خبریں

اپوزیشن اتحاد کا نام ’انڈیا‘ رکھا گیا، کہا-ہماری لڑائی آمریت کے خلاف

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ جلد ہی 11 رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ہم ممبئی میں پھر سے ملاقات کریں گے، جہاں ہم رابطہ کاروں کے ناموں پر چرچہ کریں گے اور ان  کے ناموں کا اعلان کریں گے۔ وہیں، این ڈی اے کی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں سیاسی مفادات کے لیے قریب تو آ سکتی ہیں، لیکن ساتھ نہیں آ سکتیں۔

بنگلورو میں اپوزیشن اتحاد کی دو روزہ میٹنگ میں کانگریس لیڈر ملیکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، لالو یادو، شرد پوار، ممتا بنرجی، اروند کیجریوال، ایم کے اسٹالن، ہیمنت سورین، اکھلیش یادو، عمر عبداللہ وغیرہ۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

بنگلورو میں اپوزیشن اتحاد کی دو روزہ میٹنگ میں کانگریس لیڈر ملیکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، لالو یادو، شرد پوار، ممتا بنرجی، اروند کیجریوال، ایم کے اسٹالن، ہیمنت سورین، اکھلیش یادو، عمر عبداللہ وغیرہ۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی: سال 2024 کے عام انتخابات کے لیے حزب اختلاف کے اتحاد کا نام انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا) ہوگا۔ اس کا اعلان کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے منگل کو بنگلورو میں 26 اپوزیشن جماعتوں کی دو روزہ کانفرنس کے اختتام کے دوران کیا۔

ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا، ‘ہم نے مختلف نکات پر تبادلہ خیال کیا ہے اور متفقہ طور پر لوگوں نے ایک قرارداد کی حمایت کی ہے۔ ہمارا اتحاد انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا) کہا جائے گا۔ اس پر سب نے اتفاق کیا ہے۔’

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق،اپوزیشن اتحاد کی طرف سے جاری  ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ،’ہم اس کو مزید مشاورتی، جمہوری اور شراکتی بنانے کے لیےحکمرانی کے مواد اور طرز حکمرانی کوتبدیل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ گروپ کی قیادت کون کرے گا، کانگریس صدر کھڑگے نے کہا کہ کنوینر اور رابطہ کاروں  کے ناموں پر اگلی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، سیٹوں کی تقسیم پر تمام رہنما، رابطہ کمیٹی کے اراکین باہمی تبادلہ خیال کریں گے۔’

کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن کی ایک اور میٹنگ ممبئی میں ہوگی،جس کی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’11 رکنی رابطہ کمیٹی بنائی جائے گی، جس پر ہم جلد فیصلہ کریں گے۔ ہم ممبئی، مہاراشٹر میں پھر سے ملاقات کریں گے، جہاں ہم رابطہ کاروں کے ناموں پر تبادلہ خیال کریں گے اور ان کے ناموں  کااعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا، ‘ہمارا مقصد ایک ایک ایک کرکے اہم مسائل کو اٹھانا ہوگا۔ ہم مرکزی حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے ملک بھر کا دورہ  کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘سب سے پہلے ہم پٹنہ میں ملے تھے۔ وہاں تقریباً 16 جماعتیں تھیں۔ اب 26 جماعتیں شامل ہو چکی ہیں۔’

کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن کے اجتماع کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے کی میٹنگ بلائی ہے۔

انہوں نے کہا، ‘اب مودی جی نے 30 پارٹیوں کے ساتھ این ڈی اے کی میٹنگ بلائی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ 30 جماعتیں کیسی ہیں، کیا وہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں۔ میں پارلیامنٹ کا ممبر ہوں، راجیہ سبھا میں، میں نے نہیں سنا کہ ہندوستان میں اتنی ساری پارٹیاں ہیں اور وہ بھی این ڈی اے کے ساتھ 30 پارٹیاں ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘پہلے وہ اپنے ساتھیوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ان سے بات تک نہیں کرتے تھے۔ اب ایک ایک کر کے وہ ان جماعتوں کو بلا رہے ہیں۔ مودی جی اب ٹکڑوں کو جوڑنے کا کام کر رہے ہیں۔’

کھڑگے نے الزام لگایا،’اس کا مطلب ہے کہ وہ (مودی) اب اپوزیشن پارٹیوں سے خوفزدہ ہیں۔ ورنہ انہیں میٹنگ بلانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

