Author Archives

اپوروانند

فوٹو: رائٹرس

اسرائیل جیسی طاقتور ریاست کے تشدد پر بات نہیں کرنا  جرم  عظیم ہے…

یوم نکبہ: فلسطین-ہماری آنکھوں کے آگے گم ہوتے ہوئے ایک ملک کا نام ہے۔فلسطین کے زخم سے خون آہستہ آہستہ ٹپک رہا ہے۔ لیکن وہ ہماری روح کو نہیں چھوتا۔ ابھی جو لاکھوں فلسطینی جلاوطن ہیں، کیا ان کو اپنے ملک لوٹنے کا حق نہیں ہے؟ کیا ہم اسرائیل کے جھوٹ کو سچ مان لیں‌گے۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

جئے شری رام کا نعرہ رام کی عظمت کا اقرار نہیں، غنڈہ گردی  کا اعلان ہے

لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ ان کی رام تحریک مذہبی نہیں تھی۔ وہ رام نام کے پس پردہ مسلمانوں سے نفرت والےسیاسی ہندو کو تیار کرنے کی تحریک تھی۔ جئے شری رام اسی گروپ کا ایک سیاسی نعرہ ہے۔ اس نعرے کا رام سے اور رام کے احترام سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں۔ آپ جب جئے شری رام سنیں تو مان لیں کہ آپ کو جئے آر ایس ایس کہنے کی اور سننے کی عادت ڈالی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس رنجن گگوئی(فوٹو : پی ٹی آئی)

عدالت نے اپنے مکھیا کی حفاظت میں عدلیہ  پر عوام کے بھروسے  کا قتل کر ڈالا

جنسی استحصال کے معاملوں میں سب سے ضروری مانا جاتا ہے کہ اگر ملزم کسی ادارہ میں فیصلہ کن حالت میں ہے، تو وہاں سے اس کو ہٹایا جائے۔ گزشتہ دنوں ایسے کتنے ہی واقعات ہمارے سامنے آئے جن میں ادارہ کے چیف کو کام سے بری کیا گیا۔ غیر جانبداری کی یہ پہلی شرط مانی جاتی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ سے جڑے اس خاص معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔

2018 میں گجرات کے  سورت میں ایک روڈ شو کے دوران سادھوی پرگیہ  سنگھ ٹھاکر (فوٹو : پی ٹی آئی)

سادھوی پرگیہ کو امیدوار بنا کر بی جے پی دیکھنا چاہتی ہے کہ ہندوؤں کو کتنا نیچے گھسیٹا جا سکتا ہے

لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس انتخاب میں بی جے پی کا بھروسہ  چھوٹ رہا ہے، اس نے سادھوی کو لاکر برہماستر چلایا ہے۔ یہ امتحان اصل میں بی جے پی کا نہیں ہے، یہ ہندوؤں کا امتحان ہے۔ کیا وہ مذہب کے اس مطلب  کو قبول کرنے […]

فوٹو بہ شکریہ: سوریہ  سماچار / فیس بک

کیوں پنیہ پرسون باجپئی جیسے لوگوں کو عوام کی نگاہ سے الگ کرنا ضروری ہے؟

آخر کیا بات ہے کہ زراعتی معاملہ ہو، اقتصادیا ت کے دوسرے پہلوہوں، یونیورسٹی ہوں یا اسکول، ہندی اخباروں یا چینلوں سے ہمیں نہ تو صحیح جانکاری ملتی ہے، نہ تنقیدی تجزیہ؟ کیوں ساری ہندی میڈیا حکومت کی جئے جئے کار میں مصروف ہے؟

Apporvanand

اپوروانند کی ماسٹر کلاس: 1984 معاملے میں سجن کمارکو سزا ،2002 کے ملزموں کو وارننگ؟

دہلی ہائی کورٹ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں 34 سال بعد کانگریس رہنما سجن کمار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ لیکن انصاف ایک ہی خاندان کو ملا ہے ۔ کیوں انصاف کے لیے غیر معمولی کوشش کرنی پڑتی ہے اور ایک جمہوریت میں انصاف ملنا عام بات نہیں ہے ۔ کیاہم قاتل کے ساتھ رہنے کے عادی ہوگئے ہیں ؟ پروفیسر اپوروانند کی پہلی ماسٹر کلاس۔

