خبریں

گڑگاؤں: ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگاتی بھیڑ نے کم از کم 14 دکانوں کو نذر آتش کیا، اکثر دکانیں مسلمانوں کی تھیں

ہریانہ کے نوح اور گڑگاؤں علاقوں میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان منگل کو گڑگاؤں کے بادشاہ پور میں بریانی بیچنے والی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور بسئی روڈ کے پٹودی چوک پردکانوں میں  توڑ پھوڑ  اور لوٹ مار کی۔ دریں اثنا،گڑگاؤں ضلع کے تمام پٹرول پمپوں پر کھلے ایندھن کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: ویڈیو اسکرین گریب)

فوٹو بہ شکریہ: ویڈیو اسکرین گریب)

نئی دہلی: ہریانہ کے نوح اور گڑگاؤں علاقوں میں منگل (1 اگست) کو فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان گڑگاؤں کے بادشاہ پور میں کم از کم 14 دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا، اکثر دکانیں مسلمانوں کی تھیں۔

دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، تقریباً 200 لوگوں کا ایک ہجوم مبینہ طور پر مین بازار میں جمع ہوا اور بریانی فروخت کرنے والی دکانوں کو نشانہ بنایا۔ حملہ کرتے وقت بھیڑ نے ‘جئے  شری رام’ کے نعرے لگائے۔ پولیس نے بتایا کہ بازار بند کر دیا گیا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بادشاہ پور میں مسجد کے سامنے  بھی’جئے شری رام‘ کے نعرے  لگائے گئے۔ بادشاہ پور پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او ستیش کمار نے کہا، ’کچھ نوجوان بازار میں ہنگامہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ہم نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو سنبھالا۔’

بتایا گیا ہے کہ گڑگاؤں میں بسئی روڈ پر پٹودی چوک میں مردوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔

بادشاہ پور میں اے سی پی ہیڈکوارٹر سے منوج کمار نے کہا، حالات معمول پر ہیں اور ہم بادشاہ پور میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ رات آگ زنی  کے تین الگ الگ واقعات کی اطلاع پر تین معاملے درج کیے گئے۔’

ہندوستان ٹائمز کے مطابق، دریں اثنا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نشانت یادو نے ایک حکم نامے میں گڑگاؤں  ضلع کے تمام پٹرول پمپوں پر کھلے ایندھن کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہریانہ کے نوح ضلع اور گڑگاؤں کے سرحدی علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی نے علاقے میں امن و امان کے لیے ممکنہ خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ضلع میں امن عامہ، امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

یادو نے ایک حکم نامے میں کہا، ‘(ضابطہ فوجداری، 1973 (2 کا 1974) کی دفعہ 144 کے تحت مجھےحاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے عوامی تحفظ کے مفاد میں حکم دیتا ہوں کہ گڑگاؤں ضلع میں کام کرنے والے تمام فیول اسٹیشن پر سختی سے پابندی لگائی جائے۔ کسی بھی شخص کو (سوائے ایمرجنسی کے) فوری اثر کے ساتھ کھلا پٹرول/ڈیزل فروخت کرنےپر پابندی لگا دی گئی ہے۔

تشدد کی وجہ سے گڑگاؤں کے سوہنا سب ڈویژن میں تمام تعلیمی ادارے 2 اگست کو بند ہیں۔

اخبار کے مطابق، انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی ایسا مواد پوسٹ کرنے سے گریز کریں جس سے کسی بھی شخص کے مذہبی جذبات مجروح ہوں یا مذہبی ہم آہنگی کو خطرہ  پہنچ سکتا ہو۔

گڑگاؤں ڈی ایم کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ‘کسی بھی قسم کی نازیبا زبان  کے استعمال اور کسی بھی ویڈیو، تصویر یا پوسٹ کو مذہب، ذات یا کسی اور ذاتی خصوصیات کی بنیاد پر لوگوں کو تکلیف پہنچانے کے ارادے سے شیئر کرنے سے گریز کریں۔

اس میں مزید کہا گیا ہے، ‘اس طرح کے قابل اعتراض مواد کو پوسٹ کرنے پر متعلقہ قوانین کے مطابق قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جھوٹی افواہیں پھیلانے کو بند کرنے کی سختی سے تلقین کی جاتی ہے۔ اگر کوئی افواہیں پھیلاتا ہے یا کسی کے مذہب یا ذات کو نشانہ بناتے ہوئے نامناسب تبصرے کرتا ہے تو پولیس ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

ہریانہ میں سوموار(31 جولائی) کو نوح میں  ہندو دائیں بازو کے گروپوں کی طرف سے نکالی گئی ‘شوبھا یاترا’ کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں اب تک پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، اس دوران نوح  میں ہوئی جھڑپ پر ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج نے کہا، ‘نوح میں حالات قابو میں ہیں۔ صرف نوح میں اب تک تقریباً 41 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 116 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جس طرح سے پتھراؤ ہوا، اس کے پیچھے کوئی سازش ہے۔’

انہوں نے کہا، ‘ہتھیار اور گولیاں ملی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ماسٹر مائنڈ ہے۔ ہم اس کی تفصیلی انکوائری کریں گے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