دہلی میں 20 جولائی کو طلبہ تحریک کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہونے والوں کی تعداد اب کم از کم 10 ہو گئی ہے۔ ٹی ایم سی کے سابق ایم پی ساکیت گوکھلے کی آر ٹی آئی کے جواب میں لیڈی ہارڈنگ اسپتال نے 9 جبکہ صفدرجنگ اسپتال نے ایک زخمی کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل پانچ افراد کے زخمی ہونے کی جانکاری سامنے آئی تھی۔
پیپر لیک معاملوں کی شنوائی کے لیے بنائی گئی فاسٹ ٹریک کورٹ کی اسپیشل جج انو گروور بالیگا کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ انہیں اس عہدے پر محض ایک ہفتہ پہلے ہی مقرر کیا گیا تھا۔ پیپر لیک کے خلاف ملک گیر احتجاج اور اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ایسے معاملوں کی شنوائی کے لیے اسپیشل فاسٹ ٹریک عدالت بنائی جائے گی۔
سینسر بورڈ کے چیئرپرسن اور بی جے پی کے تمام دوسرے حمایتی اچانک ’صنفی بنیاد پر توہین آمیز گالیوں اور نازیبا الفاظ‘ کے موضوع پر حد درجہ حساس نظر آ رہے ہیں۔ اصل میں نوجوانوں کی ’فحش‘ زبان پر تنقید کے پس پردہ یہ نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کی کوشش ہے۔
اگر ہندوستان کو اپنے جمہوری ڈھانچے، آئینی اقدار اور انتظامی شفافیت کو بچانا ہے، تو اسے 2010 کے ترکیہ کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔ امتحانی نظام کی مکمل اور غیر جانبدارانہ شفافیت صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ یہ عوامی سلامتی اور جمہوریت کی بقا کا بنیادی شرط ہے۔
وزارت تعلیم کا موجودہ بحران صرف پیپر لیک، نیٹ تنازعہ یا این ٹی اے کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالوں تک محدود نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے اس کی اہمیت ان فوری مسائل سے کہیں زیادہ ہے۔
نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے اور اپوزیشن کے دباؤ کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ’یہ استعفیٰ نہیں، انقلاب ہے۔‘
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا کہ جمہوریت میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، لیکن ابھی دو مطالبے باقی ہیں۔ وہیں دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے نوجوانوں کی جیت اور مودی حکومت کے غرور کی شکست قرار دیا ہے۔
دہلی سمیت ملک بھر کی کئی ریاستوں میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان سنیچر کی دوپہر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے لکھا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ بھیج چکے ہیں۔
’آپ نے تو اس ملک کے شہریوں کےتحفظ کا حلف اٹھایا تھا۔ پھر آپ ہی ان کا خون بہانے لگے؟ توڑ دیا آپ نے اپنا حلف اور ہمارابھروسہ! ‘
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے پیپر لیک سے متعلق اس بیان پر اپوزیشن اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کچھ طلبہ نے پیپر لیک کے واقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ محنت کی اور ان کی کارکردگی بہتر ہوئی۔ اپوزیشن نے اس بیان کو غیر حساس اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
کیا لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف بنایا جا سکتا ہے؟ کیا کروڑوں کی آبادی والے اس ملک کے لوگ ہمیشہ مردہ بنے رہیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کاکروچ ایک نئی شروعات کرتے ہوئے نکل پڑے ہیں۔
جمعہ کو مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کہا کہ اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اگلے ایک دو دن کے اندر استعفیٰ نہیں دیتے تو پارٹی ایک اور ملک گیر تحریک کا اعلان کرے گی۔ مرکزی حکومت نے سی جے پی کو سنیچر (25 جولائی) دوپہر 3:30 بجے پھر سے بات چیت کے لیے بلایا ہے۔
قومی دارالحکومت دہلی کے ایک وکیل نے جنوب-مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کو بھیجی گئی شکایت میں الزام لگایاہے کہ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب، جب وہ جنتر منتر جانے کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کی مدد کے لیے نظام الدین تھانے پہنچے، تو پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا۔ پولیس نے یہ کہتے ہوئے کہ انہیں حراست میں لینا غیر قانونی نہیں تھا، مار پیٹ کے الزام سے انکار کیا ہے۔
ملک بھر میں امتحانات میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ امتحانات منعقد کرنے والے ادارے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی منظور شدہ 39 اسامیوں میں سے 15 خالی ہیں۔ یہ ایجنسی اپنے زیادہ تر کاموں کے لیے آؤٹ سورسنگ کا سہارا لیتی ہے۔
مرکزی حکومت نے محکمہ مویشی پروری و ڈیری کے سکریٹری نریش پال گنگوار کو نیا ہائر ایجوکیشن سکریٹری مقرر کیا ہے۔ راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر کے خاندان کو ’کامرشیل فصلوں‘، خصوصی طور پر کھیرے کی کھیتی کوبڑھاوا دینے کے لیےنیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کی ایک سرکاری اسکیم کے تحت 1.16 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرکاری سبسڈی ملی تھی۔
پیپر لیک کے بعد 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ کے ری-اگزام میں شامل ہونے والے ایک درجن سے زیادہ امیدواروں نے امتحان سے چند دن پہلے ہی خودکشی کر لی تھی۔ 19 سالہ ثنا شیخ بھی انہی طلبہ میں ایک تھیں۔ ان کے والدین طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں دہلی کے جنتر منتر پہنچے اور انہوں نے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں طلبہ کی تحریک پر پارلیامنٹ میں جواب دینا چاہیے تھا، نہ کہ یکطرفہ ویڈیو پیغام جاری کرنا چاہیے تھا۔ کھڑگے نے وزیر اعظم سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانے اور طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ وہیں، راہل گاندھی نے پیپرلیک معاملے میں حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ سے تحریک سے دور رہنے کی اپیل کرنے پر دہلی یونیورسٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
طلبہ کے مسائل پر بحث اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر مسلسل چوتھے دن بھی پارلیامنٹ کی کارروائی بغیر کسی کام کاج کے بار بار ملتوی ہوتی رہی، اور آخرکار پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔پارلیامنٹ کے باہر جب صحافیوں نے کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا سے احتجاج اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا،’وزیراعظم ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، اور آپ اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ ایوان کیوں نہیں چل رہا؟ ‘
ملک کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد ان کا ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں کچھ وقت کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم، بدھ کی دوپہر کے بعد ویڈیو اور اکاؤنٹ دونوں بحال کر دیے گئے۔