پارلیامنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران حکومت نے بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 2014 سے اب تک منی لانڈرنگ کے 6,444 معاملے درج کیے ہیں۔ وہیں، محکمہ انکم ٹیکس نے اسی مدت میں 13,877 معاملے درج کیے اور 9,657 چھاپے ماری کی۔ انکم ٹیکس کے معاملوں میں 522 افراد کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور 963 کو بری کیا گیا۔ محکمہ نے 3,345 معاملے واپس لے لیے۔
مشہور زمانہ مصنف سلمان رشدی نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی، مسلمانوں کی امیج کو نشانہ بنائے جانے اور صحافیوں – مصنفین پر دباؤ کے حوالے سےتشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کئی دہائیوں قبل ان خطرات کے آثار دیکھ لیے تھے، جن کی تصدیق اب ہو رہی ہے۔
گزشتہ 22نومبر کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام ضلع حکام کو مبینہ ‘دراندازوں’ کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اب لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے ایک کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس میں سب سے پہلےآسام سے آنے والے اور چھوٹے موٹے کام کر کے روزی کمانے والے 50 سے زیادہ خاندان نشانےپر آ گئے ہیں۔
ہندوستان کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈیگواس وقت اپنے سب سے بڑے آپریشنل بحران سے دوچار ہے، جس کے باعث ملک بھر میں فضائی خدمات ایک مجازی تعطل کا شکار ہے۔ دریں اثنا، حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی نے سوال کیا ہے کہ کیوں انڈیگو کو کووڈ-19 وبائی مرض کے بعد کے سالوں میں ہوا بازی کے شعبے میں عملی طور پر اجارہ داری کی اجازت دی گئی۔
دہلی میں خواتین کے تحفظ کے خدشات کے درمیان دہلی خواتین کمیشن ڈیڑھ سال سے بند پڑا ہے۔کمیشن کی آخری چیئرپرسن سواتی مالیوال تھیں، جنہوں نے جنوری 2024 میں راجیہ سبھا میں جانے کے لیے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سال فروری میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے خواتین کے تحفظ کے بارے میں تمام طرح کے دعوے کیے تھے، لیکن آج تک کمیشن کے دفتر پر لگا تالہ کھل نہیں سکا ۔
دہلی سمیت کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آر عمل کے درمیان، دہلی بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس عمل کے پس پردہ اسلامو فوبک پوسٹ شیئر کرنے کے الزام لگ رہے ہیں۔ زمینی سطح پر ایس آئی آرسے متعلق انسانی اور انتظامی مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں، لیکن بی جے پی اس پوری کارروائی کو محض ‘دراندازوں کو ہٹانے’ کی مہم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
بی جے پی کو 2024-25 میں مختلف الیکٹورل ٹرسٹوں سے 959 کروڑ روپے کا سیاسی چندہ ملا، جن میں سے تقریباً 757 کروڑ روپے، جو اس پارٹی کو موصول ہوئے کل چندے کا 83 فیصد ہے، ٹاٹا گروپ کے زیر کنٹرول پروگریسو الیکٹورل ٹرسٹ سے آئے۔
میرٹھ میں ہندو خاندان سے ایک مسلمان کےگھر خریدنے کے سودےنے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ مقامی ہندو گروپوں نے اس کو لے کرپولیس تھانے اور بعد میں گھر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیااور ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کیا۔ بیچنے والے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں خریدار کے مسلمان ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جس نے اچھی قیمت دی، انہوں نے اس کو مکان بیچ دیا۔
مودی حکومت نے نئے موبائل فون میں سنچار ساتھی ایپ کو لازمی قرار دیا ہے، جسے صارفین ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔ ماہرین اور شہریوں نے اسے پرائیویسی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ سائبر سکیورٹی کی بات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ چند سالوں میں کو-ون، آئی سی ایم آر اور دیگر سرکاری ویب سائٹ یا پلیٹ فارم سے ہندوستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔
نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی کی چارج شیٹ کے چھ ماہ بعد گاندھی فیملی کے خلاف نئی ایف آئی آر کیوں درج کی گئی؟ کیا ای ڈی کو منی لانڈرنگ کے ثبوت ملے ہیں؟ اس معاملے کو سیاسی طور پر اتنا حساس کیوں مانا جا رہا ہے؟ دی وائر کی یہ رپورٹ اس پورے معاملے کی پرتیں کھولتی ہے۔
چالیس سال بعد سوال اب یہ نہیں ہےکہ نیلی میں کیا ہوا؟ بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان اب اس کھلے سچ کے ساتھ کیا کرے گا؟ اگر نیلی کے قاتل سزا پاتے، تو 1984 کا سکھ مخالف قتل عام شاید نہ ہوتا۔ اور اگر سکھوں کے قاتلوں کو فوری سزا ملتی، تو 2002 کے گجرات کے مسلم کش فسادات شاید نہ ہوتے۔ یہ صرف تاریخ نہیں، بلکہ سبق ہے۔
مرکزی وزیر مواصلات جیوترادتیہ سندھیا نے سنچار ساتھی ایپ کو اختیاری بتایا ہے، لیکن سرکاری ہدایات کے مطابق، یہ تمام نئے موبائل فون میں پری-انسٹال اور ان -ڈیلیٹ- ایبل ہے۔
سرکارنے تمام نئے اسمارٹ فون میں ان-انسٹال نہ کیے جا سکنے والے’سنچار ساتھی’ ایپ کولازمی طور پر پری-انسٹال کرنے کی ہدایت دی ہے، جس نےپرائیویسی کے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین اور اپوزیشن نے اسے شہریوں پر نظر رکھنے کا حربہ بتایا ہے اور اس کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا، ٹیلی کام کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ ‘سنچار ساتھی ایپ لازمی نہیں ہے، اسے ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔’
پچھلے تین دنوں میں اتر پردیش کے دو اور راجستھان میں ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)کی موت ہوگئی۔ ان کے اہل خانہ نے موت کی وجہ ایس آئی آر سے متعلق کام کے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ وہیں،الیکشن کمیشن نے ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہ کرتے ہوئے دو ویڈیو جاری کرکے بتایا ہے کہ بی ایل او کام کے دباؤ کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہیں، ڈانس بریک لے رہے ہیں اور اپنے کام کے لیے کیسے ہمت حاصل کر رہے ہیں۔
پریس کی آزادی پر نظر رکھنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرزنے اپنی’پریس فریڈم پریڈیٹرز’یعنی آزادی صحافت کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد اور تنظیموں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں دو ہندوستانی ادارے -اڈانی گروپ اور ہندوتوا ویب سائٹ اوپ انڈیا کو شامل کیا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق، ممبئی اور ناندیڑ کی ووٹر لسٹوں میں خامیاں پائے جانے کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے ممبئی میں اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 3 دسمبر تک بڑھا دی ہے۔ ممبئی میں 11 لاکھ سے زیادہ ڈپلیکیٹ اندراجات اور ناندیڑ میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے پتے پر سینکڑوں ووٹر کے نام درج پائے گئے۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
ترنمول کانگریس کے ایک وفد نے جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کی اور الزام لگایا کہ ان کے ‘ہاتھ خون سے سنے’ ہیں۔ انہوں نے انہیں کم از کم 40 افراد کی فہرست پیش کی جنہوں نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران اپنی جانیں گنوائیں، لیکن الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ محض الزامات ہیں۔
