Muslims

شہید گنج سے کمال مولا- بھوج شالہ تک: ایک مقدمے میں قانون غالب، دوسرے میں عقیدہ

ہندوستان میں آج جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ صرف مسلمانوں یا چند مساجد کا مسئلہ نہیں۔ اگر عدالتیں تاریخ، عقیدے اور اساطیری روایتوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر اس کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی۔ کل کوئی اور گروہ کسی اور مقام پر اسی منطق کے تحت دعویٰ کرسکتا ہے۔ اس طرح ریاست کے ادارے مستقل مذہبی تنازعات کے میدان میں تبدیل ہوجائیں گے۔

ہندوستان میں انتخابات کی شفافیت پر اٹھتے سوال

بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس  میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔

جموں و کشمیر: رامبن میں مبینہ گئو رکشکوں کے حملے کے بعد ایک شخص لاپتہ، احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے ہائی وے بند

جموں و کشمیر کے رامبن میں مبینہ گئورکشکوں کے حملے کے بعد ایک شخص لاپتہ ہے۔ اس سلسلے میں 13 اپریل کو ہزاروں مظاہرین نے قومی شاہراہ پر ٹریفک کو روک دیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ حال کے دنوں میں اس علاقے میں ہندو دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے مسلمانوں پر دیگر حملے بھی کیے گئے ہیں، جن میں ان پر گئو کشی کے الزام لگائے جاتے ہیں۔

آسام انتخابات: ہمنتا بولے – اقتدار میں آنے پر 5 لاکھ بیگھہ زمین پر کی جائے گی بلڈوزر کارروائی

انتخابی مہم کے دوران آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تقریباً 50 لاکھ بیگھہ زمین پر ‘غیر قانونی قبضہ’ ہے اور وہ اگلی حکومت بننے کے بعد 5 لاکھ بیگھہ زمین کو خالی کرائیں گے۔

اتم نگر میں نفرت کا ریلا اور سرکاری خاموشی

اتم نگر میں جو کچھ ہو رہا ہے – ہونے دیا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے – وہ صرف غلط نہیں، جرم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا جرم ہے اور اس نفرت کو پھیلانے کی اجازت دینا اس جرم میں شریک ہونا ہے۔ معاشرے کے ہر طبقے کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں اس کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پھر  وہ کیوں مسلمانوں کی حفاظت کے لیے خود کو جوابدہ نہیں مانتی؟

امریکی کمیشن کی آر ایس ایس اور را پر پابندی کی سفارش، کانگریس نے کہا – ہمارے خدشات کی تصدیق

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را اور آر ایس ایس پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں مبینہ کردار کے لیے ہدفی پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لگاتار ساتویں سال ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والا ملک‘ قرار دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ہندوستان نے اس رپورٹ کو ’من گھڑت اور جانبدارانہ‘ قرار دیا ہے۔

سنبھل مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کا آرڈر منسوخ، الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی انتظامیہ کی سرزنش کی

الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل کی ایک مسجد میں رمضان کے دوران نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے اتر پردیش انتظامیہ کے حکم کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اگر حکام اسے نافذ نہیں کر سکتے تو انہیں اپناعہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

مودی اور نیتن یاہو: نظریاتی ہم آہنگی کا سفر

ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔ ہماری اسرائیل نوازی اس بات کا بھی اعلان ہے کہ ہم گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔

اسرائیل کا وجود ہی خدا کے خلاف بغاوت کا تسلسل ہے: یہودی عالم ربی ڈیوڈ فیلڈمین

انٹرویو: یہودی عالم ربی ڈیوڈ فیلڈمین کے مطابق، فلسطینیوں کی تکلیف دو برس کی نہیں بلکہ 70 برس پر محیط ہے۔ اسرائیل کا وجود ہی خدا کے خلاف بغاوت کا تسلسل ہے، اور جب تک یہ بغاوت ختم نہیں ہوتی، نہ فلسطین کو سکون ملے گا اور نہ یہودیوں کو۔

دی گریٹ شمس الدین فیملی: عورتوں کی جانب سے ان-آفیشیل ہندو راشٹر کو ایک جواب

انوشہ رضوی کی فلم ‘دی گریٹ شمس الدین فیملی’ کے کرداروں کے نام بھلے مسلم ہیں، مگر ان کی اداکاری میں ہندو راشٹر کے کرداروں کی پرچھائی تیر رہی ہے۔ نعروں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ فلم کے پردے پر ان میں سے کوئی براہ راست نظر نہیں آتا، پھر بھی ان کی موجودگی کا احساس گامزن ہے۔ یہی اس  فلم کا کمال ہے۔

