Author Archives

اپوروانند

ونایک دامودر ساورکر۔ (تصویر بہ شکریہ: savarkarsmarak.com)

کیا راہل گاندھی کو اس وقت ساورکر کی تنقید کرنی چاہیے تھی …

‘معافی ویر’ کہہ کر ساورکر کو تمسخر کا نشانہ بنانے کے بجائےہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ساورکر واد (ازم) کے معنی ومفہوم پر بات کریں۔ اگر وہ کامیاب ہو ا تو ہم سب انتخابات کے ذریعے راجا کا انتخاب کرتے رہیں گے اور ہمیں فرمانبردار رعایا کی طرح اس کے ہر حکم کی تعمیل کرنی ہوگی۔

(السٹریشن: پرپلب چکرورتی/ دی وائر)

ای ڈبلیو ایس ریزرویشن: جن کو ’وہ‘ ساتھ بٹھانا نہیں چاہتے، ان سے داخلوں اور نوکریوں میں برابری کیوں

صلاحیت کی وجہ سےمواقع ملتے ہیں۔ یہ جملہ غلط ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ موقع ملنے سے صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔ صدیوں سے جنہوں نے تمام مواقع اپنے لیےمحفوظ کر رکھے ہیں، وہ اپنی صلاحیتوں کو فطری اور قدرتی تصور کرنے لگے ہیں۔ وہ نت نئی چالیں اور ترکیبیں ایجاد کرتے ہیں کہ جمہوریت کی وجہ سے جو مواقع ان سے لے لیے گئے ہیں، وہ پھر سے ان کو واپس ان کو مل جائیں۔

برطانوی وزیر اعظم رشی سنک اپنی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر۔ (تصویر: رائٹرس)

رشی سنک کا عہدہ ہندوپن یا ہندوستانیت کی شان نہیں، برطانیہ کی تنوع پسندی ہے

رشی سنک کا وزیر اعظم بننا برطانیہ کے لیےضرور ایک قابل فخر لمحہ ہے، کیونکہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ‘بیرونی لوگوں’ کے ساتھ دوستی میں بڑی ترقی حاصل کرلی ہے۔ اس میں ہندو مذہب یا اس کے پیروکاروں کا کوئی خاص کمال نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ برطانیہ کو بھی ہندو مذہب کا لوہا ماننا پڑا، احساس کمتری کا اظہار ہی ہے۔

 (تصویر ، بہ شکریہ: Facebook/@RSSOrg)

آبادی کے عدم توازن پر موہن بھاگوت کی تشویش: کسی کمیونٹی کا نام نہیں لیا، لیکن سنگھ کے عقلمندوں کو اشارہ ہی کافی ہے …

موہن بھاگوت نے کسی بھی برادری کا نام لیے بغیر ملک میں برادریوں کے درمیان آبادی کے بڑھتے ہوئے عدم توازن پرتشویش کا اظہارکیا۔ سنگھ شروع سے ہی اشاروں میں بات کرتا رہا ہے۔ اس سے وہ قانون کی گرفت سے بچتا رہا ہے۔ ساتھ ہی اشاروں کی زبان کی وجہ سے دانشور حضرات بھی ان کے دفاع میں کود پڑتے ہیں، جیسا کہ اس وقت سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کر رہے ہیں۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@AlinejadMasih

ایران میں خواتین کی بغاوت اپنے طریقے سے جینے کے حق کو پامال کیے جانے کے خلاف غم و غصے کا اظہار ہے

ایران میں اگر گشتی دستے زبردستی حجاب پہنا رہے ہیں ہیں توہندوستان میں سرکاری گشتی دستے زبردستی حجاب اتار رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایران میں اسلامی حکومت مسلمانوں کو اپنے حساب سے پابندکرنا چاہتی ہے اور ہندوستان میں ایک ہندو حکومت مسلمانوں کو اپنے قاعدوں میں قید کرنا چاہتی ہے۔

