بشیر بدر: غزل کا یہ اجالا ہمارے ساتھ رہے گا …
بشیر بدر کی شاعری کی دنیا محبت سے شروع ہوتی ہے، مگر محبت پر ختم نہیں ہوتی۔ اس میں گھر ہے، شہر ہے، فاصلہ ہے، تنہائی ہے، تشدد ہے، سماجی تضاد ہے اور انسان کی ٹوٹتی ہوئی عزت نفس ہے۔
بشیر بدر کی شاعری کی دنیا محبت سے شروع ہوتی ہے، مگر محبت پر ختم نہیں ہوتی۔ اس میں گھر ہے، شہر ہے، فاصلہ ہے، تنہائی ہے، تشدد ہے، سماجی تضاد ہے اور انسان کی ٹوٹتی ہوئی عزت نفس ہے۔
آن لائن جاب سرچ پورٹل ’انڈیڈ‘کی’فریشر ہائرنگ رپورٹ‘کا حوالہ دیتے ہوئے فنانشل ایکسپریس نے بتایا ہے کہ پانچ سال پہلے کے مقابلے اب فریشر کے لیے نوکری کی دنیا میں قدم رکھنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ سروے میں شامل 72 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انٹری لیول نوکریوں کے لیے بھی تجربے کی شرط رکھی جاتی ہے، جبکہ 61 فیصد لوگوں کو درخواست دینے کے بعد شاید ہی کوئی جواب موصول ہوتا ہے۔
تشدد سے متاثرہ منی پور میں اثر و رسوخ رکھنے والی تنظیم کُکی انپی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جاری ایس آئی آر کا عمل قابل قبول نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق، یہ عمل غیر جانبداری، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور انتظامی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اندرونی طور پر بے گھر آبادی کے ایک بڑے اور کمزور طبقے کی شمولیت کو یقینی بنائے بغیر کسی بھی اہم انتخابی اور انتظامی عمل کو آگے بڑھانا جمہوری نمائندگی کے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔
ملک کے نوجوانوں میں نہ صرف وزیراعظم کے خلاف غصہ ہے بلکہ وہ عدلیہ کے ذریعہ حکومت کی کھلی طرفداری سے بھی مایوس ہیں۔ اور اب بات صرف کاکروچ پارٹی کا ساتھ دینے یا نہ دینے کی نہیں ہے۔ بات ملک کے مستقبل کی ہے جس سے مسلمانوں کا مفاد بھی اتنا ہی جڑا ہوا ہے جتنا دیگر برادران وطن کا۔ فیصلہ مشکل ہے لیکن زندہ قومیں مشکل وقت میں مشکل فیصلے لینے سے بھی نہیں گھبراتیں۔
جھارکھنڈ کے دیوگھر میں واقع ایمس میں 80 بیڈ والا کریٹیکل کیئر یونٹ اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔ جبکہ آئی سی یو بھی اپنی آدھی صلاحیت کے ساتھ ہی فعال ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ادارے کی فیصلہ ساز باڈی نے 2025-26 میں ان امور پر تبادلہ خیال تک نہیں کیا ہے۔
دہلی میں منعقدہ پیپلز ٹریبونل میں ملک بھر میں عیسائیوں پر ہورہے حملے- عبادت گاہوں ، پادریوں پر حملے، سماجی اور معاشی بائیکاٹ، تدفین کے حق سے محروم کیے جانے اور گاؤں دیہات سے بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ مقررین کا یہ بھی ماننا تھا کہ حالیہ دہائیوں میں عدالتی اور قانون سازی کی پیش رفت کئی معاملوں میں کمزور اقلیتوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
غازی انتیپ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سب سے مؤثر غذائی سفارت کاری کبھی بھی عدم تحفظ کے احساس سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ یہ بانٹنے اور یکجا ہونے کی خوشی سے جنم لیتی ہے ۔ ترکیہ دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ اس کے روایتی کھانے مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک پل ہیں، عثمانیہ سلطنت اور ہجرتوں کی ایک یادگار ہیں، اور اخبارات کی سرخیوں سے پرے اس ملک کی اصل روح کو سمجھنے کی ایک کھلی دعوت ہیں۔
گزشتہ ہفتے ہمیر پور میں بیتوا ندی پر زیر تعمیر پل کے گرنے سے چھ مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد متاثرہ خاندانوں نے سائٹ پر کام کرنے کے حالات پر سوال اٹھائے ہیں۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی وارننگ کے باوجود مزدوروں سے نائٹ شفٹ میں کام کرنے کو کیوں کہاگیا۔ اس کے علاوہ واقعہ کے بعد ریسکیو آپریشن میں تاخیر کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
