بہار حکومت کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایک آرڈر میں کہا گیا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کے پروگراموں کی شروعات ’وندے ماترم‘کے گانے سے ہوگی اور اس کے بعد قومی ترانہ گایا جائے گا۔ پروگرام کا اختتام بہار کے ریاستی گیت-’میرے بھارت کے کنٹھ ہار‘گا کر کیا جائے گا۔
کانگریس کے رکن پارلیامان راہل گاندھی کی مبینہ دوہری شہریت کو لے کر عدالت جانے والے وگنیش ششیر کا نام کرناٹک میں کروڑوں روپے کے فراڈ کے کم از کم دو بڑے معاملوں سے جڑا ہے۔ خود کو بی جے پی کا رکن بتانے والے ششیر پر غبن اور زمین سے متعلق فراڈ کے الزامات ہیں۔
کامیابی کا یہ نشہ، جو اس وقت اپنے عروج پر ہے، پچھلے بیس برسوں میں ماؤ نوازوں اور خصوصاً پولیس فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کے باوجود، کسی کو بھی جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ سلوا جڈوم کی وجہ سے خواتین کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، سو سے زائد گاؤں جلا دیے گئے اور بستر میں ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ لیکن ’کامیابی‘ کے شور میں ان واقعات پر اٹھنے والے اہم سوالات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
رگھو رائے صرف ایک نام نہیں تھے۔ وہ ایک بصیرت تھے۔ ایک احساس تھے۔ ایک دبستان تھے۔ ایک ایسی آنکھ تھے جس نے ہندوستان کو صرف دیکھا نہیں، بلکہ اسے خود سے ملوایا ۔ اس رات ان کا جسم چلاگیا، لیکن ان کی نظرابھی بھی اس ملک کی صبحوں میں گھوم رہی ہے۔ کیمروں کے سرد سیاہ بدن میں، پرانی کانٹیکٹ شیٹس میں، نمائش کی دیواروں پر، اور ہم جیسے شاگردوں کی لرزتی انگلیوں میں۔
سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے روس سےہندوستان کو ہونے والی خام تیل کی درآمدات کی کمپنی وار تفصیلات عام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمیشن نے وزارت پیٹرولیم کے تحت کام کرنے والے پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی)کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اسے ’تجارتی طور پر خفیہ‘بتایا۔
الکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے احکامات کی تعداد ایک سال میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ 2023 میں اوسطاً 6,000 احکامات تھے جو بڑھ کر 2025 میں 24,300 تک پہنچ گئے۔ ان میں سے نصف سے زیادہ احکامات وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے۔
گزشتہ 23 اپریل کو مہاراشٹر کے ضلع یوتمل میں ایلون اور ان کے ساتھی محمد نداف نثار قریشی کیرالہ کے پلکڑ ضلع کے پٹامبی قصبے سے پھلوں سے لدا ٹرک لے کر مدھیہ پردیش جا رہے تھے، جب راستے میں ہتھیاروں سے لیس افراد کے ایک گروہ نے ان کی گاڑی کو روک کر حملہ کر دیا۔ قریشی شدید زخمی ہیں اور آئی سی یو میں بھرتی ہیں۔ اس کے باوجود پولیس نے ’روڈ ریج‘کا کیس درج کر کےہلکی دفعات ہی لگائی ہیں۔
گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی میں گزشتہ ہفتے 30 سے زائد طلبہ بیمار ہو گئے۔ طلبہ کے مطابق، میس کا کھانا کھانے کے بعد فوڈ پوائزننگ کی علامات ظاہر ہوئیں، جبکہ انتظامیہ اسے ہیٹ اسٹروک قرار دے رہی ہے۔ اس دوران، کیمپس کے ہیلتھ سینٹر میں ایک طالبہ کو علاج کے دوران ایکسپائرڈ ڈرپ چڑھائے جانے کے بعد لاپرواہی کے الزامات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔
اگر مودی حکومت اور بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو یہ خواتین ریزرویشن 2024 کے عام انتخابات میں ہی لاگو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد خواتین کو اقتدار میں حقیقی حصہ دینا نہیں، بلکہ ان کے نام پر ووٹ کی سیاسی فصل کاٹنا تھا۔
ایران پر حملوں کے 57ویں دن پاکستان میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، تاہم ایران نے امریکہ سے براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے سفیر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دہلی میں برکس اجلاس بغیر مشترکہ اعلامیے کے ختم ہوا، جو عالمی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک آر ٹی آئی کے توسط سے وزارت خارجہ سے پوچھا گیا تھا کہ ایران پر حملے کے بعد خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی حفاظت کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کیے اور اس سلسلے میں ہونے والی خط و کتابت کے دستاویز فراہم کیے جائیں۔ وزارت نے جواب میں کہا کہ ایسی معلومات اس کے ریکارڈ میں نہیں ہیں۔
یہ ویبینار ہندوستان میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مکالموں کی ایک سیریز کا حصہ تھا، جس کی صدارت او پی شاہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دینا ہے۔
صحافی منیشا پانڈے اور چھ دیگر صحافیوں کی جانب سے ابھیجیت ایرمترا کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ابھیجیت نے ایکس پر پوسٹ اور مضامین کی ایک سیریز میں بار بار انہیں ’طوائف‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ دہلی کی ساکیت عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل پولیس کی جانب سے داخل کی گئی ایکشن ٹیکن رپورٹ تسلی بخش نہیں ہے، کیونکہ اس میں ان ٹوئٹس پر غور نہیں کیا گیا۔