گیان واپی مسجد۔ (فوٹو: کبیر اگروال/د ی وائر)

گیان واپی: کسی ایک مسجد کو نزاعی مسئلہ بنانے کا مطلب اکثریت پسندی کے رجحان کو بڑھاوا دینا ہے

گیان واپی کیس میں بنارس کی عدالت نے ابھی صرف یہ کہا ہے کہ ہندو خواتین کی عرضی قابل غور ہے۔ میڈیا اس فیصلے کو ہندوؤں کی جیت قرار دے کر مشتہر کر رہی ہے۔ اس سے آگے کیا ہوگا ،یہ صاف ہے۔ وہیں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ متھرا کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

رام کے بعد گنیش کو ہندوتوا کی سیاست کی لڑائی میں بھرتی کیا جا رہا ہے

جگہ–جگہ قبرستان اور عیدگاہ کی زمین پر کبھی پیپل لگا کر، کبھی کوئی مورتی رکھ کر اور بھجن آرتی کا سلسلہ شروع کر کے قبضہ کرنےکےحربے زمانے سے استعمال ہورہے ہیں۔ اب حکومتیں بھی اس میں تندہی سے مصروف ہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ اگر مسلمان اس کی مخالفت کریں تو انہیں عدم روادارکہا جاتا ہے۔

بلقیس اپنی بیٹی کے ساتھ۔ (فائل فوٹو: رائٹرس)

بلقیس کے مجرموں کی رہائی ساورکر کے نظریے کی پیروی ہے

ساورکر نے اپنی کتاب ‘6 گورو شالی ادھیائے ‘ میں ریپ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر جائز ٹھہرایا تھا۔ آزاد ہونے کے بعد ایک مجرم نے کہابھی کہ ان کو ان کے سیاسی نظریے کی وجہ سے سزا دی گئی۔ وہ شاید یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، صرف ساورکر کے سیاسی نظریے کی پیروی کی تھی ۔

کنہیا لال کو آخری رسومات کے لیے لے جاتے ہوئے(تصویر: پی ٹی آئی)۔

ادے پور قتل کے بہانے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے

ادے پور میں بہیمانہ قتل کے باوجود اس پروپیگنڈے کو قبول نہیں کیا جا سکتا کہ ہندو خطرے میں ہیں۔ اس قتل کے بہانے جو لوگ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں، وہ قتل و غارت گری اور تشددکے پیروکار ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک منصوبہ بند سازش چلائی جارہی ہے کہ کسی ایک واقعہ پر ہندو اورمسلمان ایک ساتھ ایک آواز میں نہ بول پائیں۔

SV Apoorvanand.00_29_33_19.Still002

کیا حکومت ہی ملک میں انارکی پھیلا رہی ہے؟

ویڈیو: اگنی پتھ سے لے کر سی اے اے، زرعی قانون اور نوٹ بندی کی وجہ سے ملک میں احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں مودی کی حکومت کے بارے میں دی وائر کے بانی ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔

نوپور شرما اور نوین جندل۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

بی جے پی کے حامیوں کی نظر میں پارٹی سے ہٹائے گئے لیڈر قصوروار نہیں، بلکہ مظلوم ہیں

بی جے پی کی آٹھ سالہ حکومت نے ایک بڑی آبادی ایسی پیدا کی ہے جو مانتی ہے کہ پارٹی لیڈر کے بگڑے بول کی وجہ سے ہوئی بین الاقوامی شرمندگی کے لیے پارٹی کے ‘شعلہ بیاں مقرر’ ذمہ دار نہیں ہیں، بلکہ وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو اس موضوع پر اتنی دیر تک چرچہ کر تے رہے کہ بات ہندوستان سے باہر پہنچ گئی۔

9 مئی 2022 کو دہلی کے شاہین باغ علاقے میں تجاوزات ہٹانے آیا ایم سی ڈی کا بلڈوزر۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