میڈیا ریگولیٹری ادارے این بی ڈی ایس اے نے سدھیر چودھری کے سابق پروگرام ’بلیک اینڈ وہائٹ‘ میں تاج محل کو ہندو مندر بتائے جانے سے متعلق دعوے کے حوالے سے غیر جانبداری کے مسئلے پر سوال اٹھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے نتائج کو نظر انداز کیا گیا۔ ادارے نے آج تک کو پروگرام میں ترمیم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مہاراشٹر ایف ڈی اے نے گمراہ کن اشتہارات اور ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں 73.24 لاکھ روپے کی دوائیں ضبط کی ہیں۔ ان میں 51.41 لاکھ روپے کی دوائیں پتنجلی سے منسلک دیویہ فارمیسی کی بتائی گئی ہیں۔ یہ کارروائی ریاست بھر میں چلائی گئی ایک خصوصی مہم کے تحت انجام دی گئی۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل کے قانونی جواز کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری ہے۔
ناول کی کامیابی یہ ہے کہ یہ پنڈتوں کو یکطرفہ طور پر ولن یا وہیرو بنا کر پیش نہیں کرتا۔ یہ انہیں زخمی انسانوں کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ قاری کو 1990 میں ایک پنڈت خاندان کے خوف کو محسوس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن بعد میں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس خاندان کی یادداشت ادھوری ہے۔عمیر احمد خان نے دراصل نہ صرف جلاوطنی کا بلکہ واپسی کا ناول لکھا ہے۔
حکومت نے عوام کو سمجھانے کا کمال کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اب اگر پیٹرول مہنگا ہو تو سمجھ لیجیے کہ خارجہ پالیسی مضبوط ہو رہی ہے۔ ڈیزل اور مہنگا ہو جائے تو مان لیجیے کہ ہندوستان وشوگرو بننے کی سمت میں فیصلہ کن قدم اٹھا چکا ہے۔
ایک مضمون میں آر ایس ایس کے ماؤتھ پیس نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو ’سیاسی طور پر اسپانسرڈ مہم‘ قرار دیا ہے۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مبینہ طور پر بائیں بازو کے رجحان رکھنے والے نیٹ ورک یا نظریے سے وابستہ ایک وسیع تر نظام کا حصہ ہے، جو سیاسی ڈسکورس کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دہلی اور شمالی ہندوستان کے کئی حصوں میں سی این جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 11 دنوں میں چوتھی مرتبہ دام بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں اور گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
مغربی بنگال کی نومنتخب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے تمام ضلع مجسٹریٹ کو ’مشتبہ غیر قانونی غیر ملکیوں‘ کے لیے ہولڈنگ سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں خصوصی طور پر بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا کا ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ قدم وزارت داخلہ کی ہدایات کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔
گزشتہ 10 دنوں میں چوتھی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سوموار (25 مئی) کو پیٹرول 2.61 روپے اور ڈیزل 2.71 روپے مہنگا ہو ا، جس کے بعد دہلی میں پیٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مال برداری اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دہلی کی بی جے پی حکومت نے بقرعید کے لیے رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ عوامی نظم و نسق اور صفائی کو یقینی بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کھلے عام جانور ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قربانی صرف قانونی اور مجاز مقامات پر ہی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بقرعید پر گائے، بچھڑا، اونٹ اور دیگر ممنوعہ جانوروں کی قربانی کرنے پر سخت کارروائی کی بات کہی گئی ہے۔
مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان ایک طرف پیٹرولیم کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں توانائی کی کوئی کمی نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم متبادل توانائی کے ذرائع پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کیا یہ محض احتیاطی تدبیر ہے یا پھر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے توانائی انحصار اور مستقبل کے ممکنہ بحران کی ایک واضح علامت؟
دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گزشتہ پانچ سال سے جیل میں بند اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد کو ہائی کورٹ نے تین دن کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ انہیں 1جون سے 3 جون تک کی راحت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیمار والدہ کی 2 جون کو ہونے والی میڈیکل سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 19 مئی کو خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اپنے والد کی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے سے پہلے نظر بند کر دیا گیا۔ اس سے قبل جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے بھی ایسا ہی الزام عائد کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اسے جابرانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگوں کے جذبات اور تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔
طنزیہ اور تنقیدی سوشل میڈیا مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا ایکس اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب چند ہی دنوں میں اس نے سوشل میڈیا پر زبردست مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اکاؤنٹ پر پابندی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’جیسا کہ امید تھی، کاکروچ جنتا پارٹی کا اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔‘
سال 2014 کے بعد سے ہندوستان نے 89 امتحانات میں پیپر لیک کا مشاہدہ کیا ہے۔ نواسی بار کسی نے بند لفافہ توڑا، نواسی بار کسی طالبعلم کی برسوں کی محنت ایک ہی رات میں خاک ہو گئی۔ نواسی بار اسٹیٹ نے آنکھیں بند کر لیں – یا اس سے بھی بدتر، جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھا، یا اسے ہونے دیا۔
میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔
پی ایم مودی سے میڈیا کی آزادی پر سوال پوچھنے کے بعد نارویجین صحافی ہیلی لیونگ سوشل میڈیا پر حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘ اور ’سیاسی ایجنٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ تنقید اب پیشہ ورانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی پر حملے اور کردار کشی کی مہم تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض اینکر بھی ان کےسوال پوچھنے سے ناراض ہیں۔
خبروں کے مطابق، لاہور کے محلوں کے نام تقسیم ہند سے قبل کے ناموں پر رکھنے کی اس پہل کا مقصد شہر کی تاریخی شناخت کو بحال کرنا اور اس کے کثیرثقافتی ماضی کو تسلیم کرنا ہے ۔
ہندو یوا واہنی کے سابق عہدیدار سشیل پرجاپتی پر غازی آباد میں ایل ایل بی کی ایک طالبہ کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام ہے۔ اسے آٹھ ماہ بعد 17 مئی کو ضمانت پر رہا کیا گیا، جس کے بعد اس کے حامیوں نے اس کی گل پوشی کی، کندھوں پر اٹھایا اور نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالا۔ این سی آر بی کے مطابق، 2023 میں اتر پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق سب سے زیادہ 66,381 مقدمات درج کیے گئے تھے۔
یہ نمائش محض ہتھیاروں کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ یہ ترکیہ کے اندر ابھرنے والے ایک نئے جیو پولیٹیکل تخیل کی عکاس تھی۔ ایک ایسا ملک جو نیٹو کے حاشیے پر کھڑے ایک دفاعی درآمد کنندہ سے ارتقا پا کر ایک ایسی تکنیکی عسکری قوت بن رہا ہے جو اب یورپ سے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ تک کے سکیورٹی توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب سفارت کاری کا دائرہ صرف ممالک تک محدود نہیں رہا تھا ، اس میں ’ساکھ کے تحفظ‘ کا ایک نیا پہلو بھی شامل ہو چکا تھا۔ خارجہ پالیسی کو غیر رسمی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ پہلا، دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا۔ دوسرا، دنیا کو یہ یقین دلاتے رہنا کہ کوئی پریشان کن سوال دراصل پریشان کن تھا ہی نہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے سوموار کو وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر ’افطار‘ کرنے اور مبینہ طور پر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے باقی چھ ملزمین کو بھی ضمانت دے دی۔ اس سے پہلے 15 مئی کو عدالت نے چودہ میں سے آٹھ ملزمین کو ضمانت دی تھی۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نماز کے مسئلے کو انتظامی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ’سڑکیں لوگوں کے لیے ہیں‘ اور ’قانون کی حکمرانی‘ جیسے لفظ استعمال کیے۔ لیکن بار بار صرف نماز ہی کا ذکر کیا گیا۔ کسی اور عوامی تجاوزات یا مذہبی اجتماعات – مثلاً کانوڑ یاترا – کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ ان کا وسیع دائرہ اور فرقہ وارانہ رجحان بارہا خبروں کی سرخیوں میں رہا ہے۔
ناروے کے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے وہاں کی ایک صحافی نے میڈیا کے سوال لینے سے متعلق سوال کیا، لیکن وہ بغیر جواب دیے آگے بڑھ گئے۔ بعد میں ہندوستانی سفارت خانے کی پریس بریفنگ میں بھی انسانی حقوق اور پریس کی آزادی سے متعلق سوال پوچھے گئے۔
خلیل زاہد کی کتاب سجدوں سے محروم مسجدیں ہماری عبادت گاہوں سے متعلق تاریخ، سیاست اور تنازعات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویزی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اسی سال جنوری میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں۔ یہ دونوں دہلی فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں گزشتہ پانچ سالوں سے جیل میں ہیں۔ سوموارکو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس سلسلے میں اپنےاعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ’بے گناہی کے تصور‘پر استوار ہوتی ہے۔
ہندوستان میں آج جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ صرف مسلمانوں یا چند مساجد کا مسئلہ نہیں۔ اگر عدالتیں تاریخ، عقیدے اور اساطیری روایتوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر اس کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی۔ کل کوئی اور گروہ کسی اور مقام پر اسی منطق کے تحت دعویٰ کرسکتا ہے۔ اس طرح ریاست کے ادارے مستقل مذہبی تنازعات کے میدان میں تبدیل ہوجائیں گے۔
سی جے آئی سوریہ کانت نے جمعہ کو سینئر وکیل کا درجہ دیے جانے کے مطالبے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ معاشرے میں کچھ پیراسائٹ ہیں، جو سسٹم پر حملہ کرتے ہیں۔ انہیں روزگار نہیں ملتا اور پیشہ ورانہ زندگی میں کوئی جگہ نہیں ملتی۔ ان میں سے کچھ میڈیا اہلکار بن جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔
تین مئی کو منعقد نیٹ-یو جی 2026 کا امتحان پیپر لیک کے دعووں کے بعد رد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب یہ امتحان دوبارہ 21 جون کو ہوگا۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بتایا کہ ’گیس پیپر‘کے نام پر اصل سوال لیک ہوئے تھے اور اگلے سال سے یہ امتحان آن لائن لیا جائے گا۔
گزشتہ 13 مئی کو منی پور کے چوڑا چاندپور میں منعقد ایک پروگرام سے کانگپوکپی واپس لوٹ رہے چرچ رہنماؤں کی گاڑیوں پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ کے چوڑا چاندپور دورے سے محض چند دن پہلے پیش آیا ہے۔
مغربی بنگال کی نو منتخب بی جے پی حکومت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب عوامی مقامات پر جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جانوروں کو صرف میونسپلٹی کی جانب سے مقرر کردہ یا مجاز سلاٹر ہاوس میں ہی ذبح کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ لازمی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی گائے یا بھینس کو ذبح کرنا پوری طرح سے ممنوع ہوگا۔
اپریل کے وسط میں نوئیڈا کے فیکٹری مزدوروں نے تنخواہ میں اضافے، سازگار ماحول اور مزدوروں کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے سات ایف آئی آر درج کی ہیں اور 300 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں کارکن، طلبہ، ایک صحافی اور ایک پی ایچ ڈی اسکالر شامل ہیں۔ اب تقریباً ایک ماہ بعد پولیس نے دو لوگوں پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی ہے۔