گزشتہ جمعرات کو جموں میں سرکاری زمین پر بنے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی صحافی ارفازاحمد ڈینگ کے گھر کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ ڈینگ نے ایک پولیس افسر کے منشیات کے اسمگلروں سے روابط کے بارے میں رپورٹ کی تھی۔ اب جموں کے ہی ایک سماجی کارکن نے صحافی کو اپنی زمین عطیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈینگ نے ایسے وقت میں سچ بولا، جب بہت کم لوگوں نے ایسا کرنے کی ہمت کی۔
اتر پردیش کے گونڈا، فتح پور اور بریلی میں ایس آئی آرکےکام میں مصروف تین بی ایل اوکی مبینہ طور پر کام کے زیادہ بوجھ کی وجہ سے موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ان معاملوں میں کسی بھی طرح کے دباؤ کی تردید کی ہے،وہیں الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
گزشتہ16نومبر کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہر میں بن بھولپورہ علاقے میں ایک مندر کے پاس سے نومولود بچھڑے کی لاش کے کچھ حصے ملے تھے، جس کے بعد یہ افواہیں پھیلنے لگیں کہ مسلمانوں نے ہندوؤں کی توہین کے لیے ایسا کیا ہے۔ وہیں،سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک آوارہ کتا مندر کے قریب یہ سب چھوڑ گیا تھا۔
دہلی کے قریب بساہڑا گاؤں میں دس سال پہلے محمد اخلاق کو پیٹ-پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اخلاق کے چھوٹے بیٹے دانش بھی شدید زخمی ہو گئے تھے۔ لیکن ایک دہائی بعد بھی یہاں کے لوگوں کو قتل کے اس واقعہ پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے، تو صرف ملزمین کے لیے ہمدردی اور یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے شکریہ کے کلمات۔
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔
دنیا بھر کی حکومتیں اور نجی کمپنیاں مقامی لوگوں کو ان کے جل- جنگل – زمین سے بے دخل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ اور انہی مقامی آدی-واسیوں کو سیاحوں کی تفریح کا سامان بنا دیا جا رہا ہے۔
یونیسکو کا یہ اعزاز صرف لکھنؤ نہیں، پورے جنوبی ایشیا کے ذائقوں کا اعزاز ہے۔ یہ اس خطے کی ذائقہ سفارت کاری کا اعتراف ہے، جو کبھی موسیقی،کبھی زبان اور کبھی کھانے کی صورت دنیا کے سامنے آتی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے جمعرات کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اخبار کے مالکان نے اس چھاپے ماری کو آزاد میڈیا کو چپ کرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
نئی دہلی اب اسرائیل کے ساتھ فوجی، اقتصادی اور نظریاتی تعلقات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ یہ مضمون تاریخی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتا ہےکہ ہندوتوا کس طرح ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور گھریلو ردعمل کو نئی شکل دے رہا ہے۔
مذہبی آزادی سے متعلق یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم کےتازہ اپڈیٹ بریف میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی حکمران بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کااتحاد ‘امتیازی’ قوانین کو فروغ دیتا ہے۔
چھتیس گڑھ میں اے ٹی ایس نے دو نابالغ کو حراست میں لیا ہے اور ان کے خلاف آئی ایس آئی ایس کے آن لائن ماڈیول سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے کے الزام میں یو اے پی اےکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ وجئے شرما نے کہا کہ دونوں نابالغ ایک آئی ایس آئی ایس گروپ کے ساتھ (آن لائن) رابطے میں تھے اور پاکستان واقع ایک ماڈیول کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔
بہار کی خواتین اب صرف غیر جانبدار ووٹر نہیں، بلکہ انتخابات میں فیصلہ کن قوت بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی حکومت ان خواتین کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا پائے گی، جن کے بھروسے وہ اقتدار تک پہنچی ہے۔