تجاوزات ہٹانے کے بہانے مسلمانوں کے خلاف نفسیاتی جنگ

یوپی، مدھیہ پردیش، گجرات اور اب دہلی میں بلڈوزر کا استعمال ہر دن کے جوش کو بنائے رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ہندوؤں میں مسلمانوں کو اجڑتے، روتے، بدحواس دیکھنے کی پرتشدد خواہش بیدار کی جا رہی ہے۔ اب بی جے پی، میڈیا، پولیس اور انتظامیہ میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔ ایک راستہ دکھا رہا ہے، ایک بلڈوزر کا قانون بتا رہا ہے، ایک ہتھیارکے ساتھ اس کو گھیرا دے کر چل رہا ہے، تو کوئی للکار رہا ہے۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کیا ایک مذہب کے تہوار پر اپنا مذہبی چھاپ چھوڑنے کی عجلت پسندی کسی احساس کمتری کے باعث ہے

عید مبارک کے جواب میں اکشے ترتیہ یا پرشورام جینتی کی مبارکباد دینا کلینڈر پرست مذہبیت کی علامت ہے۔ ہم ہر جگہ اپنا تسلط چاہتے ہیں۔ آواز کی سرزمین پر، آواز کی لہروں پر بھی، دوسروں کی عبادت گاہوں پر اور سماج کے نفسی وجودپر بھی۔

1904 NSC.00_57_15_11.Still038

کیا ہندوستان فرقہ وارانہ تشدد کی کھائی میں گر چکا ہے؟

ویڈیو: گزشتہ چند ہفتوں میں پورے ہندوستان بالخصوص مدھیہ پردیش کے کھرگون شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ ان واقعات پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔

فوٹو: سمیدھا پال / دی وائر

جہانگیرپوری کے واقعات سے کیا سبق لینا چاہیے …

گزشتہ چار پانچ دنوں میں جہانگیر پوری میں جو کچھ ہوا اس نے اس ملک کی بدترین اور بہترین، دونوں تصویروں کو صاف کر دیا ہے۔ اس قلیل عرصے میں ہم جان چکے ہیں کہ ہندوستان کو پورے طور پر تباہ کیسےکیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ اگر اس کو بچانا ہے تو کیا کرنا ہوگا۔

عمر خالد۔ (تصویر: دی وائر)

آخر عمر خالد کو ضمانت کیوں نہیں مل رہی

عمر خالد کی ضمانت عرضی مسترد کرنے کے اپنے فیصلے میں عدالت یہ تسلیم کر رہی ہے کہ وکیل دفاع کی جانب سے پولیس کے بیان میں جو تضادات یا خامیاں نشان زد کیے گئے وہ ٹھیک ہیں۔ لیکن پھر وہ کہتی ہے کہ بھلے ہی تضاد ہو، اس پروہ ابھی غور نہیں کرے گی۔ یعنی ملزم بغیر سزا کے سزا بھگتنے کے لیےملعون ہے!

رامپورہاٹ میں ہوئی آگ زنی ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

تشدد پورے ہندوستان میں ہے، لیکن بنگال کے سیاسی مزاج میں ہی تشدد ہے

مغربی بنگال میں پہلے بائیں بازو کے تشدد کا غلبہ تھا، اسی کو ترنمول نے اپنایا۔ ترنمول نے بائیں بازو کے تشدد کا سامنا کیاتھا، لیکن اب اس کی جگہ اس نے ترنمول کےتشدد کو قائم کردیا ہے۔ پارٹی بھلے بدل گئی ہو، لیکن تشدد وہی ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

ہندو اور حجاب

ہندوؤں کے دلوں میں دریائےسخاوت ٹھاٹھیں مار رہا ہے، اور ان کی ترقی پسندی بھی عروج پر ہے۔وہ عورتوں کو ہر پردے اور ہر بندھن سے آزاد دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ شدت پسندی کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ سب کچھ مسلمان عورتوں کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہندو خواتین کو کبھی کسی شدت پسندی یا کسی مذہبی پابندی کا شکار نہیں ہونا پڑتا !

