خبریں

انتخابات میں فرقہ وارانہ بیان بازی کو روکنے کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے: الیکشن کمیشن

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم صرف نوٹس جاری کرکے جواب مانگ سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس  کسی پارٹی کی پہچان کو رد کرنے یا امیدوار کونااہل قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن (فوٹو : پی ٹی آئی)

الیکشن کمیشن (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: انتخابی ریلیوں میں مذہبی اور مذہب کو بنیاد بناکر بیان بازی کرنے والی پارٹیوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں الیکشن کمیشن کے اختیارات پر غور و فکر کرنے کے لیے سپریم کورٹ تیا رہوگیا ہے ۔ منگل کو اس معاملے کی شنوائی ہوگی۔حال ہی میں بی ایس پی سپریمو مایاوتی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ  کے ذریعے مذہبی بنیاد پر ووٹ مانگنے کے معاملے میں چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ ان حالات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو لے کر کیا کارروائی کی جاتی ہے۔

لائیو لاء کے مطابق، اس سوال کے جواب میں کمیشن نے بتایا کہ ، اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے اختیارات بہت محدود ہیں ۔ ہم صرف نوٹس جاری کرکے جواب مانگ سکتے ہیں ۔ ہمیں کسی پارٹی کی پہچان رد کرنے یا امیدوار کو نااہل قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ، مایا وتی کو 12 اپریل تک جواب دینے کے لیے کہا گیا تھا لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ۔ ہم صرف نوٹس جاری کر سکتے ہیں اور بار بار اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو شکایت درج کر سکتے ہیں ۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے وکیل سنجے ہیگڑے سے جب چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کمیشن فرقہ وارانہ بیان بازی کی بنیاد پر ووٹ مانگنے والوں کے خلاف صرف اتنی ہی کارروائی  کر سکتا ہے ، اس پر ہیگڑے نے کہا کہ آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن کو کئی سارے اختیارات حاصل ہیں ۔اس کے بعد چیف جسٹس گگوئی نے کمیشن کے ایک سینئر ترجمان کو ہدایت دی کہ  کمیشن کے اختیارات پر غور و خوض کے دوران وہ کورٹ میں موجو درہیں ۔قابل ذکر ہے کہ ہر پریت من سکھانی نام کی ایک این آر آئی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے مانگ کی ہے کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں ایک کمیٹی بنائی جائے جو انتخاب کے پورے پروسیس پر نظر رکھے اور الیکشن کمیشن کے رول کی بھی جانچ کرے۔