خبریں

گجرات: اسکول میں طالبعلموں کی نماز کی ادائیگی کے خلاف احتجاج کے بعد حکومت نے تحقیقات کے حکم دیے

گجرات کے احمد آباد شہر کے ایک پرائیویٹ اسکول میں بیداری پروگرام کے تحت ہندو طلبا سے مبینہ طور پر نماز پڑھنے کے لیے کہے جانے کے بعد ہندو دائیں بازو کے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔ اسکول نے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد صرف طلبا کو مختلف مذاہب کے بارے میں بیدار کرنا تھا۔

Students-Class-teacher-Pixabay

نئی دہلی: گجرات کے احمد آباد شہر کے ایک پرائیویٹ اسکول میں بیداری پروگرام کے تحت  ہندو طلبا کو مبینہ طور پر نماز پڑھنے کے لیے کہے جانے کے بعد ہندو دائیں بازو کے کارکنوں نے منگل (3 اکتوبر) کو احتجاج کیا۔ ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے حکم دیے ہیں۔

احتجاج سے متعلق ویڈیو میں کارکنوں کوایک ٹیچر کو پیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، ریاستی حکومت نے 29 ستمبر کو شہر کے گھاٹلوڈیا علاقے میں واقع کالوریکس فیوچر اسکول میں منعقدہ پروگرام کی جانچ کا حکم دیا ہے۔

اسکول نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کے انعقاد کا مقصد صرف طلبا کو مختلف مذاہب کے طریقوں سے آگاہ کرنا تھا اور کسی طالبعلم کو نماز اداکے لیے مجبور نہیں کیا گیا تھا۔

واقعہ سے متعلق ایک ویڈیو میں، جسے بعد میں اسکول کے فیس بک پیج سے ہٹا دیا گیا، پرائمری کلاس کے ایک طالبعلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد چار دیگر طلبا بھی اس کے ساتھ ’لب پہ آتی ہے دعا‘ گاتے ہیں۔

واقعہ کے سامنے آنے کے بعد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی)، بجرنگ دل اور دیگر دائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنوں نے اسکول کے احاطے میں احتجاج کیا۔

پرائمری، سکینڈری اور ایڈلٹ ایجوکیشن کے وزیر مملکت پرافل پنشیریا نے کہا، ‘ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ اسکولوں میں اس طرح کے پروگرام منعقد کرکے ریاست کے پرامن ماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ اس پروگرام میں حصہ لینے والے طلباء کو شاید یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ وہ اصل میں کیا کر رہے تھے۔ یہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔’

وزیر نے کہا، ‘ہم اس طرح کے پروگرام کے انعقاد کے پیچھےکی ذہنیت اور نیت کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کریں گے اور پھر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے کچھ  بھی غلط کیا ہے۔’

اے بی وی پی کے میڈیا کوآرڈینیٹر میت بھاوسر نے کہا، ‘ہمیں ایک ویڈیو ملا جس میں نظر آرہا تھاکہ اس اسکول کے ہندو طالبعلموں کو ایک سرگرمی کے دوران نماز پڑھنے پر مجبور کیا گیا۔ ہمارے احتجاج کے بعد اسکول انتظامیہ نے معذرت کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ آئندہ ایسی سرگرمیاں نہیں کی جائیں گی، کیونکہ یہاں صرف ہندو طالبعلموں نے ہی داخلہ لیا ہے۔’

کچھ وائرل ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ پروگرام کے ویڈیو میں موسیقی کا آلہ بجا رہے ایک ٹیچرکو منگل کو احتجاج کے دوران کارکنوں کے ساتھ ساتھ ناراض والدین نے بھی مارا پیٹا۔ اس سلسلے میں تاحال کوئی پولیس کیس درج نہیں کیا گیا تھا۔

اسکول انتظامیہ نے تحریری طور پر معافی نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلی بار محتاط رہیں گے۔

اسکول کی پرنسپل نرالی دگلی نے کہا کہ یہ اسکول کی روایت ہے کہ طلبا کو تہواروں سے پہلے مختلف مذاہب اور مذہبی رسومات کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا،’عید کے پیش نظر، ہم نے کلاس 2 کے طلبا کو تہوار کے بارے میں معلومات دینے کے لیے اس سرگرمی کا اہتمام کیا تھا۔ ہم سموتسری اور گنیش چترتھی سمیت تمام مذاہب کے تہواروں سے پہلے ایسی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ کسی طالبعلم کو نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ یہ صرف دو منٹ کی سرگرمی تھی اور اس میں حصہ لینے والے طلبانے اپنے والدین سے رضامندی لی تھی۔’