نریندر مودی(فوٹو : پی ٹی آئی)

وزیر اعظم کی کوئی بھی مخالفت ان کی سلامتی کے لیے خطرہ کیوں ہے

وزیر اعظم کی خوبی یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامناکرتے ہیں تو کسی نہ کسی طرح ان کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ جب سے وہ وزیر اعلیٰ ہوئےتب سے اب تک کچھ وقت کے بعد ان کے قتل کی سازش کی کہانی کہی جانے لگتی ہے۔ لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، لیکن کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ پھر ایک دن ایک نئے خطرے کی کہانی سامنے آجاتی ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہمارے گھروں میں تشدد اور جرائم پل رہے ہیں؟

سال 2014 کےبعدتشددجیسےاس معاشرے کےپور پورسے پھوٹ کر بہہ رہا ہے۔ یہ کہنا پڑے گا کہ ہندوستان کی ہندو برادری میں تشدد اور دوسری برادریوں کے تئیں نفرت کا احساس بڑھ گیا ہے۔غیر ہندو برادریوں میں ہندو مخالف نفرت کےپروپیگنڈے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ نفرت اور تشددیکطرفہ ہے۔

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندو راشٹر ہو یا نہ ہو ہم یقینی طور پر ایک غنڈہ راج میں تبدیل ہو چکے ہیں

پچھلےسات سالوں میں باربارمسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے اشارے کیےگئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کےحق میں دلائل دیے گئے ہیں۔ جب آپ آبادی کنٹرول کے نام پر قانون بناتے ہیں، اپنی بیٹیوں کی دوسرے مذاہب میں شادی کو روکنے کے نام پر، مسلم خواتین کو ان کے مردوں سے بچانے کے نام پر، آپ ان کے خلاف تشدد کے لیے زمین تیار کرتے ہیں۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا پولیس اور انتظامیہ سنگھ کے نظریے کو نافذ کرنے کے لیے زور آزمائی کر رہے ہیں

بی جے پی اور آر ایس ایس نہیں مانتے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو اپنے طریقے سے روزی کمانے اور اپنی طرح سے مذہب پرعمل کرنے کا حق ہے۔لیکن اس بنیادی آئینی حق کو نہ ماننے اور اس کی من مانی تشریح کی چھوٹ پولیس اور انتظامیہ کو نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کر رہے ہیں تو وہ وردی یا کرسی کے لائق نہیں ہیں۔

2018 میں کاس گنج میں ہوئےتشدد میں مارے گئے چندن گپتا۔ (فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

کیا چندن گپتا ہندوتوا قوم پرستی کا شکار ہوا؟

کاس گنج میں سال 2018 میں مارے گئے چندن گپتا کے والدکہہ رہے ہیں کہ نوجوانوں کو اس راستےپر نہیں جانا چاہیے جس پر ہندوتوایاقوم پرستی کے جوش وجنون میں ان کا بیٹا چل پڑا تھا۔ کیا ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس موت کے بعد یا اس کے بدلے جو چاہتے تھے، وہ نہیں ملا؟ یا وہ اس کے خطرے کو سمجھ پائے ہیں؟

غازی پور بارڈر پرزرعی قانون واپس لیے جانے کے فیصلے پر جشن مناتے کسان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سنگھو، ٹکری اور غازی پور بارڈر ہندوستانی جمہوریت کے سفر کے سنگ میل ہیں

کسانوں کی تحریک اس کاجیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اگرمقصد واضح ہو تو اختلاف رائےکے باوجودمشترکہ جد وجہد کی جا سکتی ہے۔ سنیکت کسان مورچہ نے ایک لمبے عرصے بعد مشترکہ جدجہدکی پالیسی کو عملی جامہ پہنایا ہے۔

