The Wire

اکیس ایک سو بائیس: خالد جاوید اپنے ادبی سفر کے آغاز ہی سے شہر آشوب لکھ رہے ہیں

خالد جاوید کا ادب اردو ادب میں بالکل نئے بیانیے، نئے زاویے اور نئی طرزِ تحریر کا موجد ہے۔ وہ اپنے ادبی سفر کے آغاز سے ہی ایک شہر آشوب  لکھ رہے ہیں، اردو ادب میں  ڈسٹوپیا کی حکایت نا تمام لکھ رہے ہیں۔

اکیس ایک سو بائیس: وقت، موت اور جہنم کا سفر

خالد جاوید موت کے راگ کے موسیقار ہیں، جو ہر بار موت کا نیا راگ لے کر آتے ہیں۔ان کے ناولوں میں زندگی اور موت ایک ہی سکے کے دو پہلے ہیں۔ زندگی وہ ہے جس پر روشنی پڑ رہی ہے، اور موت وہ ہے جو اندھیرے میں گم ہے، جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔

معید رشیدی: میری جاں عشق نہیں، میں نے قیامت کی ہے

معید رشیدی کے اس شعری آئینے میں ان کے شاعرانہ وفور کے انعکاس کے ساتھ ساتھ ان کے وفورِ محبت کا عکس بھی جھلملا اٹھا ہے ۔نناوے صفحے کی اس کتاب میں لفظ ِ محبت کا استعمال31 مرتبہ ہوا ہے اور عشق کا لفظ 28 بار آیا ہے۔ کسی تحریر میں کوئی لفظ بار بار یوں ہی نہیں آتا۔اس لفظ کا معنوی دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ لفظ نوک ِ خامہ سے بار بار ٹپک پڑتا ہے۔

نیوزکلک کو راحت، مگر بے روزگاری، بدنامی اور غیر یقینی صورتحال کا بوجھ آج بھی ڈھو رہے ہیں سابق ملازمین

فروری 2024 تک نیوزکلک میں تقریباً سو لوگ کام کرتے تھے، جن کا گھر صرف اسی تنخواہ سے چلتا تھا۔ لیکن ادارے کے خلاف ایجنسیوں کی کارروائی اور بینک اکاؤنٹس فریز ہونے کی وجہ سے نیوزکلک سے نوکری گنوانے والے تقریباً 80 فیصد ملازمین کو اب تک کوئی مستقل نوکری نہیں ملی ہے۔

پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

اگر ہم نے پہاڑوں کے ماحولیاتی نظام کو میدانی علاقوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہ کیا، تو پگھلتے ہوئے گلیشیربہت جلد ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی غرور، ان کی معیشتوں اور ان کی نام نہاد سرحدوں کو اپنے سیلابوں میں بہا کر لے جائیں گے۔

آسام: مدارس کے بہانے نفرت کی سیاست نے مسلمانوں کو تعلیمی میدان سے باہر کر دیا؟

گراؤنڈ رپورٹ: اس وقت آسام میں تعلیمی اصلاحات کی سچائی  یہی ہے کہ مدارس کو اسکول میں تبدیل کرتے ہوئے ایک بڑی اقلیتی برادری کے تشخص کو کمزور کرنے کی منظم کوشش حکومت کی جانب سےکی گئی ہے۔ اور اس تعلیمی اصلاح کے پس پردہ ڈاکٹر اور انجینئر […]

نیوزکلک کے خلاف پولیس اور ای ڈی کے کیس رد، عدالت نے کہا – قانون کا غلط استعمال، بے بنیاد دعوے

دہلی ہائی کورٹ نے نیوز کلک کے خلاف دہلی پولیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے معاملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معاملے میں نیوز ادارے کے خلاف پولیس کی تحقیقات کو جاری رکھنے کی اجازت دینا ’قانونی عمل کا سنگین غلط استعمال‘ ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ای ڈی کی کارروائی میں ایسے دعوے کیے گئے ہیں جن کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔

چار سال سے زیادہ سے جیل میں بند کشمیری ایکٹوسٹ خرم پرویز کو این آئی اے کیس میں ضمانت ملی