مؤخر روداد: غزہ ٹریبونل اپنی بنیاد میں ایک شہری عدالت ہے، جس کی بنیاد لندن میں 2024 کے آخر میں ڈالی گئی۔ جب ریاستیں خاموش رہیں، جب عالمی عدالتیں بے بس ہو گئیں، جب سلامتی کونسل کی میز پر بار بار ایک ہی ملک کا ویٹو ظلم کی سیاہی کو تحفظ دیتا رہا، تو انسانوں نے خود فیصلہ کیا کہ ضمیر کی عدالت قائم کی جائے۔
کیرالہ اور راجستھان میں ووٹر لسٹ کے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر)سے متعلق کام کے شدید دباؤ کی وجہ سے مبینہ طور پردو بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او)نے خودکشی کرلی۔ اس سے قبل بہارایس آئی آرکے دوران بھی آرہ کے ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور بی ایل اوکی حرکت قلب بند ہونے سے موت ہو گئی تھی۔
گزشتہ ہفتے لال قلعہ کے قریب ہوئے دھماکے کی تحقیقات کر رہی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے اتوار کو کہا کہ دھماکہ کرنے والی کار کو چلارہا عمر نبی ‘خودکش بمبار’ تھا۔ ایجنسی کے مطابق قومی دارالحکومت میں یہ اس طرح کا پہلا خودکش حملہ تھا، جو کار کی مدد سے کیا گیا۔
کانگریس کی جانب سے بہار میں ایس آئی آر کے بعد ووٹروں کی تعداد میں 3 لاکھ اضافے کے بعد ‘ووٹ چوری’ کا الزام لگانے پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ اضافہ 10 اکتوبر تک موصول ہونے والے نئے ووٹر فارموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ کمیشن کے مطابق، قواعد کے تحت نئے ووٹروں کو نامزدگی کی آخری تاریخ سے 10 دن پہلے تک شامل کیا جا سکتا ہے۔
اس سال 10 اکتوبر سے 14 نومبر کے درمیان مرکزی حکومت کی دیہی روزگار اسکیم، منریگا کے ڈیٹا بیس سے تقریباً 27 لاکھ مزدوروں کے نام ہٹا دیے گئے، جو اسی مدت کے دوران شامل کیے گئے 10.5 لاکھ نئے ناموں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ڈیٹا بیس سے نام ہٹانےکی اس ‘غیر معمولی’ شرح پر کارکنوں اور ماہرین تعلیم کی ایسوسی ایشن لب ٹیک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بہار کی 243 سیٹوں میں سے 202 سیٹیں جیتنے والی این ڈی اے کی برتری اس بار ان علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملی،جنہیں پہلے اپوزیشن کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق 174 سیٹوں پر جیت کا مارجن ایس آئی آرکے دوران ہٹائے گئے ووٹروں کے ناموں کی تعداد سے کم تھا۔
جمعہ کی رات سری نگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں ہوئے دھماکے میں ایک ایس آئی اے افسر، تین ایف ایس ایل ماہرین، محکمہ محصولات کے دو اہلکار، دو پولیس فوٹوگرافر اور ایک درزی سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ دو درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکہ فرید آباد ‘ٹیرر ماڈیول’ کیس میں برآمد ہوئے دھماکہ خیزمواد کو پیش کرنے کی تیاریوں کے دوران ہوا۔
گوتم بدھ نگر کے دادری علاقے کے بساہڑا گاؤں کے رہنے والے 52 سالہ محمد اخلاق کو 28 ستمبر 2015 کو بھیڑ نے مبینہ طور پراس شبہ میں پیٹ-پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہواہے۔ اب اتر پردیش حکومت نے ان کی لنچنگ کے ملزمین کے خلاف قتل سمیت تمام الزامات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کانگریس کی ناکامی کو اس طرح دیکھیے کہ پارٹی نے اس سال دلت رہنما راجیش کمار کو بہار کا ریاستی صدر مقرر کیا تھا، پارٹی کے قومی صدر بھی دلت ہیں۔ یہ دونوں مل کر بہار کی دلت برادری کو اپنی طرف کر سکتے تھے، لیکن پارٹی کی انتخابی مہم پوری طرح راہل گاندھی کے اردگرد گھومتی رہی۔
بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے۔ این ڈی اے حکومت اقتدار میں واپس آ رہی ہے۔ بی جے پی 89 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، جے ڈی یو نے 85 سیٹیں حاصل کی ہیں اور ایل جے پی (رام ولاس) نے 19 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