لبنان میں جنگ بندی کو تین ہفتے بڑھانے کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور امریکی محاصرہ جاری ہے۔ غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے، جبکہ جنوبی لبنان اور مغربی کنارے پر اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت اگرچہ عوام کو یقین دہانی کرا رہی ہے کہ ملک میں ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں ہے، لیکن کئی ریاستوں میں اس کی قلت دیکھی جا رہی ہے۔ بہار حکومت نے پی ڈی ایس کے ذریعے راشن کارڈ ہولڈروں کو کوئلہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہیں ہریانہ کے محکمہ تعلیم نے اسکولوں میں مڈ ڈے میل کے لیے سلنڈر کے متبادل کے طور پر لکڑی استعمال کرنے کو کہا ہے۔
ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے شاعرہ، مصنفہ اور ایکٹوسٹ انیتا بھارتی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں محبت کو بدنام کرنے کے لیے کئی طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ذات-کجات سے متعلق دلائل دیے جاتے ہیں۔ لیکن محبت بذات خود اس قدر انقلابی ہوتی ہے کہ وہ کسی بندھن کو نہیں مانتی۔ محبت میں ہر طرح کے تعصبات ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ لوگوں کو تمام برائیوں سے آزاد کر دیتی ہے۔
پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کو ایک سال بیت چکا ہے، تاہم اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ان’خامیوں‘کے بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے، جن کی وجہ سے یہ حملہ ممکن ہو سکا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ حملے کے بعد کوئی اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں اور کیا کسی کی جوابدہی طے کی گئی ہے۔
لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ایک بڑا حلقہ ابھی بھی حزب اللہ کو ہی لبنانی قوم پرستی کی علامت اور اسرائیل کے خلاف قوت کے بطور تسلیم کرتا ہے۔
حد بندی کے لیے نئے قواعد طے کرنے اور لوک سبھا کی نشستوں کو بڑھا کر 850 کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر مودی حکومت کو ملی شکست سے کئی اہم سیاسی اشارے سامنے آئے ہیں۔ لوک سبھا میں اس شکست سے مودی حکومت کی ’ناقابل تسخیر‘ ہونے کی شبیہ کو بھی شدیددھچکا لگا ہے۔
سی پی آئی (ایم) کی سینئر لیڈر برندا کرات نے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قوم سے خطاب میں خواتین کے لیے آنسو بہانے والے وزیراعظم مودی کئی بار خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو دھوکہ دے چکے ہیں۔
غور طلب ہے کہ8 جون 2018 کو بچہ چور ہونے کے شبہ میں ایک ہجوم نے ایک گاڑی کو روک کر ایک موسیقار اور اس کے دوست کو بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ وہ دونوں پکنک سے واپس آ رہے تھے۔ اب نگاؤں کی ایک خصوصی عدالت نے 20 ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ سزا 24 اپریل کوسنائی جائے گی۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 53 ویں دن بھی کشیدگی برقرار ہے۔ ٹرمپ نے مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ دی ہے، جبکہ ایران نے دباؤ میں آ کر بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ لبنان میں حملے جاری ہیں اور امریکہ میں جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر رہے ہیں۔
گزشتہ 18اپریل کو اپنے خطاب میں نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں تین بلوں کے پیکیج کو منظور نہ کروا پانے پر ’ملک کی ماؤں اور بہنوں‘ سے ’معافی‘ مانگی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی مواقع سامنے آئے ہیں، جہاں وزیر اعظم مودی کے لیے معافی مانگنا زیادہ موزوں ہوتا۔
ایران پر حملوں کے 52 ویں دن امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی جہاز ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ مجوزہ مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے تیل بازارکے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
آئینی ترمیمی بل کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سنیچر کو کہا کہ یہ مودی حکومت کی جانب سے جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو بدلنے کی سازش تھی، جسے ہم نے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے اسے جمہوریت کی بہت بڑی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مودی حکومت کو پہلی بار دھچکا لگا ہے اور یہ ضروری تھا۔
جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔
ای ڈی اور محکمہ انکم ٹیکس نے جمعہ کو عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس سے وابستہ اپوزیشن رہنماؤں کی جائیدادوں پر چھاپے مارے ہیں۔ اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی مرکزی ایجنسیوں اور حتیٰ کہ الیکشن کمیشن کا بھی استعمال کر رہی ہے۔
