Protest

شمبھو ریلوے اسٹیشن پر کسانوں کا احتجاج۔ (فائل فوٹو بہ شکریہ: X/@KMajdoormorcha)

پنجاب: شمبھو اسٹیشن پر کسانوں کا احتجاج ختم، کہا – بی جے پی رہنماؤں کے گھروں کا گھیراؤ کریں گے

سنیوکت کسان مورچہ اور کسان مزدور مورچہ کے بینر تلے فروری میں ہوئے ‘دہلی چلو’ احتجاجی مظاہرہ کے دوران ہریانہ پولیس کے ہاتھوں گرفتار تین کسانوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کسان 17 اپریل سے پٹیالہ کے شمبھو ریلوے اسٹیشن پر ریلوے ٹریک پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ اس مطالبے کو لے کر پنجاب اور ہریانہ میں بی جے پی رہنماؤں کی رہائش گاہوں کا گھیراؤ کریں گے۔

 (السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

لکھنؤ: یوپی پولیس نے 2020 میں سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کو گھروں میں نظر بند کیا

کچھ مظاہرین کا کہنا ہے کہ 11 مارچ کو شہریت ترمیمی ایکٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد سے ہی اتر پردیش پولیس ہر روز ان کے گھر چکر کاٹ رہی ہے۔ پولیس حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ریاست میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کچھ مظاہرین کے گھروں کے باہر پولیس تعینات کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : دی وائر)

وقت آگیا ہے کہ پولیس مشینری کو اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں سکھایا جائے: سپریم کورٹ

مہاراشٹر کے ایک پروفیسر کے خلاف جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی تنقید کرنے اور پاکستان کو یوم آزادی کی مبارکباد دینے کی وجہ سے ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اسے رد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے ہر شہری کو آرٹیکل 370 کو مسترد کرنے اور جموں و کشمیر کی حیثیت میں کی گئی تبدیلیوں پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے۔

Arfa-ji-thumb-3

کیلیں، بیریکیڈ، دھمکیوں کی بوچھاڑ، کیا کسانوں سے ڈر گئی مودی سرکار؟

ویڈیو: مختلف کسان تنظیموں کی طرف سے ‘دلی چلو’ کی کال سے پہلےدہلی پولیس کی طرف سے دارالحکومت کے علاقے کی سرحدوں پر ناکہ بندی اور پوری دہلی میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بارے میں بات کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

Yaqut-Karnataka-Protest

دہلی: ٹیکس ڈسٹری بیوشن میں ریاست کے ساتھ ’ناانصافی‘ کو لے کر مرکز کے خلاف میدان میں کرناٹک حکومت

ویڈیو: وزیر اعلیٰ سدا رمیا کی قیادت میں کرناٹک کے کابینہ وزیر اور اراکین اسمبلی نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے ٹیکسوں کی تقسیم میں ریاست کے ساتھ ‘ناانصافی’ کی ہے اور خشک سالی کی امداد فراہم کرنے میں مبینہ تاخیر کی ہے۔

پٹنہ میں حالیہ احتجاج کے دوران سڑکوں پر نکلے نوجوان۔ (تصویر بہ شکریہ: یوٹیوب ویڈیو گریب)

بہار: ریلوے امیدواروں کے احتجاج کے ویڈیو کو مودی حکومت کے فرمان پر یوٹیوب نے بلاک کیا

حکومت نے 6 سال کے بعد اسسٹنٹ لوکو پائلٹ یعنی ریلوے ڈرائیوروں کی بھرتی نکالی ہے، وہ بھی محض 5696 عہدوں کے لیے۔ بہار میں نوجوان ان عہدوں کی تعداد بڑھانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ خبر ہے کہ ان مظاہروں کو کور کرنے والے کچھ چینلوں کے ویڈیو کو حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کا حوالہ دینے کے بعد یوٹیوب نے بلاک کر دیا ہے۔

احتجاجی مظاہرہ کے دوران براڑی ہسپتال کی خواتین صفائی اہلکار۔ (تصویر بہ شکریہ: اسپیشل ارینجمنٹ)

دہلی: تنخواہ میں کٹوتی اورجنسی ہراسانی کے خلاف اسپتال کے صفائی عملے کا احتجاج

دہلی حکومت کے زیر انتظام براڑی اسپتال کا معاملہ۔ الزام ہے کہ ہسپتال کا صفائی عملہ واجب الادا تنخواہ کی عدم ادائیگی اور تنخواہ میں کٹوتی سے پریشان ہے۔ خواتین ملازمین کو مسلسل بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان سے اکثر جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ دہلی کے وزیر صحت کی یقین دہانی کے بعد ملازمین نے اپنا احتجاجی مظاہرہ فی الحال ختم کر دیا ہے۔