تریپورہ میں ہوئےتشدد اور فیکٹ پھائنڈنگ ٹیم کےارکان پر درج یو اے پی اے کے معاملے کے خلاف  دہلی کے تریپورہ بھون پر ہوا احتجاج۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تریپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد کا فائدہ کس کو مل رہا ہے …

تریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد بی جے پی کی سیاسی ضرورت ہے۔ ایک تو انتخاب ہونے والے ہیں اور جانکاروں کا کہنا ہے کہ ہر انتخاب میں ایسےتشدد سے بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہندو سماج کا مزاج بنانے کے لیے ایسے تشددکی تنظیم ضروری ہے۔

(فوٹو :پی ٹی آئی )

راجناتھ سنگھ نے دروغ گوئی سے کیوں کام لیا؟

اگر راجناتھ سنگھ کو جھوٹ ہی سہی، ساورکر کے معافی نامےکو قابل قبول بنانے کےلیے گاندھی کاسہارا لینا پڑا تو یہ ایک اور بار ساورکر پر گاندھی کی اخلاقی فتح ہے۔ اخلاقی پیمانہ گاندھی ہی رہیں گے، اسی پر کس کر سب کو دیکھا جائےگا۔جب جب ہندوستان اپنی راہ سےبھٹکتا ہے، دنیا کے دوسرے ملک اور رہنماہمیں گاندھی کی یاد دلاتے ہیں۔

آگرہ میں عام آدمی پارٹی کی ترنگا یاترا کے دوران دہلی کے ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا اور راجیہ سبھا ایم پی  سنجے سنگھ۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/@ManishSisodiaAAP)

عام آدمی پارٹی کی ترنگا یاترا اکثریتی قوم پرستی کا ہی نمونہ ہے

عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے ترنگے کے رنگ پکے ہیں۔ خالص گھی کی طرح ہی وہ خالص قوم پرستی کا کاروبار کر رہی ہے۔ ہندوستان اور ابھی اتر پردیش کے رائے دہندگان کو قوم پرستی کا اصل ذائقہ اگر چاہیے تو وہ اس کی دکان پر آئیں۔اس کی قوم پرستی کی دال میں ہندوازم کی چھونک اور سشاسن کے بگھار کا وعدہ ہے۔

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

نام چھپا کر کون لوگ جیتے آئے ہیں اور ان کی گھٹن کو کس نے محسوس کیا ہے؟

پہچان کاتصور خالصتاًانسانی ایجاد ہے۔ پہچان کےلیے خون کی ندیاں بہہ جاتی ہیں۔ پہچان کا سوال اقتصادی سوالوں کے کہیں اوپر ہے۔اس پہچان کو اگر کوئی انڈرگراؤنڈ کر دے، تو اس کی مجبوری سمجھی جا سکتی ہے اور اس سے اس کے سماج کی حالت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔

کلیان سنگھ کےتعزیتی اجلاس  میں ان کےجس خاکی پر بی جے پی کا جھنڈا رکھتے قومی صدرجےپی نڈا اور یوپی ریاستی صدرسوتنتر دیو سنگھ۔ (فوٹو بہ شکریہ  ٹوئٹر)

جس نے پارٹی کے مفاد کو ملکی مفاد سے اوپر رکھا، اس کے لیےقومی پرچم پارٹی کے جھنڈے کے نیچے ہی ہونا چاہیے

جب قومی پرچم کو اکثریتی جرائم کو جائز ٹھہرانے کےآلے کےطورپر کام میں لایا جانے لگےگا تووہ اپنی علامتی اہمیت سےمحروم ہوجائےگا۔ پھر ایک ترنگے پر دوسرا دو رنگا پڑا ہو، اس سے کس کو فرق پڑتا ہے؟