بیک اسٹوری: حد بندی کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو پارلیامنٹ میں کئی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن گہرائی سے جائزہ لینے پر وہ گمراہ کن ثابت ہوتی ہیں۔
سنبھل ضلع انتظامیہ نے ضلع کے بچھولی گاؤں میں ایک امام باڑے اور عیدگاہ کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے منہدم کر دیا کہ یہ عمارتیں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔
لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کو روک دیا۔ وہیں، بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا۔
لوک سبھا کی توسیع اور بڑے پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔ ایوان میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔
ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت ثقافت نے بتایا کہ اس نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے صد سالہ جشن کے اشتہارات پر 76 لاکھ روپے خرچ کیے۔ دی وائر سے بات چیت میں وزارت کے سکریٹری نے اسے معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں کا فیصلہ وزیر داخلہ کی سربراہی والی ایک کمیٹی کرتی ہے۔
مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہونے کے 940 دن اور راجیہ سبھا میں 939 دن کی تاخیر کے بعد جمعرات کو106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، کو نوٹیفائی کیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن کو قانون کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس نئے بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔
بی جے پی نے خواتین کے لیے ریزرویشن لاگو کرنے کے لیے 2011 کی مردم شماری کو بنیاد کیوں بنایا، یہ سوال مسلسل اٹھ رہا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد حاشیائی طبقے کی تعداد میں اضافے سے او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ تیز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حد بندی کے حوالے سے بھی اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے، اس کے بعد ہی حد بندی کی جائے۔
مرکزی وزارت داخلہ نے ’ہندو راشٹر‘کی وکالت کرنے والے مدھیہ پردیش کے کتھاواچک دھیریندرکرشن شاستری کی قیادت میں چلنے والے مذہبی ادارے بابا باگیشور دھام کو فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے) کے تحت رجسٹریشن دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب یہ تنظیم غیر ملکی چندہ حاصل کرنے کی اہل ہو گئی ہے۔
لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ’ گھروں کی کوئی ذات نہیں ہوتی‘- سننے میں ایک سادہ سا بیان لگ سکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اس سچائی سے آنکھ چرانے جیسا ہے، جسے ملک کا ایک بڑا حصہ روز جیتا ہے۔ آج بھی ملک کے کئی حصوں میں بستیاں ذات کی بنیاد پرمنقسم ہیں اور یہ تفریق صرف سماجی رویوں تک محدود نہیں ہے۔
دس سال پہلے کی نوٹ بندی کی طرح اچانک لیا جارہا حد بندی کا فیصلہ ہندوستان کے بڑے حصوں کو سیاسی طور پر کمزور کر دے گا، اور اس کے ساتھ ہی یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے پر دور رس اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں، جو معیشت کے مرکز، روزگار فراہم کرنے والے اور سماجی ترقی کی نمایاں مثال رہے ہیں۔
نریندر مودی کی حکومت ہندوستان کی آبادی میں اضافے کے بارے میں تشویش میں مبتلا نظر آتی رہی ہے، لیکن اب ایک ڈرامائی موڑ میں مودی حکومت آبادی میں اضافے کو انعام دینے کی سمت میں قدم اٹھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارلیامنٹ میں پیش کیے گئے تین مجوزہ بلوں کی ساخت کے مطابق، حکومت جان بوجھ کر زیادہ آبادی والے علاقوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
اڑیسہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف نوین پٹنائک نے مطالبہ کیا ہے کہ اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی حد بندی بل میں ریاست کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک قرارداد منظور کرنے کی خاطر’ 48 گھنٹوں کے اندر‘اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلائیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حد بندی بل اپنی موجودہ شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو اڑیسہ کے سیاسی مفادات شدیدطور پر متاثر ہوں گے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو مرکز کی مجوزہ حد بندی بل کے خلاف سیاہ کپڑے پہن کر اسے ’کالا قانون‘سے تعبیر کرتے ہوئے بل کی ایک کاپی جلائی اور کالاجھنڈا دکھایا۔ انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے ہوئے احتجاج نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی اسی طرح کی تحریک اس تجویز کو چیلنج پیش کرے گی۔