تھے، لیکن 1990 کے بعد سے تشدد میں مرنے والے زیادہ تر لوگ دوسرے مذاہب سے تھے۔