کشمیر کے معروف انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے۔ این آئی اے نے خرم پرویز کے دفتر پر چھاپے ماری کے بعد 22 نومبر 2021 کو انہیں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا، جس پر اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی تنظیموں نے اعتراض کیا تھا۔

عمر خالد کو ان کی ماں کے علاج کے لیے تین دن کی عبوری ضمانت ملی

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گزشتہ پانچ سال سے جیل میں بند اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد کو ہائی کورٹ نے تین دن کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ انہیں 1جون سے 3 جون تک کی راحت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیمار والدہ کی 2 جون کو ہونے والی میڈیکل سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 19 مئی کو خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

ہیلی لیونگ کو خاموش کرانے کی کوششیں باعث تشویش کیوں ہیں؟

میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔

پی ایم مودی سے سوال کرنے والی نارویجین صحافی ٹرولنگ اور ذاتی حملوں کی زد میں

پی ایم مودی سے میڈیا کی آزادی پر سوال پوچھنے کے بعد نارویجین صحافی ہیلی لیونگ سوشل میڈیا پر حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘ اور ’سیاسی ایجنٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ تنقید اب پیشہ ورانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی پر حملے اور کردار کشی کی مہم تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض اینکر بھی ان کےسوال پوچھنے سے ناراض ہیں۔

سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کرنے والے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا

سپریم کورٹ نے اسی سال جنوری میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں۔ یہ دونوں دہلی فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں گزشتہ پانچ سالوں سے جیل میں ہیں۔ سوموارکو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس سلسلے میں اپنےاعتراضات  کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ’بے گناہی کے تصور‘پر استوار ہوتی ہے۔

کرناٹک: حجاب پر پابندی سے متعلق بی جے پی حکومت کا فیصلہ واپس لیا گیا، تعلیمی اداروں میں تمام مذہبی علامتیں پہننےکی اجازت

کرناٹک حکومت کے 13 مئی کو جاری نئے فیصلے میں طلبہ کو یونیفارم کے ساتھ ’محدود روایتی اور رسم و رواج سے متعلق علامتیں‘ پہننے کی اجازت دی گئی ہے- جن میں حجاب، جنیئو، رودراکش وغیرہ شامل ہیں۔ فروری 2022 میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے والے تعلیمی اداروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اہم سے انتہائی اہم ہوتے امت شاہ: بی جے پی میں مودی کے بعد کون؟

سال 2024 کے بعد کے واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا امت شاہ صرف دوسرے نمبر کے لیڈر ہیں، جنہیں نریندر مودی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لیے آگے کر رہے ہیں یا پھر 2029 پر نظر جمائے بی جے پی-جو 2024 جیسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتی— جانشینی کے کسی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

سارک کے جمود کے بیچ متبادل راستہ: ہندوستان کے بغیر سافٹا پر پیش رفت کی بازگشت

یہ ویبینار ہندوستان میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مکالموں کی ایک سیریز کا حصہ تھا، جس کی صدارت او پی شاہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دینا ہے۔

کنال کامرا نے ایکناتھ شندے پر بنے پیروڈی گانے کے لیے معافی مانگنے سے انکار کیا

مہاراشٹرقانون ساز کونسل کی استحقاق کمیٹی کے سامنے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو مبینہ طور پر ’غدار‘کہنے کے لیے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ کمیٹی نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا انہیں اپنے کیے پر افسوس ہے اور کیا وہ معافی مانگیں گے۔ کامرا نے صاف طور پر انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی معافی مخلصانہ نہیں ہوگی۔

ایئر انڈیا حادثہ: متاثرہ خاندانوں کا بلیک باکس ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ، وزیر اعظم کو لکھا خط

بارہ جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جا رہی ایئر انڈیا کی پرواز ٹیک آف کے چند ہی سیکنڈ بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعد طیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اب متاثرہ خاندانوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور بلیک باکس ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ اس حادثے کے پیچھے کی حقیقت سامنے آ سکے۔

نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں

ردعمل:نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں خاموشی کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں میں ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست  و ریخت کا احساس  گامزن ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔

موت کی پانچویں کتاب کا پیش لفظ

اِکیس ایک سو بائیس کو لکھنے کے دوران میں نے ہر اس شے کو محسوس کیا جو انسان سے متعلق تھی اور میں نے ان تمام قدیم متون اور اشیا کو ایسے یاد کیا جیسے کوئی اپنے پُرکھوں کو یاد کرتا ہے، جب پُرکھے بے چین ہو کر اسے یاد کرتے ہیں اور تب واضح طور پر مجھے اجتماعی لاشعور اور آرکی ٹائپس یا نسلی کھائیوں کی پُراسرار موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔

محمود آباد کیس: آزادی اظہار کے تحفظ کے بجائے عدالت نے ارباب اقتدار کو جوابدہی سے بچنے کا موقع فراہم کیا

علی خان محمود آباد کی پوسٹ کے حوالے سے نہ ایس آئی ٹی اور نہ ہی ہریانہ پولیس عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش کر سکے، جس سے ان دو ایف آئی آر کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے پروفیسر کو ’دانشمندانہ‘ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، مگر ہریانہ حکومت کے لیے کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔ اس کی اسی ’فیاضی‘ کے باعث حکومتیں مقتدرہ کی تنقید کرنے والوں کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر کے قانون کا غلط استعمال جاری رکھ سکتی ہیں۔

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں  دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ  ہیں۔

ہریانہ حکومت نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کے خلاف مقدمہ واپس لیا

ہریانہ پولیس نے گزشتہ سال 18 مئی کو اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمودآباد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ معاملہ آپریشن سیندور سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر ان کے تبصرے سے جڑا ہوا تھا۔ ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جن کے بارے میں اب ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ اس نے اس معاملے میں مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دی ہے۔

سرکاری آرڈر کے بعد یوٹیوب چینل 4 پی ایم نیوز بند، مدیر نے کہا – سخت تنقید کی وجہ سے ہوئی کارروائی

مدیر سنجے شرما کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے، جب ان کے چینل کو حکومت کی جانب سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ سال پہلگام کے دہشت گرد حملے کے وقت چینل بند کروایا گیا تھا اور بعد میں جب معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، تو حکومت نے خاموشی سے اپنا آرڈر واپس لے لیا اور چینل کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔

دہلی فسادات کی ’بڑی سازش‘ معاملے میں شرجیل امام کو عبوری ضمانت

دہلی کی ایک عدالت نے شرجیل امام کو اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے 20 مارچ سے 30 مارچ تک دس دنوں کی عبوری ضمانت دی ہے۔ جنوری 2020 میں بہار کے جہان آباد میں ان کے گھر سے گرفتاری کے بعد پہلی بار امام کو ضمانت ملی ہے۔

دہلی تشدد کے چھ سال: حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی

سال 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے چھ سال بعد اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو یہ فرقہ وارانہ قتل عام سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو تشدد سے بچانے، ان کی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے اور انصاف دلانے کی اپنی ذمہ داریوں سے خود کو الگ کر لیا۔

جب علی خامنہ ای نے ہندوستانی صحافی سے کہا: ایرانی انقلاب کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہے

اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔

دہلی: ایکسائز پالیسی معاملے میں کیجریوال اور سسودیا سمیت تمام ملزم الزامات سے بری

دہلی کی ایک عدالت نے مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالے کے تمام 23 ملزمان – جن میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں – کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ایجنسی  کے شواہد کی تائید کے لیے ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا ہے۔

مودی اور نیتن یاہو: نظریاتی ہم آہنگی کا سفر

ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔ ہماری اسرائیل نوازی اس بات کا بھی اعلان ہے کہ ہم گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔

ہندوستان کی نئی غذائی سفارت کاری اور بھوکے مہمان

دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔

نجر مرڈر کیس میں قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے کینیڈین حکومت کی حساس شواہد کو خفیہ رکھنے کی اپیل

سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے میں نامزد چار ہندوستانی شہریوں کے مقدمے کی شنوائی شروع ہونے والی ہے۔ اس دوران کینیڈین حکومت کے محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق ‘حساس’ معلومات کو خفیہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