گزشتہ اکتوبر میں مدھیہ پردیش کی دتیا کے پیتامبرا پیٹھ میں پوجا کرتے کانگریس صدر راہل گاندھی، مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ اور کانگریس رکن پارلیامان جیوترادتیہ سندھیا (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا اس ملک میں اب بحث صرف اچھے ہندو اور برے ہندو کے بیچ رہ گئی ہے؟

کانگریس نے سیکولرازم کا نام لینا چھوڑ دیا ہے۔ ایک ایسا خیال جس میں اس پارٹی کی خاص خدمات تھیں، ہندوستان کو ہی نہیں، پوری دنیا کو، اب اس میں اتنا اعتماد نہیں رہ گیا ہے کہ انتخاب کے وقت اس کی بات بھی کی جا سکے۔

فوٹو: Meena Kadri/Flickr CC BY-NC-ND 2.0

اب ترنگا سے سکون نہیں، جنون پیدا کیا جا رہا ہے

ترنگا لےکر آپ کانور یاترا میں چل سکتے ہیں۔ گنیش وسرجن میں بھی اس کو لہرا سکتے ہیں۔ بد عنوانی مخالف تحریک میں بڑے ڈنڈوں میں باندھ‌کر موٹرسائیکل پر دوڑا سکتے ہیں۔ ترنگا سے آپ مسلمانوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کی لاش ڈھک سکتے ہیں، لیکن اس سے آپ اپنی بےپردگی ڈھک نہیں سکتے!

2014 میں دہلی  میں ہوئی  ٹیچرس ڈےتقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی (فوٹو : پی آئی بی)

ٹیچرس ڈے اور ان کی عزت افزائی کا ڈرامہ…

اساتذہ کے ساتھ توہین آمیز رویہ کوئی نئی بات نہیں۔گزشتہ 4 سالوں میں مرکزی حکومت نے ہندوستان کے فیڈرل اسٹرکچر کی تردید کرتے ہوئے جس طرح ٹیچرس ڈےکو ہڑپ لیا ہے کہ اس کے ذریعے وزیر اعظم کی امیج نکھاری جا سکے،بس اس کو یاد کر لینا کافی ہے۔

Photo : PTI

6 دسمبرکو ایودھیا میں رام بھکتی اتنی نہیں تھی جتنی مسلمانوں کے خلاف نفرت

1992 کی چھ دسمبر کو جو لاکھوں ہندو ایودھیا میں جمع ہوئے وہ کیا اچانک ہی ایک متشدد بھیڑ میں بدل گئے؟ کیا اچانک ہی ان کے اندر ابال آ گیا اور انہوں نے مسجد مسمار کردی؟ کیا یہ لمحاتی وحشت تھی؟ 6 دسمبر ہندوؤں کے لئے شرمندگی […]

PTI9_25_2017_000050B

دین دیال اپادھیائے:مسلم مخالف ذہنیت کوسرکاری فلاسفرکیوں بنایا جارہا ہے؟

ان کواس طرح پیش کر نے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے اس ملک میں گاندھی کے بعدوہی سب سے بڑے دانشور /فلاسفر ہوں ،جن کو پہچانا نہیں گیا۔تو پہلا سوال یہی ہے کہ وہ کس قسم کے فلاسفر ہیں،جن کو ان کے جنم کے 100ویں سال میں […]

Apoorvanand

اب سیکولر دلیلوں سے مسلمانوں کو مارنے کی کوشش ہورہی ہے: پروفیسر اپوروانند

گجرات فساد (2002) میں منہدم عبادت گاہوں کے معاوضے کو لے کر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر پروفیسر اپوروانند کا تبصرہ گجرات فساد (2002) میں عباد ت گاہوں اور مقبروں کے انہدام کے سلسلے میں ایک معاملے کی سماعت میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے […]