گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے ‘محمد’ دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔
دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
‘اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں مسلمان بزرگ کی حمایت میں ہندوتوادی ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کے جم میں مذکورہ واقعہ کے بعد 135 لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے ۔ دیپک کا کہنا ہے،’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔
گاندھی اسمارک ندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بی جے پی کی کرناٹک اکائی نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئے گاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے دکھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ گاندھی کو پارٹی سیاست کے حساب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر کہ ہندوستان نے روسی خام تیل کی درآمد مکمل طور پر روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اٹھتے سوالوں کے جواب میں وزیر خارجہ اور وزیر تجارت کے بیان اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ دونوں وزارتوں کے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے درمیان، کسی واضح تردید کا سامنے نہ آنا اب خاموش رضامندی جیسا نظر آنے لگا ہے۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ آج ذات پات صرف سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے موجود ہے، کیونکہ اس کی روایتی پیشہ ورانہ بنیاد اب ختم ہو چکی ہے۔ سماج کے اندر یہ ذہنیت موجود ہے، اسی لیے سیاستداں ذات پات کے مسئلے کو اچھالتے ہیں۔
آئینی ادارے نفرت سے مقابلہ نہیں کر رہے، محض دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس بھیڑ کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد اس ویڈیو کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کانگریس قائدین نے ویڈیو کو ’آئین کے سینے پر گولی‘ قرار دیا ہے۔
یو پی اے حکومت کے دوران اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے پر کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کرنے والی بی جے پی کی حکومت میں وہی کمپنی اب لیونارڈو نام سے اڈانی ڈیفنس کی شراکت دار بن کر ہندوستان کے دفاعی شعبے میں لوٹ آئی ہے۔ اسی ہفتے، اڈانی ڈیفنس نے اس کمپنی کے ساتھ ہندوستان میں ہیلی کاپٹر مینوفیکچرنگ کا ایکو سسٹم قائم کرنے کے لیے، مودی حکومت کے نمائندوں کی موجودگی میں ایم او یو پر دستخط کیا ہے۔
یو جی سی کے ضوابط میں کئی خامیاں موجود ہیں اور انہیں مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، تاہم، اعلیٰ ذات کی لابی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا نے ملک بھر میں ایسا مصنوعی اور گمراہ کن ماحول قائم کر دیا ہے، گویا یو جی سی نے اعلیٰ ذات کے خلاف امتیاز برتنے کا کوئی دروازہ کھول دیا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی سنسر کی گئی کتاب میں ایک فون کال کے ذکر کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کتاب کے مطابق، اس کال میں ہندوستان اور چین کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوج کو سیاسی ہدایت محض یہ تھی کہ ‘جو صحیح لگے، وہ کرو’۔ حالاں کہ اس کے علاوہ بھی کتاب ایسے کئی سوال اٹھاتی ہے، جن کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔
گڑیابند ضلع کے دتکیا گاؤں میں لاٹھیوں، اینٹوں، پتھروں اور مٹی کے تیل کی بوتلوں سے مسلح سینکڑوں لوگوں کے ہجوم نے مبینہ طور پر 10 مسلم خاندانوں پر حملہ کیا، گاڑیوں اور گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں کم از کم چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فسادات کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی ہیں، لیکن پولیس فورس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فی الحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے منسلک بات چیت میں وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ آنے کے بعد کانگریس نے لوک سبھا میں فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک التوا پیش کی۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزوں کےمطابق، 2017 اور 2019 کے درمیان ہندوستانی کاروباری انل امبانی امریکی سیاسی رسائی سے متعلق امور اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ترجیحات کے بارے میں گفت و شنید کے حوالے سے ایپسٹین کے ساتھ رابطے میں تھے۔
لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ ہوگیا، جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں میگزین کی ایک رپورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیا۔ حکومت اور لوک سبھا اسپیکر نے اسے پارلیامانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’اس میں ایسا کیا ہے جس سے آپ لوگ اتنا ڈررہے ہیں؟‘
حال ہی میں اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک مسلمان دکاندار کو دکان کا نام تبدیل کرنے کے لیے ہندوتوا کے حامیوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے خلاف دیپک کمار نامی شخص نے احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد دائیں بازو کے لوگ بڑی تعداد میں دیپک کے جم پراحتجاج کرنے پہنچے تھے۔ اب پولیس نے دیپک کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
حکومت کی کل آمدنی میں انکم ٹیکس (شخصی ٹیکس) کی حصہ داری 21 فیصد ہے، جو کارپوریٹ ٹیکس (18فیصد) سے زیادہ ہے۔ دستاویز کے مطابق، 2026-27 کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کا بجٹ تخمینہ 1231,000 کروڑ روپے ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی آمدنی کا تخمینہ 1466,000 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔
سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے ‘میاں مسلم’ یعنی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے خلاف دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ اس کے جواب میں شرما نے مندر کے خلاف سو مقدمہ درج کرانے کی بات کہی ہے۔ اس پرمندر نے کہا کہ ان دھمکیوں سے ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ پوری طاقت سے کام کرتے رہیں گے۔
گجرات کے سورت کے صلابت پورہ علاقے میں بی جے پی کارپوریٹر پر فارم-7 کا غلط استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں مسلمان ووٹروں کو ’مردہ‘ قرار دے کر ان کے نام حذف کر وانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے پولیس میں شکایت درج کر کے کارروائی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس پر سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ دریں اثنا، الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے کہا کہ شرما کے بیان شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہیں اور ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ ‘غیر قانونی غیر ملکیوں کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے الیکشن کمیشن میں 5 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کروائی ہیں، ورنہ یہ سب ‘سودیشی’ (شہری) بن جاتے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ میاں کمیونٹی کے لیے پریشانیاں پیدا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں۔
مہاراشٹر کے بارامتی میں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رہنما اجیت پوارطیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا، جب این سی پی لیڈر پوار اور دیگر کو لے جا رہا طیارہ پونے کے بارامتی علاقے میں لینڈ کر رہا تھا۔ ان کے ساتھ پانچ دیگر افراد بھی سوار تھے، لیکن وہ زندہ نہیں بچ سکے۔
مارک ٹلی نے بی بی سی میں اپنی تقریباً تین دہائیوں (1964-94) کی صحافت کے دوران بر صغیر کا شاید ہی کوئی ایسا بڑا واقعہ ہو جس کی کوریج نہ کی ہو۔ انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے جو ساکھ بنائی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو پاتی ہے۔
اتراکھنڈ کے مسوری میں 18ویں صدی کے پنجابی صوفی بزرگ، شاعر اور سماجی مصلح بابا بلھے شاہ کے تقریباً 100 سال پرانے مزار میں ہفتے کی رات دیر گئے مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم آہنگی کی علامتوں کو توڑنا، بڑھتی ہوئی غربت، وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور نوجوان نسل کے تاریک مستقبل کے حوالے سے اٹھنے والوں سوالوں کے جواب دینے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔
وفاتیہ: جس نسل نے ٹرانزسٹر ریڈیو کے سہارے سیاسی فہم و فراست پیدا کرنے کی سعی کی، اس کے لیے مارک ٹلی صرف نامہ نگار نہیں تھے۔ الجھن کے ساتھی تھے، ایک ایسے ملک کے لیے سمت نما تھے، جو اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایس آئی آر پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ ایس آئی آر آرڈر میں واضح طور پر یہ نہیں لکھا گیا تھا کہ اس عمل کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کرنا بھی ہے۔ جسٹس باگچی نے تبصرہ کیا کہ کمیشن نے ایس آئی آر کے لیے وجہ کے طور پر صرف ‘بار بار نقل مکانی’ کو لسٹ کیا ہے، سرحد پار سے غیر قانونی نقل و حرکت کو نہیں۔
بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایلگار پریشد کیس میں گرفتار کیے گئے کلچرل ایکٹوسٹ ساگر گورکھے اور رمیش گائچور کو ضمانت دے دی۔ دونوں 2020 سے ممبئی کی تلوجا جیل میں ہیں۔ اس رہائی کے حکم کے بعد اب گرفتار کیے گئے 16 لوگوں میں سے صرف انسانی حقوق کے کارکن سریندر گاڈلنگ ہی جیل میں رہ گئے ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات -انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔
یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے وفاقی عدالت کو بتایا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے اڈانی گروپ کو 14 ماہ سے سمن کی تعمیل نہیں کرائی جا سکی ہے۔ ایجنسی نے اب ای میل سے نوٹس بھیجنے کی اجازت طلب کی ہے۔ معاملہ مبینہ رشوت خوری سے متعلق ہے۔
انٹرویو: مرکزی حکومت 4 فروری کو لداخ کی سرکردہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنے جا رہی ہے۔ ستمبر 2025 کے تشدد کے بعد بدلے ہوئے حالات میں لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے ایک مشترکہ مسودے کے ساتھ اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔ دی وائر سے بات کرتے ہوئے کے ڈی اے کے کنوینر سجاد کرگلی کہتے ہیں کہ یونین ٹیریٹری ماڈل ناکام ہو چکا ہے اور لداخ کو مکمل جمہوری حقوق چاہیے۔
نومبر 2024 میں ہوئے سنبھل تشدد کے سلسلے میں اس وقت کے سی او انج چودھری اور کئی پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سول جج آدتیہ سنگھ کو مقرر کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے انڈین ایکسپریس کے سینئر کشمیری صحافی بشارت مسعود اور ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نمائندے عاشق حسین کو ان کی خبروں کے سلسلے میں ‘طلب’ کیا۔ مسعود کو ان کی مبینہ غلطی کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو بھی کہا گیا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔
لندن میں مقیم ڈاکٹر اور یوٹیوبر سنگرام پاٹل، جو بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے خلاف سخت تنقید کے لیے معروف ہیں، کو اپنے ہندوستان کے دورے کے دوران ہتک عزت کے مقدمے سے لے کر لک آؤٹ سرکلر اور حتیٰ کہ ہوائی اڈے پر حراست میں لیے جانے تک کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بی جے پی کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، پارٹی نے 2024-25 میں انتخابی اور عام مہم پر 3,335.36 کروڑ روپے خرچ کیے، جو 20-2019 سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ اس مدت میں 2024 لوک سبھا اور آٹھ ریاستی اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ دوسری طرف کانگریس نے 2024-25 میں الیکشن لڑنے پر 896.22 کروڑ روپے خرچ کیے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بھیجی گئی درخواست میں صحافی روپیش کمار سنگھ نے آدرش سینٹرل جیل، بیور، پٹنہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور قیدیوں کے استحصال اور بدسلوکی کے لیے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں قیدیوں کی روزمرہ کی جدوجہد کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر شیام لال شرما نے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جموں کوکشمیر سے الگ کر دیا جاتا ہے تو یہ خطہ معاشی، سماجی اور انتظامی طور پر خوشحال ہوگا۔ اس بیان پر ریاست کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ بی جے پی نے شرما کے بیان سے خود کو الگ کرلیا ہے۔
اترپردیش کے بریلی ضلع میں ایک خالی پڑے گھر میں نماز ادا کرنے کی وجہ سے 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ مکان کو مدرسہ میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ تاہم، گھر کی مالکن نے کہا ہے کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔
اتر پردیش میں ایس آئی آر کے تحت جاری کی گئی نئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں کئی گڑبڑیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بلند شہر کے شکارپور تحصیل کے پٹھان ٹولہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پتے پر ایسے ووٹروں کے نام جوڑے جا رہے ہیں، جنہیں وہ جانتے تک نہیں۔ یہاں چھ سے زیادہ مسلم خاندانوں کے پتے پر 56 ہندو ووٹروں کو رجسٹرڈ دکھایا گیا ہے۔