دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گزشتہ پانچ سال سے جیل میں بند اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد کو ہائی کورٹ نے تین دن کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ انہیں 1جون سے 3 جون تک کی راحت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیمار والدہ کی 2 جون کو ہونے والی میڈیکل سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 19 مئی کو خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔
پی ایم مودی سے میڈیا کی آزادی پر سوال پوچھنے کے بعد نارویجین صحافی ہیلی لیونگ سوشل میڈیا پر حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘ اور ’سیاسی ایجنٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ تنقید اب پیشہ ورانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی پر حملے اور کردار کشی کی مہم تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض اینکر بھی ان کےسوال پوچھنے سے ناراض ہیں۔
سپریم کورٹ نے اسی سال جنوری میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں۔ یہ دونوں دہلی فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں گزشتہ پانچ سالوں سے جیل میں ہیں۔ سوموارکو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس سلسلے میں اپنےاعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ’بے گناہی کے تصور‘پر استوار ہوتی ہے۔
کرناٹک حکومت کے 13 مئی کو جاری نئے فیصلے میں طلبہ کو یونیفارم کے ساتھ ’محدود روایتی اور رسم و رواج سے متعلق علامتیں‘ پہننے کی اجازت دی گئی ہے- جن میں حجاب، جنیئو، رودراکش وغیرہ شامل ہیں۔ فروری 2022 میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے والے تعلیمی اداروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سال 2024 کے بعد کے واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا امت شاہ صرف دوسرے نمبر کے لیڈر ہیں، جنہیں نریندر مودی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لیے آگے کر رہے ہیں یا پھر 2029 پر نظر جمائے بی جے پی-جو 2024 جیسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتی— جانشینی کے کسی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
یہ ویبینار ہندوستان میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مکالموں کی ایک سیریز کا حصہ تھا، جس کی صدارت او پی شاہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دینا ہے۔
اشعر نجمی کی کتاب چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔
مہاراشٹرقانون ساز کونسل کی استحقاق کمیٹی کے سامنے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو مبینہ طور پر ’غدار‘کہنے کے لیے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ کمیٹی نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا انہیں اپنے کیے پر افسوس ہے اور کیا وہ معافی مانگیں گے۔ کامرا نے صاف طور پر انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی معافی مخلصانہ نہیں ہوگی۔
بارہ جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جا رہی ایئر انڈیا کی پرواز ٹیک آف کے چند ہی سیکنڈ بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعد طیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اب متاثرہ خاندانوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور بلیک باکس ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ اس حادثے کے پیچھے کی حقیقت سامنے آ سکے۔
ردعمل:نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں خاموشی کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں میں ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست و ریخت کا احساس گامزن ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔
اِکیس ایک سو بائیس کو لکھنے کے دوران میں نے ہر اس شے کو محسوس کیا جو انسان سے متعلق تھی اور میں نے ان تمام قدیم متون اور اشیا کو ایسے یاد کیا جیسے کوئی اپنے پُرکھوں کو یاد کرتا ہے، جب پُرکھے بے چین ہو کر اسے یاد کرتے ہیں اور تب واضح طور پر مجھے اجتماعی لاشعور اور آرکی ٹائپس یا نسلی کھائیوں کی پُراسرار موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس وقت اسرائیل کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اورمغربی ایشیاء میں اپنی قومی و انرجی سلامتی کے تحفظ کے بھنور کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
جنگ، قتل عام، سیاسی جبر، ماب لنچنگ وغیرہ شاعری کے موضوعات کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں، لیکن میرے لیے ان موضوعات کو دانستہ نظر انداز کرنا گناہِ کبیرہ سے کم نہیں۔
علی خان محمود آباد کی پوسٹ کے حوالے سے نہ ایس آئی ٹی اور نہ ہی ہریانہ پولیس عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش کر سکے، جس سے ان دو ایف آئی آر کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے پروفیسر کو ’دانشمندانہ‘ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، مگر ہریانہ حکومت کے لیے کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔ اس کی اسی ’فیاضی‘ کے باعث حکومتیں مقتدرہ کی تنقید کرنے والوں کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کر کے قانون کا غلط استعمال جاری رکھ سکتی ہیں۔
ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
ہریانہ پولیس نے گزشتہ سال 18 مئی کو اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمودآباد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ معاملہ آپریشن سیندور سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر ان کے تبصرے سے جڑا ہوا تھا۔ ان کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جن کے بارے میں اب ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ اس نے اس معاملے میں مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دی ہے۔