سندیپ پانڈے (مائیک کے ساتھ)۔ (تصویر بہ شکریہ: X/@RajeevKisanNeta)

اسرائیلی حملے کو امریکی حمایت کے پیش نظر سندیپ پانڈے نے میگسیسے ایوارڈ لوٹایا

سماجی کارکن سندیپ پانڈے کو سال 2002 میں باوقار میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہریوں کے خلاف موجودہ حملوں میں اسرائیل کی کھل کر حمایت کرنے میں امریکہ کے رول کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے اپنے پاس یہ ایوارڈ رکھنا ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔

 (تصویر بہ شکریہ: Facebook/@SahityaAkademi)

اُردو کے لیے دیے گئے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ میں ’بدعنوانی‘ کے خلاف ادیبوں کا ملک گیر احتجاج

ملک بھر کے ادیبوں نے سال 2023 کے لیے دیے گئے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے حوالے سے ‘نااہل جیوری’ کے ذریعےاس سال نامزد سینئر ادیبوں کی اہم تخلیقات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے اکیڈمی میں اردو ایڈوائزری بورڈ کے کنوینر چندر بھان خیال کو فوراً برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزارت ثقافت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا (تصویر بہ شکریہ: Twitter/@CMofKarnataka)

کرناٹک: سی ایم سدارمیا نے حجاب پر عائد پابندی ہٹائی، بی جے پی نے کہا — وزیر اعلیٰ مذہب کا زہر بو رہے ہیں

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ریاست میں 23 دسمبر سے حجاب پر پابندی کے فیصلے کو واپس لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لباس اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں اور سماج کو تقسیم کرنے کا کام کر رہی ہے۔ حجاب پر پابندی بسواراج بومئی کی قیادت والی پچھلی بی جے پی حکومت نے عائد کی تھی۔

کیرالہ کے دو نمائندوں نے فلم فیسٹیول میں 'دی کیرالہ اسٹوری' کی اسکریننگ کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ (تصویر بہ شکریہ: X/ @sreenathism)

گوا: ’دی کیرالہ اسٹوری‘ کی اسکریننگ کے خلاف احتجاج کرنے پر دو لوگوں کو فلم فیسٹیول سے باہر کیا گیا

کیرالہ کے سری ناتھ اور ارچنا روی کو گوا پولیس نے حراست میں لے لیا اور بعد ازاں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (آئی ایف ایف آئی) سے باہر کر دیا، کیوں کہ انہوں نے فیسٹیول میں ‘دی کیرالہ اسٹوری’ فلم کی اسکریننگ کی مذمت کرتے ہوئے ریڈ کارپٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

سفینہ نبی۔

پونے: کشمیری صحافی کو دیا گیا ایوارڈ منسوخ کرنے والے ادارے نے کہا – صحافی کی رائے حکومت سے نہیں ملتی

پونے کے مہاراشٹر انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی-ورلڈ پیس یونیورسٹی نے کشمیری صحافی سفینہ نبی کو رپورٹنگ سے متعلق ایوارڈ کے لیے منتخب کیا تھا۔ تاہم، یہ ایوارڈ تقریب سے عین قبل منسوخ کر دیا گیا۔ ممبئی پریس کلب کے صدر نے کہا ہے کہ ایسا کرنا نفرت انگیز ہے اور اس کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔

مہاراشٹر انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی-ورلڈ پیس یونیورسٹی اور کشمیری صحافی سفینہ نبی۔ (تصویر: یونیورسٹی کی ویب سائٹ/اسپیشل ارینجمنٹ)

پونے انسٹی ٹیوٹ نے سیاسی دباؤ میں کشمیری صحافی کا ایوارڈ رد کیا، جیوری ممبران نے تقریب کا بائیکاٹ کیا

کشمیری صحافی سفینہ نبی کو ان کی ایک رپورٹ کے لیے پونے کے مہاراشٹر انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی-ورلڈ پیس یونیورسٹی نے ایوارڈ کے لیے منتخب کیا تھا۔ تاہم، ایوارڈ سے متعلق تقریب سے ایک دن پہلےانہیں فون پر مطلع کیا گیا کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے ایوارڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا۔ (تصویر بہ شکریہ: Facebook/@OfficeOfLGJandK)

جموں و کشمیر: ایل جی کی جانب سے نامہ نگار پر ’علیحدگی پسندوں‘ سے وابستگی کے الزام کے خلاف دی وائر کا احتجاج

