دی وائر کا طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور کنیسٹ میں انہیں دیے گئے ’میڈل‘ سے متعلق ہے، کو ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ایکس پر دی وائر کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، جو اب اس ویڈیو کو نہیں دیکھ سکتے۔
اس نایاب انٹرویو میں ایران کے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای نے ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات، مغربی میڈیا کے رویے، ایران کی خارجہ پالیسی، کردوں کے مطالبات اور فرانس جیسے ممالک کے کردار پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ بات چیت اسلامی انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کمیاب دستاویز ہے۔
سفارتی احسان فراموشی کی اس سے بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے، جب ایران نے نازک وقت میں ہندوستان کو عالمی رسوائی سے بچایا اور بدلے میں نئی دہلی نے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر مغربی طاقتوں اور اسرائیل کا دامن پکڑا۔
دہلی کی ایک عدالت نے مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالے کے تمام 23 ملزمان – جن میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں – کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ایجنسی کے شواہد کی تائید کے لیے ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا ہے۔
ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔ ہماری اسرائیل نوازی اس بات کا بھی اعلان ہے کہ ہم گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔
دہلی کی سیاسی راہداریوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے؟ جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے۔
سکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے میں نامزد چار ہندوستانی شہریوں کے مقدمے کی شنوائی شروع ہونے والی ہے۔ اس دوران کینیڈین حکومت کے محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق ‘حساس’ معلومات کو خفیہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔
اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کے احوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارہ سازی، عصری تعلیم، ملکی معیشت میں شمولیت اور سماجی خدمت ہی وہ راستے ہیں جو اکیسویں صدی میں وقار اور برابری کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات -انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔
یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے وفاقی عدالت کو بتایا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے اڈانی گروپ کو 14 ماہ سے سمن کی تعمیل نہیں کرائی جا سکی ہے۔ ایجنسی نے اب ای میل سے نوٹس بھیجنے کی اجازت طلب کی ہے۔ معاملہ مبینہ رشوت خوری سے متعلق ہے۔
انٹرویو: مرکزی حکومت 4 فروری کو لداخ کی سرکردہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنے جا رہی ہے۔ ستمبر 2025 کے تشدد کے بعد بدلے ہوئے حالات میں لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے ایک مشترکہ مسودے کے ساتھ اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔ دی وائر سے بات کرتے ہوئے کے ڈی اے کے کنوینر سجاد کرگلی کہتے ہیں کہ یونین ٹیریٹری ماڈل ناکام ہو چکا ہے اور لداخ کو مکمل جمہوری حقوق چاہیے۔
نومبر 2024 میں ہوئے سنبھل تشدد کے سلسلے میں اس وقت کے سی او انج چودھری اور کئی پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سول جج آدتیہ سنگھ کو مقرر کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے انڈین ایکسپریس کے سینئر کشمیری صحافی بشارت مسعود اور ہندوستان ٹائمز کے سری نگر میں مقیم نمائندے عاشق حسین کو ان کی خبروں کے سلسلے میں ‘طلب’ کیا۔ مسعود کو ان کی مبینہ غلطی کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو بھی کہا گیا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔
لندن میں مقیم ڈاکٹر اور یوٹیوبر سنگرام پاٹل، جو بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے خلاف سخت تنقید کے لیے معروف ہیں، کو اپنے ہندوستان کے دورے کے دوران ہتک عزت کے مقدمے سے لے کر لک آؤٹ سرکلر اور حتیٰ کہ ہوائی اڈے پر حراست میں لیے جانے تک کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بی جے پی کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، پارٹی نے 2024-25 میں انتخابی اور عام مہم پر 3,335.36 کروڑ روپے خرچ کیے، جو 20-2019 سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ اس مدت میں 2024 لوک سبھا اور آٹھ ریاستی اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ دوسری طرف کانگریس نے 2024-25 میں الیکشن لڑنے پر 896.22 کروڑ روپے خرچ کیے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بھیجی گئی درخواست میں صحافی روپیش کمار سنگھ نے آدرش سینٹرل جیل، بیور، پٹنہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور قیدیوں کے استحصال اور بدسلوکی کے لیے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں قیدیوں کی روزمرہ کی جدوجہد کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر شیام لال شرما نے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جموں کوکشمیر سے الگ کر دیا جاتا ہے تو یہ خطہ معاشی، سماجی اور انتظامی طور پر خوشحال ہوگا۔ اس بیان پر ریاست کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ بی جے پی نے شرما کے بیان سے خود کو الگ کرلیا ہے۔
اترپردیش کے بریلی ضلع میں ایک خالی پڑے گھر میں نماز ادا کرنے کی وجہ سے 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ مکان کو مدرسہ میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ تاہم، گھر کی مالکن نے کہا ہے کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔
ڈاکٹر منظور عالم ان رہنماؤں میں نہیں تھے جو ہر مسئلے کا حل محض شکایت، احتجاج یا وقتی ردعمل میں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے شعوری طور پر شکایت کی سیاست کو ترک کیا تھا اور فکر کی تشکیل، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔
اتر پردیش میں ایس آئی آر کے تحت جاری کی گئی نئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں کئی گڑبڑیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بلند شہر کے شکارپور تحصیل کے پٹھان ٹولہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پتے پر ایسے ووٹروں کے نام جوڑے جا رہے ہیں، جنہیں وہ جانتے تک نہیں۔ یہاں چھ سے زیادہ مسلم خاندانوں کے پتے پر 56 ہندو ووٹروں کو رجسٹرڈ دکھایا گیا ہے۔
اڑیسہ کے بالاسور ضلع میں بدھ کی صبح جب ایک 35 سالہ مسلمان شخص وین میں جا رہے تھے، تب وین میں مویشیوں کی نقل و حمل پر اعتراض کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ متاثرہ کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔ مہلوک کے بھائی کی شکایت پر پولیس نے پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔
جے پور کے ہوا محل اسمبلی حلقہ کے ایک بی ایل او کیرتی کمار نے الزام لگایا ہے کہ انہیں دھمکی دے کر بی جے پی کے ان اعتراضات پر کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جن میں ایس آئی آر کی ڈرافٹ لسٹ سے 470 رائے دہندگان (ان کے بوتھ کے تقریباً 40 فیصد) کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کمار کا دعویٰ ہے کہ یہ اعتراضات مسلمان ووٹروں کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے ہیں۔
حال ہی میں امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو خریدنے کی تجویز، حتیٰ کہ ملٹری استعمال کرنے کی دھمکی دینا اور پھر یورپی ممالک کا ردعمل، اس بات کے واضح اشارے دے رہا ہے کہ اس گریٹ گیم کا وقت آچکا ہے۔ اگرچہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو آزادی دلوانے یا اس کو امریکی کالونی بنوانے پر چین اور روس کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
انڈیا ہیٹ لیب کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 2025 میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے 13فیصد اور 2023 کے مقابلے 97 فیصد زیادہ ہیں۔ مجموعی طور پر ریکارڈ شدہ تقاریر میں سے 98 فیصد مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئی ہیں۔ وہیں، بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں سب سے زیادہ ہیٹ اسپیچ کا مشاہدہ کیا گیا۔