مدیر سنجے شرما کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے، جب ان کے چینل کو حکومت کی جانب سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ سال پہلگام کے دہشت گرد حملے کے وقت چینل بند کروایا گیا تھا اور بعد میں جب معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، تو حکومت نے خاموشی سے اپنا آرڈر واپس لے لیا اور چینل کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔
دہلی کی ایک عدالت نے شرجیل امام کو اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے 20 مارچ سے 30 مارچ تک دس دنوں کی عبوری ضمانت دی ہے۔ جنوری 2020 میں بہار کے جہان آباد میں ان کے گھر سے گرفتاری کے بعد پہلی بار امام کو ضمانت ملی ہے۔
سال 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے چھ سال بعد اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو یہ فرقہ وارانہ قتل عام سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو تشدد سے بچانے، ان کی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے اور انصاف دلانے کی اپنی ذمہ داریوں سے خود کو الگ کر لیا۔
دی وائر کا طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور کنیسٹ میں انہیں دیے گئے ’میڈل‘ سے متعلق ہے، کو ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ایکس پر دی وائر کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، جو اب اس ویڈیو کو نہیں دیکھ سکتے۔
اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔
سفارتی احسان فراموشی کی اس سے بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے، جب ایران نے نازک وقت میں ہندوستان کو عالمی رسوائی سے بچایا اور بدلے میں نئی دہلی نے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر مغربی طاقتوں اور اسرائیل کا دامن پکڑا۔
دہلی کی ایک عدالت نے مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالے کے تمام 23 ملزمان – جن میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں – کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ایجنسی کے شواہد کی تائید کے لیے ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا ہے۔
ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔ ہماری اسرائیل نوازی اس بات کا بھی اعلان ہے کہ ہم گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔
دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔
سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے میں نامزد چار ہندوستانی شہریوں کے مقدمے کی شنوائی شروع ہونے والی ہے۔ اس دوران کینیڈین حکومت کے محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق ‘حساس’ معلومات کو خفیہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔
اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کے احوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارہ سازی، عصری تعلیم، ملکی معیشت میں شمولیت اور سماجی خدمت ہی وہ راستے ہیں جو اکیسویں صدی میں وقار اور برابری کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات -انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔
یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے وفاقی عدالت کو بتایا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے اڈانی گروپ کو 14 ماہ سے سمن کی تعمیل نہیں کرائی جا سکی ہے۔ ایجنسی نے اب ای میل سے نوٹس بھیجنے کی اجازت طلب کی ہے۔ معاملہ مبینہ رشوت خوری سے متعلق ہے۔
انٹرویو: مرکزی حکومت 4 فروری کو لداخ کی سرکردہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنے جا رہی ہے۔ ستمبر 2025 کے تشدد کے بعد بدلے ہوئے حالات میں لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے ایک مشترکہ مسودے کے ساتھ اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔ دی وائر سے بات کرتے ہوئے کے ڈی اے کے کنوینر سجاد کرگلی کہتے ہیں کہ یونین ٹیریٹری ماڈل ناکام ہو چکا ہے اور لداخ کو مکمل جمہوری حقوق چاہیے۔
نومبر 2024 میں ہوئے سنبھل تشدد کے سلسلے میں اس وقت کے سی او انج چودھری اور کئی پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سول جج آدتیہ سنگھ کو مقرر کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے انڈین ایکسپریس کے سینئر کشمیری صحافی بشارت مسعود اور ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نمائندے عاشق حسین کو ان کی خبروں کے سلسلے میں ‘طلب’ کیا۔ مسعود کو ان کی مبینہ غلطی کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو بھی کہا گیا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔
لندن میں مقیم ڈاکٹر اور یوٹیوبر سنگرام پاٹل، جو بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے خلاف سخت تنقید کے لیے معروف ہیں، کو اپنے ہندوستان کے دورے کے دوران ہتک عزت کے مقدمے سے لے کر لک آؤٹ سرکلر اور حتیٰ کہ ہوائی اڈے پر حراست میں لیے جانے تک کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بی جے پی کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، پارٹی نے 2024-25 میں انتخابی اور عام مہم پر 3,335.36 کروڑ روپے خرچ کیے، جو 20-2019 سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ اس مدت میں 2024 لوک سبھا اور آٹھ ریاستی اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ دوسری طرف کانگریس نے 2024-25 میں الیکشن لڑنے پر 896.22 کروڑ روپے خرچ کیے۔