دی وائر کے بانی مدیر نے ایل جی منوج سنہا کو ایک خط میں کہا ہے کہ پردھان منتری-جن آروگیہ یوجنا سے متعلق خبر کے لیے ادارے کے نامہ نگار جہانگیر علی کے خلاف ان کے ‘بے بنیاد الزام’ صحافی کے ساتھ ہی میڈیا کے لیے بھی خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

Students-Class-teacher-Pixabay

گجرات: اسکول میں طالبعلموں کی نماز کی ادائیگی کے خلاف احتجاج کے بعد حکومت نے تحقیقات کے حکم دیے

گجرات کے احمد آباد شہر کے ایک پرائیویٹ اسکول میں بیداری پروگرام کے تحت ہندو طلبا سے مبینہ طور پر نماز پڑھنے کے لیے کہے جانے کے بعد ہندو دائیں بازو کے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔ اسکول نے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد صرف طلبا کو مختلف مذاہب کے بارے میں بیدار کرنا تھا۔

امرتسر کے قریب ایک ٹول پلازہ پر کسانوں  کا احتجاجی مظاہرہ۔ (فوٹوبہ شکریہ: اسپیشل ارینجمنٹ)

پنجاب: سیلاب متاثرین کے لیے احتجاجی مظاہرہ کے دوران پولیس کے لاٹھی چارج میں کسان ہلاک

پنجاب کے سنگرور ضلع کے لونگووال کا معاملہ۔ گزشتہ جولائی کے مہینے میں پنجاب اور ہریانہ میں سیلاب آیا تھا، جس کے نتیجے میں کسانوں کو زبردست مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ تب سے کسانوں کی تنظیمیں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے معاوضے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ چندی گڑھ میں احتجاج سے پہلے کئی کسان لیڈروں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

نروتم مشرا (فوٹو بہ شکریہ: Facebook/@homedept.mp)

ایم پی: اسلام مخالف پوسٹ پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی ہوگی

گزشتہ 9 اگست کی رات رتلام ضلع میں مسلمانوں کے ایک گروپ نے انسٹاگرام پر اسلام مخالف پوسٹ ڈالنے والے شخص کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاتھا۔ الزام ہے کہ احتجاج کے دوران پوسٹ کرنے والے شخص کے بارے میں مبینہ طور پر ‘سر تن سے جدا’ کا متنازعہ نعرہ لگایا گیا تھا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

دہلی فسادات: ’جیل میں عمر خالد کے 1000 دن، مزاحمت کے بھی ہزار دن ہیں‘

جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد نے سال 2020 میں شمال–مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق ایک معاملے میں جیل میں ایک ہزار دن پورےکر لیے ہیں۔ خالد کو دہلی پولیس نے ستمبر 2020 میں گرفتار کیا تھا اور ان پر یو اے پی اے اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت الزام لگائے گئے ہیں۔

جنتر منتر پر ایک مظاہرے کے دوران وینیش پھوگاٹ (بائیں) اور ساکشی ملک (دائیں) (درمیان) وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

کبھی ان کھلاڑیوں کو اپنی ’بیٹی‘ کہنے والے پی ایم مودی ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش کیوں ہیں

بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے ذریعے خواتین پہلوانوں کوجنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں وینیش پھوگاٹ، ساکشی ملک سمیت کئی پہلوان نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔

Two-Window-New-Style-Thumbnail_1001

’بی جے پی اپنے ایم پی کے ساتھ کھڑی ہے، ملک کے پہلوانوں کے ساتھ نہیں‘

ویڈیو: ہندوستان کے ریسلنگ فیڈریشن کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کو لے کرملک کے کئی اولمپک میڈلسٹ پہلوان نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک بار پھر سےاحتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک انصاف نہیں ملے گا،یہ تحریک جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں کچھ کھلاڑیوں سے بات چیت۔

IP-college-Thumb

آئی پی کالج فیسٹ میں چھیڑ چھاڑ کے الزام کے بعد طالبات نے پرنسپل کو ہٹانے کی مانگ کی

ویڈیو: دہلی یونیورسٹی کے اندر پرستھ کالج میں سالگرہ کی تقریب میں چھیڑ چھاڑ کے مبینہ واقعے کے بعد طالبات نے پرنسپل کو ہٹانے کی مانگ کی ہے۔ ساتھ ہی طالبات کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے مظاہرے کے دوران حراست میں لی گئی طالبات کے ساتھ بدتمیزی کی، جس کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