این آئی اے کے متاثر کن کنوکشن ریٹ یعنی سزا یابی کی اعلیٰ شرح کے تناظر میں ملزمین، ان کے وکیل اور ایجنسی سے وابستہ رہے ایک شخص نے دی وائر کو بتایا کہ آخر کیوں این آئی اے کے اتنے سارے معاملے ملزمین کے اقرار جرم کی درخواستوں کے بعد انہیں قصوروار تسلیم کرلینے کے ساتھ ہی انجام کو پہنچتے ہیں۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے ایک دوسرے کی نیوز ویب سائٹ کو اپنے ملک میں مسلسل بلاک کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان سے ایک دوسرے کی نیوز ویب سائٹ پر سے یہ پابندی ہٹانے اور سرحد پار صحافت تک رسائی بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔
کینیڈین میڈیا پلیٹ فارم گلوبل نیوز نے پولیس کےدستاویزوں کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ، جو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے تشدد کا سہارا لینے کے لیے معروف ہے، وہ ہندوستانی حکومت کے لیے کام کرتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گینگ جبری وصولی، منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور کانٹریکٹ کلنگ میں ملوث ہے۔
سنبھل تشدد کے دوران فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چندوسی کی عدالت نے اس وقت کے سی او انج چودھری سمیت 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، سنبھل پولیس نے اس حکم نامے کو’ غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اندور میں آلودہ پانی کی وجہ سے ہوئی اموات کے معاملے میں مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج کی کمیٹی نے 21 اموات پر اپنی رپورٹ سونپی ہے، جس میں 15 کی وجہ الٹی اور اسہال کو مانا گیا ہے۔ اندور انتظامیہ نے آلودہ پانی پینے سے ہونے والی الٹی اور اسہال کی وجہ سے چھ اموات کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے پھیلی بیماری سے اب تک چھ ماہ کے ایک بچے سمیت 23 مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔
بھوپال میں ایک ادبی تقریب میں بابر پر آئی نئی کتاب پر ہونے والے مذاکرہ کو پولیس نے دائیں بازو کے گروپوں کی ممکنہ احتجاج کی دھمکی کے بعد رد کر دیا۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ صوبے کے وزیر ثقافت نے کتاب کا ایک ورق بھی پڑھے بغیر سرعام اس کی مذمت کر دی۔
یوگی آدتیہ ناتھ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیانات اور واقعات کے توسط سے’اکھنڈ بھارت‘ کے تصور کو از سر نو عام کیا جا رہا ہے۔ مؤرخین اسے ایک بے بنیاد اور سیاسی نعرہ قرار دیتے ہیں، جو ہندوتوا کے نظریاتی منصوبے، تاریخ کی از سر نو تشریح اور مذہبی قوم پرستی سے شدید تعلق رکھتا ہے۔
پنڈت بزاز نے پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔وہ کشمیری تاریخ کے ایک عظیم کردار پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے، مگر ان کو بھی بھائی چارے اور کشمیریت کے علمبردار اور ایک اصول پسند کشمیری پنڈت آواز ہونے کے ناطے وسیع احترام حاصل تھا۔
ایسے وقت میں جب ہندوستان کو اقتصادی، سائنسی، سماجی اور اخلاقی طور پر آگے بڑھنے کے بارے میں بات کرنی چاہیے، یہ افسوسناک ہے کہ ایک اعلیٰ سیکورٹی اہلکار ’انتقام‘ کی بات کر رہا ہے۔ این ایس اے کا کردار حقیقی خطرات کے خلاف ملک کو متحد کرنا ہے، نہ کہ تاریخ کے زخموں کو کرید کر معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنا۔
سپریم کورٹ نے غیر سرکاری تنظیم لوک پرہری کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر غور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کو قانونی چارہ جوئی سے تاحیات استثنیٰ دینے والے قانون کے حوالے سے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ایسی چھوٹ، جو صدر یا گورنرز کو بھی حاصل نہیں ہے، انتخابی عہدیداروں کو نہیں دی جانی چاہیے۔
مدھیہ پردیش حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والا پنچگویہ ریسرچ پروجیکٹ اب مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہاہے۔ جانچ میں سامنے آیا ہے کہ کینسر کے علاج کے نام پر ملے کروڑوں روپے پروجیکٹ سے غیر متعلق مد- سفر، گاڑی، آلات اور فرنیچر-پر خرچ کیے گئے، جبکہ تحقیق کے ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے۔