فوٹو: پی ٹی آئی

اولمپک میں ہندوستان کی جیت سے لاتعلق کیوں رہا کشمیر؟

جس دن اخباراور ٹی وی چینل جیولن تھرو میں نیرج چوپڑا کے اس کارنامے کی تفصیلات چھاپ رہے تھے،جس دن نیرج کے پہلے کوچ نسیم احمد کشور انہیں یاد کر رہے تھے، اسی دن دہلی میں سینکڑوں لوگ ہندوستان کے نسیم احمد جیسے نام والوں کو کاٹ ڈالنے کے نعرے لگا رہے تھےاورہندوؤں کو ان کا قتل عام کرنے کا اکساوا دے رہے تھے۔ یہ لوگ بھی، نسیم احمدجیسے نام ایک طرح سے ہندوستان کے کشمیر ہیں، پورے ہندوستان میں بکھرے ہوئے!

WhatsApp-Image-2021-07-10-at-2.03.09-PM-1200x600

کیا ہندوستان میں مذہبی رواداری اور نفرت ساتھ ساتھ ہیں؟

ویڈیو: حال ہی میں پیو ریسرچ سینٹر نے 2019 کے اواخر اور 2020 کی شروعات کے بیچ17زبانوں میں لگ بھگ 30000بالغان کےانٹرویوز پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ ‘ہندوستان میں مذہبی رواداری اور علیحدگی’کے عنوان سےاس مطالعے نےہندوستانی سماج میں مذہب کی حرکیات میں جامع بصیرت فراہم کی ہے۔ اس موضوع پر پروفیسر اپوروانند نے ماہر تعلیم پرتاپ بھانو مہتہ کے ساتھ بات چیت کی۔

(فوٹو: رائٹرس)

کیا ہندوستان میں مذہب کے سلسلے میں قول و فعل میں تضاد ہے

امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹرنے ہندوستان میں مذہبی ہونے کو لےکرسروے رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ دکھاتی ہے کہ ہم ہندوستانی دور سے سلام کےاصول پر عمل پیرا ہیں۔ آپ ہم سے زیادہ دوستی کی امید نہ کریں، ہم آپ کو تنگ نہیں کریں گے جب تک آپ اپنے دائرے میں بنے رہیں۔

25 جون 2021 کو ہوئی کل جماعتی اجلاس  میں وزیراعظم نریندر مودی،وزیر داخلہ امت شاہ اور جموں وکشمیر کے ایل جی  منوج سنہا کے ساتھ جموں وکشمیر کےرہنما۔ (فوٹوبہ شکریہ :پی آئی بی)

جموں و کشمیر: کسی کی زبان کاٹ کر اس سے کیسے بات کی جاتی ہے، کل جماعتی اجلاس اس کی مثال ہے

کل جماعتی اجلاس کوسمجھنے کے لیے جموں وکشمیر کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں،معمولی سیاسی اور اخلاقی فہم کافی ہے۔حکومت ہند نے کیوں انہی رہنماؤں کو بلایا، جنہیں وہ خودغیرضروری مانتی رہی ہے؟ وجہ صاف ہے۔ وہ ایسی بیٹھکوں کے ذریعے5 اگست 2019 کو اٹھائے غیرآئینی قدم کو عوامی طور پرایک طرح کی قانونی حیثیت دلانا چاہتی ہے۔

Natasha

یو اے پی اے: کیا سپریم کورٹ نے انصاف کی طرف بڑھے قدموں میں پھر زنجیر ڈال دی ہے

دہلی ہائی کورٹ کے تین طلبا- کارکنوں کو یو اے پی اے کے معاملے میں ضمانت دینے کے فیصلے کو دوسری عدالتوں کےذریعےنظیر کےطور پر استعمال نہ کرنے کاحکم دےکرسپریم کورٹ نے پھر بتا دیا کہ فرد کی آزادی اور ریاست کی خواہش میں وہ اب بھی ریاست کو ترجیح دیتی ہے۔

Don`t copy text!