Kashmiri-Pandits-Killing-Protest

’وادی میں کشمیری پنڈتوں کی حفاظت اب کشمیری مسلمان کریں گے‘

ویڈیو: 26 فروری کو کشمیری پنڈت سنجے کمار شرما کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے اچن گاؤں میں دہشت گردوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ کشمیری پنڈتوں کی مسلسل ٹارگیٹ کلنگ کے خلاف یہاں کے لوگوں میں غصہ ہے۔

عمر خالد

عمر خالد کو سات دن کے لیے عبوری ضمانت ملی

دہلی دنگوں کے معاملے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار عمر خالد نے اپنی بہن کی شادی کے پیش نظر دو ہفتے کے لیے عبوری ضمانت مانگی تھی۔ عدالت نے انہیں 23 سے 30 دسمبر تک کے لیے ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس میں مزید توسیع کا مطالبہ نہ کریں۔

عمر خالد۔ (تصویر: دی وائر)

دہلی پولیس نے عمر خالد کی عبوری ضمانت کی مخالفت کی

دہلی فسادات سے متعلق معاملوں میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار عمر خالد نے اپنی بہن کی شادی کے پیش نظر دہلی کی ایک عدالت میں دو ہفتے کی عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ اس کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ اس کی رہائی سے ‘معاشرے بدامنی’ پھیل سکتی ہے۔

عمر خالد۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

دہلی فسادات: ہائی کورٹ نے عمر خالد کو ضمانت دینے سے انکار کیا

دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عمر خالد کیس کے دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات پہلی نظر میں درست ہیں ۔ دہلی پولیس کے ذریعےستمبر 2020 میں گرفتار خالد نے ضمانت کے لیے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ شمال–مشرقی دہلی میں ہوئے تشدد میں ان کا کوئی مجرمانہ رول نہیں تھا۔

کرناٹک کے پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

سپریم کورٹ کے فیصلے تک کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی جاری رہے گی: وزیر تعلیم

کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ کے اختلاف رائے کے بعد ریاست کے پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش نے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ ایسے میں ریاست کے تمام اسکولوں اور کالجوں میں کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ اور ضابطے میں کسی بھی مذہبی علامت کی گنجائش نہیں ہوگی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک حجاب معاملہ: سپریم کورٹ کے ججوں کی رائے مختلف، معاملہ سی جے آئی کو بھیجا گیا

سپریم کورٹ کی بنچ میں شامل جسٹس ہیمنت گپتا نے حجاب پر پابندی کے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضیوں کو خارج کر دیا، جبکہ جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا کہ ہائی کورٹ نے غلط راستہ اختیار کیا اور حجاب پہننا بالآخر اپنی پسند کا معاملہ ہے، اس سےکم یا زیادہ کچھ اور نہیں۔

پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے ارکان کا مظاہرہ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

کیا واقعی پونے میں پی ایف آئی کے مظاہرے میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگا تھا؟

فیکٹ چیک: کئی چینلوں، صحافیوں اور بی جے پی لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ این آئی اے ، ای ڈی اور پولیس کے مشترکہ چھاپے میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے سو سے زیادہ لیڈروں کی گرفتاری کے خلاف پونے میں ہوئے ایک مظاہرے کے دوران’پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگائے گئے تھے۔تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔

WhatsApp-Image-2022-09-22-at-3.55.10-PM-e1663911279314

الہ آباد یونیورسٹی فیس اضافہ: ’ہمارے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں، فیس کیسے بھریں؟‘

ویڈیو: الہ آباد یونیورسٹی میں فیس میں چار گنا اضافے کے خلاف طلباء پچھلے کچھ ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اب یونیورسٹی انتظامیہ نےان طلباء کے خلاف دو ایف آئی آر درج کرائی ہیں۔ اس دوران کچھ طلباء نے خود سوزی کی کوشش بھی کی ہے۔ اس بارے میں یونیورسٹی کے طلباء سے بات چیت۔

عمر خالد کی والدہ صبیحہ خانم دہلی میں پریس کلب آف انڈیامیں ایک پروگرام کے دوران۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

عمر خالد کی والدہ نے کہا — اس تالے کے پیچھے رہنے کا تصور کریں، جس کی چابی کسی اور کے پاس ہو

دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کی سازش کرنے کے الزام میں اسٹوڈنٹ لیڈعمر خالد ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔ قید کے دو سال پورے ہونے پر ایک پروگرام میں ان کی والدہ صبیحہ خانم نے کہا کہ عمر کو نہ صرف ضمانت ملنی چاہیے بلکہ ان کے خلاف تمام معاملے بھی بند ہونے چاہیے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک: حجاب پر پابندی کا اثر، مسلم لڑکیوں نے کہا – اکیلے کالج جانے سے ڈر لگتا ہے

پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کرناٹک میں مسلم طالبات کے درمیان حجاب بین کے فیصلے کے اثرات پر ایک اسٹڈی کی ہے ، جس میں متعدد طالبات نے بتایاکہ انہیں کالج بدل کر مسلم اداروں میں داخلہ لیناپڑا، دوسری کمیونٹی کی طالبات کے ساتھ گفت وشنید محدود ہوگئی ، اور انہیں علیحدگی اور افسردگی کے احساس سے گزرنا پڑا۔

فلم پرموشن کے لیے  اجین جانے کے بارے میں پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ۔ (اسکرین گریب کریڈٹ: انسٹاگرام)

مدھیہ پردیش: بجرنگ دل کے کارکنوں نے رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کو مہاکال مندر میں جانے سے روکا

اداکار رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ اپنی فلم کے پرموشن کے دوران اجین پہنچے تھے، جہاں انہیں مہاکال مندر جانا تھا، لیکن بجرنگ دل کے کارکنوں نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا رنبیر کے ‘بیف’ کھانے اور عالیہ کے فلم ‘برہمسترا’ دیکھنے کے بارے میں مبینہ ریمارکس کی وجہ سے کیا گیا۔

(تصویر: رائٹرس)

حجاب معاملہ: کورٹ نے پوچھا – کیا سیکولر ملک کے سرکاری اسکول میں مذہبی لباس پہن سکتے ہیں

سپریم کورٹ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی ہٹانے سے انکار کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ہر کسی کو مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حق طے شدہ یونیفارم والے اسکول میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

مولانا محمود مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

نفرت کو نفرت سے نہیں ہرایا جاسکتا: محمود مدنی

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے راجستھان کے ادے پور میں ایک درزی کے بہیمانہ قتل اور کچھ دیگر واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نقصان کسی خاص مذہب یا کمیونٹی کا نہیں ہوگا، بلکہ ملک کا ہوگا۔ حکومت اور بڑے لوگوں کا خواب ہے کہ ہندوستان ایک وشو گرو کے طور پر اپنی پہچان بنائے۔ ہندوستان کو وشو گرو بننے کا حق ہے، لیکن یہ حق نفرت کے سوداگر چھین رہے ہیں۔

ادے پور قتل معاملے کے خلاف بجرنگ دل کا مظاہرہ۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

مدھیہ پردیش: ادے پور مرڈر کیس کے خلاف احتجاجی مظاہرے، مسلمانوں کے خلاف تشدد کی اپیل

ادے پورمرڈر کیس کے خلاف وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل سمیت دیگر دائیں بازو کےگروپوں نے مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع میں مظاہرے کیے، جن میں مسلمانوں کے خلاف نہ صرف اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے بلکہ ان کے خلاف تشدد کی اپیل بھی کی گئی ۔

Umar

نوم چومسکی، راجموہن گاندھی اور کئی بین الاقوامی اداروں نے عمر خالد کی رہائی کی مانگ کی

عمر خالد دہلی فسادات سے متعلق معاملے میں ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔ اس کی مذمت کرتے ہوئے فلسفی، ممتاز دانشور اور ماہر لسانیات نوم چومسکی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ خالد کے خلاف جو ایک واحد ثبوت پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ بولنے اور احتجاج کرنے کے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے تھے، جو ایک آزاد معاشرے میں شہریوں کا بنیادی حق ہے۔

222

ادے پور میں کنہیا لال کا قتل، کیا ہے  پوری کہانی

ویڈیو: پچھلے چند دنوں میں دو واقعات رونما ہوئے۔گزشتہ 28 جون کو راجستھان کے ادے پورمیں دو افراد نے تیز دھار دار ہتھیارسےکنہیا لال نامی ایک درزی کو قتل کر دیا اور اس واقعے کاویڈیویہ کہتے ہوئے جاری کیا کہ وہ ‘اسلام کی توہین’ کا بدلہ لے رہے ہیں۔ وہیں، آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان واقعات کی پڑتال کرتی دی وائر کی رپورٹ۔

کنہیا لال کو آخری رسومات کے لیے لے جاتے ہوئے(تصویر: پی ٹی آئی)۔

ادے پور قتل کے بہانے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے

ادے پور میں بہیمانہ قتل کے باوجود اس پروپیگنڈے کو قبول نہیں کیا جا سکتا کہ ہندو خطرے میں ہیں۔ اس قتل کے بہانے جو لوگ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں، وہ قتل و غارت گری اور تشددکے پیروکار ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک منصوبہ بند سازش چلائی جارہی ہے کہ کسی ایک واقعہ پر ہندو اورمسلمان ایک ساتھ ایک آواز میں نہ بول پائیں۔