ہندوستان، اسرائیل اور فلسطین: ہندوتوا خارجہ پالیسی کو سمت دے رہا ہے

نئی دہلی اب اسرائیل کے ساتھ فوجی، اقتصادی اور نظریاتی تعلقات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ یہ مضمون تاریخی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتا ہےکہ ہندوتوا کس طرح ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور گھریلو ردعمل کو نئی شکل دے رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو بدنام کرنے والے آسام بی جے پی کے اے آئی ویڈیو پر نوٹس جاری کیا

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2025 کو بی جے پی آسام یونٹ نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کیا، جس میں یہ ‘گمراہ کن اور جھوٹا بیانیہ’ پیش کیا گیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں نہیں رہی تو مسلمان آسام پر قبضہ کر لیں گے۔ اس  ویڈیو کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پہلگام اور اس کے بعد: ایک بے بس امن پسند دیوانے کی بڑ

گزشتہ دس سالوں میں مسلم مخالف تعصب اور جذبات عروج پر پہنچ گئےہیں– اور اسے مقتدرہ پارٹی کی خطرناک سیاست نے اوربھڑکایا ہے۔ پاکستان کے ساتھ جب بھی کشیدگی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، تو اس کا اثر مسلمانوں پر ظلم کی صورت میں نظر آتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پہلگام حملے کے بعد جو ماحول بنا ہے، وہ  بالکل وہی ہے جس کا مجھے خدشہ تھا۔

کرناٹک: بی جے پی ایم ایل اے کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد مندر ٹرسٹ نے مسلمانوں سے معافی مانگی

کرناٹک کے بی جے پی ایم ایل اے ہریش پونجا نے گوپال کرشن مندر ٹرسٹ کے ایک پروگرام کے دوران اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ انہیں آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان سے یہ پوچھتے ہوئے سنا گیا کہ مسلم کمیونٹی کو اس تقریب میں کیوں مدعو کیا گیا۔ اب مندر ٹرسٹ نے مسلم کمیونٹی سے معافی مانگی ہے۔

مسلمان افسر محض علامت، اس سے کمیونٹی کے تئیں حکومت کی بے رخی نہیں دھل پائے گی

جس حکومت نے اب صوفیہ قریشی کو اپنا چہرہ بناکرپیش کیا ہے، وہ ایک فوجی کی بیوی کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ صرف اس لیےاسےتنہا چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنی  تکلیف کے ساتھ اور اس کے باوجودمسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔

ٹرول کی منظم مہم میں ہمانشی کی فطری انسانی اخلاقیات کا سامنا کرنے کی قوت نہیں ہے

ہمانشی نروال کے بیان میں انسانیت کو بیدار کرنے کی جو طاقت تھی، اس  سے خوفزدہ ہندوتوا  گروہ کی جانب سے ان  کی ساکھ کو ختم کرنے کے لیےمذمتی مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ ایک عام ہندو کے لیے آزمائش کا وقت ہے؛  وہ ہمانشی کے ساتھ کھڑا ہوگا یا ان پر حملہ آور اس گروہ کے ساتھ؟

پہلگام حملے میں  ہلاک ہونے والے بحریہ کے افسر کی بیوہ نے کہا – مسلمانوں یا کشمیریوں کو نشانہ نہ بنائیں

پہلگام دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی بحریہ کے لیفٹیننٹ ونے نروال کی اہلیہ ہمانشی نے نروال کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام میں کہا کہ کسی سے نفرت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نہیں چاہتے کہ لوگ مسلمانوں اور کشمیریوں کے پیچھے پڑیں۔ ہم صرف امن چاہتے ہیں۔

گورنر کے اختیارات اور وقف قانون کے معاملے میں عدالتی مداخلت سے حکومت پریشان

سپریم کورٹ کی جانب  سے صدر جمہوریہ  کو ریاستوں کے گورنروں کی طرف سے بھیجے گئے بلوں پر فیصلہ لینے کے لیے ٹائم  لائن دینے کے چند دنوں بعد نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے آرٹیکل 142- جو سپریم کورٹ کو اختیارات دیتا ہے – کو ‘جمہوری قوتوں کے خلاف جوہری میزائل’ قرار دیا۔

وقف سماعت: حکومت کو جواب کے لیے وقت ملا؛ بورڈ میں تقرری اور جائیداد کی منتقلی پر عبوری روک

وقف (ترمیمی) ایکٹ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوسرے دن مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ اگلی سماعت تک کسی بھی وقف جائیداد کو ڈی- نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی غیر مسلم کو کسی وقف بورڈ یا کونسل میں تقرری دی جائے گی۔

وقف سماعت: سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا – کیا ہندو بندوبستی بورڈ میں مسلمانوں کو شامل کریں گے؟

وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا مرکزی حکومت مسلمانوں کو ہندو بندوبستی بورڈ میں شامل کرنے کے لیے تیار ہے، جس طرح سے وہ وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کا مطالبہ کر رہی ہے۔

سوغات مودی: خون سے لتھڑا ہاتھ اپنے شکار کے منہ میں مٹھائی ٹھونس رہا ہے

مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہندو سماج کے مزاج کا لازمی عنصر بنانے کی مہم نریندر مودی کی قیادت میں کامیاب رہی ہے۔ قاتل کو مقتول کا سرپرست بناکر پیش کرنے سے بڑھ کر بے شرمی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے۔

تہوار کی نئی تعریف: مسلم مخالف ہندو اجتماعیت کا جشن

پچھلے دس سالوں سے ہندو تہوار مسلمانوں کی مخالفت کا وسیلہ بن چکے ہیں۔ ہندوؤں کے لیے تہوار منانے کا مطلب یہی رہ گیا ہے وہ جلوس نکالیں اور مسلمانوں کو گالی دیں۔ مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے گانے بجائیں اور ان کے خلاف تشدد کے لیے اشتعال پیدا کریں۔

ہولی اور مسلمان: کیا نفرت کا بُرا نہ مانیں، جیسے ہولی کی گالیوں کا نہیں مانتے !

انج چودھری نے جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ مسلمانوں کو ہولی کے رنگ سے اعتراض ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اعتراض دوسروں کو بھی ہو سکتا ہے- کچھ کو رنگ سے الرجی ہو سکتی ہے، کچھ کو رنگ پسند نہیں ہو سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ سب مسلمان ہوں۔ جو نہیں چاہتے انہیں رنگ لگانے کی ضد کیوں؟

یوپی کی بی جے پی ایم ایل اے نے کہا – میڈیکل کالج میں مسلمانوں کے لیے الگ ونگ بنائیں

اتر پردیش کے بانس ڈیہہ سے بی جے پی ایم ایل اے کیتکی سنگھ نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے نئے بلیا میڈیکل کالج میں مسلمانوں کے لیے ‘علیحدہ ونگ’ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ طبی سہولیات ہندوؤں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

مہاراشٹر: گرام سبھا نے غیرقانونی طور پر مسلم تاجروں کے بائیکاٹ کی قرارداد پاس کی

مہاراشٹر کے اہلیا نگر میں 700 سالہ قدیم کنیف ناتھ مندر کے سالانہ مڈھی میلے میں ملک بھر سے خانہ بدوش برادریوں کے لوگ بڑی تعداد شرکت کرتے ہیں۔ حال ہی میں مڈھی گاؤں کی گرام سبھا میں اس میلے سے مسلم تاجروں کے بائیکاٹ کرنے کی تجویز پر دستخط کیے گئے ہیں۔

مالیگاؤں: بی جے پی لیڈر کی غیر قانونی ’روہنگیا-بنگلہ دیشی‘ افواہ کے بعد ایس آئی ٹی نے مسلمانوں کو گرفتار کیا

بی جے پی لیڈر نے مالیگاؤں میں ‘غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا’ کے ہونے کے دعوے کیے تھے، جس کے بعد حکومت نے ایس آئی ٹی تشکیل دی اور تحقیقات شروع کی۔ تاہم، اب تک گرفتار کیے گئے لوگوں پر’غیر قانونی تارکین وطن’ ہونے کا الزام نہیں ہے، بلکہ انہیں مبینہ طور پر دستاویز سے متعلق جعلسازی کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔

مہاکمبھ میں موت: کئی جگہوں پر ہوئی تھی بھگدڑ، سرکاری اعدادوشمار  پر اٹھ رہے ہیں سوال

ڈھائی ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے اور چپے چپے پر سکیورٹی اہلکار کا دعویٰ کرنے والی انتظامیہ بھگدڑ کو روکنے میں کیوں ناکام رہی؟ انتظامیہ کو جھونسی کے علاقے میں ہوئی بھگدڑ کی جانکاری کیوں نہیں تھی؟ اگر جانکاری تھی تو بکھرے کپڑے، چپلوں اور دیگر چیزوں کو بڑے ٹرکوں میں کس کے حکم پر ہٹوایا جا رہا تھا۔

مہاکمبھ اور مسلمان: الہ آبادیت اور انسانیت کا پرچم

کہا جاتا ہے کہ جب کوئی گنگا نہا کر گھر آتا ہے تو اس کے پاؤں میں لگ کر گنگا کی ماٹی بھی ان لوگوں کے لیے چلی آتی ہے جو گنگا تک نہیں جا پائے۔ مہاکمبھ میں بھگدڑ کی رات جب عقیدت مند میلے کے علاقے سے نکل کر شہر میں پھنس گئے تو جن مسلمانوں کو کمبھ میں حصہ لینے سے روکا گیا تھا، کمبھ خود ہی ان کےگھروں اور مسجدوں میں چلا آیا۔