اس دوران دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عآپ کے کنوینر اروند کیجریوال نے کہا، ‘وزیر اعظم مودی گزشتہ 9 سالوں میں بہت کام کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے تمام شعبوں کو برباد کر دیا۔ ہم یہاں اپنے لیے نہیں بلکہ ملک کو نفرت سے بچانے  کے لیے جمع ہوئے ہیں۔’

انہوں نے کہا، ‘گزشتہ 9 سالوں میں مودی حکومت نے ملک کی جائیدادیں بیچ دیں۔ ہر سیکٹر کو تباہ کر دیا۔ آج ملک کا ہر طبقہ غمزدہ ہے۔ آج ہم سب ایک ایسے ہندوستان کا خواب لے کرجمع  ہو ئے ہیں، جہاں نوجوانوں کو روزگار ملے، بچوں کو اچھی تعلیم ملے اور لوگوں کو صحت کی اچھی سہولیات میسر ہوں۔’

رپورٹ کے مطابق، عآپ نے پٹنہ میں اپوزیشن گروپ کی پچھلی میٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، لیکن دہلی میں متنازعہ آرڈیننس پر کانگریس کے ساتھ اپنے اختلافات کو طے کرنے کے بعد بنگلورو میں اپنی حاضری درج کرائی ۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ ملاقات تعمیری اور بامعنی رہی۔ انہوں نے پوچھا، ‘این ڈی اے، کیا آپ ‘انڈیا’ کو چیلنج کر سکتے ہیں؟ بی جے پی، کیا آپ ‘انڈیا’ کو چیلنج کر سکتے ہیں؟’

دریں اثنا، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا، ‘آج یہ ہماری دوسری کامیاب میٹنگ تھی۔ ملک ہمارا خاندان ہے اور ہم اپنے خاندان کو بچانے کے لیے مل کر لڑ رہے ہیں۔’

انہوں نے کہا، ‘ہم سب ‘انڈیا’ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہماری لڑائی آمریت کے خلاف ہے، اسی لیے ہم ساتھ آئے ہیں۔ ہم ملک کی عوام سے کہتے ہیں کہ آپ ڈرو مت۔’

رپورٹ کے مطابق، کانگریس صدر کھڑگے نے منگل کو اپوزیشن کی میٹنگ میں کہا تھا کہ ان کی پارٹی کو اقتدار یا وزیر اعظم کے عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

بنگلورو میں منعقدہ میٹنگ میں کانگریس کی سونیا گاندھی، ملیکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کے علاوہ کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ– ایم کے اسٹالن (تمل ناڈو)، نتیش کمار (بہار)، اروند کیجریوال (دہلی)، ہیمنت سورین (جھارکھنڈ) اور ممتابنرجی (مغربی بنگال) نے شرکت کی۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ‘بنگلورو میں سیکولر، جمہوری رہنماؤں کے ساتھ تاریخی اور تعمیری ملاقات۔ ہم نے ہیش ٹیک انڈیا- انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس تشکیل دیا ہے، جو ہمارے ملک کی تکثیری اقدار کو تفرقہ انگیز سیاست کے چنگل سے بچانے کے لیے پرعزم ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ قوم پرستی کے نقاب کے پیچھے چھپے مطلق العنان ہی بالآخر زوال پزیر ہوں گے۔ اتحاد ہماری طاقت ہے اورساتھ  مل کرہیش ٹیک انڈیا جیتے گا!’

ساتھ ہی آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد، این سی پی سپریمو شرد پوار، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ بھی موجود تھے۔

اپوزیشن خیمے میں کچھ بڑی جماعتیں کانگریس، جنتا دل (متحدہ)، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)، ڈی ایم کے، عآپ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم)، شیو سینا (یو بی ٹی)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، سماج وادی پارٹی (ایس پی)، سی پی آئی (ایم)، نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، سی پی آئی ایم ایل اور سی پی آئی شامل ہیں۔

اس دوران کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے ایک ایکشن پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں وہ اپنے نظریہ اور پروگرام کے بارے میں بات کریں گے۔

راہل نے کہا، ‘یہ لڑائی بی جے پی کے نظریے اور سوچ کے خلاف ہے، وہ ملک پر حملہ کر رہے ہیں، بے روزگاری عروج پر ہے اور ملک کی دولت لاکھوں لوگوں سے چھین کر چند لوگوں کے حوالے کی جا رہی ہے۔’

راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ‘یہ لڑائی این ڈی اے اور ‘انڈیا’ کے درمیان ہے۔ یہ لڑائی نریندر مودی جی اور ‘انڈیا’ کے درمیان ہے۔ بی جے پی کے نظریہ اور ‘انڈیا’ کے درمیان ہے۔ ہندوستان جڑے گا، ‘انڈیا’ جیتے گا۔

بی جے پی کی میٹنگ میں 38 جماعتوں کی شرکت

دوسری طرف، بی جے پی نے منگل کو قومی دارالحکومت دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی میٹنگ کی، جس میں 38 پارٹیاں شامل تھیں۔ یہ میٹنگ پی ایم مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے نو سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر جے پی نڈا، وزیر داخلہ امت شاہ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور دیگر پارٹیوں کے لیڈر دہلی میں منعقدہ این ڈی اے میٹنگ میں۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر جے پی نڈا، وزیر داخلہ امت شاہ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور دیگر پارٹیوں کے لیڈر دہلی میں منعقدہ این ڈی اے میٹنگ میں۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

انڈین ایکسپریس کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور دیگر منگل کی شام میٹنگ کے لیے پہنچے۔

ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کے علاوہ میٹنگ میں حصہ لینے والے، این ڈی اے کے اتحادیوں میں بہار کی کئی چھوٹی پارٹیاں اور شمال مشرقی خطے میں کئی برسراقتدار اتحادی شامل ہیں۔

دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس دوران پی ایم مودی نے کہا کہ این ڈی اے کسی پارٹی کی مخالفت میں نہیں بنی بلکہ ملک میں استحکام لانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا، این ڈی اے کا نظریہ ملک کی سلامتی، ترقی، لوگوں کو بااختیار بنانے کو ہر چیز سے اوپر رکھتا ہے۔ این ڈی اے مہاتما گاندھی، بابا صاحب امبیڈکر، رام منوہر لوہیا جیسے لیڈروں کے دکھائے گئے سماجی انصاف (سوشل جسٹس)کے راستے پر چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ‘پچھلے نو سالوں میں این ڈی اے نے غریبوں اور محروم طبقات کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ این ڈی اے نے ملک کے لوگوں کو متحد کیا ہے، اپوزیشن پارٹیاں تقسیم کرتی ہیں۔ ہم نہ صرف حال کے لیے کام کر رہے ہیں بلکہ مستقبل کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے ان دلالوں کو نکال باہر کیا  ہےجو 2014 سے پہلے اقتدار کے گلیاروں میں گھومتے تھے۔’

انہوں نے کہا،’اپوزیشن جماعتیں سیاسی مفاد کے لیے قریب تو آ سکتی ہیں، لیکن ساتھ  نہیں آ سکتیں۔ اپوزیشن عام لوگوں کی سمجھداری کو کم کر کے دیکھتی ہے، لیکن عوام جانتی ہے کہ انہیں مفاد کاکون  سا بندھن باندھے رکھتا ہے۔ میں غلطیاں کر سکتا ہوں، لیکن میں غلط ارادے سے کچھ نہیں کروں گا۔’

مودی نے میٹنگ میں کہا، ‘این ڈی اے مجبوری کا اتحاد نہیں ہے، یہ شراکت کی علامت ہے۔ یہاں سب کو کریڈٹ ملتا ہے اور ہر کوئی اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ این ڈی اے میں، ‘این’ کا مطلب ہے – نیو انڈیا، ‘ڈی’ کا مطلب ہے –ڈیولپڈ نیشن، ‘اے’ کا مطلب ہے –ایسپیریشن آف پیپل اینڈ یزنس( لوگوں اور علاقوں کی خواہشات)۔’

وزیر اعظم نے کہا، ‘این ڈی اے میں کوئی پارٹی بڑی یا چھوٹی نہیں ہے۔ بی جے پی کو 2014 اور 2019 میں اکثریت ملی، لیکن این ڈی اے نے حکومت بنائی۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی این ڈی اے نے ہمیشہ مثبت سیاست کی، ہم نے کبھی بیرونی طاقتوں کی مدد نہیں لی۔’

انہوں نے کہا، ‘این ڈی اے علاقائی امنگوں کی ایک خوبصورت قوس وقزح ہے۔ این ڈی اے کا نظریہ ملک کی سلامتی، ترقی، عوام کو بااختیار بنانے کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