اندور: 2021 میں ہجوم کے ہاتھوں ہراسانی کا شکار ہونے والے چوڑی فروش چھیڑ چھاڑ کیس میں بری، کہا – مذہب کی وجہ سے پھنسایا گیا تھا

اگست 2021 میں مدھیہ پردیش کے اندور میں ہندو خواتین کو مبینہ طور پرہراساں کرنے کے الزام میں ایک بھیڑ نے چوڑی فروش تسلیم علی کو بری طرح سے زدوکوب کیا تھا۔ اب مقامی عدالت نے انہیں چھیڑ چھاڑ کے اس معاملے میں بری کر دیا ہے، جس کے لیے انہیں 107 دن جیل میں گزارنے پڑے۔

کسی کے دین کی توہین سے بڑا کوئی گناہ نہیں؛ آج کا ہندو یہ کیوں بھول گیا ہے؟

اس نئے ہندو حق اور اختیارات کی بدولت کوئی بھی ہندو کسی بھی مسلمان سے کسی بھی موضوع پر پوچھ گچھ کرسکتا ہے۔ اسے ‘جئے شری رام’ کا نعرہ لگانے پر مجبور کر سکتا ہے ، کسی مسلمان کا ٹفن کھول کر دیکھ سکتا ہے، اس کا فریج چیک کر سکتا ہے، اس کی نماز میں خلل ڈال سکتا ہے۔

مسلمانوں کا اپنے لیے آواز اٹھانا شہری ہونے کے احساس کو بیدار کر رہا ہے

ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف غیر مسلم بھی بول رہے ہیں، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے کہ مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے یا اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف تنہا آواز نہیں اٹھانی چاہیے۔

ہائی کورٹ کے جج کی معافی قبول کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا – ہندوستان کے کسی حصے کو پاکستان نہیں کہہ سکتے

کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ایک جج نے بنگلورو کے مسلم اکثریتی علاقے کو ‘پاکستان’ کہا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالت کو اس طرح کا تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، جن کوخواتین کی تضحیک یا سماج کے کسی بھی طبقے کے لیے متعصب خیال کیا جا سکتا ہے۔

کرناٹک: ہائی کورٹ کے جج کے بنگلورو کے علاقے کو پاکستان کہنے پر سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کی

کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس سریش نے ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے بنگلورو کے ایک مسلم اکثریتی علاقے کو ‘پاکستان’ کہا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل سے رپورٹ طلب کی ہے۔

یوپی: کیا ’ٹھوک دو‘ کے اصول پر عمل پیرا حکومت کے راج میں عام آدمی جرائم سے زیادہ محفوظ ہو گیا ہے؟

یوگی حکومت کے سات سالوں میں اتر پردیش میں جرائم کے خاتمے کے کئی بلند و بانگ دعوے کے باوجود ایسے پولیس ‘انکاؤنٹر’ کی ضرورت ختم نہیں ہو رہی جہاں فرار ہونے کی مبینہ کوشش میں ملزم کو مار گرایا جاتا ہے۔ یا پولیس جس کو زندہ گرفتار کرنا چاہتی ہے، گولی اس کے پاؤں میں لگتی ہے، ورنہ

چھتیس گڑھ: چھت پر فلسطینی پرچم لگانے کے الزام میں پانچ مسلمان گرفتار

یہ واقعہ بلاس پور میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی حملے کا سامنا کرنے والے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پانچ افراد نے فلسطینی جھنڈے اپنے گھروں کی چھت پر لگائے تھے۔ پولیس نے ان کے خلاف ملک کی یکجہتی کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم سے متعلق بی این ایس کی دفعہ کے تحت کیس درج کیا ہے۔

 ایران کے سپریم لیڈر نے کیا ہندوستان کے مسلمانوں کے حوالے سے تبصرہ، وزارت خارجہ نے کہا – پہلے اپنا ریکارڈ دیکھیں

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک بیان میں غزہ اور میانمار کے ساتھ ہندوستان کو بھی اس فہرست میں رکھا تھا، جہاں مسلمانوں کی حالت اچھی نہیں ہے۔ ہندوستان نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں پر بیان بازی کرنے والے ممالک کو دوسروں کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے سے پہلے اپنا ریکارڈ چیک کرنا چاہیے۔

یوپی: بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے تشدد کے ردعمل میں ہندو رکشا دل نے مسلمانوں پر حملہ کیا

اتر پردیش کے غازی آباد میں گل دھر ریلوے اسٹیشن کے قریب کوی نگر علاقے میں ہندو رکشا دل کے کارکنوں نے مسلمانوں کو غیر قانونی بنگلہ دیشی قرار دیتے ہوئے حملہ کر دیا، جبکہ پولیس کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے ہندوستان کے شہری ہیں۔